بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله بدھ 02 / دسمبر / 2020,

Instagram

درس گاہ ثانوی کا تخیل- ایک اِجمالی جائزہ

2011 Jun 25

درس گاہ ثانوی کا تخیل- ایک اِجمالی جائزہ

ڈاکٹرسیدعبدالباری

 اپریل ۱۹۴۵؁میں جب دارالاسلام پٹھان کوٹ میں جماعت اسلامی کا پہلا اجلاس ہوا۔ اس وقت جو تجاویز منظور کی گئیں اور شوریٰ نے جس کام کو اولیت دی وہ ثانوی اعلیٰ تعلیم کے کام کاآغاز تھا۔ مولانا مودودیؒ نے تعلیم یافتہ ارکان کے لیے ایک تربیت گاہ کی ضرورت بھی اسی کے ذریعے پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی توقع ظاہر کی اور الگ سے کسی تربیت گاہ کی بجائے ثانوی و اعلیٰ تعلیم کے انتظام پر جلد توجہ کرنے کے فیصلے کو ایک اہم اقدام قرار دیا۔ اس اجلاس میں ایک تجویز یعنی علوم اسلامیہ کی تدوین جدید پربھی مولانا نے یہ بات دہرائی کہ تحقیقی اکیڈمی کا قیام ہمارے پیش نظر ہے۔ ﴿روداد جماعت ، حصہ سوم، ص:۱۶۸

دارالاسلام میں ۱۵،۱۶/ستمبر ۱۹۴۶؁ کو شوریٰ کاجو اجلاس ہوا، اس میں علمی و تحقیقی مرکز پر گفتگو نہیں ہوئی۔ شاید ملک کے حالات، تقسیم کے امکانات، انتشار و فسادات کے سبب اس موضوع پر غورنہیں کیاجاسکا۔ پھر ملک تقسیم ہوگیا۔ پٹھان کوٹ میں دارالاسلام اجڑگیا۔ جماعت اسلامی ہند کی علاحدہ تشکیل ہوئی اور مولانا ابواللیث ندوی ہندستان میں امیر جماعت منتخب ہوئے۔

جماعت اسلامی ہند کاابتدائی دور اور ثانوی درس گاہ کا قیام

ملک آزاد ہونے کے بعد اگرچہ حالات بے حد ناسازگار تھے اور مسلمانوں کے لیے یا ان کی جماعتوں کے لیے کسی ٹھوس اقدام اور مضبوط پروگرام پر عمل کرنے کے لیے ماحول ہموار نہ تھا۔ لیکن اس کے باوجودخدا کا شکر ہے کہ ہندستان میں تحریک اسلامی سے وابستہ افراد کے حوصلے بلند تھے۔ یہ ضرورت اب شدت سے محسوس کی جارہی تھی کہ نوجوان نسل کو قرآن کی حقیقی روح سے قریب کیاجائے۔ ہندستان کی اس وقت کی نئی نسل فکری بحران اور نظریاتی انتشار میں مبتلاتھی۔ ایک طرف قوم پرستی کا جنون مسلط تھا۔ ۰۵۹۱ کے لگ بھگ ملک کی تمام یونیورسٹیوں میں اشتراکیت چھائی ہوئی تھی۔ سوشلزم کے حامی معاشی مساوات کی صداے پرخروش بلند کررہے تھے۔ اس نعرے میں بے حد دلکشی تھی لیکن مزدوروں کی حمایت کے ساتھ سب سے خطرناک بات یہ تھی کہ مذہبی اقدار و عقائد کے معاملے میں ان کا رویہ معاندانہ تھا۔ زیادہ سے زیادہ اسے بادل نہ خواستہ برداشت کرنے کی بات کہی جاتی تھی لیکن انسانی زندگی کے معاملے میں اس کو دخل اندازی کاحق نہیں تھا۔ دوسری طرف ہندوقوم کے اندر احیائی تحریکیں اسلام کی صورت مسخ کرنے پر کمربستہ تھیں۔ مسلمانوں کا عالم یہ تھاکہ تقسیم ملک نے انھیں ریزہ ریزہ کردیاتھا۔ وہ اقتدار وقت کے سامنے اپنی تہذیب و اقدار کے سلسلے میں نہایت دبی زبان سے کچھ کہنے کی ہمت کررہے تھے قرآن مجیدسے مسلمانوں کا تعلق واجبی سا رہ گیاتھا۔ حیات و کائنات کے مسائل اور گرد و پیش کے احوال پر غورو فکر کا حوصلہ بہت کم لوگوں میںباقی تھا۔ اس دور میں تحریک اسلامی کے سرپھرے لوگ دل و جان سے ملک کو اخلاقی زوال سے بچانے اور قرآنی ہدایات سے اسے آگاہ کرنے میں مصروف تھے۔ رام پور یوپی میں اس کامرکز دعوت حق کی نشرو اشاعت میں مصروف تھا۔ وہاںایسے اصحاب نظر جمع ہوگئے تھے، جنھوں نے پورے ملک کے لیے تعمیری منصوبے تیار کیے تھے۔ اس سلسلے میںجدید نسل کے تعلیمی مسائل بھی زیر غور آئے۔ ابتدائی تعلیم کاایک آئیڈیل ادارہ قائم ہوچکاتھا اور اس کے لیے نصاب تعلیم بھی تیار کیاجارہاتھا۔ پھر اس پر غور ہواکہ تحریک اسلامی کا جو اوّلین خواب تھا یعنی علمی و تحقیقی کاموں کے لیے مناسب افراد کی تیاری، اسے کس طرح شرمندۂ تعبیر کیاجائے اور یونیورسٹیوںاور اعلیٰ تعلیمی اداروں سے جو نوجوان نسل فارغ ہوکر آرہی ہے، اس کو علوم دین سے کس طرح آراستہ کیاجائے۔ ان حالات میں جماعت اسلامی ہند نے ۰۵۹۱ میں رام پور میں اپنے محدود وسائل کے باوجود ثانوی درس گاہ کے  قیام کا فیصلہ  کیا۔

۱۹۵۱؁ میں جماعت اسلامی ہند کی شوریٰ میں رام پور میں ثانوی تعلیم کے مسئلے پر تفصیل سے گفتگو کی گئی،مرکز میں اس سلسلے میں جو انتظام کیاگیا ہے اس کی تفصیل پیش کی گئی اور یہ طے کیاگیاکہ ثانوی سے متعلق مسائل پر چار افراد کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے، جو اس سے متعلق مسائل پر غور کرے۔ یہ افراد تھے شاہ ضیاء الحق، افضل حسین، مولانا صدرالدین اصلاحی اور مولانا سید حامد علی۔ یہ بھی طے کیاگیاکہ ایک استاذ کا مزید تقرر اس ادارے کے لیے کیاجائے۔ اس سے قبل ۶اپریل۰۵۹۱ کے اجلاس شوریٰ میں انگریزی تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے نظم کرنے کا فیصلہ کیا جاچکاتھا اور ایک استاد کا بھی تقرر عمل میں آیاتھا۔ مئی ۲۵۹۱ کے اجلاس شوریٰ میں یہ طے کیاگیاکہ ثانوی درس گاہ میں ایسے طلبا کو لیاجائے جو فراغت کے بعد تحقیقی و علمی کام کرنا چاہتے ہوں اور اپنی زندگی اس کے لیے وقف کرنا چاہتے ہوں۔ ساتھ ہی ساتھ ان طلبا کو بھی لیاجائے جن کے پیش نظر عام معیار کے مطابق علم دین کا حصول ہو۔ جون ۷۵۹۱ کے اجلاس شوریٰ میں اس ادارے کو قائم رکھنے کا فیصلہ کیاگیا اور اس کے مقاصد کے بارے میں یہ تجویز آئی کہ “ایسی دینی تعلیم کاانتظام کیاجائے جس کے ذریعے ایسے کارکن میسر آسکیں جو تحریر اور دعوتی لٹریچر کے ذریعے تحریک کی خدمت کرسکیں۔” لیکن شوریٰ نے جماعت کے قدیم موقف کو برقرار رکھا۔ اس ادارے کاایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ اس کے کچھ ذہین افراد جو فراغت کے بعد تحقیقی و علمی کام کرنا چاہتے ہوں اور اس کے لیے اپنی زندگی وقف کرنا چاہتے ہوں ان کی تربیت کی جائے۔لیکن جماعت اس ادارے کو فروغ دینے اور اس کے لیے ہونہار افراد کو جمع کرنے میں ناکام رہی اور طلبا کی تعداد بہت کم ہوگئی۔ چنانچہ جون ۰۶۹۱ کی شوریٰ میں یہ طے کیاگیاکہ اس ادارے کو ختم کردیاجائے۔ اس طرح دس سال تک نہایت گرانقدر خدمات انجام دینے کے بعد یہ ادارہ ختم ہوگیا۔ لیکن اس مدت میں اس کی بدولت بڑا گرانقدر سرمایۂ اہل فکر ونظرجماعت کو حاصل ہوا۔ یہاں جو نوجوان آئے تھے، ان کے اندر یہ جذبہ موجزن تھا کہ اسلام کے نظام فکر کو مغرب کے بالمقابل خود اعتمادی کے ساتھ پیش کرسکیں اور اس کے لیے قرآن اور اسلامی علوم کے سرچشموں سے ان کے دامن میں روشن دلائل کا ذخیرہ ہو۔ جماعت کے قائم کردہ اس ادارے میں جو بھی لوگ آئے تھے، انھوںنے اپنے خاندان کی ناراضی مول لی تھی۔ اعلیٰ ملازمتوں اور مناصب کو انھوںنے ٹھوکر مارنے کا فیصلہ کیاتھا اور وہ نظام باطل کی چاکری کو اپنے لیے نہایت حقیر بات تصور کرتے تھے۔ انھوںن ے صبرو سادگی و درویشی کو عہدوں کی چمک دمک پر ترجیح دی تھی۔ اقبال کی ولولہ انگیز نظمیں نوجوانوں کے تخیل میں طوفان اٹھارہی تھیں، مولانا مودودیؒ کی تحریروں نے مسلم مفکرین کے شعور کو شعلہ زار بنادیاتھا۔

ثانوی درس گاہ رام پور سے جو چند نمایاں اہل قلم اور اہل فکر ڈھل کر نکلے، ان کی اسلامی علوم کی خدمات کے ذکر کے لیے ایک دفتر درکار ہے۔ اس کے گل سرسبدپروفیسر نجات اللہ صدیقی جن کی جدوجہد سے رام پور میں ۱۹۵۰؁میں یہ ادارہ وجود میں آیا، معاشیات کے شعبے میں اپنے تحقیقی کارناموں کی وجہ سے اس وقت عالم اسلام میں ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ انھوں نے ۱۹۵۰؁  میں قائم ہونے والی ثانوی درس گاہ میں اس لیے قدم رکھاتھا تاکہ اقامت دین کی جدوجہد کو فکری و علمی استحکام حاصل ہوا اور غیراسلامی نظاموں پر ٹھوس تنقید کاسلسلہ قائم رہے۔ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کے الفاظ میں “نئے نظام تعلیم میں مولانا مودودی کا جو تصور ہے اور تنقیحات میں جس کاخلاصہ یہ ہے کہ زندگی میں انقلاب فکری و نظریاتی انقلاب کے بغیر نہیں آتا،اس کے لیے ضروری ہے کہ معاشیات ، سماجیات اور سیاسیات جیسے جوعلوم ہیں، ان میںمہارت حاصل کی جائے اور قرآن و حدیث سے دیکھاجائے کہ ان سے متعلق دائرۂ حیات میں اسلام نے کیا تعلیم دی ہے۔ پھر ان کو پیش کیاجائے اور ان کے بارے میں جو مروّجہ طریقے ہیں، ان پر تنقید کی جائے۔ ثانوی درس گاہ کا یہی اصول تھا۔ کسی نے سیاسیات میں مطالعہ کرنا طے کیا اور کسی نے دیگر سوشل سائنسز میں ساتھ ہی دینی تعلیم بھی جاری رکھی۔ علامہ اقبال کا بھی یہی کہناتھاکہ ان دونوں نظام کو چھوڑو اور اسلام کی طرف آؤ۔ لیکن اسلامی نظام کیاہے ؟ بیسوی صدی میں کوئی کام ایسا نہیں تھا جو یہ ثابت کرسکے۔ کہنے والے تو بہت تھے کہ کمیونزم بھی غلط ہے اور سرمایہ داری بھی غلط ہے لیکن اس سے بڑھ کر اسلامی نظام حیات کیا ہے ہم نے اس کو اپنے ذمّہ لیا۔” ﴿جماعت اسلامی ہند کے ۶۰ سال -دعوت، دہلی،ص:۱۴۰

چناںچہ ثانوی درس گاہ میں اس انداز کی تربیت ہوئی کہ قرآن وحدیث کے ساتھ جدید علوم میں سے کسی ایک پر اختصاصی مطالعہ بھی جاری رہے۔ نجات اللہ صدیقی نے معاشیات کے موضوع پر گہرائی سے مطالعہ کیا اور “اسلام کا نظریہ ملکیت” جیسی کتاب لکھی اور دو ایک اہم کتابوں کے اردو میں تراجم کیے۔ پھر یہ سلسلہ ریسرچ و تحقیق کاجاری رہا اور متعدد معرکۃ آرا کتابیں منظرعام پر آئیں۔ ثانوی درس گاہ کے قیام میں ان کی جدوجہد کو کافی دخل ہے۔ ۹۴۹۱ میں گورکھپور سے انٹرمیڈیٹ تک تعلیم کے بعد وہ مزید آگے بڑھنے کے بجائے عربی زبان اور دینی علوم کے حصول کی راہیں تلاش کرنے لگے۔عارضی طورپر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں بی اے میں داخلہ لیا۔ ۱۹۴۹؁ میں رام پور میں ادارۂ اب اسلامی کے ایک اجلاس میں شرکت کے لیے گئے تو مولاناابواللیث ندوی نے ان کے مطالبے پر ۱۹۵۰ میں ثانوی ادارہ قائم کرنے کی ضرورت شدت سے محسوس کی اور جولائی میں علی گڑھ سے تعلیمی سلسلہ ختم کرکے وہ رام پور چلے گئے۔ وہاںچار سالہ کورس مرتب ہوا۔ حمیداللہ، عبدالحق، شمس الہدیٰ اور نجات اللہ صدیقی یہ چار اوّلین طلبا تھے، جن سے اس ادارے کا آغاز ہوا۔ یہ حضرات ثانوی کے استاذ سے عربی و دینی علوم کی تعلیم حاصل کرتے اور انفرادی سطح پر معاشیات، سیاسیات، فلسفہ وغیرہ کی اعلیٰ کتب کامطالعہ کرتے تھے۔ پھر یہی روایت اس ادارے کے طلبا میں آخر تک برقرار رہی۔

ڈاکٹر عبدالحق نے اسلامی علوم کے ساتھ فلسفے کو اپنے خصوصی مطالعے کا موضوع بنایا اور ثانوی درس گاہ سے فارغ ہونے کے بعد علی گڑھ سے فلسفے میں ایم اے کیا اور ابن مسکویہ پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ پھر انھوںنے مشہور فلسفی ابونصرفارابی کی اخلاقیات اور ابن سینا و معتزلہ کے اخلاقی افکار پر کتاب اور مقالے لکھے۔ انھوںنے تصوف کو اپنے غورو فکر کا محور بنایا اور حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی سرہندی رحمۃ اللہ علیہ کے افکار ونظریات کا گہرائی سے مطالعہ کیا اور تصوف و شریعت پر ایک معرکۃ آرا کتاب انگریزی میں لکھی جس کا اردو میں ترجمہ بھی شائع ہوا۔ اسی طرح ابن تیمیہ کی فکر پر ایک کتاب تصنیف کی۔ ڈاکٹر عبدالحق نے تحریک اسلامی کی فکر کو جدید حالات کے تناظر میں مزید توانا بنانے کی کوشش کی۔

ڈاکٹر عبدالحق ثانوی درس گاہ کی روح اور اس کے بنیادی مشن کے معتبر اور مخلص ترجمان رہے ہیں۔ انھوںنے ریاض ﴿سعودی عربیہ﴾ سے ریٹائرمنٹ کے بعد علی گڑھ میں اپنا علمی مرکز قائم کیا اور اس ادارے کا نام “سنٹر فارریلی جنس اسٹڈیز” رکھا۔ وہ محسوس کرتے تھے کہ “ضرورت ہے کہ ہمارے اندر سے اچھی صلاحیتوں کے حامل کچھ افراد جو علوم اسلامیہ سے بھی واقف ہوں ہندستانی مذاہب تاریخ و روایات اور موجودہ رجحانات اور سرگرمیوں کا گہرا مطالعہ کریں اور اسلام کو ہندستان کے پس منظر میں پیش کریں۔ ﴿جماعت اسلامی ہند کے ۶۰ سال، دعوت دہلی،۹۸﴾ پھرجب وہ دہلی میں چار سال کے لیے بحیثیت امیرجماعت مقیم ہوئے تو انھوں نے ثانوی درس گاہ کی نشاۃ ثانیہ کا نقشۂ کار بنایا اور ایک عمارت میں “اسلامک اکیڈمی” قائم کی جس میں طلبا داخل ہوئے اور تقریباً ثانوی کے نصاب کے مطابق اس میں دینی علوم کی تدریس کاآغاز ہوا اور اچھے ذہین طلبا بھی ملے۔ لیکن جب موصوف کی امارت کا دور ختم ہوا تو وہ اپنے قدیم مستقر علی گڑھ چلے گئے اور وہیں یہ ادارہ بھی منتقل ہوگیا ۔ اس سے طلبا استفادہ کررہے ہیں۔

ثانوی درس گاہ کے آخری دور تک ذہین وطباع اور علمی وفکری خدمات انجام دینے کا ولولہ رکھنے والے طلبا کی آمد کا تسلسل قائم رہا۔ دور اوّل میں جو ۱۹۵۵؁ تک قائم رہا۔ کافی منتخب روزگار نوجوان آئے۔ اوپر نجات اللہ صدیقی اور عبدالحق صاحب کاذکر ہوا۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر فضل الرحمن فریدی ،راؤ عرفان احمد، قاضی اشفاق احمد، حمیداللہ، شمس الہدیٰ، ملک اظہار الحق اور عبدالمعز منظر کی علمی کاوشیں قابل ذکر ہیں۔ ڈاکٹر فضل الرحمن فریدی نے معاشیات کے میدان میں اہم علمی خدمات انجام دیں اور بینکنگ کے بلاسودی نظام کے قیام اور بین الاقوامی سطح پر اس طرح کی کوششوں کو فرٰغ دینے اور اس کے لیے انفراااسٹرکچر تیارکرنے میں کافی دلچسپی لی۔ انھوں نے اسلامی انسائیکلوپیڈیا میں اسلامی معاشیات کے ضمن میں مولانا مودودیؒ کی خدمات کاجائزہ لیا۔ یہ پروجیکٹ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف اسلامک اکنامکس نام کے ادارے کے تحت انجام پزیر ہوا۔ ڈاکٹرفضل الرحمن فریدی ثانوی درس گاہ کے اس قابل قدر فارغین میں ہیں، جس نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور ملک عبدالعزیز یونی ورسٹی جدّہ ﴿سعودی عرب﴾ کی ملازمت کے بعد یکسوئی سے تحریک اسلامی کی رہ نمائی اور اس کی فکری بنیادوں کے استحکام میں لگ گئے۔ جماعت اسلامی ہند کی مرکزی مجلس شوریٰ کے ایک سرگرم ممبر کی حیثیت سے وہ عصر رواں کے مسائل کے تناظر میں اس کی حکمت عملی مرتب کرنے اور اس کے اندر فکرو تحقیق کی سرگرمیوں کو ترقی دینے میں حصہ لیتے رہے۔ انھوں نے ماہنامہ “زندگی نو” اور ویکلی ریڈینس کے مدیر کی حیثیت سے تحریک کے موقف کی وضاحت میں اہم کردار ادا کیا۔

راؤ عرفان احمد خاں نے ثانوی درس گاہ سے فراغت کے بعد کچھ عرصہ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ میں خدمات انجام دیں۔ یہ دوران کی سرگرمیوں کا نقطہ عروج کا ہے۔ پھر وہ امریکہ منتقل ہوگئے جہاں انھوں نے بین الاقوامی سطح پر قرآن فہمی کی مہم چلائی۔ انھوں نے اپنے فلسفیانہ مزاج کے مطابق قرآن حکیم کے ابتدائی حصے کی انگریزی زبان میں تفسیر و توضیح کی اور مختلف مذاہب کے رہ نماؤں سے افہام و تفہیم کے روابط استوار کیے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں مذاہب کے درمیان قرب وہم آہنگی کی کوششوں میں مصروف رہے اور بین الاقوامی کانفرنسیں منعقد کرتے رہے۔ خدا کا شکر ہے کہ نجات اللہ صدیقی، عبدالحق اور فضل الرحمن فریدی کی طرح وہ اپنی پختگی عمر میں مسلسل علمی مشاغل میں مصروف ہیں اور ثانوی درس گاہ کے بنیادی مشن اسلام کی عصر حاضر میں تو ضیح و تشریح اور جدید سوشل سائنسز کے نظریات کا تنقیدی جائزہ قرآن و حدیث کی روشنی میں لے رہے ہیں۔ عبدالمعز منظرمرحوم نے بھی ثانوی درس گاہ سے فراغت کے بعد مسلسل اپنی پٹنہ کالج کے ملازمت کے دوران اسلامی معاشیات پر علمی و تحقیقی کام جاری رکھا اور ان کی متعدد کتابیں علم معاشیات پر شائع ہوئیں۔

ثانوی درس گاہ کے دوسرے دور میں جو ۱۹۵۵ سے ۱۹۶۰ تک محیط ہے، اگر چہ اس قدر تیز ذہن و دماغ اور تحقیقی کاموں کا ولولہ رکھنے والے طلبا نہیں مل سکے لیکن کچھ لوگ آئے۔ انھوں نے اس ادارے کے وقار کو قائم رکھا۔ ان میں رشید عثمانی، محمد اکرم باروی، منظور احمد شمسی، عبداللہ کرالوی، محمودالحسن، محمد اصلح باروی، عبداللہ عاطف، سید عبدالرحمن حامد الکاف اور یہ حقیرسید عبدالباری ﴿شبنم سبحانی﴾ شامل ہیں۔

ثانوی درس گاہ کے بنیادی مشن کی روشنی علامہ اقبال اور مولانا مودودیؒ کے اس تخیل سے حاصل ہوئی تھی کہ جملہ علوم و فنون کی عصر جدید میں قرآن کی روشنی میں تجدید ہونی چاہیے اور زندگی کے مختلف شعبوں میں ان علوم نے جو نقطہ نظرپیش کیا ہے اس کا جائزہ قرآن حکیم کی روشنی میں لیاجانا چاہیے اور قرآنی فکر کے سانچے میں ان علوم کو ڈھالنا چاہیے۔ تاکہ عصری تقاضوں کا جواب مہیا کیاجاسکے۔ چناںچہ ہندستان میں جب تحریک اسلامی نے ۱۹۴۹؁ میں منضبط ہوکر اپنا سفر شروع کیا تو رام پور میں ثانوی درس گاہ کے قیام کے ساتھ ایک شعبہ تصنیف و تالیف کا بھی آغاز ہوا۔ مولانا سیدجلال الدین عمری امیرجماعت اسلامی ہند اس موضوع پر اپنے ایک انٹرویو میں ان الفاظ میں روشنی ڈالتے ہیں:

“جماعت اسلامی ہند کی تاسیس کے بعد ہی سے یہ احساس رہا ہے کہ یہاں کے حالات قدیم لٹریچرکے ساتھ جدید لٹریچر ﴿علمی کتاب﴾ کا بھی تقاضا کرتے ہیں۔اس احساس کے تحت مخدومی مولانا صدرالدین اصلاحی ؒ کو اس کام کے لئے جماعت نے فارغ کیا۔ بعد میں جب کچھ اور افراد اس کام کے لئے جمع ہوگئے تو اسے ادارۂ تصنیف جماعت اسلامی ہند کا نام دیاگیا۔ اس سلسلے کی ایک اور کوشش ثانوی درس گاہ کا قیام تھا۔ اس کا مقصد بھی یہی تھا کہ جماعت اسلامی ہند سے وابستہ جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں کی باقاعدہ دینی تعلیم کا نظم ہو اور ان کے ذریعہ تحریک اسلامی کی علمی ضروریات پوری کی جائیں۔ یہ ادارہ کئی سال چلا۔ اس سے ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی، ڈاکٹر محمد عبدالحق انصاری، ڈاکٹر فضل الرحمن فریدی، راؤ عرفان احمد خاں ، ڈاکٹر عبدالمعز منظرؒ اور حبیب حامد الکاف جیسے بہت سے افراد نکلے اور اپنے اپنے میدان میں انہوں نے علمی خدمت انجام دی۔ اس وقت مرکز جماعت میں محترم مولانا صدرالدین اصلاحیؒ اور مولانا سید حامد علیؒ مدیرماہنامہ زندگی رام پور، اسی مقصد کے تحت مصروف کار تھے۔ ۶۵۹۱ میں اس عاجز کا اسی کام کے لئے تقرر ہوا۔ اسی زمانے میں مولانا وحید الدین خاں ﴿مدیر الرسالہ﴾ کو اس کام کے لئے مرکز بلایا گیا۔ بعد میں مولانا سید احمد عروج قادریؒ بھی مدیر ماہنامہ زندگی کی حیثیت سے پٹنہ سے رام پورمنتقل ہوگئے۔ اس طرح ایک چھوٹی سی ٹیم علمی کاموں کے لئے رام پور میں جمع ہوگئی۔ ۰۷۹۱ئ میں جماعت نے فیصلہ کیا کہ علی گڑھ ہندوستان کا ایک بڑا علمی مرکز ہے اس لیے ادارہ تصنیف کو وہاں منتقل کردیا جائے۔ مولانا صدرالدین اصلاحی اور یہ خاکسار علی گڑھ منتقل ہوگئے۔ لیکن مولانا اپنی صحت کی خرابی کے باعث علی گڑھ میں چند دن سے زیادہ قیام نہ کرسکے۔ اس طرح یہ عاجز اس قافلہ کے ارکان میں علی گڑھ میں تنہا رہ گیا ۔ جلد ہی تصنیفی تربیت کے لیے طلباکے اسکالر شپ کا سلسلہ شروع ہوا اور ادارے کی ایک عملی شکل وجود میں آگئی۔ ۱۹۸۱ میں ادارۂ تحقیق وتصنیف اسلامی علی گڑھ کے نام سے سوسائٹی ایکٹ کے تحت اس کا رجسٹریشن ہوا اور جنوری ۱۹۸۲سے اس کے ترجمان سہ ماہی “تحقیقات اسلامی” کا اجرائ عمل میں آیا۔ اس دوران ادارے کے کارکنوں نے مختلف موضوعات پر علمی مواد فراہم کیا اور تحقیقی کام کیا۔ اسی کے ساتھ کوشش اس امر کی رہی کہ یونیورسٹیوں اور دوسرے علمی اداروں میں جو اصحاب اسلامیات پر کام کررہے ہیں، ان کا تعاون حاصل کیاجائے، خاص طور پر ان موضوعات کے سلسلے میں جن کی آج اہمیت محسوس کی جاتی ہے اور جو علمی دنیا میں زیربحث رہتے ہیں۔ اس کے لئے سہ ماہی تحقیقات اسلامی کو ذریعہ بنایا گیا۔ اسے ملک اور بیرون ملک کے جامعات کے اصحاب علم کا تعاون حاصل رہا اور بعض اہم اور ضروری موضوعات زیر بحث آئے۔” ﴿جماعت اسلامی ہند کے ساٹھ سال، دعوت، دہلی، ص:۶۷-۶۸

مولانا سیدجلال الدین عمری کا خیال ہے کہ مولانا مودودیؒ کی تحریروں میں شروع میں عقلی رنگ غالب رہا۔ اس کا بہتر نمونہ “رسالہ دینیات” اور “اسلامی تہذیب اور اس کے اصول ومبادی” جیسی کتب ہیں۔ ان میں مولانا عمری کے خیال میں اصلاً مولانا مودودیؒ عقلی دائل فراہم کرتے ہیں اور ضمناً اس کا استدلال قرآن و حدیث سے ہوتا ہے۔ بعد میں مولاناصدر الدین ومولانا عروج قادری جیسے مصنفین کی تحریروں میں ترتیب الٹ گئی ہے۔ ان کے استدلال کی بنیاد قرآن و حدیث ہے اور عقلی دلائل ضمناً ہیں اور عقلی و نقلی دونوں طرح کے استدلال سامنے آتے ہیں۔ مولانا صدرالدین کی تصنیف “اسلام ایک نظر میں” میں عقلی اپیل سے زیادہ قرآن وحدیث سے استدلال اور اس کے منشا کو واشگاف کیاگیا ہے۔مولانا سیدجلال الدین عمری نے جو اس وقت تحریک اسلامی کی قیادت کے منصب پر فائز ہیں، خاندانی نظام کواپنا موضوع بنایا اور حقوق انسانی کا اسلامی تعلیمات کے تناظر میں جائزہ لیا۔ “اسلام میں خدمت خلق کاتصور” اور معروف و منکر جیسی قابل قدر کتابیں لکھیں۔ مولانا عمری کاخیال ہے کہ ہندستان میں عصر رواں میں مغربی فلسفے اور ملحدانہ نظریات سے ہندستان میں جو مذاہب، عقائد اور فلسفے یہاں کی قدیم کتب وید، رامائن، مہابھارت اور گیتا وغیرہ میں موجود ہیں، ان کاجائزہ لینے اور اسلامی تعلیمات کو ان کے تناظر میں پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کی طرف شروع میںمولانا امام الدین رام نگری نے توجہ فرمائی۔ پھر مولانا سیدحامد علی نے متعددکتابیں لکھیں ، اس وقت جناب محمد فاروق خاں، مولانانسیم غازی اور ڈاکٹر محمد احمد مدیر “کانتی” قابل قدر علمی خدمات اس میدان میں انجام دے رہے ہیں۔

غرض ثانوی درس گاہ کے اختتام کے بعد تحریک اسلامی نے قرآن حکیم اور اسلامی فکر کے مرکزی سرچشموں کی روشنی میں علمی سرگرمیوں کو جاری رکھنے اور نئی نسلوں میں ذہین افراد کو تحقیق و تصنیف سے وابستہ کرنے کی کاوشیں جاری رکھیں۔

**

(اشاعت اول: زندگی نو،نئی دہلی ،جون 2011)

Your Comment