بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله منگل 02 / جون / 2020,

Instagram

تعلیم کے بنیادی مقاصد

25 Apr 2011
تعلیم کے بنیادی مقاصد

مولاناولی اللہ مجید قاسمی


جہالت بھی ایک طرح کی تاریکی ہے۔ یہ اپنے ساتھ ہزاروں خرابیاں لے کر آتی ہے۔ ہر ایک بُرائی سے نبردآزما ہونے کے لیے ایک طویل مدت درکار ہے۔ پھر بھی کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔ اس کا علاج صرف علم ہے۔ جب اسلام کا آفتاب عالم تاب طلوع ہوا تو وہ اپنے جلو میں علم و قلم کی نوید لے کر آیا۔ سب سے پہلی وحی پڑھنے اور لکھنے سے متعلق نازل ہوئی۔ حالاں کہ اس وقت عربوں اور دیگر قوموں میں بہت سی ایسی بُرائیاں تھیں، جن پر ایک مصلح کی نگاہ جاکر ٹھہرسکتی تھی۔ شرک و بت پرستی اپنی انتہا کو چھو رہی تھی، پوری قوم لامرکزیت اور اختلاف و انتشار کا شکار تھی، سیکڑوں دیوی اور دیوتاؤں کی طرح انسانی سماج بھی ان گنت حصوں میں بٹاہواتھا، ظلم و جور کی حکمرانی تھی، بے حیائی اور بے شرمی کا چلن تھا، انسانیت دم توڑ رہی تھی اور حیا ایک گوشے میں کھڑی آنسو بہارہی تھی۔ لیکن پہلی وحی میں صرف لکھنے اور پڑھنے کا ذکر ہے ۔ اس لیے کہ جہالت ہی کی کوکھ سے تمام بُرائیاں جنم لیتی ہیں اور علم ہی وہ سرچشمہ ہے جہاں سے تمام اچھائیاں پھوٹتی ہیں۔ یہی وہ روشنی ہے جس کے ذریعے شرک و بت پرستی کی قباحت اور توحید کی حقیقت جانی جاسکتی ہے۔ ارشاد خداوندی ہے:

شَہِدَ اللّہُ أَنَّہ” لآَ اِلَ ہَ اِلاَّ ہُوَ وَالْمَلآَئِکَۃُ وَأُوْلُواْ الْعِلْمِ ﴿اٰلِ عمران:۸۱

“اللہ نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں اور فرشتوں نے بھی اور علم والوں نے بھی۔”

یہ اہل علم ہی ہیں جو اللہ کے پیغام کو سمجھنے اور اس کے ذریعے زندگی کے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

وَتِلْکَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُہَا لِلنَّاسِ وَمَا یَعْقِلُہَا اِلَّا الْعَالِمُون﴿العنکبوت:۳۴

“اور یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں، اور اہل علم ہی اس طرح کی چیزوں کو سمجھ سکتے ہیں۔”

وَلَوْ رَدُّوہُ اِلَی الرَّسُولِ وَاِلَی أُوْلِیْ الأَمْرِ مِنْہُمْ لَعَلِمَہُ الَّذِیْنَ یَسْتَنبِطُونَہُ مِنْہُمْ                                                  ﴿النساء:۳۸

“خوف و امن کی بات کو اگر یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا اپنے حاکموں کے حوالے کردیتے تو ان میں سے جو استنباط کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ اس کی حقیقت کو جان لیتے۔”

تعلیم کی اثرانگیزی و ہمہ گیری

کسی بھی سماج اور معاشرے کی تشکیل میں تعلیم اور مقصد تعلیم کا موثر ترین کردار ہوتاہے، انسانی زندگی پر تعلیم کا بڑا گہرا اثر ہوتاہے۔ مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی لکھتے ہیں:

“یوں تو باضابطہ تعلیم اگرچہ معاشرے کے ایک خاص طبقے کو دی جاتی ہے۔ یعنی کم عمر طبقے اور بچوں کو لیکن وہ نتیجۃً پورے معاشرے پر محیط ہوتی ہے۔ اس کی وضاحت اس طورپر کی جاسکتی ہے کہ ہم جس نسل کو تعلیم دیتے یا دلواتے ہیں یہ نسل زیادہ سے زیادہ بیس سال کی مدت میں معاشرے میں اپنی کم زور ترین اور بے اثر سطح سے نکل کر معاشرے کی موثر ترین سطح پر آجاتی ہے اور سماج کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کرلیتی ہے، یعنی جوان طبقہ جو سماج کی ہر قوت واہمیت کی ذمے داری کاحامل ہے۔ اکبر الٰہ آبادی نے اسی لحاظ سے تعلیم کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاتھا:

وہ قتل سے بچوں کے یوں بدنام نہ ہوتا

افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

یعنی اگر وہ بنی اسرائیل کے کم عمر اور شیر خوار بچوں کو قتل کرنے کی بجائے ان کی تعلیم کا بندوبست کردیتا جو قبطی اور فرعون ذہن کے اساتذہ دیتے اور فرعون دین کا نظام اور انتظام ہوتا اور مقاصد تعلیم بھی اسی ذہن کے مطابق ہوتے تو پھر وہ بچے بڑے ہونے کے بعد بنی اسرائیل کے بجائے فرعون کے مقاصد کے بن جاتے اور بغیر قتل کے نتیجۂ قتل حاصل ہوجاتا۔”                         ﴿سماج کی تعلیم و تربیت، ص:25

تعلیم کا مقصد

تعلیم کامقصد متعین کرنے سے پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ اس کائنات میں خود انسان کی کیا حیثیت ہے؟ اگر انسان مغرب کے نظریے کے مطابق ایک سماجی جانور ہے تو ظاہر ہے کہ جانور کی تعلیم کا مقصد پیٹ بھرنے اور جسمانی آسودگی کے سوا اور کیاہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ تعلیم کا جو بھی مقصد ہوگا، وہ ذیلی اور ضمنی ہوگا اور ہر ایک کی گردش اسی محور کے اردگرد ہوگی اور اگر اسلامی نقطۂ نظر کے مطابق انسان کو اللہ کا بندہ اور خلیفہ قرار دیاجائے تو پھر اس کی تعلیم کامقصد ہوگاکہ وہ یہ جانے کہ رب کی بندگی کے تقاضے کیا ہیں؟ اللہ کی خوش نودی حاصل کرنے کے ذرائع کیا ہیں اور وہ کیا چیزیں ہیں جو اسے خلافت ارضی کا اہل بناتی ہیں۔

تعلیم ایسی ہونی چاہیے جو اسے علم وبصیرت کی دولت سے مالا مال کردے، زندگی کی ابدی اور روحانی حقیقتوں کا ادراک کراسکے، سائنس اور معاشرتی رجحانات کو صحیح رخ پر ڈال سکے اور انفرادی، عائلی اور اجتماعی حیثیت سے جو ذمے داریاں عائد ہوتی ہیں انھیں نبھاسکے۔ اسلام نے مقصد تعلیم کو جو وسعت اور ہمہ گیری عطا کی ہے اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔ روحانی، ذہنی، جسمانی، انفرادی، عائلی، اجتماعی اور اخلاقی تعلیمات جیسے اعلیٰ اور پاکیزہ مقاصد کو صحیح مقام اور اہمیت دی، جس کے نتیجے میں مسلمانوں کے درمیان بہترین سیرت وکردار کے حامل حکمراں، مدبر، مفکر اور سائنس داں پیداہوئے، جن کے عظیم کارناموں کے سامنے دنیا حیرت زدہ ہے۔

۱-عقیدۂ و ایمان کی جڑیں مضبوط کرنا

ہمارا یہ عقیدہ اور ایمان ہے کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ پچھلے جنم کے پاپ کا نتیجہ نہیں ہوتاہے، بل کہ وہ بالکل پاک و صاف پیدا ہوتا ہے اور اس میں فطری طورپر قبول حق کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔﴿صحیح بخاری:۵۸۳۱﴾ اور طفولیت عمر کا وہ حصہ ہے جس میں انسان کے مزاج اور بنیادی رجحانات کی تشکیل ہوتی ہے اورتعلیم و تربیت کا نتیجہ گہرا اور دور رس ہوتاہے۔ اس لیے حکم دیاگیاہے کہ دنیا میں آنے کے بعد سب سے پہلے قبول حق استعداد کی طرف توجہ دینی چاہیے اور اس کے کان میں اذان و اقامت کے الفاظ کہنے چاہییں ﴿ابوداؤد۹۲۴﴾ جب بچہ بولنے کے لائق ہوتو سب سے پہلے اس کی زبان سے وحدانیت کاکلمہ نکلنا چاہیے ﴿حاکم:۱/۱۱۷

اور جب وہ شعور کی منزل سے قریب ہونے لگے تو عقیدہ و ایمان کی جڑوں میں آب یاری ہونی چاہیے، اس کے سامنے ایسے واقعات لائے جائیں جن سے وہ اللہ کی وحدانیت، اللہ اور اس کے رسول کی محبت، اسلامی تعلیمات کی اہمیت اور دولت اسلام کی قدرو قیمت سے آگاہ ہوسکے۔ اُسے اسلام کی تاریخ اور اسلاف کے قصے سنائے جائیں،تاکہ عقیدے سے جذباتی و ابستگی پیدا ہو اور جرأت و شجاعت اور ہمت و بہادری جیسی صفات پروان چڑھیں۔حضرت عبداللہ بن عباسؓ کو طفولیت کے دوران اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کلمات سکھائے تھے اس سلسلے میں انھیں بنیادی پتھر سمجھنا چاہیے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

یا غلام انی اعلمک بکلمات احفظ اللہ یحفظک، احفظ اللہ تجدہ تجاہک، اذا سألت فاسال اللّٰہ واذا استعنت و فاستعن باللّٰہ و اعلم ان الامۃ لواجتمعت علی ان ینفعوک بشیٔ لم ینفعوک الا بشیٔ قد کتبہ اللّٰہ لک و ان اجتمعوا علی ان یضروک بشیٔ لم یضروک الا بشیٔ قد کتبہ اللّٰہ علیک رفعت الا قلام و جفت الصحف۔ ﴿سنن ترمذی/۵۶۶ حدیث:۲۵۱۶

“بچے! میں تمھیں چندکلمات بتارہاہوں، اللہ کو یاد رکھو، اللہ تمھیں یاد رکھے گا، اللہ کو یاد رکھو، اسے اپنے سامنے پاؤگے، جب کچھ مانگنا ہوتو اللہ سے مانگو، جب مدد لیناہوتو اللہ سے مدد لو، یاد رکھو! اگر تمام لوگ مل کر تمھیں کچھ فائدہ پہنچانا چاہیں تو صرف اتنا ہی فائدہ پہنچاسکتے ہیں جتنا پہلے سے اللہ نے تمھارے لیے لکھ دیا ہے اور اگر نقصان پہنچانا چاہیں تو اللہ کے لکھے ہوئے سے زیادہ وہ نقصان نہیں دے سکتے۔ قلم رکھ دیاگیاہے اور صحیفے خشک ہوچکے ہیں۔”

اسی مرحلے میں بچوں کو اسلام کی روشن تاریخ اور عقل و فطرت سے قریب تر اسلامی تعلیمات سے آگاہ اور عبادات کا عادی بنانا چاہیے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ ہم اپنے بچوں کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات سے باخبر کرنے کے لیے وہی اہمتام کرتے تھے جو قرآنی سورہ کے سکھانے کے لیے کرتے تھے۔ ﴿تربیت الاولاد فی الاسلام:۱/۹۱۱﴾ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ”اپنے بچوں کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو اور دس سال کی عمر میں نماز چھوڑنے پر ان کی پٹائی کرو اور ان کے بستر الگ کردو۔” ﴿سنن ابوداؤد:۹۰

۲-غیراسلامی نظریہ و تہذیب سے حفاظت

جہاں اس بات کی ضرورت ہے کہ بچوں کے ذہن میں عقیدہ و ایمان کی اہمیت، حقانیت اور برتری کو پیوست کی جائے، اسلام کو ایک کامل اور کام یاب نظریۂ حیات کے طورپر پیش کیاجائے وہیں اس کی بھی شدید ترین ضرورت ہے کہ غیراسلامی نظریات اور تہذیب کے زہریلے اثرات سے ان کے معصوم ذہنوں کی حفاظت کی جائے۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو جن باتوں کی نصیحت کی تھی ان میں سب سے اہم اور پہلی نصیحت یہ ہے:

 یَا بُنَیَّ لَا تُشْرِکْ بِاللَّہِ اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ﴿لقمان:۱۳

“بیٹے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، بلاشبہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔”

حضرت لقمان ؑ کی اس نصیحت میں تعلیم و تربیت کے بنیادی مقاصد کاخاکہ موجود ہے۔ اللہ کی وحدانیت اور شرک سے اجتناب، انفرادی اور عائلی ذمے داریاں، سماجی تعلقات اور سیرت و کردار سازی میں سے ہر بنیادی بات کاذکر ہے۔

۳-سیرت وکردار سازی

سیرت وکردار سازی کے لیے قرآن میں ایک بڑا جامع لفظ “تزکیہ” ہے۔تزکیہ کے معنی پاک و صاف کرنے اور نشوونما دینے کے ہیں۔حدیث میں اس کے لیے احسان کا لفظ اختیار کیاگیاہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہرچیزمیں “احسان” کو فرض قرار دیا ہے۔ یہاں تک کہ دشمن کو قتل کرنے میں بھی اس خوبی کی رعایت ضروری ہے اور چہرہ بگاڑنے، پیٹ چیردینے یا اس کے علاوہ کوئی ایسی حرکت کرنے کی اجازت نہیں ہے جس سے انسانیت کی اہانت ہو۔ انسان کے اندر خیر و شر دونوں طرح کی قوت موجود ہوتی ہے۔ تعلیم کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ وہ خیر کی قوت طاقت ور بنائے “تقویٰ” کے میلانات کو پروان چڑھائے اور شر کی قوت کو کم زور اور بُرائی کے رُجحانات کو بے اثر کردے۔ بچے کے لیے والدین اور اساتذہ کی طرف سے یہ ایک بہترین تحفہ ہے ۔ یہ ان کی ذمے داریوں میں شامل ہے کہ وہ بچے کو اچھے اخلاق سے آراستہ کریں اور برے کردار و عمل سے دور رکھیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

اکرموا اولادکم واحسنوا ادبھم ﴿سنن ابن ماجہ: ۶۰۹/۳۶۷۱

“اپنی اولاد کی عظمت کو پہچانو اور انھیں آداب سے آراستہ کرو۔”

من حق الولود علی الوالد ان یحسن ادبہ و یحسن اسمہ

                                                ﴿السنن الکبری للبیہقی: ۱/۱۳۶

“باپ پر بچے کا یہ حق ہے کہ وہ اسے اچھے آداب سکھائے اور اچھا نام رکھے۔”

علموا اولادکم واہلیکم الخیر وادبوھم ﴿رواہ عبدالرزاق وسعید بن منصور:۱/۱۱۴

۴-صلاحیتوں کی نشوونما

اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کو بے شمار صلاحیتوںاور خصوصیتوں سے نوازاہے۔ شکل و صورت کے اعتبار سے مخلوقات میں سب سے بہتر اور عقل و خرد کے اعتبار سے سب سے برتر، قدرت کی صناعی کا وہ بہترین شاہکار ہے۔خالق کائنات کا ارشاد ہے:

وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَۃَ قَلِیْلاً مَّا تَشْکُرُون ﴿السجدہ:۹

“اللہ تعالیٰ نے تمھیں کان، آنکھ اور دل عطا کیا لیکن تم میں شکرگزار بہت کم ہیں۔”

کان، آنکھ اور دل تعلیم کے بنیادی ذرائع میں سے ہیں، لیکن جیساکہ آیت کے آخر میں اشارہ کیاگیا ہے، عام طورپر انسانوں نے اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے ان انمول تحفوں کی قدر وقیمت نہیں پہچانی اور خالق و مالک کی شکرگزاری کی بجائے نافرمانی اور سرکشی پر آمادہ ہوئے۔ ان دی ہوئی صلاحیتوں اور قوتوں کا غلط استعمال کیاگیا۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو صلاحیتیں بخشی ہیں، تعلیم کے ذریعے انھیں پروان چڑھانے اور انھیں صحیح سمت دینے کی کوشش کی جائے۔ بے سمتی کی وجہ سے ان صلاحیتوں کے متعلق بازپرس ہوگی، ارشاد ربانی ہے:

وَلاَ تَقْفُ مَا لَیْْسَ لَکَ بِہٰ عِلْمٌ اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ أُول ئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْؤُولا                        ﴿بنی اسرائیل:۳۶

اور نہ پیچھے پڑ، جس بات کی خبر نہیںتجھ کو، بے شک کان اور آنکھ اور دل ان سب کی اس سے پوچھ ہے۔”

۵-سماجی ذمے داریاں

فرد کی تربیت ایسے انداز سے ہونی چاہیے کہ وہ خود اپنی ذات کے لیے، اپنے سماج اور معاشرے کے لیے، قومی اور بین الاقوامی برادری کے لیے مفید اور نفع بخش ثابت ہو۔ اسے انفرادی اور اجتماعی ذمے داریوں کا احساس ہو، دوسروں کے ساتھ اس کا رویہ بہتر ہو اور حقوق ادا کرنے والا ہو۔ اسلام ایک انسان کو جن چیزوں کا پابند بنانا چاہتاہے، ان میں سب سے اہم چیز “تقوی” ہے۔ ایک حساس دل شفاف شعور اور خشیت الٰہی کے ساتھ اللہ کے تمام احکام کا پابند ہو، زندگی کی راہ کانٹوں بھری راہ ہے، اس میں ہرطرف شہوات ، لذات، حرص وطمع، جھوٹی امیدوں کے کانٹے بکھرے ہوئے ہیں، اس پُرخار راستے سے اس طرح سے گزرناکہ دامن انسانیت داغدار نہ ہوتقویٰ کہلاتاہے۔ یہی وہ چیز ہے جو تمام خوبیوں کا سرچشمہ اور ہرطرح کی بُرائی کے لیے رکاوٹ ہے۔ اگر یہ نہ ہوتو پھر پولیس اور قانون کا خوف کسی کو جرم سے باز نہیں رکھ سکتاہے۔ قانون سے بچنے کے ہزاروں طریقے ہیں اور پولیس کی آنکھوں میں دھول ڈالا جاسکتا ہے اور اگر یہ صفت پیدا ہوجائے تو قانون اور پولیس کی پہنچ سے دور رہ کر بھی قانون شکنی کی ہمت نہیں ہوسکتی ہے۔

دوسری چیز جوایک صالح معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہے وہ ہے شفقت و رحمت کاجذبہ۔ یہ انسان کے تمام جذبات پر حاوی اور غالب ہوناچاہیے۔ اسی سے اخوت ،بھائی چارہ اور ہر جاندار کے ساتھ ہمدردی اور ایثار کی صفت پیدا ہوتی ہے۔

ایک اچھے سماج کی تشکیل کے لیے تیسری چیز باہمی حقوق کی ادائی ہے۔ اِس میںوالدین، رشتے داروں، پڑوسیوں، اساتذہ، عمررسیدہ، کم زوروں، بوڑھوں اور دوستوں کے حقوق شامل ہیں۔ ان سب کے ساتھ سماجی اور اجتماعی آداب سے آراستہ ہونا بھی ضروری ہے۔ مثلاً سلام،اجازت،مجلس کے آداب، گفتگو اور مزاح کاسلیقہ، مبارک بادی اور مزاج پرسی اور مریض کی عیادت کے آداب و غیرہ ان کی تفصیلات کتاب وسنت میں موجود ہیں۔

سماج کے تئیں ایک فرد کی یہ بھی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ سماج پر “صالح تنقید” کو کبھی نہ بھولے اور اچھائیوں کا حکم دے، ان کے پھلنے اور پھولنے کے ذرائع پیدا کرے، اچھے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرے، بُرائیوں کے خلاف نبرد آزمارہے، انھیں روکے اور ٹوکے اور بُرے کاموں کی حوصلہ شکنی کرے اور بچوں کی تربیت اس انداز سے کی جائے کہ ان میں جرأت و شجاعت پیدا ہو۔ تاکہ حق بات کہنے میں وہ کوئی جھجک اور خوف محسوس نہ کریں۔

تعلیم برائے معاش

مغرب اور جمہوریت کے علم برداروں کی نگاہ میں انسان ایک سماجی جانور ہے۔ اس کی حیثیت ایک معاشی اور عمرانی عامل کی سی ہے، جو معاشرے کی دولت مشترکہ میں اضافے کا باعث ہے۔اس لیے ان کے یہاں “تقسیم براے معاش” ہی بنیادی مقصد ہے۔ بچے کا شعور ابھی مکمل طورپر بیدار نہیں ہوتاکہ اسے موہوم خوف اور شوق میں مبتلاکردیاجاتا ہے۔ بچے کے سامنے بار بار یہ دُہرایاجاتاہے کہ تعلیم حاصل کرو تاکہ دولت جمع کرکے معاشرے میں ایک نمایاں مقام حاصل کرو۔اکبرالہٰ آبادی نے اسی لییکہاتھا  ﷺ

یہ بات تو کھری ہے لیکن نہیں ہے کھوٹی

عربی میں نظم ملت، بی اے میں صرف روٹی

کیا کہیں احباب کیا کارنمایاں کرگئے

بی اے کیا، نوکر ہوئے، پنشن ملی اور مرگئے

تعلیم برائے معلومات

حصول علم کو خود مقصد بنالینا اور جاننے کے لیے معلومات کو جمع کرنا، تاکہ بوقت ضرورت کام آئے یا مقابلہ جاتی امتحانات میں شریک ہوکر کوئی ملازمت حاصل کرسکے۔ آج عام طورپر اسکولوں اور کالجوں میں یہی مقصد کارفرما ہے۔ چنانچہ مشہور ماہر تعلیم مرحوم افضل حسین صاحب لکھتے ہیں:

“اسی طرح سے بیش تر اساتذہ بھی تعلیم کا مقصد زبان سے خواہ کچھ بیان کریں مگر عملاً تعلیم برائے علمیت ہی کے قائل نظر آتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ طلبہ اپنی ساری توجہ لکھنے، پڑھنے، اپنی علمی لیاقت بڑھانے اور اچھے نمبروں سے امتحان پاس کرنے پر مرکوز رکھیں۔ شخصیت کے دیگر پہلو ﴿جسمانی ، عملی، اخلاقی وغیرہ﴾ ان کی نظروںسے عموماً اوجھل رہتے ہیں۔”                                     ﴿فن تعلیم وتربیت،ص:۲۹

تعلیم برائے وقت گزاری

تعلیم کا ایک مقصد یہ بھی بیان کیاجاتاہے کہ اس کے ذریعے فرصت کے اوقات کو اچھی طرح سے گزارا جاسکتا ہے۔ گویا ایسے علوم سیکھے جائیں، جن کے ذریعے فرصت کے اوقات کو مشغول کیاجاسکے۔ جیسے ادب، آرٹ وغیرہ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام کے متعلق منقول ہے کہ وہ سب اوقات مسجد نبویﷺ میں بیٹھ کر زمانۂ جاہلیت کے قصے بیان کرتے تھے اور دوران سفر شعرو شاعری سے شغف رکھاکرتے تھے، اس لیے ایسے علوم کو سیکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے جس سے فرصت کے اوقات کو مفید اور صحیح طور سے مصروف رکھاجاسکے۔

تعلیم برائے شہریت

انسان کی تربیت اس انداز سے کی جائے کہ وہ ریاست کے لیے فائدہ مند اور مملکت کے لیے اچھا شہری ثابت ہو۔ یہ بھی تعلیم کا ایک مقصد ہے، اس نقطۂ نظرکے مطابق انسان کی حیثیت یہ ہے کہ وہ ریاست اور معاشرے کا ایک جز ہے۔ اس کے انفرادی وجود کو فراموش کردیا جاتاہے اور اسی حیثیت سے اسے تعلیم دی جاتی ہے اور اس سے اس بات کی امید رکھی جاتی ہے کہ وہ اپنی انفرادیت کو اجتماعیت میں گم کردے گا اور اپنی شخصیت کو اجتماعی مفاد پر قربان کردے گا۔ مملکت کے مفاد اور اخلاقی قدروں اور اصول کے درمیان ٹکراؤ ہونے کی صورت میں ان اصولوں کو خیرباد کہہ دے گا۔ اس مقصد کے تحت شہریوں میں وطن سے محبت اور اس کی خدمت کا جذبہ پیدا کیاجاتا ہے، بلکہ وطن پرستی کی ترغیب دی جاتی ہے۔ وطن سے محبت اور خدمت کاجذبہ ایک قابل قدرصفت ہے، لیکن دیکھا یہ جارہاہے کہ وطن سے محبت کی تعلیم تنگ نظر قومیت کے سانچے میں ڈھلتی جارہی ہے اور انسانیت سے محبت اور عالمی برادری سے اخوت اور بھائی چارہ کا جذبہ سرد پڑتا جارہاہے ۔مذہب، رنگ ونسل اور زبان کی بنیاد پر مختلف قوتیں وجود میں آرہی ہیں اور علاقائیت کو فروغ مل رہاہے اور جس کی وجہ سے آئے دن جنگ و جدال کی کیفیت رہتیہے۔ مولانا سیدمحمد رابع ندوی لکھتے ہیں:

“اخلاقیات میں سے مذہب کی بے دخلی ایک خطرناک اقدام تھا جس کا آج کے نظام تعلیم کے نتائج میں تجربہ ہورہاہے۔ دراصل اخلاقیات انسانی زندگی میں صحیح رنگ اور نکھار پیدا کرنے کا ذریعہ ہیں اور ان کامذہب سے چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ اگر ان دونوں کے مابین تفریق کی جاتی ہے تو ایک تو اخلاقیات اپنی اصل اور مضبوط بنیاد سے محروم ہوجاتی ہیں، دوسرے انسانی زندگی میں ان کا اصل کردار ختم ہوجاتاہے۔ اگر مذہب کی بنیاد ختم ہوجائے تو پھر آدمی سچ کیوں بولے، نازیبا حرکات سے کیوں باز رہے۔ ظلم و نفع اندوزی اور نفس پرستی سے کیوں گریز کرے، ان میں سے کسی بھی بُری بات سے گریز کا موثر محرک باقی نہیں رہتا۔ اگر کوئی محرک تلاش کیاجاسکتاہے تو وہ صرف مادی نفع و ضرر ہے۔ اس لیے مذہب کو اخلاقیات سے بے دخل کرنے والے اخلاقیات کارشتہ مادی مصالح سے جوڑتے ہیں۔ حالاں کہ یہ تعلق بے جوڑ اور بے نتیجہ سا ہوجاتاہے۔ چنانچہ مغربی نظریات میں مزید یہ نظریہ پیداہوگیاکہ اخلاقیات سرے سے کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتی ہیں، یہ صرف مفروضات ہیں۔ جہاں جیسی مصلحت ہو وہاں ان کو ویسا ہی ڈھال لیاجانا چاہیے۔” ﴿سماج کی تعلیم و تربیت: ۱/۹۱

حاصل یہ ہے کہ اسلام کی نگاہ میں تعلیم کا مقصد ہے انسان کو اللہ کا نیک بندہ اور زمینی خلافت کا اہل بنانا اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے تعلیم و تربیت کے دوران درج ذیل امور کا لحاظ رکھنا ہوگا:

﴿۱﴾ عقیدہ وایمان کی جڑوں کو مضبوط کرنا، اسلامی افکار ونظریات اور تعلیمات کی بہتری اور برتری کو پیوست کرنا، اسلام کو ایک مکمل دین، کامل نظریہ حیات اور ضابطہ زندگی کے طورپر پیش کرنا۔

﴿۲﴾ حق و باطل اور اچھے اور بُرے میں فرق کرنے کی کسوٹی فراہم کرنا۔

﴿۳﴾ ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کی نشوونما اور انھیں صحیح رخ پر ڈالنا۔

﴿۴﴾ ورزش اور کھیل کود کی حوصلہ افزائی اورصحت سے متعلق معلومات فراہم کرنا، صفائی، ستھرائی اور حفظان صحت کے اصولوں سے باخبر کرنا۔

﴿۵﴾ خاندانی اور اجتماعی ذمے داریوں کا اہل بنانا۔

﴿۶﴾سیرت وکردار سازی پر توجہ دینا اورمعاشی ذمے داریوں کا اہل بنانا، تعلیم کے مقاصد میں شامل نہیں ہے۔ تاہم اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔ اس لیے اس کی طرف بھی توجہ ہونی چاہیے اور تعلیم کے ذیلی مقاصد میں اسے شامل کیاجانا چاہیے۔

﴿۷﴾ تعلیم برائے علم کی اسلام کی نگاہ میں کوئی وقعت نہیں ہے۔

﴿۸﴾ ایسی چیزوں کو جاننے کی اجازت ہے جن کے ذریعے فرصت کے اوقات کو مفید اور مثبت کام میں مشغول کیاجاسکے ۔

﴿۹﴾ مملکت و ریاست کا اچھا شہری اور سماج کا بے لوث خادم بنانا بھی تعلیم کا ایک اہم مقصد ہے۔

**

(اشاعت اول: زندگی نو ، نئی دہلی ، اپریل 2011)

 

Your Comment