بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله منگل 02 / جون / 2020,

Instagram

علم کی عزت

15 Mar 2017
علم کی عزت

 مطالعات-3

محمد طارق غازی

 

استطاعت ہے تو عالم بنو.اس کی استعداد نہ ہو تو متعلم  بنو. یہ بھی ممکن نہ ہو تو عالموں سے محبت کرو. اور یہ بھی نہ کرسکو تو اہل علم سے بغض نہ رکھو.

حضرت عمر ؒ  ابن عبدالعزیز

حیات:  نومبر 682   تا فروری 720

دور حکومت :  717  تا  720

پانچویں خلیفۂ راشد

امت اسلامیہ کے پہلے  مجدد / پہلی صدی ہجری

 

سچ پوچھئے تو اس نصیحت کی آخری   پند پر عمل ہی سب سے مشکل کام ہے. یقین نہ آئے تو اپنے اطراف کا  ایک جائزہ لیجئے .اپنے ملنے والےدس لوگوں سے  اہل علم کا تذکرہ کیجئے . علمأکے بارے میں ان کی رائے دریافت کیجئے.پھر دیکھئے کتنے لوگ ان سے بغض رکھتے ہیں. پھر اس کی وجہ جاننے کی کوشش کیجئے .

بات کسی مولوی صاحب کے انفرادی کردار یا افکار کی نہیں ہے، ایک ایسے معاشرتی زمرہ کی ہے جس سے ہمیں  اجتماعی طور پردور کردیا گیا ہے. کیوں؟ اس کی ایک وجہ میں نے تاریخ سلطنت عثمانیہ کے پہلے خطبہ اور پہلے مضمون،‘‘ خون ٓلود صدی’’، میں  تیرھویں صدی  کی منگول تباہی کے بعد کی حالت  کے ذکر میں بیان کی تھی. یہاں پھر نقل کر دیتا ہوں:

  ’’مشرق میں شمالی ہندستان کو چھوڑ کر باقی ہر جگہ مسلمان منتشر و پراگندہ تھے اور منگولوں کے ہاتھوں پے بہ پے ناکامیوں اورشکستوں کے نتیجہ میں حوصلہ اور قیادت ہار  چکے تھے. لہٰذا تیرھویں صدی میں وسطی ایشیا سے مغربی ایشیا تک ہر جگہ خاصی مردنی طاری تھی اورمنگولوں کو یاجوج ماجوج قرار دے کر لوگ قیامت کی گھڑیاں گننے لگے تھے. ... اس ذہنی کیفیت کے ازالہ کے لئے اس زمانہ میں مسلم مشرق میں تصوف کو فروغ ہوا.جب اہل سیاست مکمل طور پر ناکام ہوگئے تو جید علمائے عصر نے وقت کی کمان اپنے ہاتھ  میں لے لی. فرید الدین عطار، نجم الدین کبریٰ،معین الدین چشتی، ابن عربی، شمس تبریز، ابو الحسن شاذلی، فرید الدین گنج شکر، جلال الدین رومی جیسے علما، مرشدین اور مصلحین اور ان کے متبعین نے اس بے حوصلہ ہجوم کو از سر نو منظم کرنے اور فرد کی حیثیت سے ان میں خود اعتمادی بحال کرنے کی مہم کا آغاز کیا.’’

  ہاں، یہی وہ گروہ ہے جو بری گھڑی میں کام  آتا رہاہے.مگر ہوا یہ کہ انیسویں صدی میں جب استعماری طوفان ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا اور مسلم ملک اس یورش کا بڑا نشانہ تھے تو یہی اہل علم کا طبقہ استعماری یورش کے مقابل کھڑا ہوا تھا اور اسی لئے ساری دنیا میں اس جماعت کو نفرتوں کا نشانہ بنایا گیا تھا. اس سے بڑا فتنہ یہ تھا کہ بڑی تعدادمیں خود مسلمان بھی اس کام میں جی جان سے لگ گئے  تھے(اور اب تک لگے ہوئے ہیں)کہ کسی کو خطاب، کسی کو جاگیر، کسی کو نوکری مل جائے گی.یہ سارے انعامات تو ملے اور مل جاتے ہیں مگر ملت پر ذلت مسلط ہوگئی

اب انیسویں، بیسویں اور اکیسویں صدیوں میں اگر علما کے اسی گروہ کو برا  کہا جاتا ہےتو بھلا کوئی ان کے پاس جائے گا ہی کیوں. یہی ڈر تھا پہلی صدی ہجری کے مجدد کو.

 کتنا دور اندیش تھا وہ شخص. اللہ اکبر.

Your Comment