بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله اتوار 20 / ستمبر / 2020,

Instagram

سورۃ العلق کی پہلی پانچ آیات: آخری قسط

2013 Apr 25

سورۃ العلق کی پہلی پانچ آیات: آخری قسط

غلام نبی کشانی

 قرآن کی ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنے خالق حقیقی کو بھلا بیٹھا ہے، بل کہ قرآن حکیم کی اِس طرح کی آیات کا جس وقت نزول ہورہا تھا اس وقت پورا عرب شرک میں گرفتار تھا۔ بس اسی صورت حال کے پیش نظر قرآن حکیم کی پہلی وحی میں انسان کو مالکِ حقیقی سے متعارف کراتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کا خالق کون ہے، اس کی پیدائش کس طرح ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پھر اگلی آیت نمبر تین میں یہ بھی آیا ہے کہ اپنے اس رب کے نام سے پڑھو جو تمھارا بڑا کریم ہے اقْرَأ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُ۔کیونکہ اس نے انسان کو تمام مخلوقات پر عزت اوراکرام بخشا ہے۔ جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے:

وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْٓ اٰدمَ وَحَمَلْنَاہُمْ فِیْ الْبَرّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاہُم مّنَ الطَّیّبَاتِ وَفَضَّلْنَاہُمْ عَلَٰی کَثِیْرٍ مّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلاً۔

﴿بنی اسرائیل:۷۰

 ’’اور ہم نے آدم ؑ  کی اولاد کو عزت دی اور ہم نے ان کو خشکی اور تری میں سوار کیا اور ان کو پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا اور ہم نے ان کو اپنی بہت سی مخلوقات پر فوقیت دی‘‘۔

سورۃ العلق آیت نمبر ۳ میں ایک لفظ ’’اَلْاَکْرَمُ‘‘ آیا ہے جس کے معنی ’’بڑا کریم‘‘ کے ہیں۔ اس لفظ کی تفسیر میں مولانا شمس پیرزادہ تحریر فرماتے ہیں:

’’اللہ تعالیٰ کی صفت ’’اکرم‘‘ بیان ہوئی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بڑے شرف وعظمت والی ہستی ہے اور وہ بندوں کے حق میں نہایت محسن ہے۔ یہاں اس صفت کے ذکر سے مقصود اس حقیقت کا اظہار ہے کہ اپنی ذات کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ ہی شرف والا اور صاحب عظمت ہے۔انسان کی تخلیق نہایت حقیر مادہ سے ہوئی ہے۔ اس لیے اسے غرور اور گھمنڈ میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ اسی طرح انسان کو یہ احساس دلانا بھی مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پریہ کتنا بڑا احسان کیا ہے کہ بہترین مخلوق بناکر اس کی رشد وہدایت کا سامان کیا‘‘۔ ﴿دعوت القرآن، جلد ۳، صفحہ ۲۳۴۶

حقیقت یہ ہے کہ انسان اور کائنات اللہ تعالیٰ کی صفت خالقیت کا شاہکار ہے اور جس میں اس کا کوئی شریک وسہیم نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی اس کائنات اور انسان کی تخلیق کا مشاہدہ کرتے ہوئے قرآنی فقرہ زبان سے بے اختیار جاری ہوجاتا ہے:

َ فَتَبَارَکَ اللّٰہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ ۔                ﴿المؤمنون:۱۴

’’پس بڑا ہی بابرکت ہے اللہ، بہتر ین پیدا کرنے والا‘‘۔

اب رہیں سورۃ العلق کی چوتھی اور پانچویں آیتیں، جن میں علم او ر قلم کا خاص طور پر ذکر آیا ہے ۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اَلَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ۔ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَالَمْ یَعْلَمْ۔

’’جس نے علم سکھایا قلم سم انسان کو، وہ کچھ سکھایا جو وہ جانتا نہ تھا‘‘۔

ان آیات میں کون سا علم مراد ہے جو انسان کو سکھایا گیا ہے۔ دراصل یہ وہ علم الاشیائ ہے جو حضرت آدم علیہ السلام کو فرشتوں پر برتری اور فضیلت کے طور پر سکھایاگیا تھا۔ اس سلسلے میں قرآن حکیم میں ایک جگہ ارشاد ہوا ہے:

وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَ‌ضَهُمْ عَلَى الْمَلَائِكَةِ فَقَالَ أَنبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَـٰؤُلَاءِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ؐ قَالُوا سُبْحَانَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُؐؐ               ﴿البقرہ: ۳۱۔۳۲

’’اور اللہ نے سکھادیے آدم کو سارے نام، پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہوتو مجھے ان لوگوں کے نام بتائو، فرشتوں نے کہا کہ تو پاک ہے ، ہم تو وہی جانتے ہیں جو تونے ہم کو بتایا ، بے شک تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے‘‘

زیر نظر آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ رب کریم نے انسان کو قلم کے ذریعے تعلیم دی اور اسے وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا اور یہ معلوم تاریخ انسانی میں ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ علم انسان کی ترقی کا پہلا اور مضبوط زینہ ہے اور اس ترقی کی اصل ابتدا اس وقت ہوئی، جب سے انسان نے قلم کا استعمال کرنا سیکھا۔ اسی طرح انسان کی ساری ترقی کی بنیاد لکھنے پڑھنے کو ٹھہرایا گیا ہے۔

قرآن حکیم میں جس طرح دوسرے بہت سے موضوعات کو چھیڑا گیا ہے اور بہت سی چیزوں پر زیادہ زور بھی دیاگیا ہے، ان میں علم کا خاص اہتمام کے ساتھ ذکر کیاگیا ہے۔ کیوں کہ انسان کے مکرم اور افضل اور اس کے مقام اورمرتبے کو یقینی بنانے اور قائم رکھنے کے لیے اس کو علم اور قلم کی نعمت سے بھی نوازا گیا ہے اور اس علم اورقلم میں وہ جتنا آگے بڑھے گا اتنا ہی وہ اپنے مقام اور مرتبے میں آگے بڑھے گا۔

اسلام میں علم کی بہت زیادہ اہمیت آئی ہے حتیٰ کہ علم ہی کی بنیاد پر شریعت اسلامی کے سارے احکام ہیں۔ علم کے بغیر نہ عقائد و احکام کو سمجھا جاسکتا ہے اور نہ ان پر عمل ہی کیا جاسکتا ہے اور نہ اس دنیا میں انسان اپنی ذمے داریوں کو بحسن وخوبی انجام دے سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے سپرد کی ہیں۔اس سلسلے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ علم کا حصول ضروری قرار دیاگیا ہے اوریہ بھی حقیقت ہے کہ علم کا بنیادی ذریعہ وحی الٰہی ہے اور یہی علم انسان اورغیر انسان کے درمیان مابہ الامتیاز ہے۔ اور صاحب علم ودانش کو ہی تفکر وتدبر کی دعوت دی جاتی ہے اور اس علم کے ذریعے ایک عبدمؤمن کے اندر خشیت الٰہی پیدا ہوجاتی ہے اور اس طرح کے اہل ایمان لوگ ہی اللہ تعالیٰ کے نزدیک اہل علم ہونے کا درجہ پاتے ہیں۔ ارشاد خداوندی ہے:

اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْ علماء  ۔                         ﴿فاطر:۲۸

’’بے شک اللہ سے اس کے بندوں میں سے صرف وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں‘‘۔

جس وقت قرآن حکیم کی پہلی وحی نازل ہوئی تھی اس وقت اہل عرب ہر قسم کے علوم سے نابلد تھے۔ لیکن قرآن کریم پر ایمان لانے کے بعد وہ تمام دنیا کے استاد بن گئے اور جس فلسفہ و سائنس پر یورپ کو آج بہت بڑا ناز ہے اس کے بھی وہی اصل موجد قرار پائے اور یہ سب قرآن حکیم کے ذریعے ممکن ہوا ہے۔ کیوں کہ یہی وہ کتاب ہے جس نے اپنے نزول کے آغاز ہی میں توحید کا پیغام پیش کرنے کے ساتھ ہی علم اور قلم کا ذکرکرکے پوری دنیا کو باخبر کیا ہے کہ اللہ کے آخری رسول حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم جو دین لے کر آئے ہیں اس میں علم اور قلم کا کیا مقام ہے؟ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی اعلان فرمایا کہ اس نے انسان کو قلم کے ذریعے وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔ اس سے یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ دنیا میں آج جو حقیقی علوم پائے جاتے ہیں وہ قرآن ہی کے ذریعے معرضِ وجود میں آئے ہیں۔ کیوں کہ اگر قرآن حکیم نازل نہ ہوا ہوتا تو یہ دنیا ظلم سے پُر ہوتی، جہالت کا دور دورہ ہوتا اور ہر طرف بربریت و حیوانیت کا بازار گرم ہوتا۔ یہ قرآن ہی کا احسان ہے کہ اس نے دنیا کو تاریکی سے نکال کر علم کے میدان میں لاکر کھڑا کیا۔ اور اسے توحید وہدایت کا لازوال پیغام دیا۔ بل کہ قرآن حکیم یہاں تک بتاتا ہے کہ جو لوگ صاحب ایمان ہیں اور جو لوگ اہل علم ہیں ان کے درجات اللہ تعالیٰ بلند کردیتا ہے۔ جیساکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 یَرْفَعِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا مِنکُمْ وَالَّذِیْنَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ۔﴿المجادلہ:۱۱

’’تم میں سے جو لوگ ایمان والے ہیں اور جن کو علم دیاگیا ہے ، اللہ ان کے درجے بلند کرے گا‘‘۔

جس وقت قرآن حکیم کی پہلی وحی نازل ہوئی اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت سے نوازا گیا تو آپﷺ  صرف توحید پر زور دیتے تھے اور لوگوں کو شرک و بت پرستی کی لعنت سے باہر نکالنے میں زبردست جدوجہد میں مصروف تھے۔ بل کہ مکہ کے تیرہ سالوں میں آپﷺ  اس ایک کام کو انجام دیتے رہے۔ یہاں تک کہ آپﷺ  نے ہجرت فرمائی اور جب مدینہ منورہ میں آکر استحکام حاصل ہوا اور لوگ بھی بڑی تعداد میں اسلام میں داخل ہوگئے تو آپﷺ  نے صحابہ کرامؓ  کے نوجوانوں میں تعلیم عام کرنے کے سلسلے میں کوشش شروع کی۔ یہاں تک کہ جنگ بدر کے قیدیوں سے بھی تعلیم کے فروغ میں کام لیا ہے اور اس دور کی وہ مشہور حدیث بھی ہے جو حضرت انس بن مالکؓ  سے مروی ہے جس میں آپﷺ  نے علم حاصل کرنا فرض قرار دیا ہے۔ حدیث اس طرح آئی ہے:

عَنْ اَنَس بن مَالِک قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلم۔ ﴿تحفۃ الاشراف۔شرح ابن ماجہ، کتاب السنہ باب فضل العلماء والی علی طلب العلم ۔ ج۱،ص ۱۲۶، حدیث نمبر۲۲۴

’’حضرت انس بن مالکؓ  بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علم حاصل کرنا ہر مسلمان ﴿مر د وعورت﴾ پر فرض ہے۔

اس حدیث میں اگرچہ ہر مسلمان مرد کا لفظ آیا ہے ۔ مگر اس میں مردوں کے ساتھ عورتیں بھی شامل ہیں۔ کیوں کہ شریعت اسلامی کے احکام پر عمل کرنا جتنا مردوں کے لیے ضروری ہے اسی طرح عورتوں پر بھی ضروری ہے۔ تاہم اس میں مروجہ علوم بھی شامل ہیں، جو انسانی فلاح و ترقی کے مفاد میں ہیں۔ لیکن وہ علوم سب کے لیے فرض کے دائرے میں نہیں ہیں اورنہ ایسا ممکن ہوسکتا ہے۔شریعت اسلامی کے علوم کو حاصل کرنے کے بارے میں یہ حکم دیاگیا ہے کہ ہر بستی سے کچھ لوگ علم دین حاصل کرنے کے لیے نکلیں اور پھر وہی دوسروں کو شرعی احکام سے آگاہ کیا کریں۔ اس سلسلے میںقرآن حکیم میں یہ ارشاد آیا ہے:

وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُ‌وا كَافَّةً ۚ فَلَوْلَا نَفَرَ‌ مِن كُلِّ فِرْ‌قَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُ‌وا قَوْمَهُمْ إِذَا رَ‌جَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُ‌ونَ                     ﴿التوبہ: ۱۲۲

’’اور یہ تو نہیں ہوسکتا تھا کہ اہل ایمان سب کے سب نکل کھڑے ہوں، مگرایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے کچھ لوگ نکل آتے کہ وہ دین میں سمجھ حاصل کرتے اور جب واپس جاتے تو قوم کے لوگوں کو آگاہ کرتے تاکہ وہ بھی بیدا رہوجاتے‘‘۔

یہ آیت مدنی دور کی ہے اور اس وقت مدینہ منورہ میں مسلمان کافی حد تک منظم ومستحکم ہوگئے تھے۔ اس لیے ان کو حکم دیاگیا تھا کہ وہ دین کا علم حاصل کریں ۔ لیکن اس وقت ہرقوم اور ہر قبیلے سے لوگوں کا پیغمبر اسلام ﷺ کی خدمت میں حاضر رہنا مشکل تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے اس شکل کا حل یہ بتایا کہ اگر وہ علم دین حاصل کرنے کے لیے مدینہ نہیں آسکتے تو وہ ایسا کریں کہ ہر بستی اور ہر قبیلے کے لوگوں میں سے کچھ لوگ تو نکل سکتے ہیں جو مدینہ آکر آپﷺ  کی خدمت میں رہ کر علم دین حاصل کریں اور دین میں پوری طرح سمجھ اور مہارت پیدا کرکے پھر واپس جاکر اپنی بستی اور اپنے قبیلے کے دوسرے لوگوں کو بھی اس علم دین سے آگاہ کریں۔

واضح رہے کہ اس آیت میں علم دین سے مراد ’’دین میں سمجھ پیدا کرنا‘‘ ﴿تفقہ فی الدین﴾ اس سے معروف معنوں میں فقہی علم مراد نہیں ہے اور نہ اس سے رسمی تعلیم حاصل کرنا مراد ہے۔

بل کہ بہت سی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ انفرادی طور پر بھی دور دراز علاقوں سے اجنبی لوگ مدینہ منورہ میں پیغمبر اسلامﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر آپﷺ  سے دین کا علم حاصل کرتے تھے۔ چنان چہ اس سلسلے میں ایک دلچسپ روایت مسلم کے الفاظ میں اس طرح آئی ہے:

عن ابی رضاعۃ قال انتھیت الی النبیّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وھو یخطب قال فقلت یا رسول اللّٰہ ، رجل غیرتب جائ یسئالُ عن دینیہ لایدری مادینہ، قال فاقبل علی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وترک خطبہ حتی انتھیٰ الیّ فاتی بکرسی، ہسبت قوائمہ‘ حدیداً، قال فقعہ علیہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، وجعل یعلمنی مما علمہ اللّٰہ ثم الیٰ خطبتہ فاثم اخرھا۔ ﴿شرح مسلم للنوی۔ کتاب الجمعہ باب حدیث العظیم فی الخطبۃ۔ ج۳، ص۴۳۰۔ حدیث نمبر۸۷۶

’’حضرت ابورفاعہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، اس حالت میں کہ آپﷺ  خطبہ دے رہے تھے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسولﷺ ، ایک اجنبی شخص دین کے بارے میں پوچھنے آیا ہے، اسے نہیں معلوم کہ اس کا دین کیا ہے؟ وہ بیان کرتے ہیں کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ چھوڑ کر میری طرف متوجہ ہوئے، پھر ایک کرسی لائی گئی ۔ میرا خیال ہے کہ اس کرسی کی ٹانگیں لوہے کی تھیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ پھر اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور جو کچھ آپﷺ  کو اللہ تعالیٰ نے دین کا علم دیا تھا اس کی مجھے بھی تعلیم دی ۔ پھر آپﷺ  نے اپنا خطبہ پورا کیا‘‘۔

خلاصہ بحث یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ العلق کی ان ابتدائی پانچ آیات میں جو پیغام انسان کو دیا ہے، اس سے یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کائنات اور انسان کا رب اور خالق ہے اور اس نے اس کو زندگی گزارنے کے لیے علمی ومادی اور روحانی و سائل سے نوازا ہے۔ ان آیات پر جتنا بھی غور کیا جائے تخلیق کائنات اور تخلیق انسان کے رموز واسرار اپنے آپ کھلتے جائیں گے۔ علامہ ابن کثیر نے بھی ان آیات سے اس طرح کامفہوم اخذ کیا ہے اور اب تحریر کے آخر پر ان کایہ بصیرت افروز اقتباس پیش کیاجاتا ہے۔

فاول شئیِ نزل من القرآن ھٰذہ الآیات الکریمات المبارکات وھی اول رحمۃ رحم اللّٰہ بھا العباد واول نعمۃ انعم اللّٰہ بھا العباد واول نعمۃ انعم اللّٰہ بہا علیہم وفیہا التتبیہ علی ابتدائ خلق الانسان من علقہ وان من کرمہ تعالیٰ ان علم الانسان مالم یعلم فرشفہ وکرمہ بالعلم وہوالقدر الذی امتناز بہ ابوالبشریۃ آدم علی الملائکۃ۔ ﴿تفسیر القرآن العظیم لابن کثیرج ۴، ص ۶۸۳

’’قرآن کی یہ وہ مکرم ومبارک آیات ہیں جو سب سے پہلے نازل ہوئی ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی پہلی رحمت ہے جو اس نے اپنے بندوں کو عطا کی اور یہ اس کی پہلی نعمت ہے جو اس نے بندوں کو عنایت کی۔ اوران آیات میں انسان کی تخلیق کی ابتدائ پر تنبیہ کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے جمے ہوئے خون سے پیدا کیا اور پھر اسے مکرم بتایا اور اسے وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا اور اس وجہ سے حضرت آدم علیہ السلام جو تمام انسانوں کے باپ ہیں، کو ملائکہ پر شرف وفضیلت حاصل ہوئی۔                   

 (اشاعت اول: زندگی نو ،نئی دہلی ،اپریل 2013)

 

Umme Hassan

Jzakum Allah khair

Your Comment