بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله پیر 01 / جون / 2020,

Instagram

دینی مدارس میں تدریس حدیث

25 Jun 2010
دینی مدارس میں تدریس حدیث

مولانا اشہد رفیق ندوی

 تیرہویں صدی ہجری ہندستان میں علم حدیث کے باب میں انقلابی صدی کہلاتی ہے۔ کیوں کہ اسی زمانے میں باقاعدہ دینی اداروں کا قیام عمل میں آیا اور علم حدیث کی تعلیم و تدریس کا ایک مبسوط نظام برپا ہوا۔ مدارس کے قیام سے پہلے ائمہ و محدثین کے انفرادی حلقے تعلیم و تدریس کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی ﴿م ۱۰۵۶ھ﴾ اور حضرت شاہ ولی اللہ محدیث دہلوی ﴿م۱۱۷۶ھ﴾ رحمہمااللہ نے امہات کتب حدیث کو ہندستان میں متعارف کرانے کی جس مبارک کوشش کاآغازکیاتھا، ان مدارس نے اس عظیم الشان مشن کو کامیابی سے ہم کنار کیا۔ آج ہرطرف علم حدیث کاجوغلغلہ سنائی دیتا ہے، یہ انھی مدارس دینیہ کا مرہون منت ہے۔

مدارس میں تدریس حدیث

علم حدیث کے باب میں دینی مدارس کی خدمات مختلف النوع ہیں۔ مشہور بات ہے کہ نصابی تاریخ کے ابتدائی ادوار میں میں علم حدیث بہت مقبول مضمون نہ تھا۔ اس وقت زیادہ تر مضامین انتظامی ضروریات کے تحت پڑھائے جاتے تھے۔ تعلیمی نصاب کے لیے شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ نے صحاح ستہ کو متعارف کرانے کی کوشش کی ، مگر ایک صدی بعد یہ کوشش حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے زمانے میں اس وقت بارآور ہونی شروع ہوئی، جب انھوں نے مروجہ علوم وفنون کا بے لاگ تجزیہ کرکے قومی وملی ضروریات کے تحت نیا نصاب مدون کیا،اس میں قرآن وحدیث کی تدریس کو بنیادی اہمیت دی اور مؤطا امام مالک کے ساتھ صحاح ستہ کے درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ حضرت شاہ ولی اللہ کی نام ور اولاد نے اسے مقبول عام بنانے کے لیے بڑے جتن کیے ، مگر بعد کے ادوار میں تھوڑی بہت ترمیم کے ساتھ وہی نصاب مقبول رہا، جسے عرف عام میں‘‘درس نظامی’’ کہاجاتاہے۔

دارالعلوم دیوبند کاقیام ۱۲۸۳ھ﴿مطابق ۱۸۶۶؁ ﴾ میں عمل میں آیا۔اِس کے قیام کے ساتھ دینی مدارس کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہوتاہے۔ ارباب دیوبند نے تدوین نصاب کے وقت درس نظامی کی مکمل پیروی کرنے کی بہ جائے نصاب ولی اللٰہی کو بھی پیش نظر رکھا اور اس کاقابل قدر حصہ اپنے نصاب میں مدغم کیا۔ خاص طورسے علم حدیث کی امہات کتب کو شامل نصاب کرکے درس نظامی کو متوازن بنانے کی سعادت حاصل کی۔ اس نصاب کا امتیاز یہ تھا کہ اس میں پہلی بار اصول ستہ کو باقاعدہ جگہ ملی۔ اس کے علاوہ مشکوٰۃ کی تدریس کے لیے بھی گنجایش رکھی گئی، جو پہلے سے درس نظامی کا حصہ تھی۔

تحریک ندوۃ العلمأ نصاب تعلیم میں اصلاح اور ‘‘قدیم صالح و جدید نافع’’ کے امتزاج کے لیے برپاہوئی، اس نے تعلیم وتدریس کے مختلف پہلوئوں پر غور وفکر کرکے ایک نیا نصاب مدون کیا۔ اس میں بھی امہات کتب حدیث کو متناسب جگہ دی گئی۔ البتہ تمام احادیث کو ایک ساتھ پڑھادینے کی بہ جائے طلبہ کی ضرورت و لیاقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس مضمون کو پورے دورانیہ تعلیم میں پھیلادیاگیاہے۔ چنانچہ ثانویہ خامسہ سے شروع ہوکر ۹برس کی مدت تعلیم میں ہر سال مادہ حدیث کو ایک لازمی مضمون قرار دیاگیا۔ اس طرح ایک متوازی نصاب وجود میں آگیا۔

مدرستہ الاصلاح اور جامعتہ الفلاح نے دیوبند اور ندوہ دونوں کے نصاب ہاے تعلیم کو چھوڑکر ایک نئے نصاب تعلیم کی بنیاد ڈالی، جس کا امتیازی وصف قرآن مجید کی محققانہ تعلیم بتایاجاتا ہے۔ اس میں دیگر علوم و فنون کو قرآن مجید کی تشریح اور معاون کے طورپر پڑھایاجاتا ہے۔ ان اداروں میں بھی امہات کتب حدیث کی تعلیم کو اہمیت دی گئی اور ہر کتاب کے کچھ منتخب ابواب کو نصاب میں شامل کیاگیا۔ مدرستہ الاصلاح میں موطا امام مالک اور جامعتہ الفلاح میں بلوغ المرام کے بالاستیعاب درس کانظم رکھاگیا۔ البتہ جامعتہ الفلاح نے اختصاص فی الحدیث کے طلبہ کے لیے ایک مبسوط نصاب مقرر کیاہے، جس میں متون امہات الکتب کے ساتھ تاریخ ، تدوین، جرح و تعدیل، تخریج، نقد اور شبہات حول الحدیث جیسے موضوعات پر معاصر مصنفین کی کتابیں شامل کی ہیں۔

جامعہ سلفیہ بنارس اور اس کے زیر اثر مدارس تحریک اہل حدیث کی کوششوں کا ثمرہ ہیں۔ حدیث سے خصوصی لگائو کی وجہ سے ان اداروں میں متن حدیث کی تفہیم کے ساتھ تاریخ حدیث، علوم حدیث اور اصول حدیث پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے اور ندوۃ العلمائ کے طرزپر امہات کتب حدیث کو تمام مراحل میں تقسیم کرنے کے ساتھ مختلف جہات سے طلبہ کو علوم الحدیث سے روشناس کرانے کی نئی طرح ڈالی گئی ہے۔

جامعہ اشرفیہ مبارک پور کا نصاب حدیث بھی ندوۃ العلمائ کے طرز پر ہے۔ یہاں بھی امہات کتب حدیث و علوم حدیث کی مختلف مراحل میں تعلیم ہوتی ہے۔

تدریس حدیث کے تین طریقے

درس نظامی کے مطابق چلنے والے مدارس میں الفیتہ الحدیث اور مشکوٰۃ عا    لمیت کے ابتدائی درجات میں پڑھانے کے بعد درمیانی دوبرسوں میں حدیث کی بالکل تعلیم نہیں ہوتی۔ پھر آخری سال پوری طرح تدریس حدیث کے لیے مخصوص ہوتا ہے، جس میں صحاح ستہ کے ساتھ موطا امام مالک اور موطا امام محمد کابالاستیعاب درس ہوتاہے۔ ان کتابوں میں تقریباً چالیس ہزار احادیث ہیں، جو پانچ ہزار سے زائد صفحات پر پھیلی ہوئی ہیں۔ طلبہ و اساتذہ شب و روز مشقت کرکے یہ نصاب مکمل کرتے ہیں۔ اس نصاب اور طریقہ تدریس کی افادیت یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس طرح طلبہ کی پورے ذخیرہ حدیث پر نظر ہوجاتی ہے۔ بنیادی مسائل و احکام سے طلبہ چوں کہ پہلے سے واقف ہوتے ہیں، اس لیے متون کا سرسری اعادہ ہی مسائل کو مستحضر کرنے کے لیے کافی ہوتاہے۔

پریس کی ایجاد سے پہلے تدریس حدیث کے ضمن میں قرأت و القائ کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ معلم و متعلم دونوں پہلے سے پختہ علم و شعور رکھتے تھے۔ انھیں معانی ومطالب کی توضیح و تفصیل کی زیادہ ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ ان کے لیے متون کی رواں خواندگی کافی ہوتی تھی۔ یہ نصاب شاید اسی عہدکا نمائندہ ہے۔ اس نصاب اور طریقۂ تدریس پرہرزمانے میں شدید تنقیدیں ہوئی ہیں۔ علامہ رشید رضا مصری دیوبندکا دورہ کرکے لوٹے تو اس کی خوبیوں کے اعتراف کے ساتھ دورۂ حدیث کے بارے میں فرمایا:

پاکستان کے مشہور عالم دین مولانا ابوعمار زاہد الراشدی فرماتے ہیں: ’’دورہ ٔ حدیث کے طلبہ کی غالب اکثریت موجودہ طرز پر احادیث کے مضامین کاادراک نہیں کرپاتی۔ وہ حدیث کے اتنے بڑے ذخیرہ سے یوں گزرجاتے ہیں جیسے کوئی شخص نیم خوابی کی حالت میں اونگھتے ہوئے ایک باغ سے گزرجائے۔ حلقہ دیوبند کے ایک نامور عالم مولانا تقی عثمانی بھی اس سے مطمئن نہیں ہیں۔وہ فرماتے ہیں ‘‘دورۂ حدیث کے لیے ایک سال کے مختصر وقت میں حدیث پڑھنے پڑھانے کاحق ادا نہیں ہوتا، عموماً یہ ہوتاہے کہ حدیث کے معدودے چند ابواب تحقیق و تفصیل کے ساتھ مکمل ہوپاتے ہیں کہ سال ختم ہونے لگتاہے، اس کے بعد کے حصے تکمیل نصاب کی بھاگ دوڑ کی نذر ہوجاتے ہیں۔ استاد و شاگرد آخر سال میں انتہائی بھاگ دوڑ پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ صحیح بخاری کاکوئی حصہ ایسا نہیں ہے، جسے روداری میںگزاردیاجائے’’۔                          ﴿ہمارا تعلیمی نظام، ص:۵۰۱

دوسرا طریقہ تدریس مدرستہ الاصلاح کا ہے، جو امہات کتب حدیث میںچند کتابوں کا انتخاب اور ان منتخب کتابوں کے کچھ منتخب ابواب کی تدریس کانظم کرتے ہیں۔ تاریخ و تدوین کے موضوعات پر لکچرز کااہتمام ہوتا ہے اور اصول حدیث کے موضوع پر ایک بہت مختصر رسالہ تیسیراصول الحدیث مرتبہ مولانا محمد عمراسلم اصلاحی شامل نصاب ہے۔

جیساکہ اوپر ذکر آیااس مکتبِ فکر کاامتیازی وصف قرآن مجید سے شدت اعتنائ ہے۔ نصاب تعلیم میں اسے مرکزی اہمیت دی گئی ہے۔ احادیث کی جانب اعتنائ میں کمی کا ہمیشہ اس پر الزام عائد ہوتارہا ہے۔ حدیث کے نصاب میں انتخاب در انتخاب کی پالیسی کی وجہ سے اسے وہ جگہ نہیں مل پائی جو اس جلیل القدر علم کاحق ہے۔ جامعتہ الفلاح بلریا گنج کا اختصاص بھی قرآن مجید کی محققانہ تعلیم ہے، مگر اس نے بالخصوص فضیلت کے درجات کے لیے بہت ہی جامع و متوازن نصاب تیارکیا ہے، جس میں تدریس متون کے ساتھ حدیث کی تاریخ ، تدوین، اصول، جرح وتعدیل، فقہ الحدیث، نقد الحدیث، شبہات حول الحدیث وغیرہ پر جتنا مواد شامل کیا ہے، شاید ہی کسی دوسرے مدرسے نے شامل کیا ہو۔

ندوۃ العلمائ لکھنؤ ، جامعہ سلفیہ بنارس اور جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے نصابات میں ایک چیز مشترک ہے، وہ یہ کہ یہ مدارس تقریباً تمام امہات کتب حدیث کی تدریس کاہر تعلیمی مرحلے میں اہتمام کرتے ہیں۔ ان اداروں میں بخاری ومسلم مکمل پڑھانے کا اہتمام ہے۔ کچھ کتابوں کازیادہ حصہ پڑھایاجاتا ہے اور کچھ کتابوں کے منتخب ابواب پر اکتفا کیاجاتا ہے۔

اس تیسرے طبقے میں علوم الحدیث پر سب سے زیادہ توجہ جامعہ سلفیہ کے نصاب میں دی گئی ہے۔ متن حدیث کے ساتھ ہر تعلیمی سال میں ان کے یہاں اصول حدیث و علوم حدیث پر بھی کوئی ایسی کتاب ضرور شامل ہے، جو تاریخ حدیث، علوم حدیث اور اصول حدیث کی مختلف جہات پر محیط ہے۔

اِصلاحی تدابیر

مروجہ نصاب تعلیم کی متذکرہ صورت حال کے پیش نظر سوال پیداہوتاہے کہ کیا یہ صورت حال بالکل اطمینان بخش ہے یا اس میں مزید بہتری لانے کی گنجایش ہے۔ اگر علم حدیث کے قیمتی ذخیرے ، اس سے متعلق علوم وفنون کی مختلف جہات ، تقاضوں اور معاصر عہد میں تدریس و طریقہ تدریس میں جو انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، ان کی روشنی میں ان کا تجزیہ کیاجائے تو ابھی بہتری لانے کی کافی گنجایش ہے۔

ماہرین تعلیم کاکہناہے کہ ہر علم میں دس سال کے اندر دوگنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ متون حدیث میں اضافے کی بظاہر کوئی گنجایش نہیں ، مگر حدیث کا علم یہیں پر ختم نہیں ہوجاتا، بل کہ اس کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ کئی نئے علم و فن حدیث کی وجہ سے وجود میں آئے۔ پچھلی چند دہائیوں میں اس موضوع پر غیرمعمولی کام ہواہے۔ مروجہ نصاب نصاب تعلیم میں متون کی خواندگی، ان کی تفہیم وتوضیح اور کچھ اصولی مباحث کی تعلیم پر زیادہ زور ہے۔ ان تحقیقات سے واقفیت کاشوق و ولولہ خال خال ہی پایاجاتاہے۔ جب کہ علم حدیث کی تدریس کا حق ادا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ طلبہ واساتذہ کو مدرساتی تعلیمی مرحلے میں ان سے واقفیت ہوجائے۔

متون کی حفاظت اور ان کا استحضار تدریس حدیث کا محض ایک پہلو ہے۔ کچھ پہلو ایسے بھی ہیں، جن کی اہمیت کے اعتراف کے باوجود نصاب تعلیم میں ان کو مناسب جگہ نہیں مل سکی۔ نصاب تعلیم وہی مکمل و مفید ماناجاتا ہے، جس میں مضمون کامقصد، افادیت، مطلوبہ مقدار، وقت اور طریقہ کار واضح طورپر متعین ہوں اور مشاورت کے ذریعے یہ امور انجام دیے گئے ہوں۔ علم حدیث کا نصاب مقرر کرتے وقت کم از کم جن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے ، وہ یہ ہوسکتی ہیں:

﴿۱﴾ مناسب مقدار میںمتن کی خواندگی، تصحیح عبارت اور صحیح ترجمہ کی مشکل ﴿۲﴾ منتخب احادیث کا حفظ﴿۳﴾مفردات ، تراکیب اور اشارات کی توضیح﴿۴﴾ اوامرو نواہی کا استنباط اور اس کی تشریح اس طرز پر کی جائے گی کہ تعلیمات رسول ﷺکا مدعا واضح طورپر طلبہ کو معلوم ہوجائے، اس سے اسلام کے مکمل نظام حیات ہونے کا تصور سامنے آئے اور انسانی معاشرے کے ہرگوشے میں ان سے رہ نمائی ملے﴿۵﴾عصری مسائل اور چیلنجز کاتعلیمات رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں شافی و مسکت جواب دینے کی مشق﴿ ۶﴾ مسائل کے استخراج و استنباط میں قرآن و سنت کی حقیقی روح پیش نظر ہو اور جو فطری نتیجہ برآمد ہو وہی پیش کیاجائے، اس کی پوری احتیاط کی جائے کہ مسلکی تفوق ثابت کرنے کی کوشش میں روح حدیث مجروح نہ ہو ﴿۷﴾ امہات کتب حدیث اور ان کے عالی مرتبت مصنفین کے تعارف و امتیازات پر گفتگو ﴿۸﴾علم حدیث کی تاریخ، اصطلاحات اور اصول پر خاطر خواہ مواد شامل کیاجائے، اس ضمن میں اصول جرح و تعدیل کابھرپور اہتمام ہوناچاہیے۔ ﴿۹﴾ حدیث کے استناد کو منکرین و مستشرقین نے مشکوک بنانے کی ناکام کوشش کی ہے، طلبہ علوم نبوت کو اس کی بھرپور آگاہی دلائی جائے۔ اس کے تدارک کی تدابیر سمجھائی جائیں۔

ان نکات کی روشنی میںمذکورہ نصاب تعلیم کاتجزیہ کیاجائے تو خود بخود محسوس ہوگاکہ تدریس حدیث کے نصاب کو مزید بہتر اور مؤثر بنانے کے لے ابھی کافی گنجایش ہے۔ نصاب تعلیم پر تقریباً ایک صدی سے گفتگو ہورہی ہے، مگر اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہورہے ہیں۔ علوم وفنون میں روز افزوں اضافے اور عصری ضروریات اور تقاضوں کے پیش نظر نصاب کو مزید بہتر بنانے کے لیے اگر کسی گوشے سے مشورہ آتا ہے تو اسے درخور اعتنائ سمجھنے کی بہ جائے مدارس کا ایک مخصوص گروہ، تابناک ماضی اور برگزیدہ شخصیات کا حوالے دے کر ان مخلصین کی نیتوں پر شبہ ظاہر کرکے قیمتی تجاویز کو مشکوک بنادیتا ہے۔ حالانکہ ماضی کی فتح مندیوں کا حوالہ دے کر مستقبل کو محفوظ سمجھ لینا مثبت اور تعمیری سوچ کی غمازی نہیں کرتا۔

نصاب سازی نظام تعلیم کابنیادی عصر ہے، جو اب ایک مستقل علم بن گیا ہے، جس میںتعلیم و تدریس کی تمام ضروریات اور تقاضوں کو مدنظر رکھ کر مضامین کی تعیین اور طریقۂ تدریس کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تدوین نصاب کے وقت ان ماہرین سے بھی استفادہ کیاجائے۔ تاکہ ہمارا تعلیمی نظام مزید پختہ اور فعال بن سکے۔

(اشاعت اول: زندگی نو نئی دہلی جون2010 )


Your Comment