بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله منگل 02 / جون / 2020,

Instagram

علم کی دو قسمیں— عصری تفہیم- پہلی قسط

25 Sep 2016
علم کی دو قسمیں— عصری تفہیم- پہلی قسط

 پروفیسر مسعود عالم فلاحی

اسلام میں تعلیم کی اہمیت:

اسلام دنیا کا وہ مذہب ہے جس نے تعلیم پر زور دیا۔ قرآنی تعلیمات اور احادیث نبویہ اس بات پر شاہد ہیں کہ علم کے بغیر انسان صحیح معرفت الٰہی نہیں حاصل کرسکتا۔ قرآن مجید کی پہلی جو آیات نازل ہو ئیں وہ علم سے متعلق ہیں اُن میں ساتھ ہی پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے اور قلم کی اہمیت بھی بتائی گئی ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے:

اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ۔ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ۔اِقْرَأْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُ ۔الَّذِیْ عَلَّمََ بِالْقَلَمِ۔ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ  مَا لَمْ یَعْلَمُ[العلق:۱-۵]

      ’’پڑھو (اے نبیؐ) اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا ،جمے ہوئے خون کے ایک لو تھڑ ے سے انسان کی تخلیق کی، پڑھو ، اور تمہارا رب بڑا کریم ہے جس قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا، انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہیں جانتا تھا۔‘‘

 قرآن مجید کی پہلی نازل ہونے والی مکّی سورتوںمیں سورہ ـ ’’ القلم‘‘ بھی ہے۔ اس میں اللہ کا ارشاد ہے:

  نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطَرُوْنَ[ القلم:۱]

   ’’ن۔ قسم ہے قلم کی اور اُس چیز کی جسے لکھنے والے لکھ رہے ہیں۔‘‘

    اس میں اللہ نے قلم کی قسم کھائی ہے اس کی قسم اس کی اہمیت پر دلالت کرتی ہے؛ ۔ سورہ ’’زمر‘‘ جو مکی ہے، اس میں اللہ کا ارشاد ہے:

  قُلْ ہَلْ یَسْتَوِیَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ[الزمر:۹] 

’’ اُن سے کہہ دیجیے : کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں کبھی یکساں ہوسکتے ہیں؟

 اس آیت میں عالم اور جاہل کے درمیان فرق بتایا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ جس طرح بینا اور نابینا،روشنی اور تاریکی، سایہ اور دھوپ، زندگی اور موت ، انسانیت اور حیوانیت،جنت اور دوزخ برابر نہیں ہو سکتے ،اسی طرح علم والے اور غیر علم والے بھی برابرنہیں ہوسکتے۔

سورہ ’’ فاطر‘‘  مکّی سورہ کے اندر ہم یہ بھی پڑھتے ہیں کہ:

  اِنَّمَا یَخْشَی اللَّہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلِمِائُ۔[ فاطر:۲۸]

 ’’  حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے ہی اُس سے ڈرتے ہیں۔‘‘

یہاں صیغۂ حصر ’’ اِنَّمَا‘‘ آیاہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں اس سے ڈرنے والے صرف علماء یعنی علم داں ہیں، جن کو اس کی معرفت کا علم ہے اور وہ اس کی ایسی قدر کرتے ہیں جیسا کہ کرنے کا حق ہے۔

 مدنی سورہ ’’ آل عمران‘‘ میں اللہ کا ارشاد ہے:

  شَھِدَ اللَّہُ اَنَّہُ لاَ اِلَہَ اِلاَّ ہُوَ وَ الْمَلَٓیِٔکَۃُ وَ اُوْلُوْ الْعِلْمِ قَآئِماً بِالْقِسْطِ۔لاَاِلَہَ اِلاَّ ہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔[ آل عمران:۱۸]

’’ اللہ نے خود شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، اور (یہی شہادت) فرشتوں اور سب اہل ِعلم نے بھی دی۔‘‘

 اما م غزالیؒ اس ضمن میں لکھتے ہیں:

’’ فانظر کیف بدأ سبحانہ تعالی بنفسہ، و ثنّی بالملائکۃ، و ثلّث بأھل العلم۔ و ناھیک بھذا شرفاً، و فضلاً، و جلائً و نبلاً۔‘‘(۱)

 ’’ دیکھو! سبحانہ تعالی نے کس طرح اپنے آپ سے شروع کیا، پھر فرشتوں کو اور پھر تیسرے اہلِ علم کو شامل کیا۔ اور یہ ان کے شرف و فضیلت اور عظمت کی بنیاد پر کیا۔‘‘

قرآن کریم سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے آدمؑ کو علم عطا کیا اور اسی علم کے سبب اسے زمین پر خلیفہ بنا یا اور فرشتوں پر جو اللہ کی عبادت میں ہر وقت مشغول رہتے ہیں اسے فضیلت بخشی، اور فرشتوں اور جنات کو انہیں سجدہ کرنے کا حکم دیا۔ اللہ کا ارشاد ہے:

’’ پھر ذرا اُس وقت کا تصوّر کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ ’’میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’ کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقررکرنے والے ہیں، جو اس کے انتظام کو بگاڑدیگا اور خون ریزیاں کریگا؟ آپ کی حمد و ثنا کے ساتھ آپ کی تسبیح اور تقدیس تو ہم کرہی رہے ہیں۔‘‘ فرمایا: ’’ میں جانتا ہوں، جو کچھ تم نہیں جانتے‘‘۔ اس کے بعد اللہ نے آدم کو ساری چیزوں کے نام سکھائے، پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا: ’’ اگر تمہارا خیال صحیح ہے ( کسی خلیفہ کے تقرر سے انتظام بگڑ جائے گا)، تو ذرا ،ان چیزوں کے نام بتاؤ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’ نقص سے پاک تو آپ ہی کی ذات ہے، ہم تو بس اتنا ہی علم رکھتے ہیں، جتنا کہ آپ نے ہم کو دے دیا ہے۔ حقیقت میں سب کچھ جاننے والا اورسمجھنے والا آپ کے سوا کوئی نہیں۔‘‘ پھر اللہ نے آدم سے کہا: ’’ تم انہیں ان چیزوں کے نام بتاؤ۔‘‘ جب اس نے ان کو اُن سب کے نام بتادئیے، تو اللہ نے فرمایا: ’’ میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی ساری وہ حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں، جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو، وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھُپاتے ہو، اُسے بھی میں جانتا ہوں۔پھر جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے جھک جاؤ، تو سب جھک گئے، مگر ابلیس نے انکار کیا وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں پڑگیا اور نافرمانوں میں شامل ہوگیا      [البقرۃ:۳۰-۳۴]

قرآ ن کریم میں علم سے متعلق بہت سی تعلیمات موجود ہیں، جنہیں طوالت کے خوف سے ذکر نہیں کیا جارہاہے۔(۲)

 شریعتِ اسلامی کے دوسرے مصدر حدیث شریف میں بھی علم پر کافی زور دیا گیا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’ طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم۔‘‘ (۳)  ’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان [مرد و عورت] پر فرض ہے۔‘‘

 آپٌ نے فرمایا: ـ ’’ من سلک طریقا یطلب فیہ علما سھل اللہ لہ بہ طریقا الی الجنۃ۔‘‘ (۴)

 ’’ جو حصولِ علم کے لئے نکلا، اس کے ذریعہ اللہ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان کردے گا۔‘‘

آ پ نے یہ بھی فرمایا: ’’ اِن الملائکۃ لتضع أجنحتہا لطالب العلم رضا بما یصنع۔‘‘(۵)

’’  طالبِ علم کے کام سے خوش ہوکر فرشتے اس کے لئے اپنے پَر پھیلا دیتے ہیں۔‘‘

پَر پھیلانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بالکل خشوع و خضوع کے ساتھ اس کی عزت و توقیر کرتے ہیں۔ اسلام میں طلبِ علم کو جہاد فی سبیل اللہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔امام  ترمذی ؒنے حضرت انسؓ سے مرفوعا روایت کیا ہے کہ:

   ’’ من خرج فی طلب العلم فہو فی سبیل اللہ حتی یرجع۔‘‘(۶) ’’ جو شخص حصولِ علم کے لئے نکلا وہ اللہ کی راہ میں [مجاہد کی طرح] ہے، جب تک کہ وہ لوٹ کرنہ آ جائے۔‘‘

مسلمانوں کے درمیان یہ مقولہ مشہور ہےـ’’ اطلب العلم من المہد اِلی اللحد۔‘‘  ’’ گود سے گور تک علم حاصل کر۔‘‘

 یہ مضمون اسلامی معاشرہ میں اس قدر مشہور ہے کہ بعض لوگ اسے حدیث نبوی سمجھتے ہیں؛ حالانکہ یہ حدیث نہیں ہے۔(۷)

 علم کی اقسام:

 اسلام کے اندر کچھ علم حاصل کرنا فرض ہے،  تو کچھ مستحب، کچھ مباح ہے تو کچھ مذموم۔ اور جو علم حاصل کرنا فرض ہے اس کی دو قسمیں ہیں:

۱۔ فرض عین،  ۲۔ فرض کفایہ۔

 جو علم حاصل کرنا فرض ہے اس کی حد بندی میں شارحین حدیث کے درمیان اختلاف ہے، ہر شخص اپنے لحاظ سے اس کا تعین کرتا ہے یعنی جو جس فن علم میں ماہرہے، وہ اسی کو بتاتا ہے۔ چنانچہ متکلم کے نزدیک یہ علم، علم عقائد ہے، فقیہ کے نزدیک یہ علم فقہ ہے، مفسر کے نزدیک یہ علم، علم تفسیر ہے، تو محدث کے نزدیک یہ علم حدیث ہے،صوفی کے نزدیک یہ علم، علم طریقت ہے، تو ماہرین اصول فقہ کے نزدیک یہ علم اصول فقہ ہے ؛حتی کہ بعض لوگوں کے نزدیک یہ علم، علم نحو و صرف ہے، تو بعض کے نزدیک یہ علم  طب۔ (۸)

علامہ یوسف قرضاوی نے اس سلسلے میں ایک عنوان قائم کیاہے ’’رأینا فی العلم المفروض علی کل مسلم‘‘ ( ہر مسلمان کے لئے واجبی علم کے حصول کے متعلق ہماری رائے)، اوراس کے تحت لکھتے ہیں:

’’ ہماری نظر میں یہاں بعض اقوال ،علومِ فرض عین اور علومِ کفایہ کے درمیان خلط ملط ہوگئے ہیں۔ جہاں تک علم تفسیر، علم حدیث، اصولِ فقہ، عربی زبان ، بلکہ طب کا تعلق ہے، تو یہ امت پر بہ حیثیت مجموعی ضروری ہیں،نہ کہ افراد پر۔(چنانچہ یہ فرض کفایہ ہیں۔ اور فرضِ کفایہ ،یہ ہے کہ امت مجموعی طور سے اس سے بے نیاز نہیں ہوسکتی۔ ضروری ہے کہ امت کے اندر اتنی بڑی تعداد موجود ہو، جو اس کمی کو پورا کر سکے، اور ضرورت کو پورا کر سکیں۔ اگر ایسا نہ ہوگا تو پوری امت گنہ گار ہوگی۔‘‘ (۹)

 سیاق میں وہ مزید فرماتے ہیں کہ ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ علم عقائد، ضرورت کے مطابق فقہی احکام، کچھ علم طریقت جو معرفت الٰہی کا سبب بنے، سیرت نبوی کا علم، اور لکھنے پڑھنے کا طریقہ وغیرہ سیکھے۔ (۱۰) دوسرے الفاظ میں دینی امور سے متعلق اتنا کچھ سیکھ لے جس کے ذریعہ توحید، شرک اور حلال وحرام کی پہچان کر سکے۔

 فرض کفایہ کی اقسام:فرض کفایہ دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ (۱) علومِ دینیہ میں فرض کفایہ (۲) اور علومِ دنیویہ میں فرض کفایہ

 علومِ دینیہ میں فرض کفایہ:

 جہاں تک علم دین کے اندرگہرائی پیدا کرنے کاسوال ہے ، تو وہ فرض عین نہیں؛بلکہ فرض کفایہ ہے، تاکہ امت میں ایسے لوگ موجود ہوں کہ جب ان سے فتوی پوچھا جائے تو علم کی روشنی میں فتوی صادر کریں اور جب کسی فیصلے کے لئے کہا جائے تو حق کے مطابق فیصلہ کریں، اور جب اسلام کی دعوت و تبلیغ کریں تو علم و حکمت سے کریں۔ اس کی دلیل قرآن کریم کی یہ آیت ہے:

  فَلَوْلاَ نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مَنْہُمْ طَائِفَۃُُ  لِیَتَفَقَّہُواْ فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُواْ قَوْمَہُمْ اِذَا رَجَعُواْ اِلَیْہِمْ لَعَلَّہُمْ یَحْذَرُوْن۔َ [التوبۃ:۱۲۲]

’’مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کی آبادی کے ہر حصے میں سے کچھ لوگ نکل کر آتے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے اور واپس جاکر اپنے علاقے کے باشندوں کو خبر دار کرتے ،تاکہ وہ (غیر مسلمانہ روش سے)  پرہیز کرتے۔‘‘

اس آیت کے اندر تمام امت پرطلب علم کے لئے نکلنا واجب نہیں کیا گیا ہے، بلکہ ہر فرقہ کی ایک جماعت پر کیا گیا ہے، چاہے وہ جماعت دو پرمشتمل ہو ، یا اس سے زیادہ ،یا اس سے کم پر۔ لیکن اسی کے ساتھ امت مسلمہ کے لئے یہ بھی جائز نہیں ہے کہ وہ اس امرسے پہلو تہی کرے، یہاں تک کہ کوئی بھی نہ ہو جو لوگوں کو علم دین سکھا اور بتا سکے۔ جیسا کہ متفق علیہ حدیث میں ہے:

’’ ان اللہ لا یقبض العلم انتزاعا، ینتزعہ من  العباد، و لکن یقبض العلم بقبض العلماء، حتی اذا لم یبق عالما، اتخذ الناس رؤوسا جہالا، فسئلوا، فافتوا بغیرعلم فضلوا وأ ضلوا۔‘‘ (۱۱)

’’  اللہ علم کو اس طرح ختم نہیں کرے گا کہ وہ لوگوں کے سینوں سے اسے کھینچ لے۔ بلکہ ایسے علماء کو اٹھا کر ختم کرے گا۔ یہاں تک کہ جب کوئی عالم نہیں بچے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنالیں گے، وہ [ان سے] سوال کریں گے  اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے، خود بھی گمراہ ہوں گے اور [دوسروں کو بھی] گمراہ کریں گے۔ ‘‘

 لہٰذا، امت پر واجب ہے کہ اس میں سے کچھ لوگ تیار ہوں جو دعوتِ دین اور افتاء وغیرہ کی خدمت انجام دے سکیں، اور ان کی تعداد اتنی ہو جو ہر شہر کی ضرورت کو پورا کرسکیں۔

علومِ دنیویہ میں فرض کفایہ:

جہاں تک دنیوی علوم میں فرض کفایہ کا تعلق ہے، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ امام غزالیؒ کی عبارت نقل کر دی جائے، وہ لکھتے ہیں کہ:

’’  اما فرض الکفایۃ منھا: کل علم لا یستغنی عنہ فی قوام أمور الدنیا، کا لطب اذ ہو ضروری فی حاجۃ بقاء الأبدان، کالحساب، فانہ ضروری فی المعاملات و قسمۃ الوصایا و المواریث وغیرہما، و ہذہ ہی العلوم التی لو خلا البلد عمن أن یقوم بہا حرج أہل البلد  و اذا قام بہا واحد کفی و  سقط الفرض من الآخرین۔ و لا یتعجب من قولنا: ان الطب و الحساب من فروض الکفایات، فان أصول الصناعات أیضاً من فروض الکفایات، کا لفلاحۃ و الحیاکۃ و السیاسۃ، بل الحجامۃ و الخیاطۃ، فانہ لو خلا البلد من الحجام تسارع الھلاک الیہم، و حرجوا بتعریضہم أنفسہم للہلاک، فان الذی أنزل الداء، أنزل الدواء، و أرشد الی استعمالہ، و أعد الأسباب لتعاطیہ، فلا یجوز التعرض للہلاک باہمالہ۔ و أما ما یعد فضیلۃ لا فریضۃ، فالتعمق فی دقائق الحساب، و حقائق الطب، و غیر ذلک مما یستغنی عنہ ولکنہ یفید زیادۃ قوۃ القدر المحتاج الیہ۔‘‘ (۱۲)

’’ فرض کفایہ: وہ علم ہے جس کے بغیر دنیا کا نظام نہیں چل سکتا، جیسے طب کہ وہ جسم کی بقاء کے لیے ضروری ہے، حساب کہ وہ معاملات، وصیتوں اور میراث کی تقسیم کے لیے ضروری ہے۔ یہ وہ علوم ہیں کہ اگر کوئی شہر، ان کے جاننے والوں سے خالی ہو تو، اہلِ شہر کو پریشانی لاحق ہوگی۔ اگر کوئی ایک بھی یہ علوم سیکھ لے تو ضرورت پوری ہوجائے گی اور دوسروں پر سے فرض ساقط ہو جائے گا۔ لہٰذا ہمیں اس بات پر تعجب نہیں ہونا چاہئے کہ علمِ طب اور حساب فرضِ کفایہ ہیں۔ اصولِ صنعت بھی فرضِ کفایہ میں داخل ہیں، جیسے زراعت، حیاکت [ کپڑا بننا] سیاسہ [ گھوڑے کو سدھانا]، بل کہ حجامت [پچھنا لگانا] اور خیاطی بھی۔  اگر کوئی شہر پچھنا لگانے والے سے خالی ہوجائے، تو لوگوں کی ہلاکتیں بڑھ جائیں گی اور ان کی جانوں کے لئے خطرہ لاحق ہوجائے گا۔ کیوں کہ جس نے بیماری پیدا کی اس نے دواء بھی پیدا کی ہے، اس کے استعمال کا راستہ بھی بتایا ہے اور اس کے وسائل و ذرائع کی بھی رہنمائی فرمائی ہے ۔ لہٰذا، اس سے غفلت برت کر ہلاکت کے منہ میں جانا جائز نہیں۔ جو چیزیں فرض نہیں بلکہ فضیلت پر مبنی ہیں، جیسے دقائق حساب اور حقائق طب وغیرہ میں گہرائی پیدا کرنا۔ یعنی جس سے بے نیاز تو ہوا جاسکتا ہے لیکن اس میں مہارت سے ضرورت مندوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔‘‘

امام غزالیؒ کی یہ رائے مضبوط اور مقاصد شریعت کے عین مطابق ہے ؛کیوں کہ شریعت یہ چاہتی ہے کہ امت مسلمہ ایک مضبوط اور خود کفیل امت بنے، جو دشمنوں کے چیلینزیز کا جواب دے سکے۔ یہیں سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ امت پر واجب ہے کہ وہ تمام علوم مثلاً سائنسی علوم، علم ریاضی (Mathematics)وغیرہ سیکھے جو آج کے دور میں آگے بڑھنے کا ذریعہ ہے، صرف طب اور حساب   (Arithmetic)پر اکتفا نہ کرے، کیوں کہ انہوں ( امام غزالیؒ) نے اپنے زمانے کے لحاظ سے بات کہی ہے۔اسی طرح امت پر یہ فرض کفایہ بھی عائد ہوتا ہے کہ وہ ترقی پزیر صنعتوں کو سیکھے تاکہ وہ اس میدا ن میں امامت کا درجہ حاصل کرلے۔آج مغرب دنیاپر ،اور بطورِ خاص دنیائے اسلام پر صرف اسی وجہ سے حکومت کررہا ہے کہ اس نے، فزکس، نیو کلیر فزکس (Nuclear Physics)،فلکیات،کیمیا،علم حیات (Biology)، جیولوجی، وغیرہ جدید علوم پرعبور حاصل کر رکھا ہے اور انجینیرنگ، جو میٹری، آرکیٹیکچر،علم جینیات، علم منافع اعضاء(Physiology)، اسلحہ اور ادویہ سازی کے میدان میں سب سے آگے ہے۔

مغرب اخلاق واقدار سے عاری ہوچکا ہے، جس کی وجہ سے اسلحہ اور ادویہ سازی کا علم دنیا کے لئے خطرہ  بنتا جارہا ہے، جہاں ایک طرف ایٹمی، کیمیاوی اور جراثیمی اسلحہ سے دنیا کو خطرہ لاحق ہے، وہیں ادویہ سازی بھی غیر محفوظ ہے، اسے ایسے لوگ تیار کررہے ہیں، جو نہ تو خالق سے ڈرتے ہیں اور نہ ہی مخلوق پر رحم کرتے ہیں۔ اخبارات،ٹی وی،انٹرنیٹ کے ذریعہ نام نہاد بیماریوں کا پرچار کرتے ہیں تاکہ ان کی دوائیاں بازار میں فروخت ہوں۔ جیسا کہ Selling Sickness[سیلینگ سِکنیس]  (۱۳) کے مصنفین  جناب رے موئے نیہان (Ray Moynihan) اورجناب الن کاسیلس(Alan Cassels) نے بڑی تفصیل اور دلائل کے ساتھ اسے بیان کیا ہے۔

دوسری جانب عالم انسانیت کو علم جینیات)  (Genetic Engineering اورجانوروں کی کلوننگ(Animal Cloning)پر حصول قدرت سے خطرہ لاحق ہے کہ کہیں یہ عالمِ انسانی کے اندر نہ داخل ہوجائے۔اس سے اسی وقت حفاظت ہوسکتی ہے جب اہلِ ایمان اور اخلاق و کردار کے حامل لوگ اسے نشو نما دیں، کیوں کہ اسلام میں یہ واجب ہے کہ علم انسانیت کے لئے فائدہ مند ہو، نقصاندہ نہ ہو، اسی لئے رسولؐ  علم غیر نافع سے پناہ مانگتے تھے

امام غزالیؒ کا یہ کہنا کہ دقائق حساب و حقائق طب میں گہرائی پیدا کرنا،  فضیلت ہے فریضہ نہیں، یہ ان کے زمانہ کے لحاظ سے تھا اور انہوں اپنے دور کے لحاظ سے بات کہی تھی،لیکن آج کے دورمیں اس کے اور اس کے مانند دوسرے علوم جیسے علم ریاضی، فزکس، کیمسٹری، جیو لوجی، علم الحیوان (Zoology) ، علم بحار، علم صحراء وغیرہ فریضۂ لازمہ ہے۔ آج دوسری قومیں اس میں بہت دور نکل چکی ہیں۔ اگر یہ علوم نہ ہوتے تو موجودہ زمانہ کمپیوٹر، انٹرنیٹ، ٹیکنالوجی، ٹیلی فون، موبائل، جہاز اور راکٹ وغیرہ بنانے میں کامیاب نہ ہوتا، اور نہ ہی چاند پر جا پاتا،، اور نہ ستاروں پر جانے کی کوشش کرتا۔امت میں چند لوگوں کے ان علوم میں ماہر ہوجانے سے فرضِ کفایہ کی ادائیگی نہیں ہوگی؛ بلکہ ضرورت ہے کہ ایک بڑی تعداد میں لوگ تیار ہوں جو ان تمام علوم میں دوسری قوموں سے آگے بڑھ جائے۔

 سائنسی اور ریاضیاتی علوم پر عبور :

  آج کے دور میں علم صرف فکری نہیں بلکہ تجربہ کی بنیاد پر قائم ہے، اور یہ تمام سائنسی اور ریاضیاتی علوم پر محیط ہے اور یہ مادی ترقی کی بنیاد ہے۔ قرآن و حدیث سے پتا چلتا ہے کہ انسان کو ہر اس علم سے مستفید ہونا چاہئے جسے اللہ نے اس کے لئے مسخر کردیا ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے:

{وَ سَخَّرَ لَکُمْ مَا فِی السَّمَوٰتِ وَمَا فِی الْأَرْضِ جَمِیْعاً مِنْہُ.}[ الجاثیۃ:۱۳]

 ’’ اس نے زمین اور آسمانوں کی ساری ہی چیزوں کو تمہارے لئے مسخر کردیا۔‘‘        

 اسلام تجربات کا احترام کرتا ہے اور دنیاوی امور میں اسے باقی رکھتا ہے۔ اللہ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے باقی رکھا۔ جیسا کہ مشہور واقعہ ہے کہ آپؐ نے انصار کو تابیرِ نخلہ کرتے ( نر کھجور کے پھول کو مادہ کھجور کے پھول پرچھڑکتے) دیکھا، کیوں کہ ایسا کرنے سے پھل اچھے آتے ہیں۔ چونکہ آپؐ  مکہ جیسے غیر زرعی اور پتھریلی سرزمین میں پیدا ہوئے تھے، اس لئے آپؐ کو اس کا تجربہ نہیں تھا۔ لہذا اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انصارنے آپ ؐ کی رائے کو وحی الہی سمجھ کر، تابیر نخلہ کو بند کردیا۔ اس سال فصل اچھی نہیں ہوئی، جب رسول ﷺکو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا، یہ صرف میری رائے تھی، دنیاوی امور میں تم کو زیادہ تجربہ کار ہو ’’ انتم أعلم بأمورِدنیاکم‘‘(۱۴)

(جاری)

اشاعت زندگی نو، نئی دہلی، ستمبر 2016

 

Your Comment