بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله منگل 02 / جون / 2020,

Instagram

سورۃ العلق کی پہلی پانچ آیات: پہلی قسط

25 Mar 2013
سورۃ العلق کی پہلی پانچ آیات: پہلی قسط

غلام نبی کشافی

 پچھلے سال کی بات ہے کہ ماہنامہ معارف اعظم گڑھ کے جنوری ۲۰۱۱کے شمارے میں ایک مضمون ’’رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم عہد حاضر کے تناظر میں‘‘، پڑھنے کو ملا۔ مجموعی طور پر پورا مضمون تو غور طلب تھا، لیکن اس میں ایک جگہ مضمون نگار نے سورۃ العلق کی ابتدائی پانچ آیات کے بارے میں لکھا ہے کہ ان میں صرف عظمت علم کا بیان ہوا ہے ۔ میری راے میں اس طرح کی بات حصر کے ساتھ لکھنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ ان آیات کا مرکزی موضوع توحید ہے اور علم کا تذکرہ ضمناً آیا ہے۔ وہ پانچ آیات اس طرح ہیں:

اقْرَ‌أْ بِاسْمِ رَ‌بِّكَ الَّذِي خَلَقَ ؒ خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ ؒ اقْرَ‌أْ وَرَ‌بُّكَ الْأَكْرَ‌مُ ؒ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ؒ عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ                 ﴿العلق:۱-۵

’’پڑھ اپنے رب کے نام سے، جس نے پیدا کیا، پیدا کیا انسان کو علق سے، پڑھ اور تیرا رب بڑا کریم ہے، جس نے علم سکھایا قلم سے انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ جانتا نہ تھا۔‘‘

مضمون نگار نے اِن آیات کے ذیل میں لکھا ہے:

’’صرف انیس الفاظ پر مشتمل اس بات سے واضح ہوجاتا ہے کہ انسانی تہذیب و تمدن کے ابتدائی دور میں اللہ تعالیٰ نے صرف علم کی حقیقت اور اہمیت پر زور دیا ہے۔ چونکہ تہذیب وتمدن کی ترقی وارتقائ صرف اور صرف علم پر منحصر ہے، اس لیے ان آیات میں نامعلوم حقائق کی دریافت اور ان کو معلوم کرنے کی طرف واضح اشارہ کیاگیا ہے۔ اگرچہ یہ بہت ہی مختصر جملے تھے مگر ان پانچ آیات میں جو مضمون پنہاں ہے، اس میں نہ صرف عظمت علم کا بیان ہوا کہ انسان اور علم کو لازم وملزوم قرار دیاگیااور قیامت تک کے لیے ایک نئی علمی تہذیب کی بنیاد رکھ دی گئی۔

﴿معارف، اعظم گڑھ، جنوری ۲۰۱۱ ،ص۲۷

مضمون نگار نے اس اقتباس میں قرآن مجیدکی ابتدائی آیات کا مفہوم ومدعا عظمتِ علم تک سمیٹتے ہوئے واضح کیا ہے اور کہا ہے کہ ان آیات سے تہذیب وتمدن کی ترقی وارتقاء مراد ہے۔ لیکن یہ معنوی تحریف کے مترادف ہے۔ جب کہ ان آیات کے ذریعے توحید کی بنیاد رکھ دی گئی ہے اور آگے آیت ۴ اور۵ میں علم کا جو تذکرہ آیا ہے، وہ بھی انسان کو اس لیے دیاگیا ہے کہ وہ اپنے رب اور خالق حقیقی کو پہچان لے۔ چنانچہ ان آیات کا حقیقی مفہوم ومدعا قدرے وضاحت سے  پیش کیا جاتا ہے۔

﴿۱﴾ پہلی آیت کا پہلا لفظ ’’اقراء‘‘ آیا ہے۔ اس لفظ سے عام طور پر اسلام میں تصورِ علم کے حوالے سے استدلال کیاجاتا ہے۔ یہاں تک کہ دور جدید کا کوئی بھی اہل دانش جب علم کی عظمت پر لکھتا ہے تو وہ مذکورہ آیات کا ذکر کیے بنا نہیں رہتا ہے۔ لیکن اسی طرح کے استدلال سے ان آیات کا حقیقی اور مرکزی موضوع ﴿توحید﴾ اُوجھل ہوجاتا ہے۔ اگر ان آیات کا وہی مقصود ہوتا جو عام طور پر تعلیمی شعبے سے وابستہ اہل دانش پیش کرتے ہیں تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت ملنے کے بعد تیرہ سال مکہ میں گزارے اور اس دوران آپﷺ  نے بہت سے اشوز پر کام کیا ہے۔ مثال کے طور پر لوگوں کو مشرک وبت پرستی کی لعنت سے نکال باہر کرنا اور کم سن بچیوں کو زندہ درگور کرنے کے خلاف آواز بلند کرنا وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ مگر آپ نے اس لمبے عرصہ کے دوران تعلیم کے فروغ کے حوالے سے کسی طرح کی کوشش نہیں کی کہ بہت سے صحابہ کرام ایمان لانے اور اسلام میں داخل ہونے کے باوجود اپنے بچوں کو تعلیم دینے کی اہمیت وضرورت سے ناآشنا تھے۔ البتہ اس کے برعکس مکی دور میں سارا زور دعوت وتبلیغ پر دیاگیا ہے۔ یہاں تک کہ سورۃ العلق کی ابتدائی پانچ آیات کے نزول کے کچھ عرصے بعد جو دوسری اہم وحی نازل ہوئی، اس نے مذکورہ آیات کا مفہوم ، مدعا اور زیادہ واضح اور متعین کیا ہے۔ جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے:

يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ‌ ؒ قُمْ فَأَنذِرْ‌ ؒ وَرَ‌بَّكَ فَكَبِّرْ‌ ؒ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ‌ ؒ وَالرُّ‌جْزَ فَاهْجُرْ‌ ؒ وَلَا تَمْنُن تَسْتَكْثِرُ‌ ؒ وَلِرَ‌بِّكَ فَاصْبِرْ‌﴿المدثر: ۱-۷

’’اے چادر اوڑھنے والے، اٹھو اور خبردار کرو اور اپنے رب کی بڑائی بیان کرو اور اپنے کپڑے پاک رکھو اور ﴿بتوںکی ﴾ گندگی سے دُور رہو اور زیادہ حاصل کرنے کی غرض سے احسان نہ کرو۔ اور اپنے رب کے لیے صبر کرو۔‘‘

قرآن کی ان تمام ابتدائی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جارہاہے کہ آپ کھڑے ہوجائیے اور لوگوں کو توحید اور آخرت کی دعوت دیجیے۔ اس کے علاوہ ان آیات سے کچھ مراد نہیں۔ زیرنظر آیت کے پہلے لفظ ’’اقرائ‘‘ کے بارے میں مولانا امین احسن اصلاحی تحریر فرماتے ہیں:

’’لفظ ’’اقراء‘‘ ﴿پڑھو﴾ صرف اس مفہوم میں نہیں آتا جس مفہوم میں ایک استاد اپنے شاگرد سے کہتا ہے۔ پڑھو کہ یہ اِقْرَأْ عَلیَ النَّاسِ یا اُتْلُ عَلَی النَّاسِ یعنی دوسروں کو بطریق دعوت سنانے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ یہ لفظ اس مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً ان کفار کو مخاطب کرکے، جو قرآن کو سنانے میں مزاحم ہوتے تھے، فرمایا ہے:

وَإِذَا قُرِ‌ئَ الْقُرْ‌آنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْ‌حَمُونَ ﴿الاعراف:۲۰۴

’’جب قرآن سنایا جائے تو اس کو توجہ سے سنو اور خاموش رہو، تاکہ تم پررحم کیا جائے۔‘‘ ﴿تدبر قرآن، ج۹،ص۴۵۳

واضح رہے زیر نظر آیات میں اللہ تعالیٰ کی دو اہم صفتیں بیان ہوئی ہیں ۔ایک صفت ربوبیت اور دوسری صفت تخلیق۔ ان صفات کو خصوصیت سے ذکر کرنے سے مراد یہ ہے کہ لوگوں نے اپنے حقیقی رب اور خالق کو بھلا کر معبودان باطل کو اپنا رب اور خالق مان لیا ہے۔ یہ اسی حقیقت کی طرف واضح اشارہ تھا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم جو آئندہ دعوت دینے والے ہیں اس میں اللہ تعالی کی ربوبیت اور تخلیق انسان وکائنات کا ذکر خاص طور پر ہوگا۔ جیسا کہ قرآن کی پہلی آیت میں ارشاد ہوا ہے:

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ O﴿الفاتحہ:۱

’’تمام تعریف اللہ کے لیے؟ جو سارے جہاں کا رب ہے۔‘‘

سورۂ العلق کی پہلی آیت میں اپنے رب کے نام کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیاگیا ہے جب کہ سورۃ الفاتحہ کی اس پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو وہ الفاظ بھی فراہم کرتا ہے کہ جن سے وہ اپنے رب کی یاد اور اس کی عبادت کا آغاز کرسکے۔ اور اسی آیت میں اللہ کی ربوبیت کی صفت کا خصوصیت کے ساتھ ذکر آیا ہے کہ فرمایاگیا ہے کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو سارے جہاں کا رب ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد اس آیت کی تفسیر میں ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں:

’’عرب میں ربوبیت کے معنی پالنے کے ہیں۔ لیکن پالنے کو اس کے وسیع اور کامل معنوں میں لینا چاہئے۔ اس لیے بعض ائمہ لغت نے اس کی تعریف ان لفظوں میں کی ہے ’’ھو انشاء حالاً محالاب الی حدِ التمام‘‘ یعنی کسی چیز کو یکے بعد دیگرے اس کی مختلف حالتوں اور ضرورتوں کے مطابق اس طرح نشوونما دیتے رہنا کہ اپنی حدِ کمال تک پہنچ جائے۔ اگر ایک شخص بھوکے کو کھانا کھلادے یا محتاج کو روپیہ دے دے تو یہ اس کا کرم ہوگا۔ جو د ہوگا۔ احسان ہوگا۔ لیکن وہ بات نہ ہوگی جسے ربوبیت کہتے ہیں۔ ربوبیت کے لیے ضروری ہے کہ پرورش اور نگہداشت کا ایک جاری اور مسلسل اہتمام ہو اور ایک وجود کو اس کی تکمیل وبلوغ کے لیے وقتاً فوقتاً جیسی کچھ ضرورتیں پیش آتی رہیں، ان سب کا سروسامان ہوتا رہے۔ نیز ضروری ہے کہ یہ سب کچھ محبت وشفقت کے ساتھ ہو، کیونکہ جو عمل محبت و شفقت کے عاطفہ سے خالی ہوگا۔ ربوبیت نہیں ہوسکتا۔  ﴿ترجمان القرآن،ج۱،ص:۲۲

اللہ تعالیٰ کی اس صفت ربوبیت کو اور زیادہ بہتر طریقے سے سمجھنے کے لیے مولانا صدرالدین اصلاحی کا یہ تفسیری نوٹ بھی قابل مطالعہ ہے:

’’ قرآن ’’اللہ‘‘ کا تصور یہ پیش کرتا ہے کہ وہ ساری کائنات کا رب ہے، صرف کسی ایک قوم یا نسل یا خطۂ ارض کا رب نہیں ہے۔ اس تصور کا جو اللہ اس کے سچے پیرووں کے ذہن، اخلاق اور اعمال پر پڑسکتا ہے، اس کا بڑی سنجیدگی اور دقتِ نظر سے جائزہ لینا چاہئے۔ پھر یہ بات کہ اللہ ساری کائنات کا رب ہے اور اس امر کی دلیل ہے کہ فی الواقع اس کے سوا کوئی شکر اور تعریف کے قابل نہیں۔ احسان کے جواب میں شکر اور عقیدت کا اظہار، اخلاق کا ایک مسلم اصول ہے۔ پھر احسان جتنا بڑا اور وسیع ہوگا، اس کا شکر واعتراف بھی اسی مناسبت سے بڑا وسیع اور عمیق ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کے احسانات کا جب یہ عالم ہے کہ وہ کل کائنات کو اپنے گھیرے میں لیے ہوئے ہیں، زمین سے لے کر آسمان تک کوئی شی نہیں جو صرف اس کے لطف وکرم کی پروردہ نہ ہو، تو کون باہوش انسان ہوگا، جو کسی بھی نعمت کے سلسلے میں کسی غیر اللہ کو، اصلاً اور بالذات شکرگزاری کے لائق سمجھنے کی جسارت کرے گا۔ اس لیے کہ جس کسی کو بھی جو کچھ مل رہا ہے، بلاواسطہ یا بالواسطہ اس کی جانب سے مل رہا ہے۔ اور کوئی غیر خدا کی نعمت کے سلسلے میں اگر کوئی دخل رکھتا ہے تو صرف واسطے اور آلے کی حیثیت سے اور ظاہر ہے کہ اصل اور واسطہ دونوں ایک نہیں ہوسکتے۔ انسانی فطرت کا یہی نہایت سیدھا سادا احساس اور فیصلہ خدا کی پرستش اطاعت اور رضا جوئی کی بنیاد اور یہی جذبۂ شکر ومحبت دین کا اصل سرچشمہ ہے۔ اس لیے خدا اور اس کی بندگی کا تصور، نہ تو کسی خوف کی پیداوار ہے جیسا کہ خدا کے منکروں کا گمان ہے، نہ ہی انسان کے سرپر کوئی اوپر سے ٹھونسی ہوئی چیز ہے جیسا کہ بہیترے نادان سمجھتے ہیں۔‘‘ ﴿تیسیرالقرآن،ص:۷۳

سورۃ العلق کی پہلی اور دوسری آیت میں صفتِ تخلیق کو بھی بڑی خصوصیت اور اہتمام سے بیان کیا گیا ہے ارشاد ہوا ہے الَّذِیْ خَلَقَ الْاَنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اوّل الذکر آیت میں تخلیق کائنات کا ذکر آیا ہے۔ اگرچہ اس میں خلق کے مفعول یعنی جس چیز کو پیدا کیاگیا، کا ذکر نہیں کیاگیا ہے، لیکن اس میں اشارہ عموم کی طرف یعنی ساری کائنات اس کی مخلوق ہے۔ اس حقیقت کو قرآن نے ایک دوسری جگہ پر اس طرح بیان کیا ہے:

ذَالِکُمْ اللّٰہُ رَبُّکُمْ خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍ لَآاِلٰہَ اِلاَّ ھُوَ فَاَنّٰی تُؤْفَکُوْنَ۔  ﴿المؤمن، ۶۲

’’یہی اللہ تمھارارب ہے، ہر چیز کا پیدا کرنے والا۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پھر تم کہاں سے بہکائے جاتے ہو۔‘‘

ثانی الذکر آیت میں خاص طور پر انسان کی تخلیق کا ذکر کیاگیاہے۔ کیونکہ اس ساری کائنات میں اللہ تعالیٰ کی بااختیار مخلوقات میں سے سرفہرست طورپر انسان ہے۔ اگرچہ اس میں جنات بھی آتے ہیں مگر جس شان اور اہتمام سے انسان کی تخلیق کا ذکر کیا گیا ہے اس طرح کا ذکر جنات کا نہیں کیاگیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی چند آیات اسی طرح آئی ہیں:

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنسَانَ فِیْٓ أَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ O﴿التین:۴

’’بے شک ہم نے انسان کوبہترین ساخت پر پیدا کیا۔‘‘

یٰآَٔیُّہَا الْاِنسَانُ مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ Oالَّذِیْ خَلَقَکَ فَسَوَّاکَ فَعَدَلَکَ Oفِیْٓ أَیِّ صُورَۃٍ مَّا شَائَ رَکَّبَکَO﴿الانفطار۶-۸

’’اے انسان! تجھ کو کس چیز نے اپنے رب کریم کی طرف سے دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ جس نے مجھ کو پیدا کیا۔ پھر تیرے اعضائ کو درست کیا، پھر تجھ کو متناسب بنایا، جس صورت میں چاہا تم کو ترتیب دیا۔‘‘

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنسَانَ مِن سُلَالَۃٍ مِّن طِیْنٍ Oثُمَّ جَعَلْنَاہُ نُطْفَۃً فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ Oثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَۃَ مُضْغَۃً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَۃَ عِظَاماً فَکَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْماً ثُمَّ أَنشَأْنَاہُ خَلْقاً آخَرَ فَتَبَارَکَ اللّٰہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ O﴿المؤمنون:۱۲-۱۴

’’اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا۔ پھر ہم نے پانی کی ایک بوند کی شکل میں اس کو ایک محفوظ ٹھکانے میں رکھا۔ پھر ہم نے پانی کی بوند کو ایک جنین کی شکل دی۔ پھر جنین کو گوشت کا ایک لوتھڑا بنایا، پھر لوتھڑے کے اندر ہڈیاں پیدا کیں۔ پھر ہم نے ہڈیوں پر گوشت چڑھادیا۔ پھر ہم نے اس کو ایک نئی صورت میں بنا کر کھڑا کیا۔ پس بڑا ہی بابرکت ہے اللہ، بہترین پیدا کرنے والا۔‘‘

اس بات کا مقتضی ہے کہ عبادت کا حقیقی سزا وار صرف اللہ کی ذات ہے کہ قرآن نے تخلیق جن وانس کامقصد عبادت الٰہی میں بتایا ہے۔ جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے:

وَمَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلاَّ لِیَعْبدُوْنِ۔ ﴿الذاریات۔۵۶

’’اور میں نے جن اور انسان کو صرف اس لئے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں۔‘‘

ایک اور جگہ پر یہ بھی بتایاگیا ہے کہ انسان اور انسان کے سوا جو کچھ زمین اور آسمان میں ہے۔ ان سب کا پیدا کرنے والا صرف ایک اللہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

یاآَیُّہَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ O الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الأَرْضَ فِرَاشاً وَّالسَّمَآئَ بِنَآئَ وَّأَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَأَخْرَجَ بِہٰ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقاً لَّکُمْ فَ لَا تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ أَنْدَادًا وَّأَنتُمْ تَعْلَمُوْنَO  ﴿البقرہ:۲۱،۲۲

’’اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تم کو پیدا کیا اور ان لوگوں کو بھی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں، تاکہ تم دوزخ سے بچ جاؤ۔ وہ ذات جس نے زمین کو تمہارے لیے بچھونا بنایا اور آسمان کو چھت بنایا اور اُتارا آسمان سے پانی اور اس سے پہلے پیدا کیے پھل تمہاری غذا کے لیے۔ پس تم کسی کو اللہ کے برابر نہ ٹھہراؤ، حالانکہ تم جانتے ہو۔‘‘

مگر اس سب کے باوجود انسان اپنے خالق سے عبادت کا حقیقی تعلق قائم نہیں کرپاتا۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ انسان صریح شرک وکفر میں لگاہواہے۔ اس نے خود ساختہ طور پر پتھر سے تراشے ہوئے بتوں کو اپنا خدا بنالیا ہے اور انہی کی پوجا کرتا ہے۔ انسان کی سب سے بڑی جہالت یہی ہے کہ وہ اللہ جو اس کا حقیقی رب اور خالق ہے، کو چھوڑ کر دوسری مخلوق چیز کو اپناخدا بنا لیتا ہے جو ایک انتہائی معمولی چیز مکھی کو بھی نہیں بناسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں قرآن کا یہ ارشاد انتہائی غور طلب ہے:

یٰآَیُّہَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَہ، اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَنْ یَخْلُقُوْا ذُبَاباً وَلَوِاجْتَمَعُوْا لَہ، وَاِنْ یَسْلُبْہُمُ الذُّبَابُ شَیْْئاً لَّایَسْتَنقِذُوْہُ مِنْہُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ Oمَا قَدَرُوْا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٰ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ O﴿الحج:۷۳،۷۴

اے لوگو! ایک مثال بیان کی جاتی ہے تو اسی کو غور سے سنو۔ تم لوگ خدا کے سوا جس چیز کو پکارتے ہو وہ آپ مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے۔ اگرچہ سب کے سب اس کے لئے جمع ہوجائیں اور اگر مکھی ان سے کچھ چھین لے تو وہ اس کو اس سے چھڑانہیں سکتے۔ مدد چاہنے والے بھی کم زور اور جن سے مدد چاہیں گی وہ بھی کم زور۔ انھوں نے اللہ کی قدر نہ پہچانی جیسا کہ اس کے پہچاننے کا حق ہے۔ بے شک اللہ طاقتور ہے، غالب ہے۔

﴿جاری﴾

  (اشاعت اول: زندگی نو ،نئی دہلی ، مارچ2013)

Your Comment