بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله منگل 02 / جون / 2020,

Instagram

جنسی منحرفین کی والدین سے زیادتی

23 Nov 2014
جنسی منحرفین کی والدین سے زیادتی

جاوید انور

لبرل جمہوریت میں عوام کو کس آسانی کے ساتھ بیوقوف بنا کر اور لاعلم رکھ کر ایک انتہائی قلیل اقلیت حاوی اور غالب ہو تی ہے، اس کی ایک بہترین مثال اونٹاریو ہے۔ جہاں پر ایک جنسی مرتد (ہم جنس پرست اورLGBTTIQ کمیونٹی ، جس کا اردو میں ایک نام جنسی مرتد سے بہتر کوئی نہیں ہو سکتا) اقلیت نے تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کو مکمل طور پر اپنی خدمت میں لگا لیا ہے۔ کنزرویٹوپارٹی کے پرانے سما جی ایجنڈا والے دانت بھی نکل چکے ہیں اور صرف معاشی دانت ہی باقی رہ گئے ہیں‘ جو محض سرمایہ دارانہ نظام اورنسلی عصبیت کی حفاظت کے لئے ہی باقی رہ گئے ہیں۔ اونٹاریو سے ہم جنس شادی کی قانون سازی کا سلسلہ شروع ہوا تھاجو فیڈرل قانون بنا۔ اونٹاریو کے جنسی مرتد وزرا نے پوری لبرل پارٹی پر کنٹرول کر لیا اور اس کے بعد اقلیتی لبرل حکومت کس طرح پوری آبادی کے لئے من مانی قانون سازی کرتی ہے، اس کی مثال Bill 13ہے جو اونٹاریو اسمبلی سے 5جون2012 کو پاس ہوا۔ یہ قانون سازی اسکول میں غنڈہ گردی (Bullying) روکنے کے نام پر ہوئی ہے۔لیکن یہ اصطلاح کا ہیر پھیر ہے اس کا اصل مقصد اسکول کے بچوں کو پرائمری سے ہم جنسی کی تعلیم اور بچوں میں اس رجحان ، رویہ اور ما حول کا فروغ ہے ، بچوں کی برین واشنگ کے ذریعہ ان کو بچپن سے ہی غلط رجحان کے ذریعہ جنسی مرتد بنانا ہے۔ آئیے اس بل کو تفصیل سے دیکھتے ہیں۔

-1 اس بل میں لفظ ” مثبت” )رجحان ،ماحول، رویہ وغیرہ )31 بار استعمال ہوا ہے۔ لفظ “مثبت” “ کوڈ ورڈ”ہے جو جنسی ارتداد (رجحان، ماحول اور رویہ وغیرہ ) کے لئے استعمال ہوا ہے۔

 2 ۔یہ بل “رویوں کی تبدیلی” کی بات کرتا ہے ۔یعنی ہم جنس پرستی اور جنسی ارتداد کے تمام طریقوں سے متعلق جتنے بھی مذہبی رویے، رجحان اور تعلیمات پائے جاتے ہیں اسے تبدیل کر کے اسے جنسی ارتداد سے ہم آہنگ کردیا جائے۔یہ لبرل اور این ڈی پی کافیڈرل سطح پر چارٹر آف رائٹس سے حاصل مذہبی آزادی پر کھلا حملہ ہے ۔

3۔ بل کا حصہ 9 اور سب سیکشن 303.1 میں Gay Straight Alliance Club کے قیام کو لازمی بنا دیاگیا ہے۔دوسرے لفظوں میں مذہبی طور پر ہم جنس پرستی کو غلط سمجھنا “غلط” قرار دیا گیا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اونٹاریوکی لبرل حکومت نے ایک نیا مذہب بنایا ہے جس پر ایمان لانا سب پر واجب ہے۔ یہ بھی فیڈرل سطح پر حاصل چارٹر آف رائٹس سے حاصل مذہبی آزادی پر کھلا حملہ ہے ۔

4۔ بل کے پارٹ2 میں “جنس” “ اور”صنف”کو بے معنی اور تغیر پذیر قرار دیا گیا ہے۔نئے نصاب میں( جو ہم جنس پرست وزیر تعلیم کے زیر نگرانی اور مرضی کے مطابق ہم جنس پرست ارکان پر مشتمل نصاب کمیٹی بنائے گیKGکے سطح سے ہی بچوں کی اس طرح ذہن سازی کی جائے گی کہ انھیں یہ معلوم ہو کہ جنس دراصل تغیر پذیر شے ہے۔ ایک لڑکا، لڑکی بھی ہو سکتی ہے اور ایک لڑکی لڑکا بھی ہو سکتا ہے۔تیسری جماعت میں ان کو اپنی پہچان اور شناخت کے لئے کہا جائے گا۔علاوہ ازیں دو ماں اور دو باپ کا تصور گریڈ 1 سے ہی ذہن نشین کرا دیا جائے گا۔ فیملی کولیشن پارٹی کے لیڈر فل لیز نےکےجی،  پہلی اور تیسری جماعت کے بچوں کو پڑھائے جانے والے مواد کی ٹیچرزٹریننگ کی ویڈیو بنوائی ہے۔ پہلی جماعت کے بچوں کو دو ماں کے تصور سے روشناش کراکے ان میں اس تصور سے دلچسپی پیدا کر نے کی کوسش کی گئی ہے۔ فل لیز نے کسی اسکول کی ایک تیسری کلاس (عمر 8 سال) کا حال یہ بیان کیا کہ وہا ں ہم جنس شادی کے بارے میں پڑھا کر تمام بچوں کو اپنا ایک ہم جنس پارٹنر چن کر کلاس میں ان کی اجتماعی شادی کراکر اس کا مظاہرہ کرایا گیا۔ایک لڑکے نے گھر آکر اپنی ماں سے کہا کہ اس نے فلاں لڑکے سے شادی کر لی ہے۔

5۔ بل نہ صرف ہم جنس پرستی اور مرد،مرد اور عورت عورت کا تصور پیش کرتا ہے بلکہ وہ اب 7 اصناف کا ذکر کرتا ہے۔ LGBTTIQ جس کا مطلب ہے لیسبین، گے، بائی سیکسوئل، ٹرانس جنڈر، ٹرانس سیکسوئل، ٹو اسپیریٹیڈ ، انٹر سیکس اور کوئیر (دراصل یہ  8اصناف بنتے ہیں لیکن قوس قزح کے سات بنیادی رنگوں کی مناسبت سےیہ لوگ انگریزی کے7 حروف ہی لکھتے ہیں۔شکر ہے کہ اردو میں نہ اس کا ترجمہ ہے نہ اس طرح کے الفاظ۔ کیونکہ یہ تمام جنسی رجحانات تاریخ انسانی کا نیا اور انوکھا واقعہ ہے جو مغرب میں ظہور پذیر ہوا ہے۔ اس سے پہلے انسانوں نے کبھی ایسا نہ سوچا تھا۔اسکول کی سطح اور ایلیمنٹری کی سطح پر ان تمام طریقوں اور رجحانات سے بچوں کو روشناس کرایا جائے گا۔علاوہ ازیں لفظ(Heterosexism) کا لفظ بھی انتہائی ناپسندیگی کے ساتھ متعارف کرایا جا رہا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ قدرتی جنسی رجحان (مرد اور عورت) والوں کی طرف سے ہم جنس پرستی کو ناپسندیدسمجھنا ۔یہ نئی سماجی تعلیم ہے جس سے سماج کو یکسر بدل کر قدرت سے بغاوت اور ٹکراو کی راہ پر لگا نا ہے ۔ اور یہ سب کچھ “برابری” اور “جامع” تعلیمی حکمت عملی (Equity and Inclusive Education Strategy)کے نام پر کیا جا رہا ہے۔

 6 ۔ جنسی ارتداد کی تعلیم کثیر جہتی طریقوں سے دی جائے گی جس کے لئے نصابی اور غیر نصابی طریقے دونوں کو اختیار کیا جایا گا۔ فلائر، پوسٹڑ پینٹنگ وغیرہ کے ذریعہ ہم جنس پرستی اور جنسی ارتداد کی تمام شکلوں کو انتہائی نارمل بنا کر پیش کیا جائے گا ۔مثال کے طور پر ٹورانٹو اسکول بورڈ کے سیکڑوں اوراق پر مشتمل گائیڈ لائن میں تیسری جماعت کے بچوں( 8سال) کے لئے راہنمائی ہے کہ انھیں پرائیڈ ڈے پریڈ کے حوالے سے کہا جائے گا کہ وہ اس پریڈ میں شامل ٹورانٹو اسکول بورڈ کے فلوٹ کے لئے پوسٹر بنائیں۔ اس کے لئے وہ انٹڑنیٹ سے گے پریڈ کا امیج کاپی اور پیسٹ کر نے کی ہدائت ہے۔بچوں میں تحریک پیدا کی جائے گی کہ وہ اس پریڈ میں شامل ہوں یا کم از کم اپنے اسکول میں اس طرح کے پریڈ منعقد کریں اور اس کے لئے پوسٹرز اور تشہیری مواد تیا ر کریں۔ کئی اسکولوں نے اس کی ابتدا اسی سال سے کرنے کی کوسش کی ہے۔ تقریباً تمام بورڈ مع  چندکیتھولک (پبلک فنڈڈ) نے اس طرح کے پوسٹرز تیار ککر لئے ہیں جس میں قوس قزح کو جنسی تشریق (orientation) کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔اور ایک پوسٹر میں ہم جنس شادی کو سول میرج ایکٹ کے تحت قانون بنانے کا حوالہ ہے گویا کینیڈا کی تاریخ کا یہ سب سے بڑا سماجی کارنامہ ہے۔

7 ۔سات اصناف کی اس جنسی تھیوری کو ایک معمولی ترمیم سے پرائیویٹ اسکولوں میں نافذ کیا جا سکتا ہے۔کسی بھی عیسائی، یہودی اور اسلامی اسکول میں کسی بھی طالب علم کی خواہش اور تحریک پر یہ قانون لایا جا سکتا ہے۔آج ان کی کل تمہاری باری ہے۔

 8 ۔ بل کا پارٹ 7 سب سیکشن 3.1 اسکول بورڈ کو یہ ہدائت کرتا ہے کہ وہ جب کسی شخص یا ادارے کو اسکول کی کوئی جگہ دے تو اس بات کو یقینی بنائے کہ وہ شخص یا ادارہ ان تمام اخلاقی ضابطوں کی پابندی کرتا ہو جس پر اونٹاریو کی وزارت تعلیم کاربند ہے۔یعنی دوسرے لفظوں میں اب کوئی اسلامی ، عیسائی، یا کوئی بھی مذہبی اور غیر مذہبی ادارہ اگر سات رنگوں والی جنس پرستی کے خلاف رائے رکھتا اور اس کی تعلیم دیتا ہے، اس کو اسکول کی جگہ دینے سے انکار کیا جا سکتا ہے۔یہ فیڈرل سطح پرچارٹر آف رائٹس سے حاصل مذہبی آزادی پر براہ راست یلغار ہے۔

 9۔بل 13 پیرا 1a میں لبرل حکومت نے غنڈہ گردی کاایک نیا مفہوم اور ایک نیا معنی دیا ہے۔ اس میں Bullying  کے معنی یہ ہیں کہ کسی بھی طالب علم کا کوئی بھی ایسا ”رویہ “جو ” امکانی“ طور پر کسی بھی قسم کا نقصان( خوف یا مایوسی کے جذبات ) پہنچانے کا حامل ہو، اس ضمن میں آتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کی کوئی بھی ایسی تقریر ، اشارہ اورکنایہ جو ہم جنس پرستی کے رویوں کو نقصان پہنچاتا ہو اور ہم جنس پرستیوں کی دل آزاری ہوتی ہو، اس ضمن میں آتا ہے۔اس بل کے ذریعہ جنسی ارتداد کے فروغ کے لئے اظہار رائے کی آزادی کے بنیادی حق پر بھی حملہ کر دیاگیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس بل کے ذریعہ جنس کے حوالے سے اونٹا ریواسکول کی سرزمین پر مذہب کی ہم جنس پرستی کے خلاف تعلیمات اور تبلیغ پر پابندی لگا دی گئی ہے۔یہ بھی فیڈرل سطح پرچارٹر آف رائٹس سے حاصل مذہبی آزادی اور کینیڈین ہیومن رائٹس ایکٹ کے تحت حاصل شدہ اظہار کی آزادی پر براہ راست حملہ ہے ۔

10۔ اس بل کے ذریعہ “ہوموفوبک”)ہم جنس پرستی کے خلاف پایا جانا والا ہر رویہ اور تعلیم) کو ایک بڑا گناہ اور بڑا جرم بنا کر پیش کیا گیا ہے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ تمام مذہبی کتب قرآن، انجیل، توراة ، زبور، وید اور گرو گرنتھ وغیرہ کی ہم جنسی کے خلاف تعلیمات ”ہوموفوبیا“ کے ضمن میں آئیں گی۔ اور اس کو ماننے اور اس پر ایمان لانے والے ”ہوموفوبک“ کہلائیں گے۔

11۔ یہاں اسکولوں میں غنڈہ گردی (Bullying) کی سب سے بڑی وجہ جسمانی اظہار ہے۔یعنی دبلا یا موٹا ہونا، رنگین عینک کا استعمال، بالوں اور لباس کا انوکھا اسٹائل، مسلم لڑکوں کی داڑھی اور اسلامی لباس، مسلم لڑکیوں کا حجاب/نقاب۔لیکن یہ بل اس اصل وجہ کو بالکل نظر انداز کر کے صرف اور صرف ”ہومو فوبیا“ کو ہی وجہ قرار دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ غنڈہ گردی روکنا اس بل کا قطعی مقصد نہیں ہے بلکہ یہ لبرل سیاسی ایجنڈا ہے جس کے تحت معاشرہ کو نفس اور خواہش پرستی کے دلدل میں دھنسانا اور نئی نسل کو اس راہ پر لگانا ہے۔ اس قانون کے پیچھے جنسی مرتدوں کی تنظیم ایگل(Eagle) ہے جس نے حکومت کو (اس کی خواہش کے مطابق) ایک گمراہ کن سروے کر کے دیا ہے کہ اسکولوں میں غنڈہ گردی (bullying) کی وجہ ہوموفوبیا ہے۔

12۔اس بل کے ذریعہ بچوں کے تعلیمی معاملات والدین اور ان کے بورڈ کے لئے منتخب نمائندہ “ٹرسٹی” کے اختیار نکل کر مکمل طور پر وزارت تعلیم اور اس کی بیوروکریسی اور ”چھپے“ ہوئے بیوروکریٹس کے ہاتھ میں آگئے ہیں۔ یہ جمہوریت کی کھلی توہین ہے جس کے تحت اونٹاریو کی لبرل اقلیت سیاہ و سفید کی مالک بنی ہوئی ہے اور جس نے فیملی اخلاقی اقدار کو دفن کر دیا ہے۔

 مندرجہ بالا سطور میں ہم نے بل 31 کا جائزہ لیا ہے جس کے تمام پہلو اختصار سے آچکے ہیں۔والدین خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کےبچوں کے ساتھ پبلک اسکولوں میں کیا ہونے جا رہا ہے۔مسلم والدین کی اکثریت اپنے تمام معاملات میں قدرتی طور پر اپنی مساجد، اسلامک سنٹرز، اسلامی تنظیموں اور جماعتوں کی طرف دیکھتے ہیں۔ لیکن میں تجربات کی روشنی اور کھلی آنکھ اور بصیرت کے ساتھ یہ بات کہ سکتا ہوں کہ یا تو آپ کو بہت مایوسی ہوگی یا آپ ان کی گمراہ کن مصلحتوں کا شکار ہو کر اپنی نسلوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ تقریباًتمام بڑی مساجد، مراکز اور اسلامی جماعتوں اور تنطیموں میں ایسے سیاسی کارکنان موجود ہیں جو لبرل اور این ڈی پی کی دربانی کا کام کر رہے ہیں۔ان میں سے کئی کی یہی جاب ہے اور ان میں ایسے بھی ہیں جو معمولی مفاد ات کی خاطر خاموش ہیں اور رہیں گے۔ ان معمولی مفاد میں ایک مفاد یہ بھی ہے کہ انھیں اپنے کسی رشتہ دار یا کسی پسندیدہ عالم، حافظ، خطیب کے وزٹ ویزہ کے لئے لبرل یا این ڈی پی کے ایم پی سے سفارشی خط لکھوانا ہوتا ہے۔ کچھ لوگوں کو اپنے بھا ئئ، بیٹے، بھتیجے، یا بھانجے کو لبرل یا این ڈی پی کا ٹکٹ دلوانا ہے۔ وہ اپنی پارٹی اور اس کی پالیسی کے خلاف کبھی زبان نہیں کھولیں گے۔علاوہ ازیں یہ لوگ جن اداروں اور تنظیموں سے وابستہ ہیں وہ خیراتی ادارے ہیں اور ان اداروں کی بقا میں ان کا ذاتی مفاد ہے۔ وہ اپنے ادارے کے چیریٹی اسٹیٹس کو بچائے رکھنے کے لئے اس مسئلہ پر مکمل مصلحت آمیز خاموشی اختیار کریں گے۔ ”ہوموفوبک “ کے الزام کی تردید مختلف حیلے اور بہانے اور اسلامی تعلیم کو ’ایڈجسٹ“ کر کے پیش کریں گے اور اسے ہی اعلیٰ درجے کے ”تدبر“ اور ”حکمت“ کا نام دیں گے۔ چند نام نہاد  “دانشور” اور تجزیہ نگار کے نزدیک یہ بہت معمولی سا مسئلہ ہے اور اس کی کوئئ خاص اہمیت ہے ہی نہیں ۔ معلوم نہیں کہ خدا کے دربار میں یہ لوگ کس منہ کو لے کر جائیں گے۔اور ان کی یہ ”تدبر آمیز“ خاموشی، تاویلات، اور ان کے “معذرت نامے” ان کی “کٹھ حجتیاں” کس پلڑے میں ڈالے جائیں گے؟ حد تو یہ ہے کہ کوئی اس جانب  توجہ کراتا ہے یا کرانے کی کوسش کرتا ہے تو اس کے خلاف  محاذ آرائئ شروع  کر دیتے ہیں۔ میری ان تمام حضرات سے مودبانہ گزارش ہے کہ  قرآن کا مظالعہ کریں اور لوطؑ اور ان کی قوم کے واقعات کے   حوالے سے  خصوصی مطالعہ کر کے خود اپنی حجت تمام کر لیں۔زمانہ گردش میں رہتا ہے اور گھوم کر وہیں پہنچتا ہے۔یہ دنیا علت اور معلول پر قائم ہے۔ یہ صرف دعاءنہیں ،  اور دانشورانہ بکواسیاں نہیں ،بلکہ تدبیر طلب کرتی ہے ۔ہمیشہ سے انجام کا مدار عمل پر ہی ہے اور عمل پر ہی رہے گا۔

والدین کو اپنے معصوم بچوں ، نونہالوں اور اپنے جگر کے ٹکڑوں کو روحانی مسموم آلودگی سے بچانے لئے اپنی تدبیر خود کرنی ہوگی۔میں نے اپنے گزشتہ مضمون میں فوری اور طویل مدتی پلان دیا ہے۔

 jawed@seerahwest.com

Your Comment