بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله منگل 05 / جولائی / 2022,

Instagram

نظام تعلیم پر نظرثانی کی ضرورت

2014 Jul 25

نظام تعلیم پر نظرثانی کی ضرورت

  پروفیسر احمد سجاد

                عام خیال یہ ہے کہ عصر حاضر کے تین مہمات مسائل کی صحیح تفہیم اور انکے واقعی حل پر دنیائے انسانیت کی خیر منحصر ہے اور وہ ہیں:(۱) علمی دھماکہ کے نتیجے میں مادیت کا زور(۲) غربت اور (۳) قدروں کا بحران۔

                اس میں شک نہیں کہ سائنسی علوم کے  بطن سے برآمد شدہ مختلف ٹکنالوجیوں (مائیکرو، بائیو، نیو کلیر ٹکنالوجی وغیرہ) کے ساتھ انفارمیشن ٹکنالوجی نے دنیا میں علمی دھماکہ(Knowledge Explosion ) پیدا کردیا ہے اور روایتی طریقۂ تعلیم کے ساتھ فاصلاتی(Distance )اور آن لائن طریقۂ تعلیم نے واقعتا دنیا بھر میں ایک خاموش تعلیمی انقلاب برپا کردیا ہے جس کے نتیجے میں مادی و معاشی خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہوچکا ہے۔ چنانچہ ایک اندازے کے مطابق دنیا میں آج اناج کا اتنا بڑا بھنڈار تیار ہے جس سے موجودہ سات ارب کے بجائے اکیس ارب کی آبادی کا پیٹ بھرا جاسکتا ہے۔ مہلک ترین امراض پر قابو پانے کی ادویات کا ایک ہمالہ پہاڑ تیار ہوچکا ہے، کپڑوں کی کثیر پیداوار سے اس گلوب کو سات بار لپیٹا جاسکتا ہے اور دنیا بھر میں فلک بوس عمارتوں کا ایک جنگل کھڑا ہوچکا ہے۔

                ان خوشگوار حقائق کے باوجود تقریباً تمام سروے کے نتائج گواہ ہیں کہ مذکورہ عظیم ترین وسائل کے باوجود آج بھی دنیا کی نصف آبادی جاہل بھی ہے اور غریب بھی۔ غربت کا حال یہ ہے کہ اناج کے مذکورہ بھنڈار کے باوجود اپنے ملک کے علاوہ دنیا بھر میں بھوک سے ہزاروں اموات کا سلسلہ جاری ہے، دواؤں کی افراط کے باوجود غریب مریض بستروں پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مررہے ہیں اور ہر جگہ موت کا بازار گرم ہے۔ کپڑوں کے ہمالہ پہاڑ کے نیچے غربا سردیوں میں فٹ پاتھ پر ٹھٹھر ٹھٹھر کے مرنے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح مکانات کے جنگل میں انہی مکانوں کے بنانے والے مزدور اور غربا جھگی جھونپڑیوں اور فٹ پاتھوں پر سونے کے لیے مجبور ہیں۔

                غربت کا یہ عالم ہے کہ بعض مزدوروں کو مبلغ ساڑھے سات سو روپے ماہانہ ملتے ہیں تو بہت سے کارپوریٹ ملازمین کو ساڑھے سات لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ معمول کی بات ہے۔ امریکہ کو دنیا کا خوشحال ترین ملک مانا جاتا ہے مگر تقریباً ۳۵ کروڑ کی آبادی والے اس ملک کی دس فیصد آبادی آج بھی خط افلاس سے نیچے جینے پر اور ہزاروں غربا خودکشی کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔کیونکہ دنیا کے % ۲۰ امیر ترین ممالک کے لوگ زندگی کی تمام سہولتوں سے مالامال ہیں۔ مگر % ۶۰ لوگوں کو دو وقت کی روٹی نصیب نہیں ہوتی۔UNDP کی ایک رپورٹ کے مطابق تین امیر ترین افراد کی دولت ۴۸ غریب ترین ممالک کی مجموعی پیداوار کے برابر ہے۔ چند سال قبل اکیلے بل گیٹس کی دولت ، ہندوستان بھر کی دولت سے زاید تھی۔ ان سب پر مستزاد عالمی لوٹ کھسوٹ، کرپشن اور گھوٹالوں کی بہار الگ ہے۔ جبکہ ایک اندازے کے مطابق اس عالمی جہالت و ناخواندگی اور اس کے نتیجے میں غربت و انسانی بحران کو صرف دس سال میں ختم کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ ہر سال سات ملین ڈالر عمومی تعلیم پر خرچ کیا جائے۔ جو امریکہ کی سالانہ کوسمیٹک خرچ یا یورپ کی آئس کریم اور کولڈ ڈرنک کے سالانہ خرچ سے بھی کم ہے۔ کیا اب بھی اس قرآنی وارننگ پر غور و فکر کا وقت نہیں آیا ہے؟

’’یَمْحَقُ اللہُ الرِّبَا وَیُرْبِی الصّدَقَات وَاللہُ لَایُحِبُّ کُلَّ کَفَّارٍاَثِیْم ‘‘(البقرہ:۲۱۶)

’’ترجمہ: اللہ سود کا مٹھ مار دیتا ہے اور صدقات کو نشونما دیتا ہے اوراللہ کسی ناشکرے ، بدعمل کو پسند نہیں کرتا۔‘‘

قدروں کے بحران کا بھیانک منظر دیکھنا ہو تو اسی خوشحال امریکہ کی کرائم رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ ملک بھر میں ایک لاکھ سے زاید لڑکیوں کی سالانہ عصمت دری کی جاتی ہے، چنانچہ ۲۰ فیصد لڑکیاں اور ۱۰ فیصد لڑکے عمر بھر میں ایک نہ ایک بار خود کشی کی کوشش ضرور کرتے ہیں۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف ایک سال ۲۰۱۰؁ء میں ، لاطینی امریکہ سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے قحبہ خانوں کے لیے ایک لاکھ لڑکیاں(عمر ۱۴ تا ۱۹سال) اسمگل کی گئیں۔ جن میں صرف ۱۴۱ ؍افراد پر مقدمہ کرکے سزائیں دی گئیں۔ ساری دنیا میں ہیومن ٹریفکنگ قابل سزا جرم ہے اس کے باوجود ساری دنیا میں اس کام کے لیے دلالوں کا ایک نیٹ ورک قائم ہوچکا ہے۔ اس عالمی نیٹ ورک کا سالانہ ۳۲۰۰۰ کروڑ ڈالر کا کاروبار جاری ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی ۲۰۱۲؁ء کی سالانہ رپورٹ کی رو سے ہر سال آٹھ لاکھ افراد اسمگل کیے جاتے ہیں جن میں پچاس فیصد بچے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ شراب خوری ، جوا، عیاشی، ہم جنسی،ریل لائف فرینڈشپ، جنسی استحصال،کہیں تجرد تو کہیں ہر معاملے میں بے اعتدالی و انتہا پسندی ، بلکہ تفریحی قتل و غارت گری، ٹھگی، اغوا، رہزنی، ناجائز اسلحہ سازی، چنانچہ امریکہ میں جنگ ایک منافع بخش کاروبار سمجھا جانے لگا ہے۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق مدھیہ پردیش میں ایک بیوہ کو ساٹھ ہزار روپے میں اور ایک نوزائیدہ بچی کو چالیس ہزار روپے میں بیچ دیا گیا۔

                اگر غور کیا جائے تو جرائم اور گناہوں کے اس سیلاب کے جنم داتا ۹۵ فیصد نام نہاد جدید تعلیم یافتہ مرد وزن ہیں۔ کھیت میں کام کرنے والا کسان اور رکشہ چلانے والا مزدور ان جرائم کا کوئی شعور نہیں رکھتا الّا یہ کہ پڑھے لکھے لوگ ان کا استحصال کریں۔

                ؎              یہ علم ،یہ حکمت، یہ تدبر، یہ حکومت              پیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیم مساوات

کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ دنیا ہے تیری منتظر روز مکافات(اقبالؔ)

                قدروں کے بحران کی انتہا یہ ہوگئی ہے کہ دنیا پڑھ لکھ کے دوبارہ دور جہالت اور حیوانیت سے بھی پرے جاگری ہے۔ ایک طرف بچیاں ماں کی کوکھ میں ماری جارہی ہیں تو دوسری طرف پرایا عورتوں کی کوکھ کو کرایہ پر لے کر بے اولادی کا غم غلط کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ انسانی اعضا کی چوری کے لیے اغوا کا چلن شروع ہوگیا ہے۔مرد، مرد سے اور عورت، عورت سے شادی کررہے ہیں۔ صاف محسوس ہوتا ہے کہ اس تعلیم جدید نے تین بنیادی رشتوں کا بحران پیدا کردیا ہے:۔(۱) انسان اور خدا(۲) انسان اور فطرت (۳) انسان اور انسان کے مابین متوازن رشتوں کے فقدان نے انسانی و اخلاقی ہی نہیں کائناتی بحران پیدا کردیا ہے۔ گلوبل وارمنگ، اوژون کا سوراخ ، کاربن ڈائی آکسائیڈ کے زہر میں دن دونی رات چوگنی اضافہ، فضا کی آلودگی، صاف پانی کی شدید قلت وغیرہ۔

ان تینوں رشتوں کے بحران نے ہی مزید تین انسانی رشتوں کے توازن کو بگاڑ کے رکھ دیا ہے۔ میری مراد:۔(۱) مرد کا مرد سے(۲) مرد کا عورت سے اور (۳) فرد کا اپنی ذات سے

؎ ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزر گاہوں کا

اپنے افکار کی دنیا میں سفر کرنہ سکا

                ان رشتوں کے بحران کی وجہ ظاہر ہے مغرب نے زندگی کی روحانی تعبیر کی جگہ مادی تعبیر کو ترجیح دے دیا جس کے نتیجے میں انسان کو پہلے حیوان ناطق ثابت کیا گیا۔اس کے بعد حیوان مطلق، پھر ایک نامیہ(Organism )اور فرد کو اس کا ایک خلیہ(Cell ) قرار دے دیا گیا۔ یوں مغرب نے اٹھارھویں  صدی میں مذہب کی موت کا اعلان کیا تو انیسویں صدی میں ادب کے جاں بحق ہونے کی اطلاع د ی گئی اور بیسویں صدی میں انسان اور اسکی انسانیت کو خیر باد کا مژدہ سنا  دیا۔بالآخر ٹی، ایس، ایلیٹ جیسے ادیب و شاعر اور دانشور نے تسلیم کیا کہ:

’’ہوشمندی کے انقطاع کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوگیا جس کی ہم کبھی اصلاح نہ کرسکے‘‘۔

                 اور روژموں تو چیخ پڑا کہ:

’’ وحشت و بربریت کامیاب ہوگئی ہے اور ہماری فطرت کے درندہ صفت عناصر نے اپنا نقطۂ نظر ہم سے منوا لیا ہے‘‘۔

                کیا اب بھی اس ’’معلومات زدہ جہل مرکب‘‘ کو پھر اس اولین قرآنی آیت کریمہ سے جوڑنے کا وقت نہیں آیا ہے:۔

’’إِقْرَا بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقْ ۔ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقْ۔ اِقْرَا وَرَبُّکَ الْاَکْرَم۔ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَم۔ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَالَمْ یَعْلَمْ۔ 

’’ترجمہ: پڑھو(اے نبیؐ) اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی، پڑھو اور تمہارا رب بڑا کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا۔ انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتاتھا۔‘‘

؎ تاخیر کا موقع  نہ تذبذب کا عمل ہے

یہ وقت عمل، وقت عمل، وقت عمل ہے


(اشاعت اول: زندگی نو ،نئی دہلی ،جولائی 2014)

Your Comment