بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله منگل 02 / جون / 2020,

Instagram

ایک مثالی اسلامی تعلیمی ادارے کاخاکہ

25 Oct 2010
ایک مثالی اسلامی تعلیمی ادارے کاخاکہ

محمد جاویداقبال

 قوموںکامستقبل، کلاس روم سے وابستہ ہے، اس قول میں بڑی سچائی ہے۔ تعلیم حقیقت میں ایک ہمہ جہتی عمل ہے۔ ہمارے پیش نظر نئے ادارے قائم کرنا اور پہلے سے قائم شدہ اداروں کو مستحکم کرنا، انھیں اسلامی نقطہ نظر سے بہتر سے بہتر بناناہے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب ہم تعلیم کے اصل مقاصد سے پوری طرح واقف ہوں۔ اسلام ایک نظامِ زندگی ہے، اُس کی بنیاد توحید،رسالت اور آخرت پر رکھی گئی ہے۔ ہمارا یہ دین ہر شعبہ زندگی میں رہ نمائی کرتاہے۔ امر بالمعروف نہی عن المنکراس کاامتیاز ہے، معاملات کو بہتر طورپر انجام دینا اس کی تعلیم ہے۔ اسلام اقدارِ حیات (Values of life)کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ بُرائیوں اور منکرات کا سدباب کرتاہے۔ اس کے پیش نظر ایک صالح معاشرے کی تعمیر وتشکیل ہے۔ ہم اس وقت ایک ایسے مثالی تعلیمی ادارے کاخاکہ پیش کررہے ہیں جس کے فارغین طلبہ وطالبات ایک صالح اور اسلامی معاشرے کی تشکیل و تعمیر میں معاون ومددگار ثابت ہوسکیں گے۔

عناصر ترکیبی

مقاصد تعلیم

v    ۱-طلبہ اورطالبات کے ذہنوں میں اس فکر کو راسخ کرناکہ اسلام ہی وہ واحد نظام فکر وعمل ہے جس میں تمام انسانوں کی فلاح مضمر ہے۔

v    ۲-یہ نظام زندگی تمام انسانوں کے دنیوی واخروی مسائل کا واحد حل ہے۔

v    ۳-طلبہ وطالبات کو دوسرے نظام ہائے حیات کاتنقیدی طورپر مطالعے کا موقع فراہم کرنا، تاکہ وہ خود اس نتیجے پر پہنچ سکیں کہ اسلام ہی ایک اعلیٰ و ارفع نظامِ حیات ہے، جس کو انسانی عقل بھی تسلیم کرتی ہے اور خالقِ کائنات کی خوشنودی بھی اسی نظام کو قائم کرکے حاصل کی جاسکتی ہے۔

v    ۴-طلبہ وطالبات میں وہ تمام اخلاقی اوصاف پیداکرنا جوایک ترقی یافتہ اور مہذب سماج کے لیے مطلوب ہواکرتے ہیں۔

v    ۵-ادارے میں ایسا ماحول پیداکرناجو ہرقسم کی فحاشی اور عریانی سے پاک ہو اور جس کو اسلامی تہذیب وتمدن کی جیتی جاگتی تصویر کہاجاسکے۔

v    ۶-طلبہ وطالبات کی تربیت اس نہج پر کرناکہ وہ اسلامی تہذیب وتمدن کو سماج میں پروان چڑھانے کے اہل ہوسکیں ۔یہ صفت جذبہ ایثار و قربانی کو پروان چرھائے بغیر ممکن نہیں ہے۔

v    ۷-طلبہ وطالبات میں یہ احساس پیداکرناکہ وہ انسانی برادری کے افراد ہیں اس لیے انھیں تمام انسانوں سے محبت اور ساری انسانیت کی فلاح کے لیے فکرمند ہوناچاہیے۔ انسانوں کی خوبیوں کوسراہنا، طلبہ کی ہمت افزائی کرنا اور ان کی خامیوں کو حکمت عملی کے ساتھ دور کرنے کی کوشش کو اپنا دینی فریضہ سمجھناچاہیے۔

v    ۸-ادارے میں ایسا صحت مند ماحول پیداکرناجس پر عمل کرکے طلبہ وطالبات صحت کے اصولوں پر عمل پیراہوں۔

v    ۹-طلبہ وطالبات میںنیکی پھیلانے اوربدی سے آمادہ پیکار ہونے کاجذبہ پیداکرنا۔

تعلیمی ادارے کی عمارت

تعلیمی ادارے کی عمارت کشادہ اور کمرے ہوادار ہوں۔ عمارت میں طلبہ و طالبات کی ضروریات سائنس روم، لائبریری، اسٹاف روم، زبانوں کی لیبوریٹریاں (Laboratories) وغیرہ کے کمروں کانظم ہوناچاہیے۔ آغاز میں عمارت اس طرح تعمیر کی جائے کہ بالائی منزلیں آسانی سے تعمیر کی جاسکیں۔ کھیل کے کشادہ میدان کا ہونا بھی اشد ضروری ہے۔ ادارہ اگر شہر سے باہر کھلے مقام پر قائم ہوتو زیادہ بہتر ہوگا۔ اسٹاف کے لیے رہائش گاہیں اور ایک کشادہ مسجد کانظم ہونا بھی ضروری ہے۔ عمارت کے عقب میں پھلواریاں اور میدانوں میں ہری گھس اُگائی جائے ، تاکہ ماحول پر فضا اور خوش گوار رہے۔

ہیڈماسٹر یا پرنسپل

Ø     ٭تعلیمی ادارے کا روح رواں ہیڈماسٹر یا پرنسپل ہوتاہے۔ اس کی حیثیت وہی ہوتی ہے جو جہاز کے کپتان کی ہوتی ہے۔ وہ کاموں کے لیے منصوبہ بندی کرتا اور اسے روبہ عمل لاتاہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ وہ غیر معمولی صلاحیت کا حامل ہو۔

Ø     ٭وہ جسمانی اور ذہنی طورپر مضبوط ہو، ایک کمزور جسم کاآدمی جو ذہن و فکر کے لحاظ سے بھی مضبوط نہ ہو اس ذمّے داری سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتا۔ اس کاذہن اتنا توانا ہوکہ وہ کسی حال میں انتشار کا شکار نہ ہو، اس میں فیصلہ لینے (Decision Making کی صلاحیت ہو۔ وہ منطقی استدلال سے کام لینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو اورانتظامی امور سے بھی بہ خوبی واقفیت رکھتا ہو۔

Ø     ٭وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو اور فن تدریس کی تربیت بھی حاصل کرچکاہو۔

Ø     ٭اس کی شخصیت میں غیرمعمولی اعتدال کاپایاجانا ضروری ہے۔

Ø     ٭وہ طلبہ سے اس طرح محبت کرے گویا سب اس کی اولاد ہیں۔

Ø     ٭اسے کم سے کم ایک مضمون کا تخصص حاصل ہو۔ دیگر مضامین میں بھی کسی نہ کسی حد تک اسے درک حاصل ہو ، تاکہ اساتذہ اور طلبہ کی رہ نمائی کرنے میں اسے کوئی دقت پیش نہ آئے۔

Ø     ٭اس کے لیے ضروری ہے کہ معلمین و معلمات اورطلبہ وطالبات کی عزت نفس کاخیال رکھے۔

Ø     ٭اس کے طرزعمل سے معلمین اور طلبہ کو یہ یقین ہوکہ ان کی مناسب اورمعقول تجاویز پر سنجیدگی سے غور کیاجائے گا۔ البتہ نامناسب اور غیرمعقول امر کو کسی حال میں برداشت نہیں کیاجائے گا۔

Ø     ٭اس کو مختلف امور میں اساتذہ کے مشورے سے کام کرناچاہیے۔ البتہ اسے ان کے مشوروں کاپابند محض نہیں ہوناچاہیے۔

Ø     ٭اسے چاہیے کہ وہ معلمین کے گھریلو حالات سے کسی قدر واقف ہو، ان کے مسائل میں دلچسپی لے اور ان کو مناسب مشورے دے۔ ان کی اور ان کے اہل خانہ کی علالت کے موقع پر عیادت کرے۔

Ø     ٭وہ مطالعے کاشائق ہو بالخصوص فن تعلیم وتدریس کے سلسلے میں جدید تحقیقات اور نئی نئی کتابوں سے باخبر ہو۔

Ø     ٭نئی تکنیک کو اپنانے کے لیے تیارہو۔

Ø     ٭اس کے اور اس کے اہل خانہ کے عمل سے اس امر کااظہارہوتاہو کہ اس کی نگاہ میں دنیا کی عزیز ترین چیز اسلام اور اسلامی نظام زندگی ہے، جس کو غالب کرنا اس کی زندگی کااصل نصب العین ہے۔ اس کو سیرت النبی ، سیرت صحابہ کرامؓ  تابعین تبع تابعین اورمعلمین اخلاق اور ماہرین تعلیم کی تعلیمات اور تجربات سے واقف ہوناچاہیے تاکہ اپنی گفتگواور تقاریر میں مناسب مواقع پر ان کے حوالے پیش کرسکے۔

Ø     ٭اس کے لیے علم نفسیات سے واقف ہونا بھی ضروری ہے تاکہ اسے طلبہ مختلف طبائع اساتذہ اور کم تعلیم یافتہ اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ارکان انتظامیہ اورعوام و خواص سے ربط قائم کرنے اور خوش اسلوبی سے کام نکالنے میں آسانی ہو۔

Ø     ٭اسے حالات حاضرہ سے پوری طرح باخبر رہناچاہیے، اسے یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ سماج میں کس طرح کی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں، ان کے اصل عوامل کیا ہیں اوریہ بھی کہ سماج کو صحیح رخ پر موڑنے کے لیے کیا کچھ کرنا ضروری ہوتاہے۔

Ø     ٭اس کو یہ فن بھی آتاہو کہ اساتذہ سے کس طرح زیادہ سے زیادہ کام لیاجاسکتاہے اور ان کو خوش رکھ کر اُنھیں ادارے کے لیے کس طرح مفید بنایاجاسکتاہے۔

Ø     ٭اُسے چاہیے کہ کمزور، غریب اور نادار طلبہ کی رہ نمائی اور حوصلہ افزائی کرے ، تاکہ ان میں ترقی کرنے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ پیداہو۔

Ø     ٭اس کو اپنے ادارے سے غیرمعمولی وابستگی ہونی چاہیے، اسے ہمیشہ یہ فکر دامن گیر رہے کہ اس کاادارہ زیادہ سے زیادہ ترقی کرے اور بتدریج اپنے مقاصد کو حاصل کرسکے۔

Ø     ٭آمرانہ ذہنیت رکھنے والا شخص اس جمہوری دور میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اس لیے سب کو ساتھ لے کر چلنے کا ذوق و صلاحیت اس میں بدرجہ اتم پایا جاتا ہو۔

Ø     ٭ایک اچھا سربراہ وہی ہوسکتاہے کہ اگر اس کو کسی غلطی پر ٹوکاجائے تو فوراً متنبہ ہوجائے، اسے اپنی غلطی کے اعتراف میں کوئی عار محسوس نہ ہو، اسے حضرت عمرؓ  کا یہ قول ہمیشہ پیش نظر رکھناچاہیے :رَحِمَ اللّٰہُ مَنْ اِہدی اِلیَّ عیوبی ’اللہ کی رحمت ہو اس شخص پر جو میری خامیوں کی نشان دہی کرے۔‘

پرنسپل بہ حیثیت نگراں

پرنسپل میںانتظامی صلاحیت کا ہونا ایک ناگزیر صفت ہے۔ انتظام سے مراد اسکول کی طے شدہ پالیسی کا نفاذ ، خط و کتابت، نظم و ضبط اور مالیات سے متعلق روزمرہ کے کام ہیں اور اس سلسلے میں ریکارڈ رکھنے کا نظم۔ حساب کتاب کاباقاعدہ نظم وغیرہ، حساب میں شفافیت ہونا نہایت ضروری ہے۔

نگرانی سے مراد تدریسی اور غیرتدریسی عملے کے کاموں کی نگرانی بھی ہے۔ نگرانی کامطلب اساتذہ کے کاموںمیں خامیاں تلاش کرنا نہیں، بلکہ ان کی رہ نمائی اور ہمت افزائی کرنا ہے، تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ بہتر انداز سے اپنے فرائض منصبی انجام دے سکیں۔ اس طرح ان کی صلاحیتیں پروان چڑھیںگی۔

طلبہ کو دیے گئے کام کی جانچ بھی اس میں شامل ہے، جس سے اندازہ ہوسکے کہ اساتذہ نے طلبہ سے کتنا کام لیا۔ ان کے کام کی بروقت جانچ کی گئی یانہیں۔ ہر استاد کی الگ الگ Record bookہو، جس میں استاد کے کاموں کاذکر ہو، تدریسی خامیاں بھی اسی میں درج کی جائیں۔ اس امر کاخاص طور سے خیال رکھاجائے کہ متعلقہ استاد کی خامیوں اور کوتاہیوں کی تشہیر نہ ہو۔

طلبہ کی رہ نمائی میں یہ بھی داخل ہے کہ انھیں بتایاجائے کہ اسکول سے فراغت کے بعد اعلیٰ تعلیم کے ادارے اور روزگار کے مواقع کہاں کہاں پائے جاتے ہیں۔

اسکول میں ایک ماہر نفسیات (Counsellor)کی خدمات حاصل کی جائیں ، تاکہ اور اساتذہ کے مسائل باآسانی حل کیے جاسکیں۔

معلمین اور معلمات

۱-معلمین اور معلمات کے تقرر ادارے کی ضروریات کے پیش نظر کیے جانے چاہییں۔ ہمیں یہ تعداد 1.5مناسب معلوم ہوتی ہے۔ یعنی اگر کسی ادارے میں ۰۱درجات ہوں تو معلمین یا معلمات کی تعداد ۵۱ ہونی چاہیے۔ کوشش کی جائے کہ معلمین باقاعدہ ٹرینڈ ہوں۔ اگر گورنمنٹ کے ادارے سے انھوںنے ٹریننگ حاصل نہ کی ہوتوپرائیویٹ طورپر مختصر مدتی Teachers training camps میں انھیں ضرور شرکت کرنی چاہیے۔ پرنسپل کی ذمّے داری ہے کہ وہ اسکول میںاس  طرح کےLecturesکانظم کرے، جس سے معلمین میں فن تدریس کے بار ے میں آگاہی ہوتی رہے۔ اس کے علاوہ معلمین کو فن تعلیم پر دستیاب کتب کے مطالعے کی ترغیب بھی دینی چاہیے۔

۲-معلمین ومعلمات کے لیے یہ امر لازمی ہونا چاہیے کہ وہ کبھی کبھی معلمین کے اسباق چیک کرے اور جائزہ لے کہ اساتذہ ڈائری کے مطابق اپنے اسباق پڑھارہے ہیں یا نہیں۔

۳-معلمین کو وقت پر اسکول آنا چاہیے اور کلاس میں بھی بلاتاخیر وقت پر جاناچاہیے۔ انھیں قرآن کی سورہ الرحمن کی یہ آیت پیش نظر رکھنا چاہیے، جس میں کہاگیاہے : وَأَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَان’اور تولوتو ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو۔‘ ہم اس آیت کو اشیاء کو ٹھیک ٹھیک تولنے کے معنی میں استعمال کرتے ہیں، اس کے معنیٰ میں بڑی وسعت پائی گئی ہے۔ اس کے معنی کائنات میں عدل و قسط بھی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتو کائنات میں توازن قائم نہیں رہ سکتا۔ نتیجۃً یہ کائنات درہم برہم ہوکر رہ جائے گی۔

تعلیمی ادارے میں اس ہدایت کامطلب یہ ہوگاکہ ہرمعلم کو اپنے فرائض ایمان داری سے انجام دینے چاہییں۔ اسے وقت پر اسکول آناچاہیے، وقت پر کلاس میں جاناچاہیے، اگر کوئی استاد۵ منٹ تاخیر سے درجے میں جاتاہے اور اس درجے میں تیس طلبہ ہیں تو وہ صرف ۵ منٹ کا نقصان نہیں کرتا بلکہ ۱۵۰ منٹ کا  نقصان کرتاہے اور وہ اس آیت کی ہدایت کے برخلاف ترازو میں ڈنڈی ماررہاہے۔

۴-استاد کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ کھڑے ہوکر پڑھائے اور Teaching aidکااستعمال کرے۔ اس کے استعمال سے سبق طلبہ کے ذہن نشین ہوجاتاہے۔ حضورﷺ نے اس ٹیکنیک کا استعمال کیاہے۔ ایک مرتبہ آپﷺ نے لوگوں کے سامنے ایک تقریر کی اور ایک ہاتھ میں سونے کی ڈلی اور دوسرے میں ریشم کاکپڑا لے کر دکھایااور ارشاد فرمایا، ریشم اور سونا یہ دونوں چیزیں مردوں پر حرام ہیں۔ اس طرح اور کئی توضیحات کااستعمال کیاگیاہے۔

۵-استاد کا خط (Writing)اچھا ہوناچاہیے۔ تاکہ اس کو دیکھ کر طلبہ اپنے خط کوسنوار سکیں۔ بعض اساتذہ کاخط بچپن میں بگڑجاتاہے، بعدمیں وہ اپنے خط کو درست کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہمارے سامنے ایسی مثالیں بھی موجود ہیں ، جن سے پتا چلتاہے کہ بعض اساتذہ نے پچاس سال کی عمر میں اپنے خط (Writing)کودرست کرلیا۔

۶-ایک اچھا استاد وہ ہے جو طلبہ میں اپنے خاص مضمون کاذوق پیداکرسکے، اس کو ہمیشہ یہ فکر لاحق ہوکہ اس کے طلبہ اس کے مضمون سے خصوصی دلچسپی لیں۔ اس کے لیے اسے پیہم جدوجہد کرنی ہوگی۔ اگرچند طالب علم اس کے مضمون میں دلچسپی نہیں لیتے یا Homeworkکرکے نہیں لاتے تو استاد کو غور کرناچاہیے کہ کہیں خود اس کی تدریس میں کوئی خامی اور نقص تو نہیں جس کی وجہ سے طلبہ میں یہ بے پروائی پائی جارہی ہے۔

۷-استاد کو صاف ستھرے اور نفیس ذوق کاحامل ہوناچاہیے۔ اس کا لباس ، اس کارجسٹر ، اس کی ڈائری اور خود اس کا کلاس روم انتہائی صاف ستھرا ہو۔

۸-استاد کا کردار اتنا اعلیٰ اور موثر ہوکہ طلبہ میں اس کردار کو اختیارکرنے کا ذوق و شوق پیدا ہوجائے۔

۹-اساتذہ کے لیے ایک یونیفارم مقرر ہوناچاہیے۔ استاد کے لیے سفید یا ہلکے کریم رنگ کا یونیفارم ہوتو مناسب ہوگا۔ خلیفہ ہارون رشید کے زمانے میں اساتذہ کے لیے سیاہ عمامے کا رواج تھا۔

معلمین اور معلمات کاعلمی ،فکری اور فنی ارتقا

فکری اور فنی ارتقا کے لیے فن تعلیم سے متعلق کچھ مشہور کتب سے ایک کورس مرتب کیاجائے، جس کامطالعہ تمام معلمین کے لیے لازمی ہو۔ مہینے کے آخر ی دن اس نصاب پر کسی عنوان پر کسی معلم کی تقریر کرائی جائے اور بعد میںاس پر سوالات اور اظہار خیال کاموقع دیاجائے۔

٭معلمین کے مطالعے کے لیے قرآن و حدیث اور اسلامی لٹریچر پرمشتمل کتب کا نصاب مرتب کیاجائے، جس کامطالعہ جملہ معلمین کے لیے لازمی ہو۔

٭ادارے کی لائبریری میں سال بہ سال کتب کااضافہ کیاجائے۔ نئی کتب کی اطلاع معلمین کو بھی دی جائے۔

٭آج کل بازار میں تعلیمی CDsکاچلن ہے۔ ایسی CDsاور Model Lessonsمعلمین کو دکھائے جائیں ۔

طلبہ وطالبات میں اسلامی افکار وجذبات کیسے پروان چڑھائے جائے جائیں

طلبہ و طالبات میں اسلامی افکار وجذبات پروان چڑھانے کاذریعہ نصاب تعلیم اور اساتذہ ہیں۔ نصاب تعلیم اس طرح کابنایاجائے جس میں خدا ، رسول اور آخرت کو عقلی طور سے بھی ثابت کیاجائے۔ اس کے علاوہ معلمین اور معلمات خوداسلامی کردار کے حامل ہوں۔ عام طور سے دیکھاگیاہے کہ اس فکر کے حامل اساتذہ خشک مزاج ہوتے ہیں۔ مسکراہٹ ان کے ہونٹوں سے کوسوں دور ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ماحول بے رونق ہوجاتاہے۔ اس طرح کے مزاج کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اساتذہ فرحاں وشاداں دکھائی دیں۔ بعض اداروں کے نصاب تعلیم جس میںغیراسلامی افکار پائے جاتے ہیں، اگر استاد اسلامی فکر کاحامل ہوتو وہ دوران تدریس اُن افکار کا کھوکھلا پن ثابت کرسکتا ہے۔

Day Schoolمیں طلبہ و طالبات کو ایک وقت کی نماز پابندی سے پڑھوانے کا نظم کیاجائے۔ قرآنی آیات، احادیث، اقوال زریں، دینی پوسٹرس وغیرہ سلیقے سے آویزاں ہوں، جس کی زبان آسان، خط جلی، خوبصورت انداز ، دلکش اور جاذب نظر ہو۔ روزانہ دعا کے بعد مختلف اساتذہ طلبہ کے سامنے مختصر تقریر کریں۔ یہ تقاریر اصلاحی ، تعمیری اور معلوماتی موضوعات پر ہوں، لیکن ان سب پر اسلام کا عکس نمایاں ہوناچاہیے۔ تقاریر پر انبیاے کرام ؑ، صحابہ کرام ؓاور صلحاے امت کے سبق آموز واقعات سے آراستہ ہونی چاہییں۔

آٹھویں درجے تک پہنچے پہنچتے طلبہ وطالبات کو مکمل پارہ عم حفظ ہوجاناچاہیے۔ اگر ہم پانچویں درجے میں ۱۰سورتیں، باقی آٹھویں جماعت تک ہر جماعت میں نو سورتیں حفظ کرادیں تو پورا پارہ عم یاد ہوجائے گا۔ درجات کے باہر جو بلیک بورڈ ہوں، ان پر بھی خوبصورت خط میں قرآنی آیات، احادیث اور اقوال زریں لکھوائے جائیں۔ کوشش کی جائے کہ مواد طلبہ فراہم کریں۔ بورڈ پر ان طلبہ کے نام بھی لکھے جائیں ، جنھوں نے اقتباسات یا اقوال زریں فراہم کیے ہیں۔

طلبہ کے لیے لازمی قرار دیاجائے کہ وہ بورڈ کے مواد کو اپنی نجی ڈائریوں میں درج کریں۔ گاہ بہ گاہ علمائ اور اسکالرس کے توسیعی لیکچرز کرائے جائیں، لیکچر کے آغاز سے پہلے طلبہ سے کہاجائے کہ وہ لیکچر کو توجہ سے سنیں، اس کے بعد لیکچرسے متعلق طلبہ سے سوالات پوچھے جائیں اور صحیح جوابات پر اسی وقت انھیں انعامات دیے جائیں۔

مختلف تہواروں اور خصوصی مواقع کی مناسبت سے تقاریر کانظم کیاجائے۔ مثلاً عیدالفطر، عیدالاضحی، ہولی، دیوالی وغیرہ۔ بڑے طلبہ کو پروجیکٹ دیے جائیں کہ وہ خاص خاص محلوں یا بستیوں میں جاکر مختلف Statisticتیارکریں۔ مثلاً ایسے بچوں کی فہرست جو پانچویں درجے کے بعد Dropoutہوگئے ہوں، علمائ کی تعداد، بیوہ عورتوں کی تعداد، ایسی خواتین جو قرآن پڑھنا نہ جانتی ہوں، مختلف قسم کے سوال نامے تیار کرائے جائیں، جن سے حاصل ہونے والی معلومات (Feed back)کی روشنی میں ادارہ کوئی مناسب منصوبہ بناسکے۔ ایسے مرد وخواتین کی تعداد جنھوں نے پوری زندگی میں ایک مرتبہ ترجمہ سے قرآن پڑھاہو۔ الغرض رفاہی کاموں اور خدمت خلق کے پروگرام بناکر ان پر عمل کرایاجائے۔

سائنسی آلات اور دیگر Teaching aids

ادارے میں ضروری سائنسی آلات، نقشے، گلوب اور دوسرے معاون چیزوںکا ہونااشد ضروری ہے۔ اس میں سال بہ سال اضافے کانظم ہوناچاہیے۔ اساتذہ اور چند مخصوص طلبا کچھ معاونات خود تیارکریں۔

باقاعدہ سائنس لیبوریٹری کانظم بھی ضروری ہے۔

ہم نصابی سرگرمیاں (Co-curricular Activities)

ہم نصابی سرگرمیاں تعلیم کا اہم جز ہیں۔ اس کے درجہ ذیل فائدے ہیں:

۱-نصاب کے مقاصد کے حصول میں مدد ملتی ہے۔

۲-کھیل کھیل میں تعلیم دی جاتی ہے۔

۳-تدریس کے علاوہ بھی طلبائ میں دلچسپی پیدا ہوتی ہے۔

۴-شخصیت کا ارتقائ (Personality Development)ہوتاہے۔

۵-منصوبہ بندی کاتجربہ حاصل ہوتاہے۔

۶-مل جل کر کام کرنے کا شعور پیداہوتاہے۔

۷-ہم نصابی سرگرمیوں کی وجہ سے ہمت اور جرأت پیداہوتی ہے۔

۸-تخلیقی صلاحیتیں پروان چڑھتی ہیں۔

ہم نصابی سرگرمیوں کی تفصیل

۱-مقابلہ قرأت،۲-تقریری مقابلے،۳-تحریری مقابلے،۴-بیت بازی، ۵ -نظم خوانی، ۶-مختلف موضوعات کے تحت نمائش کااہتمام،۷-کھیل کود کے مظاہرے/مقابلے، ۸-ڈرامے،۹-قلمی جریدہ/اخبارنکالنا، فینسی ڈریس (Fancy Dress)

سرگرمیوں کے انعقاد کے لیے درج ذیل باتیں مدنظررکھنی چاہییں

۱-مقابلہ جات کانظم کرنا۔ ﴿ہاؤس سسٹم﴾

۲-مختلف سرگرمیوں کے لیے مختلف اساتذہ یامعلمات کو نگراں مقرر کرنا۔

۳-ہرسرگرمی کے انعقاد سے پہلے اس سرگرمی کے مقاصد طے کرنا۔

۴-تفصیلی پروگرام تیارکرنا۔

وقت، جگہ، صدارت، مہمانِ خصوصی، پروگرام کی ترتیب، گل پوشی، بیٹھنے کانظم، مائیک کے انتظام، طلبا کانظم و ضبط کا ذمے دار مقرر کرنا، دوآئٹم کے درمیان زیادہ وقت ضائع نہ ہو، اگر مقابلے کانظم کیاگیاہوتو جج منتخب کرنا، جانچ کاطریقہ طے کرنا،مقابلے کے اختتام پر تمام Judges کے دیے ہوئے نمبرات کو یکجاکرکے نتیجے تیارکرنا۔

۵-وقت کاتعین کرنا۔

۶-اس بات کاخیال رکھنا کہ ایک ہی قسم کی سرگرمی باربار دہرائی نہ جائے۔

۷-پروگرام کے اخیر میں محاسبہ کرنا کہ طلبہ وطالبات میں تعمیری جذبہ پیداہورہاہے یا نہیں، اس امر کابھی جائزہ لینا کہ طلبہ وطالبات میں حق کی حمایت اور باطل کی مخالفت کاجذبہ پروان چڑھ رہاہے یا نہیں۔

۸-       پروگرام کی خوبیوں اور خامیوں کا تحریری طورپر جائزہ لینا،تاکہ آیندہ کے لیے Feed backمل سکے اور اس کے مطابق آیندہ کے پروگراموں کو بہتر بنایاجاسکے۔

ذہین طلبہ و طالبات کے لیے منصوبہ بندی

اس کے لیے ادارہ خود ایک منصوبہ تیارکرے بعض تدابیر درجہ ذیل ہیں:

طلبہ وطالبات کو موقع دیاجائے کہ لائبریری سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔ طلبہ کو اس امر کے لیے متوجہ کیاجائے کہ وہ حاصل مطالعہ کے لیے Notesتیارکریں۔

٭ذہین اور ہوشیار طلبہ کو آمادہ کیاجائے کہ وہ کمزور طلبہ کی مدد کریں، اذکار یاد کرانے میں ان کی مدد لی جاسکتی ہے۔

٭مختلف تقریری وتحریری مقابلہ جات میں ایسے طلبہ کی شرکت یقینی بنائی جائے۔

٭ہم نصابی سرگرمیوں میں انھیں مواقع فراہم کیے جائیں۔

٭بہتر کارکردگی کی بنا پر انعامات سے سرفراز کیاجاناچاہیے۔

٭ان میں لیڈرشپ کی صفات کو پروان چڑھایاجائے۔

مزید چند نکات

کسی تعلیمی ادارے کے لیے دو چیزیں بہت اہم ہیں۔ نمبر ایک تصورات (Conceptions)جس کاتذکرہ اوپر کیاگیاہے۔ یعنی اسلام دین حق ہے اور وہی دنیا وآخرت کی کامیابی کاضامن ہے۔ دوسری اہم چیز تعلیمی مہارتیں ہیں یعنی بعض کاموں میں طلبہ مہارت حاصل کرسکیں۔ موجودہ دور میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ ناگزیر ہوگئے ہیں۔ بچوں کو ان میں مہارت حاصل ہونی چاہیے۔ چوتھے درجے سے ہی بچے انٹرنیٹ پر مختلف تعلیمی چیزیں دیکھیں اور ان سے مستفید ہوں۔ البتہ انٹرنیٹ کے غلط استعمال سے پرہیزکریں۔

ان مہارتوں میںایک تقریری صلاحیت کاپیداکرنا بھی ہے۔ بچوں میں Stage Courageپیداکرنا چاہیے، تاکہ وہ بلاجھجک مختلف زبانوں میں اظہار خیال کرسکیں۔ جو زبانیں ادارے میں پڑھائی جاتی ہیں ان میں وہ لازمی طورپر اظہار خیال کرسکیں۔ مثلاً اردو، انگریزی، ہندی، عربی، ان سب زبانوں میں طلبہ اظہارخیال کرسکیں۔ اردو تومادری زبان ہے، اس کا بولناآسان ہے۔ انگریزی، عربی اور ہندی کی بھی مشق کرائی جائے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب اساتذہ ان زبانوں میں طلبہ سے گفتگو کریں۔ اگریہ مہارت طلبہ میں پیداہوگئی تو یقینا ان میں خوداعتمادی پیدا ہوگی اور وہ دوسرے اداروں کے طلبہ کے مقابلے میں اپنے آپ کو بہتر پوزیشن میں پائیں گے۔

گھریلواور ضروری چیزوں کی مرمت T.V، فریج اور بجلی کے کاموں میں طلبہ کو ابتدائی معلومات فراہم کرائی جائے ، تاکہ اگرکوئی چھوٹی موٹی خرابی ہوتو وہ خود درست کرلیں۔ اسی طرح موٹر سائیکل اور کار کی مشینری کی معلومات۔ ان تمام امور کے ساتھ ساتھ کچھ ادارے ایسے ضرور ہونے چاہییں جن کا الحاق مختلف بورڈ اور یونیورسٹیوں سے ہو،تاکہ اعلیٰ تعلیم کے حصول میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔

سرپرستوں اور سماج کا تعاون

ادارے کو چاہیے کہ وہ تعلیم و تربیت کانظم چست کرنے کے لیے سرپرستوں اور سماج کا مکمل تعاون حاصل کرے۔ سرپرستوں میں اسلامی خطوط پر تعلیم و تربیت کی اہمیت کو واضح کرنا چاہیے۔ان کو ادارے کی سرگرمیوں میں شریک رکھاجائے۔ چوں کہ طلبہ وطالبات اپنے وقت کا بڑا حصہ اپنے گھروں میں گزارتے ہیں اس لیے سرپرستوں کے تعاون کے بغیر ان کی تربیت کاخواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔

(اشاعت اول، زندگی نو، نئی دہلی، اکتوبر2010)

 

Your Comment