بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله منگل 07 / اپریل / 2020,

Instagram

پاکستان ناگزیر تھا

20 Aug 2017
پاکستان ناگزیر تھا

 سید جاوید انور، اشاعت اول جسارت، کراچی اگست 15, 2017

پاکستان نا گزیر تھا۔ اس لیے کہ اس پر اجماع امت تھا۔اور جس بات پر اجماع امت ہو جائے، ملی خواہش،ارادہ اور اس پر عمل پیرا ہونے کا عزم مصمم ہو جائے تو وہ بات ہو کر رہتی ہے۔ اور وہ بات ہو کر رہی۔ آج جو لوگ پاکستان کی ناگزیریت پر شکوک اٹھاتے ہیں، وہ مسلم تاریخ اور امت مسلمہ کے مزاج سے بہت کم واقفیت رکھتے ہیں۔ آزادی ہند اور قیام پاکستان کے حوالے سے جتنی تھیوری بیان کی جاتی ہے وہ ساری کی ساری بھی قبول کر لی جائے تو بھی بلا شک و شبہ یہی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان ناگزیر تھا۔بعد کے آنے والوں کو یہ حق نہیں پہنچتا ہے کہ اخلاص نیت سے کیے گئے اپنے بزرگوں کے اجتماعی فیصلہ کو غلط قرار دیں اوراس میں نکتہ چینی کرتے رہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ انگریز کسی پرتشدد یا عد م تشدد تحریک کے نتیجہ میں ہندوستان سے نہیں گیا تھا۔ کیوں کہ وہ ان ممالک سے بھی واپس گیا جہاں کوئی آزادی کی تحریک نہیں تھی۔اس کی ایک وجہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کی اقتصادی قلاشی تھی۔ کیوں کہ اس جنگ میں جیتنے اور ہارنے والی دونوں قومیں معاشی طور پر برباد ہو چکی تھیں۔ اس جنگ میں صرف امریکا تھا جس نے بھاری مالی منفعت حاصل کی تھی۔ وہ دونوں فریق اتحادی کیمپوں کوبھاری اسلحہ بیچ رہا تھا۔اور اس بات کو یقینی بنا چکا تھا کہ جیت کسی کی نہ ہو۔دوسری وجہ یہ تھی کہ جنگ کے بعد جب برطانیہ کشکول لیے امریکا کے پاس گیا تھا، تو امریکا نے اس شرط پر قرضہ دیا کہ تم اپنے زیرکنٹرول کالونیوں کو ہمارے ( امریکا اور امریکی کارپوریشنوں کے) لیے خالی کرو گے۔
یہ بات بھی درست ہے کہ برطانیہ ہندوستانیوں کی انگریز دشمنی کو ہندو مسلم دشمنی میں تبدیل کرنا چاہتا تھا۔ وہ تاریخ اور انسانی نفسیات سے خوب واقف تھا کہ آزاد ہونے والی قوم، غلام بنانے والی قوم سے شدید نفرت کرتی ہے۔برطانیہ اس نفرت کو ہندو مسلم اور بھارت پاکستان دشمنی میں تبدیل کر دینا چاہتا تھا۔ اس نے تقسیم میں مسلمانوں سے نا انصافی کی اور مسلم اکثریتی کشمیر میں ایک لائن کھینچ کر کے دونوں ممالک میں مستقل جنگ آرائی کی صورت بھی پیدا کر دی۔ تاکہ آزادی کے بعد یہ دو قومیں اور دو ممالک آپس میں جنگ لڑتی رہیں اور ’’ منصفی‘‘ اور’’مدد‘‘ کے لیے سرکار برطانیہ کی طرف رجوع کرتی رہیں اور اس طرح غلامی کا تسلسل برقرا رہے۔
یہ بات بھی درست ہے کہ بھارت کا برہمن اشرافیہ یہ جان چکا تھا کہ متحدہ ہندوستان میں ہندو آرام سے حکومت نہیں کر سکیں گے۔ مسلمانوں کی نو سو سال کی حکومت کے بعد اس ملک پر انگریز قابض ہوئے تھے اور اب آزادی کے بعد مسلمانوں کو اقتدار سے علیحدہ رکھنا ناممکن ہے، وہ دوبارہ غالب آنے کی کوسش کریں گے۔اقلیت ہونے کے باوجوداپنی تنظیم اور عزم کی طاقت سے وہ ہندو اکثریت پر حاوی ہوسکتے ہیں۔ چناں چہ ہندوؤں کے حق میں یہی بہتر ہے کہ سارے ہندوستان کی مسلم اشرافیہ، متحرک سیاسی اور سماجی کارکنان اور ان کے تعلیم یافتہ طبقہ کو پورے ہندوستان سے سمیٹ کر ہندوستان کے دو کونوں( مشرق اور مغرب) میں محصور کر دیا جائے۔
مسلمان بھی اس نتیجہ پر پہنچ چکے تھے کہ ا کثریتی آمریت والی جمہوریت میں مسلمانوں کی زبان، تہذیب و ثقافت،تعلیم اور ان کے عقیدہ تک کا تحفظ نہیں ہو سکے گے۔وہ جمہوریت جس میں ایک قوم کے ایک سر کا اضافہ بھی دوسری قوم کی قوت کو صفر کر دیتی ہے ہندوستانی مسلمانوں کے لیے کسی بھی طرح سودمند ثابت نہیں ہو سکتا ہے۔ کانگریس کے ساتھ جمہوریت اور متحدہ قومیت کے نام پر جما ہونا دراصل ایک قومی خود کشی کی بات تھی۔ مسلمان جمہوریت کے اس اصول کو کہ دو مسلمان چاہے وہ موسیٰ و ہارون ہی کیوں نہ ہوں، باطل پر ہیں اگر ان کے مقابلہ میں فرعون یا سامری کی امت کے چھ آدمی مخالفانہ رائے دیں، آخر کس طرح قبول کر سکتے تھے۔’’ناپاک اور پاک برابر نہیں اگرچہ ناپاک کی کثرت تجھ کو فریفتہ کرنے والی ہو (المائدہ 100)
جمہوریت کے اصول کے تحت جو آزادی ملتی ہے وہ زیادہ سر رکھنے والے یا ایک منضبط اقلیتی قابض قوت کی آزادی ہوتی ہے نہ کہ ملک کے تمام قوموں کی۔عالمی سیاسی تاریخ اور تجربات نے بارہا یہی ثابت کیاہے۔جس دور کے متعلق ہندو کہتے ہیں کہ ہندوستان آزاد تھا، اس میں حقیقت میں ہندوستان آزاد نہ تھا بلکہ ہندوستان کے آرین نسل کے لوگ آزادتھے، شودر کی غلامی تو ان ممالک کی غلامی سے ہزار درجہ بدتر تھی جسے ہم بیسویں صدی میں غلام ممالک کہتے تھے۔مسلمان صاف دیکھ رہے تھے کہ اکثریتی ہندو کی جمہوری آمریت انھیں شودر بنا کر رکھے گیا۔ اب ’’آزادبھارت‘‘ میں سچر کمیٹی کی رپورٹ جو2006میں 20ماہ کی تحقیق کے بعد شائع ہوئی اس میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ مسلمانوں کی حالت زار شودروں سے بدتر ہوچکی ہے( پڑھئے جسٹس راجندر سچر کمیٹی کی رپورٹ، جو مسلم اقلیت کے احوال معلوم کرنے کے لیے 2005ء میں وزیر اعظم من موہن سنگھ نے قائم کی تھی)۔
انگریزی دور حکومت میں ہی جب انگریز سرپرستی سے بعض ریاستوں میں کانگریس کی حکومت قائم ہوئی (اقتدار ٹرانسفر کرنے کا ریہرسل) اسی وقت مسلمانوں نے ہندوستان میں اپنے مستقبل کا اندازہ لگا لیا تھا۔ تیس کی دہائی سے ہی مسلم کش فسادات صوبہ بہار سے شروع ہو چکے تھے۔ ملک کی آئندہ تعلیمی پالیسی جو آنے والی تھی اور جس کا نقشہ پیش کیا جا چکا تھا اور اسکولوں میں جاری بھی ہو چکا تھا۔ اس میں مسلمانوں کی مکمل شدھی کا پلان صاف ظاہر ہو چکا تھا۔ مسلم طلبا سے بندے ماترم کہلوایا جانے لگا تھا اور سرسوتی پوجا میں شامل کیا جانے لگا تھا(پڑھیئے سید مودودیؒ کا مضمون قومی، جمہوری، لادینی اسٹیٹ، کیا مسلمان اس کو قبول کر سکتے ہیں، مطبوعہ باب 14، تحریک آزادی ہند اور مسلمان ، جلد اول)
قصہ مختصر یہ کہ پاکستان کا قیام مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر کا حاصل، اور اس کے روح کی آواز تھی۔ مقصد تھاجدید دور میں مدینہ کی ریاست یعنی خلافت راشدہ کا احیاء اورمطلب تھا۔۔۔ لا الہٰ الاللہ ۔۔۔
قائد اعظم کی مسلم لیگ قیام پاکستان کے بعد ہی ختم ہوگئی۔ پاکستان میں سول اور فوجی بیوروکریسی اور اشرافیہ نے اسے خوان نعمت کی طرح استعمال کیا اور اسی نے ہی جنمے ہیں چند سیاسی ملوک یعنی ڈیدی ایوب خاں کے گود میں بھٹو، اور جنرل ضیا الحق کے ہاوس میں شریف۔ پاکستان پر وردی ملوک کے زیر نگرانی یہ دو ملوکی سلسلے ہیں جو اب تک چلے آ رہے ہیں۔
پاکستان ایک انقلاب کا ، ایک مکمل انقلاب کامتلاشی ہے۔اس انقلاب کا آغاز نظام تعلیم اور نظام معیشت میں مکمل تبدیلی سے ہی ممکن ہو سکے گا۔اور اس کام کے لیے پاکستان میں جماعت اسلامی کے علاوہ کسی جماعت اور ادارہ کا نہ منشور ہے، نہ ارادہ، نہ خواہش۔ جماعت اسلامی نہ صرف اس کے لیے علمی اور فکری اسلحے سے لیس ہے بلکہ اس کے لیے عملی جدوجہداور ہر قربانی دینے کے لیے کھڑی ہے۔ عام آدمی کے لیے اب یہی ایک کام ہے کہ اس کارواں کا حصہ بنیں۔ پاکستان کی دھرتی پر اللہ کا دین غالب ہوجائے، اس کار خیر میں حصہ لینا ہی پاکستان کے تحفظ کی ضمانت ہے۔اللہ نے تاریخ کے ایک اہم موڑ پر شب قدر کی مبارک رات کو ایک ملک پاکستان بنا کر دیا تھا۔ اب اللہ کی محبت اور عنایات کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم اس دین کے ساتھ اور اس دین (نظام حیات) کو پیش کرنے والی جماعت اور گروہ کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں

Your Comment