بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله منگل 02 / جون / 2020,

Instagram

بچوں کے بگاڑ کے اسباب اور ان کی اصلاح کی تدابیر:دوسری اور آخری قسط

25 May 2013
بچوں کے بگاڑ کے اسباب اور ان کی اصلاح کی تدابیر:دوسری اور آخری قسط

قاضی فرزانہ تبسم

 بچوں کے بگاڑکا ایک اہم سبب بچوں کی مائوں یا ان کے سرپرستوں کی اپنے بچوں اور ان کے ساتھیوں کے آپسی جھگڑوں میں اپنے بچوں کی بیجا حمایت بھی ہے۔ اکثر دیکھاگیاہے کہ بچوں کے سرپرست اپنے بچوں کے قصوروار ہونے کے باوجود اپنے بچوں کی بجائے ان کے ساتھیوں ہی کو ڈانٹتے دھمکاتے ہیں جو نہایت گھنائونی حرکت ہے۔ اس سے ایک نقصان تو یہ ہوتاہے کہ بچوں اور ان کے ساتھیوں میں آپس میں کشیدگی پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ ایک دوسرے کے مخلص دوست نہیں بن پاتے۔ دوسرے اپنے بچوں کو دوسروں کو ناحق ستانے اور ان پر ظلم کرنے کی عادت ہوجاتی ہے۔ تیسرے یہ کہ بچوں کے ساتھیوں میں بھی نفرت وانتقام کا جذبہ پیدا ہونے لگتا ہے، لیکن اگر بچوں کے سرپرست اپنے بچوں کے قصور پر اپنے بچوں ہی کو تنبیہ کریں اور پھر ان میں میل ملاپ کرادیں اور اگر ان کے ساتھی کا قصور ہوتو بھی اسے پیار سے سمجھائیں تو اس سے ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ صرف اپنے بچوں ہی کی تربیت نہ ہوگی بلکہ دوسرے بچوں کی تربیت کی سعادت بھی ہمیں نصیب ہوگی۔ بچوں میں آپس میں پیارو محبت کا جذبہ پروان چڑھے گا، دوستیاں مضبوط ہوں گی اور ایک اہم یہ بھی کہ بچوں کے ساتھی نہ صرف اپنے دوستوں سے محبت کریں گے بلکہ ان کے سرپرستوں کا بھی احترام کریں گے اور آئندہ ان کی ہر نصیحت قبول کریں گے۔ لیکن اس کے لئے نہایت صبرو حکمت سے کام لینا ہوگا اور دوسرے بچوں کے لئے بھی اپنے دلوں میں محبت کے جذبات پیدا کرنا ہوں گے۔

بچوں کے سامنے اگر تعمیری مشاغل یعنی علم وہنر سیکھنے کاانتظام یا اور کوئی مصروفیات نہ ہوتو بھی وہ بگڑنے لگتے ہیں۔ کیونکہ بچوں کی فطرت میں شامل ہے کہ وہ کچھ نہ کچھ ضرور سیکھیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ان کے لئے بہترین علم وہنر سیکھنے کا انتظام کیاجائے جو نہ صرف ان کے عمل و اخلاق کو سنوارنے بلکہ مستقبل میںحلال روزی کمانے کا ذریعہ بھی ثابت ہو، لیکن یہ نکتہ بھی ذہن میں رہے کہ بچوں کو علم و ہنر سکھانے کا پروسیس چار پانچ سال کی عمر ہی سے شروع کردیاجائے ورنہ بعد میں انہیں پڑھانا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوجاتا ہے۔ ساتھ ہی گھر کے کاموں کی بھی انہیں ان کے لائق ذمہ داریاں سونپتے رہیں اور روزمرہ کے کچھ نہ کچھ ٹیکنیکل کام بھی سکھائیں۔ مثلاً کمپیوٹر چلانا، ٹی وی ، ریڈیو اور کپڑوں کی پریس وغیرہ کی معمولی نوعیت کی درستی کاکام۔ مختلف مشینوں کی مشینریاں اور اہم پرزوں کا بھی مشاہدہ کروائیں، کارخانوں میں کام ہوتا ہوا بھی دکھائیں، ساتھ ہی دیگر ضروری معلومات بھی دیتے رہیں، حالات حاضرہ سے بھی باخبر رکھیں نیز مختلف کھیلوں میں حصّہ لینے کی بھی انہیں ترغیب دیں جو ان کی صحت و نشوونما کے لئے ضروری ہے، لیکن ایسا بھی نہ ہو کہ بچہ کھیلوں ہی کو سب کچھ سمجھ لے اور علم وہنر میں دلچسپی نہ لے۔

بچوں کے اندر فن تقریر اور خطابت بھی پیدا و پروان چڑھے، اس کی بھی فکر رہے جس کے لئے ضروری ہے کہ اسکول و کالجوں میں ہونے والے تقریری مقابلوں میں وہ حصّہ لیں، اس کی انہیں ترغیب دیں، کچھ بچے ڈرائنگ وغیرہ مثلاً قدرت کے مناظر کی عکاسی کرنے کی بہترین خداداد صلاحیت رکھتے ہیں، ایسے بچوں کی صلاحیتوں کو بھی پروان چڑھانے کی کوشش کی جائے، صرف اس بات کا خیال رکھاجائے کہ ایسے جانداروں کی تصویریں نہ بنائیں جس کے لئے رسول اکرمﷺ  نے منع فرمایا ہے۔

علم وہنر سکھانے کے ساتھ ساتھ بچوںمیں دیگر مطالعے کا بھی ذوق پیدا کیجیے اور اس پر بھی کڑی نگرانی رکھیں کہ فحش ورومانی لٹریچر وغیرہ پڑھنے نہ پائیں۔ بلکہ تفسیر قرآن و حدیث، فقہ ، سیرت انبیاء  و صحابہ کرام اور دیگر اسلامی تاریخ نیز دیگر مفید کتب جن سے وہ کچھ سیکھ سکیں، انہیں ان کے مطالعے کی عادت ڈالیں۔ عربی و دیگر زبانیں سیکھنے کی بھی انہیں ترغیب دیں اور بچپن ہی سے جب کہ وہ خود مطالعے کے قابل نہ ہوں انہیں انبیاء  کرام ، صحابہ کرام اور بزرگانِ دین کی زندگی کے پاکیزہ قصّے سناتے رہا کریں، ان کے مقاصد، مشن اور دینی جدوجہد کے سلسلے میں ان کے خیالات و جذبات ان میں پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ جِن، بھوت، پریوں کی کہانیاںسنانے سے گریز کریں جو بچوں کے ذہن و قلب پر بُرا اثرڈالتے ہیں اور اکثر وہ مختلف اوہام کا شکار ہوجاتے ہیں۔

بنیادی ضروریات سے محرومی یعنی تنگ دستی و معاشی ابتری بھی بچوں کے بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔ ایسی صورت میں ضروری ہے کہ بچوں میں قناعت پسندی اور راضی بہ رضارہنے کا جذبہ پیدا کریں۔ انبیاء  کرام ؑ و صحابہ کرامؓ  کے فاقہ کشی و تنگ دستی کے واقعات انہیں سنائیں، ان کے سامنے اگر مقصد زندگی اور آخرت کے حصول کاجذبہ نیز اس سلسلے میں اسوۂ بزرگانِ دین نہ ہوتو وہ بہت زیادہ بگڑنے لگتے ہیں۔

بچوں کے بگاڑ کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ آج ہمارے یعنی ملت کے بچوں کے سامنے کوئی نصب العین یعنی مقصد زندگی نہیں ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے تکلیفیں اٹھانے، مصیبتیں جھیلنے اور قربانیاں دینے کا داعیہ مطلق ان کے اندر نہیں ہے اور یہ نصب العین یعنی کسی نیک مقصد کی خاطر جدوجہد کرنے اور اپنا تن من دھن سب قربان کرنے کاجذبہ ہی وہ طاقت ہے جو ہر کسی کو ہر طرح کے بگاڑ سے محفوظ رکھتا ہے۔ کیونکہ یہ انسان کی فطرت میں ودیعت ہے کہ اس کی زندگی کاکوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہو اور اس کے سوا اور کیا مقصد ہوسکتاہے کہ ہم لوگوں کو نیکیوں کی تلقین کریں اور بُرائیوں سے روکتے رہیں۔ اسلام سے ناآشنا اللہ کے بندوں کو اللہ کے دین سے روشناس کراتے رہیں اوریہی وہ مقصد زندگی ہے جس کے لئے خداوند کریم نے امت مسلمہ کو برپا کیا جیساکہ ارشاد خداوندی ہے:

’’تم ہی وہ بہترین امت ہو جسے لوگوںکی اصلاح کے لئے میدان میں لایاگیا تم لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیتے ہو ، بُرائیوں سے روکتے اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔‘‘ ﴿اٰل عمران:۱۱۰

مزیدارشاد ہے:

’’اور اس طرح ہم نے تمہیں امت وسط بنایاتاکہ تم لوگوں پر دین حق کے گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنیں۔‘‘﴿البقرہ:۳۴۱

اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ فی زمانہ کیا امت مسلمہ کو اپنے اس فریضۂ زندگی کا شعور ہے یا وہ یہ خدمت انجام دے رہی ہے؟ اور کیا اپنی اولاد کو بھی اس کا شعور دلارہی ہے۔ جب کہ اللہ کے رسول کا ارشاد ہے کہ جب تک تم دین کی یہ خدمت انجام دیتے رہوگے اللہ کی رحمت تم پر سایہ فگن رہے گی اور جب یہ کام چھوڑدوگے اللہ کے عذاب کی لپیٹ میں آجائوگے۔ افسوس تو اس کا ہے کہ آج ملت نے اس مقصد زندگی ہی کو بھلادیا ہے۔ اس کام کو چھوڑدیا ہے اور یہ بھی اسی کا خسارہ عظیم ہے، اللہ کا عذاب ہے جو بچوں کے بگاڑ کی صورت میں ہمارے سروں پر منڈلارہا ہے۔ لہٰذا لازم ہے کہ ہم خود یہ خدمت انجام دیں اور اپنے بچوں کو بھی اس کاشعور دلائیں۔ خود بھی باترجمہ و تشریح قرآن وحدیث و اسلامی لٹریچر کا مطالعہ کریں، بچوں کو بھی کروائیں، ساتھ ہی انہیں نمازوں میں ودیگر عبادات کا اہتمام کرنے اور زندگی میں غیر اسلامی کاموںسے بچنے کی تلقین کرتے رہیں، نیز اپنے محلے وکالونیوں میں ہورہے ہفتہ واری دینی اجتماعات میں بھی انھیں پابندی سے بھیجتے رہیں۔

معصوم بچوں کے ذہنوں کو مسموم کرنے کے لئے ٹی وی بہت ہی موثر آلہ ہے، بچے تو کورا کاغذ ہوتے ہیں جو اچھائی یا بُرائی بھی وہ دیکھتے اور سنتے ہیں ان کے ذہن و قلب کے کاغذ پر ثبت ہوتی رہتی ہے۔ تو ظاہر ہے ٹی وی پر ہورہے ناچ ، گانے، فحش حرکات اور اخلاق سے عاری سیریلیں، فحش، بے حیائی، غیرسنجیدگی، مادہ پرستی، خود غرضی جیسی بُرائیاں پیدا کرنے میں بڑا رول ادا کرتے ہیں۔ کارٹونس بھی جو بچوں کی دلچسپیوں کا محور ہے، انھیں زندگی کی حقیقتوں سے دور اور اوہام پرست بنادیتے ہیں۔ اگر بچے بچپن ہی سے یہ دیکھتے رہیںتو وہ نہ اچھے اخلاق و کردار کے مالک بن پاتے ہیں نہ اپنے دین و نصب العین سے انھیں دلچسپی پیدا ہوتی ہے۔ بلکہ وہ اپنے اقربائ، اعزّہ، حتیٰ کہ ازواج کو بھی ٹی وی کی سیریلوں میں دکھائے گئے کرداروں کے روپ میں دیکھنے کے عادی ہوجاتے ہیں اور پھر وہ خوشگوار اور حقیقی سکون سے عاری تنازعات سے پرزندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ دوسری طرف ٹی وی سیریلیں خصوصاً غیراخلاقی سیریلیں جنھیں گھر کے تمام افراد بڑی دلچسپی بلکہ دیوانگی کی حد تک پابندی سے دیکھتے ہیں نہ گھر کے کاموں کی پروا نہ بچوں کی تعلیم کا خیال اور پھر اس پر گھنٹوں تذکرہ بچوں کا نہ صرف بگاڑنے بلکہ ان کے مطالعہ و غیرہ کو ڈسٹرب کرنے کا بڑا ذریعہ ہے۔ مختلف ملکوں کے درمیان ہورہے کرکٹ و دیگر میچیس جو آئے دن شروع ہی رہتے ہیں جو ٹی وی پر بھی دکھائے جاتے ہیں، انھیں دیکھنا اور ان پر بحث و مباحثہ وہ بھی گھر کے تمام مرد حضرات کا، بچوں کا قیمتی وقت برباد کرتا رہتا ہے۔ خواہ امتحان کا زمانہ ہو خواہ اس طرح ان کے سال بہ سال گزرتے چلے جاتے ہیں اور بعد میں عمر ڈھلنے کے بعد سوائے نکمّا پن کے کچھ ان کے ہاتھ نہیں آتا اور وہ ناکارہ ہوکر رہ جاتے ہیں۔

بچوں کے بگاڑ کی سب سے ہولناک صورت یہ ہے کہ ان میں فحاشی و بے حیائی کا رجحان تیز تر ہوتا جارہاہے۔ جس سے ہمارا مسلم معاشرہ بھی دوچار ہواجارہاہے، جو نہایت تشویشناک صورت حال ہے، جس کی سب سے بڑی وجہ یہی ثقافت و کلچر کے نام سے اخلاق و کردار کو برباد کرنے والے دین بیزار، خدا بیزار ٹی وی سیریلوں، سنسنی خیز و فحش فلموں، عریاں تصاویر اور رومانی و فحش لٹریچر، ناولوں و افسانوں کا عام ہونا اور بچوں ، بڑوںسب کا انھیں دیکھنا اور پڑھنا نیز مقابلۂ حسن ، فیشن شوز اور ماڈلنگ جیسے پُرفریب اور اخلاق سوز چیزوں کو دیکھنا اور ان میں حصہ لینا ہے۔ اس شیطانی کلچر کے خلاف اہل ایمان کو پرزور آواز اٹھانا اور اپنے بچوں کو اس سے بہت دور رکھنا نہایت ضروری ہے۔ ایک اور بُرائی جسے مسلم معاشرہ بُرائی ہی نہیں سمجھ رہاہے، وہ ہے لڑکے لڑکیوں کی مخلوط تعلیم و ملازمت، جس کی وجہ سے عالم یہ ہوگیاہے کہ آج نہ صرف لڑکے بلکہ لڑکیوں پر بھی ان کے سرپرستوں کا کوئی کنٹرول نہیں رہا۔ بلکہ خود ان کے اپنے گھروں میں نوجوان خادمائوں اور نوجوان ڈرائیوروں کو رکھ کر بچوں، بچیوں کے بگاڑ کا سامان ہورہاہے۔ صرف نمازیںادا کرکے اور لڑکیوں کو نقاب پہناکر، کہیں تو یہ بھی نہیں، یہ سمجھاجارہاہے کہ دین داری کا فرض ادا ہوگیا ہے۔ آج چچیرے، پھوپھیرے، خلیرے، ممیرے بھائیوں ، بہنوں یا دیگر غیرمحرم رشت داروں میں آپسی بے تکلفیاں، ان کے ساتھ تنہائیاں، بلاروک ٹوک ان کے ساتھ آنا جانا بلکہ خود ہمارا بھیجنا کیا بچوں، بچیوں کے بگڑنے کا سامان نہیں ہے؟ جب کہ ان بُرائیوں سے بچنے کے احکام و ہدایات بالکل واضح ہے۔ کیا ہمیں ان کا کچھ پاس و لحاظ ہے؟ پھر کیوں آس لگائی جارہی ہے کہ ہمارے بچے نیک و صالح بنیں؟

ماں باپ، بھائی بھابیوں یاد وسرے رشتے دار جوڑوں کے ازدواجی تعلقات میں بے احتیاطی، بچوں کے سامنے ان کے اظہار الفتکے عملی کھیل بھی بچوں کے بگڑنے کا اہم سبب ہے۔ کیا یہ ہولناک صورت حال نہیں ہے کہ بچوں کا بچپن رخصت ہوچکا ہے؟ آج آٹھ یا دس سال کے بچوں کو عورت و مرد کے تعلقات کا وہ شعور آگیا ہے جو پہلے ۲۰، ۲۲ سال کے بچوں کو بھی اس وقت تک نہ ہوتاتھا جب تک وہ خود اس عملی میدان میں نہ آجاتے یعنی کہ ان کی شادیاں نہ ہوجاتیں۔

بچوں خصوصاً لڑکیوں کو بچپن سے عریاں لباس پہنانے کی عادت ڈالنا بھی ان میں بے حیائی پیدا کردیتا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ انھیں بچپن ہی سے حیادار لباس پہنانے کی عادت ڈالیں، بناآستین یا جالی لگی آستین پہنانا جو چست ہو یا ٹخنوں تک نہ ہو، الغرض جسم کے قابل شرم حصّے کھلے رکھنے سے سختی سے پرہیز کرائیں۔ ساتھ ہی انھیں آڑ میں کپڑے تبدیل کرنے کی عادت ڈالی جائے۔ حتیٰ کہ بچوں کوآپس میں ایک دوسرے کے سامنے برہنہ ہونے سے بھی سختی سے روکتے رہیں، ورنہ بچوں میں بے حیائی پیدا ہونے لگتی ہے۔ نہایت اہم یہ بھی ہے کہ بچے بچیوں کو سن بلوغیت کو پہنچنے کے پہلے ہی سے چچازاد، خالہ زاد، ماموں زاد، یعنی غیرمحرم رشتے داروں میں آپس میں بے تکلفی برتنے اور انھیں ایک دوسرے کے ساتھ یعنی تنہا لڑکا، لڑکی کو گھومنے پھرنے یا کہیں جانے کی اجازت دینے سے سختی سے پرہیز کریں اور بڑا ہونے پر پردے وستر کے مکمل احکام سے نہ صرف واقف کرائیں بلکہ ان پر بھرپور عمل کرائیں اور خود بھی کریں۔

فی زمانہ بچیوں کے بگاڑ کاایک اہم سبب عام مسلمانوں بلکہ دیندار طبقے میں بھی لڑکیوں کو صرف عصری ہائر ایجوکیشن دلانے کا تشویشناک حد تک بڑھتا ہوا رجحان ہے۔ جب کہ لڑکیوں کو چاہیے کہ وہ دینی تعلیم کے ساتھ ان پر خدائے تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ ذمہ داریوں اور دائرۂ کار کے مناسب حال عصری تعلیم حاصل کرے یعنی ایسی تعلیم جو اپنے بچوں و خاندان کی اصلاح اور تعلیم یافتہ خصوصاً غیرمسلم خواتین میں دین کااچھی طرح تعارف پیش کرنے کے لئے مفید ثابت ہو اور جو شرعی حدود میں رہتے ہوئے بآسانی حاصل کی جاسکتی ہو۔ اس مقصد کے لئے الحمدللہ پورے ملک میں دینی درس گاہیں چل رہی ہیں جہاں عالمیت، فاضلیت یعنی دین کی مکمل تعلیم کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کی ذمہ داریوں کے مناسب حال عصری علوم پڑھائے اور سکھائے جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ دیگر زبانوں کے ساتھ ساتھ سماجیات، معاشیات،پولٹیکل سائنس و غیرہ جیسے علوم بھی پڑھائے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے ایک لڑکی پردہ و حجاب کے ساتھ یعنی پورے اطمینان سے شرعی حدود کی پابندی کرتے ہوئے تعلیم حاصل کرسکتی ہے۔ اس سے بہتر اور کیا تعلیم ہوسکتی ہے؟ لیکن کو ایجوکیشن یعنی لڑکے لڑکیوں کی مخلوط تعلیم اور وہ بھی مسلم وغیرمسلم تمام طلبا کے ساتھ ایسے اداروں میں جہاں دینی و اخلاقی تعلیم کی کوئی گنجائش نہ ہو بلکہ صرف مادہ پرستانہ تعلیم دی جاتی ہو، جہاں مخلوط پروگرام ، مخلوط مجالس و مخلوط فنکشنس و غیرہ کے لئے روک، ٹوک تو درکنار بلکہ حوصلہ افزائی ہوتی ہو، ایسے اداروں میں پردہ و حجاب، شرم وحیا سے دست بردار ہوکر کوئی لڑکی انجینئرنگ کررہی ہے ، کوئی ایم بی اے، کررہی ہے تو کوئی ایم سی اے، بی فارما، ڈی فارما جو خالص مارکیٹنگ کورسیس ہیں، کوئی الیکٹرانک میڈیا ﴿خصوصاً ٹی وی چینل کے لئے﴾ کی ڈگریاں لے رہی ہیں۔ یعنی ایسی تعلیم جو عورتوں کے فطری دائرۂ کار سے باہر خالص لڑکوں اور مردوں ہی کا دائرہ کار ہے، حتیٰ کہ کئی لڑکیوں کو مذکورہ نوعیت کی تعلیم دلانے کے لئے اپنے گھروں سے سینکڑوں ، ہزاروں میل دور ایسے اداروں میں تنہا بھیجااور رکھاجارہاہے۔ افسوس تو اس کا ہے کہ دوسری قوموں کی مسابقت میں اور مرعوبیت اور احساس کمتری کا شکارہوکر بچیوں کو مذکورہ نوعیت کی تعلیم دلاکر فخر محسوس کیاجارہا ہے۔

ایک لڑکاجب مذکورہ نوعیت کی تعلیم حاصل کرتا ہے تو یہ جاننے کی ضرورت نہیں رہتی کہ وہ کس مقصد کی خاطر یہ حاصل کررہاہے۔ لیکن ایک لڑکی کا مذکورہ تعلیم حاصل کرنا جو اس کے فطری دائرۂ کار سے باہر ہے۔ اس کے مقصد، ذہن اور رجحانات کی عکاسی کرتاہے، کیا وہ دینی و اخروی ذمہ داریوں کی ادائی کے جذبے سے یہ حاصل کررہی ہے؟ اور کیا وہ گھر میں رہ کر اور اپنی اصل ذمہ داریوں کو انجام دے کر، حجاب کی پابندی کرتے ہوئے اس تعلیم کا فالواپ کرسکتی ہے؟ جب کہ اس نے تو اسے پہلے ہی خیرباد کہہ چکا ہے اور کیا یہ ممکن بھی ہے؟

یہ بچوں کے بگاڑ کے اسباب اور قرآن وسنت کی روشنی میںان کی اصلاح کی چند تدابیر ہیں۔ خداوند کریم سے دعا ہے کہ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور خدا اورسول کے بتائے ہوئے طریقے پر اپنے بچوں کی بہترین تربیت کریں۔ انھیں دین کا داعی و مجاہد بنائیں اور ان تمام کوششوں کے باوجود کوتاہیاں ہم سے ہوجائیں اور جو کمی بیشی رہ جائیں انھیں پوری فرمائیں اور ہمارے بچوں کو دین کا مخلص سپاہی بنائے۔ آمین

(اشاعت اول: زندگی نو ،نئی دہلی ،مئی 2013)


Your Comment