بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله منگل 02 / جون / 2020,

Instagram

سید مودودیؒ کا نظریۂ تعلیم

25 Aug 2015
سید مودودیؒ کا نظریۂ تعلیم

ڈاکٹرابوذراصلاحی 

سید مودودیؒ آج کی دنیا میں محتاج تعارف نہیں ہیں۔ بیسویں صدی میں عالمی پیمانے پر آپ وہ پہلے اسلامی مفکر ہیں جنہوں نے اسلام کو بحیثیت نظام حیات کے طور پر پیش کرکے ساری دنیا کے سامنے ایک ایسا سوالیہ نشان کھڑا کردیا کہ اغیار بھی اس کے اعتراف پر مجبور ہواٹھے۔

مثال کے طور پر ’’کنیڈا‘‘ کا ایک عیسائی پروفیسر’’ ولفرڈ کینئویل اسمتھ‘‘اپنی ایک کتاب"Islam in Modern History"(اسلام دور حاضر میں) میں لکھتا ہے۔

 مودودی صاحب کا نمایا ں ترین امتیاز ہی یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے خیالات کو آہستہ آہستہ اور بڑے تسلسل سے ایک مربوط ومنظم اور پرکشش نظام حیات کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ مودودی صاحب عصر حاضر میں اسلام کے متعلق بڑے منظم اور  بااصول انداز میں سوچنے والے مفکر معلوم ہوتے ہیں۔ انہوں نے اسلام کو ایک نظام کی شکل میں متشکل کردیا ہے ۔۔۔۔ مودودی صاحب پہلے آدمی ہیں جو اس قانون کو ز مانۂ حاضر کا ایک مثبت اور قابل عمل نظام بناکر  پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے اسلام کو ایک ایسے نظام حیات کی صورت میں پیش کیا ہے جس نے آج سے صدیوں پہلے بنی نوع انسان کو ہر زمانہ میں پیش آنے والے مختلف مسائل کے متعین جوابات فراہم کررکھے ہیں۔‘‘

یہ کوئی مبالغہ نہیں بلکہ حقیقت ہے کہ پہلے تو بحث اسلام بحیثیت مذہب کے ہوا کرتی تھی لیکن سید مودودی نے اس رخ کو پھیر کر ادھر کردیا کہ آج اسلام پر بحث بحیثیت نظام عالم کے ہوا کرتی ہے۔

آنجناب نے ہر چیز کے تعلق سے خواہ وہ سیاسی رہا ہو، سائنسی رہا ہو،معاشی رہا ہو،معاشرتی رہا ہو، اخلاقی رہا ہو یا ادبی رہا ہو الغرض کہ تمام امو رپر بحث کرکے بتایا کہ اسلام ہر چیز کے تعلق سے اپناایک ضابطہ رکھتا ہے۔ اسی طرح سے تعلیم کے تعلق سے بھی علامہ مرحوم نے بتایا کہ اس میں بھی اسلام اپنی ایک نظریہ رکھتا ہے۔ میرے مطالعہ کی حد تک  برِّ صغیر میں تعلیم کے ایک انقلابی نظریہ دینے والے سب سے پہلے سید مودودی ہیں۔ آپ نے ایک جدید نظریہ تمام رائج نظامہائے تعلیم پر تنقید کرکے خواہ وہ اسلامی رہا ہو یا غیر اسلامی اس امت کو بتادیا کہ جس نصاب تعلیم کو لے کر آپ چل رہے ہیں وہ اتنا فرسودہ ہوچکا ہے کہ اس کے اندر دم ہی نہیں ہے کہ و ہ آپ کو دنیا کی امامت کا نقشہ دے سکے۔ البتہ آپ کو مقلّد(Confromist)ضرور بناکر رکھے گا۔ اس کے بعد آپ نے ایک جدید تعلیمی اسکیم پیش کی اور بتایا کہ یہی وہ نسخہ ہے جس کے بل پر آپ دنیا کو اپنا مقلد بناسکتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ جمود نے ہمیں آج تک اس پر کام کرنے کی مہلت ہی نہ دی۔

اس زمین پر تعلیم انسان کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ کیونکہ تعلیم ہی وہ پہلا ذریعہ ہے جس سے  انسان کی ذہنی وفکری نشوونما ہوتی ہے اور پھر اس سے انسان اپنا ایک نصب العین متعین کرتاہے لیکن سب سے  پہلا سوال یہ ہے کہ آخر وہ تعلیم ہو کون سی جو انسان کو انسانیت سے بیزار نہ کرے بلکہ اسے صحیح نظریہ فراہم کرے۔ راہ مستقیم پر چلائے، تمام معاملات دنیا کو اس فطری نظر سے دیکھے جو خالق کو مطلوب ہے۔ تو ایسی تعلیم اس روئے زمین پر صرف وہی ہے جو مالک نے اپنے بندوں کے پاس اپنے رسولوں کے ذریعہ بھیجی ہے۔ صرف یہی وہ تعلیم ہے جو انسان کو اس معراج کی طرف لے جائے گی  جو قدرت کو مطلوب ہے ۔انسان کے بنائے ہوئے نظام تعلیم فزکس، میتھ مٹکس،باٹنی،اناٹومی،اسٹرا نومی،زولوجی،بایو لوجی،فزیالوجی الغرض کہ اس طرح کے جتنی بھی نمومیاں اور لوجیاں ہیں وہ انسان کو ٹاپ کا مادّہ پرست تو بناسکتی ہیں لیکن ان کے اندر اتنا مادہ نہیں ہے کہ وہ انسان کو خدا پرست بناسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج اس طرح کے علوم انسان کو ذہنی عیاشی،ضمیر فروشی،فحش پسند،ہوس پرستی الغرض کہ ہر اس پرستی میں مبتلا کردیتے ہیں جس سے انسان تمام طرح کے اس اخلاقی کوڑھ کے مرض میں گرفتار ہوجاتا ہے جو انسانیت کا قاتل ہے۔ اور اس کے پیش نظرصرف ایک مقصد ہوتا ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو زیادہ سے زیادہ پیسہ کما کر معیارِ زندگی بلند کرلے خواہ معیار انسانیت کی ادنیٰ بھی رمق اس کے اندر باقی رہے نہ رہے۔ آخر ایسی تعلیم کا مقصد؟ اگر اپنا پیٹ بھر نا ہے تو یہ بھی جان لیجئے کہ آپ نے کوئی ترقی نہیں کی ہے کیونکہ جانور تو بے تعلیم ہی کے اپنا  پیٹ بھرلیتے ہیں۔

اس طرح کی ذہنیت صرف ایک بات کا نتیجہ ہے کہ ہم نے اس ہدایت،اس قانون،اس سراپا علم کو بالائے طاق رکھ دیا جس میں ہر طرح کی گمراہیوں سے بچنے کے نسخے درج تھے اور خود ساختہ نظام تعلیم کو لے کر مختلف  تعریفوں کے ساتھ اس کے ہالے میں اس طرح بیٹھ گئے کہ گویا  یہی پل صراط پار کرانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

کسی کے نزدیک تعلیم کا مقصد محض یہ ٹھہرا کہ بہترین شہری پیدا کیا جائے۔ تو کسی کے نزدیک یہ ہوا کہ گزری ہوئی  نسل کے سرمائے کو آنے والی نسلوں کی طرف منتقل کیا جائے۔ تو کوئی یہ تعریف لے کر نمودار ہوا کہ نسل کو اس طرح تیار کیا جائے جو ملک کے مسائل کو بہتر طریقے سے چلا سکے۔ تو کوئی یہ آواز لے کر برآمد ہوا کہ آزادانہ تعلیم دی جائے تاکہ انسانی ذہن ہر چیز کو آزاد نظر سے دیکھے اور آزاد ذہن سے اس کے متعلق فیصلہ کرلے۔ تو کوئی یہ لکچر لے کر کھڑا ہوا کہ جو روایات وتجربات موجود ہیں انہیں جوں کا توں لیا جائے اور معروضی مطالعہ کے ذریعہ سے زندگی کی گاڑی کو چلا یا جائے۔ الغرض کہ تمام منقولات(Traditionally)سے اسی جیسے خلاصے برآمد ہوتے ہیں جو اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ یہ سب کچھ ناقص علم وفہم کا ماحصل ہیں۔ یہ تمام تعریفیں جڑ نہیں بلکہ شاخ ہیں۔ اس کی اصل یہ ہے کہ خدا نے جو علم بھیجا ہے اس کی روشنی میں سب سے پہلے  انسان بنا جائے پھر پوری دنیا کو انسان بنانے کی سعی کی جائے تاکہ ہر طرح کے Corruptionسے زمین پاک رہے اور انسانی پھلے پھولے۔ انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا اصل مقصد ہی یہی تھا۔ اس بات کو ہم ہی نہیں بلکہ یہودی، عیسائی اور صابئی بھی بخوبی جانتا ہے کہ تمام انبیاء پروفیسر کے لئے نہیں بلکہ انسان کو اس کے خالق کے مطالبات کی تعلیم دینے کے لئے آئے تھے۔ اسی مطالبات کو سمجھنا اور سمجھانا اصل تعلیم ہے۔ لیکن ہمارے ماہرینِ تعلیم نے کہیں کا قبلہ کہیں بنادیا۔

سید مودودی تعلیم کے مقاصد پر تبصرہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ:۔

’’بعض لوگوں کے نزدیک تعلیم کا مقصد صرف علم حاصل کرنا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگوں کو بالکل غیر جانبدارانہ تعلیم دی جانی چاہئے تاکہ وہ زندگی کے مسائل اور معاملات اور حقائق کا بالکل معروضی مطالعہ کریں۔ اور آزادانہ نتائج اخذ کرسکیں۔ لیکن میںکہتا ہوں کہ اس طرح کا معروضی مطالعہ صرف کیمرے کیا کرتے ہیں انسان نہیںکرسکتے ۔ انسان ان آنکھوں کے پیچھے ایک دماغ بھی رکھتا ہے ۔ جو ہر حال اپنا نقطۂ نظر رکھتا ہے۔ وہ مسائل،معاملات اور حقائق کے متعلق سوچنے کا ایک طرز اور ایک فکر رکھتا ہے اور اسی فکر پر وہ نظام زندگی قائم ہوتا ہے جسے ہم کلچر کہتے ہیں۔ اور ایک قدم کے لئے جس کے اپنے کچھ عقائد ہوں،اپنا نظریۂ زندگی ہو،اپنا اصول ہو، لازم ہے کہ وہ اپنی آنے والی نسلوں کو اس غرض کے لئے تیار کریں کہ وہ اس کے کلچر کو سمجھیں،زندہ رکھیں اور آگے بڑھانے کی کوشش کریں۔

دوسری چیز جو کسی نظام تعلیم میں بنیادی حیثیت کی حامل ہوسکتی ہے وہ یہ ہے کہ دین ودنیا کی تفریق مٹا دی جائے۔ ایسے نظام تعلیم کے مطابق لازم ہے کہ انسان دنیا کو سمجھے اور دنیا کے سارے کام چلانے کے قابل ہو اور اپنی تعلیم کو ایسے سانچے میں ڈھال سکے کہ کسی مرحلے پر بھی دین اور دنیا میںٹکرائو کی صورت پیدا نہ ہوسکے۔ اور جب کبھی ایسا مسئلہ در پیش ہو تو دنیا کو دین کے نقطۂ نظر سے سمجھاجائے۔‘‘(مولانا مودودی کے انٹرویو۔ص 91)

 اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آنجناب کے نزدیک تعلیم کا مقصد روٹی حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ ہم تعلیم اس کلچر کو زندہ رکھنے کے لئے اورآنے والی نسلوں کو اس میں ڈھالنے اور اس سے روشناس کرانے کے لئے حاصل کریں جس پر ہم ایمان رکھتے ہیں۔ اور ساتھ ہی یہ کہ یہ جو جہالت دین ودنیا کی تعلیمی تفریق کی چل رہی ہے جسے مغرب نے بنایا ہے کہ مذہبی تعلیم صرف کلیسا کے لئے ہے کیونکہ انہیں مذہب کو چلانا ہے تو دنیاوی تعلیم سیاسی حضرات کے لئے ہے کیونکہ انہیں دنیا  کو چلانا ہے اور یہی بے دینی اصول ہمارے ہاں بھی رواج پارہا ہے کہ دینی تعلیم ان لوگوں کے لئے ہے جنہیں نکاح وجنازہ پڑھانا ہے اور کانونٹی ومانیٹری تعلیم ان لوگوں کے لئے جنہیں دنیا کے مسائل کو حل کرنا ہے۔ حالانکہ دنیا کے مسائل کو بہتر طریقے سے وہی لوگ حل کرسکیں گے جو دین میں بصیرت کی نگاہ رکھنے والے ہوں۔ تو اس تخصیص (Peculiarity) کو ختم کیا جائے اور ایسا نظام تعلیم تشکیل دیا جائے جس میں دین اور دنیا دونوں ہوں۔ اور انسان جہاںکہیں بھی الجھن محسوس کرے اسے آزاد خیالی سے نہیں بلکہ دینی نقطۂ نظر سے سلجھائے۔

دینی تعلیم

 قرآن کی رو سے تعلیم کا اصل مقصد خدا کو پہچاننا، اس کے احکامات پر غور کرنا، صالحین، صادقین اور مصلحین کی صفات پیدا کرنا، کافرین، فاسقین اور منافقین کے نقش قدم سے بغاوت کرنا اور اپنی زندگی کا ایک صحیح نصب العین متعین کرنا ہے اس لئے دینی تعلیم تمام علوم پر مقدم ہے۔  بلکہ اور علوم تو انسان کو گمراہ کررہے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بے خدا ہیں۔ ان کی بحث صرف مادّے سے ہوتی ہے۔ مادے کے بنانے والے سے نہیں۔ لیکن الٰہی تعلیم سب سے پہلے انسان کے اندر کوٹ کوٹ کر انسانیت بھرتی ہے ،اسے خدا پرست بناتی ہے۔ مقصد زندگی بتاتی ہے اور اس کی دنیا پرستی میں بھی خدا پرستی کی سوچ شامل کرتی ہے۔ اس لئے علم کا اصل منبع وحی ہے۔ باقی علوم کا شمار جزئیات میں ہے۔

سید مودودیؒ اس کے تعلق سے بڑی قیمتی تجاویز پیش فرماتے ہیں۔ آپ کی یہ تجاویز مغربی ماہرین تعلیم کی طرح سے دنیاوی نظام کو چلانے کے لئے معاشیات، سیاسیات، قوانین اور شیئربازاری کا علم نہیں ہے۔ بلکہ خدا کے مطالبات کا علم،اس کی وحی کے متعلق واقفیت، آفاق وانفس میں اس کی آیات پر غور یہی حقیقی علم ہے۔ اس کے برعکس جو کسی اور علمی دنیا میں رہتاہے خواہ وہ کتنا ہی روشن خیال(Broad minded) ہو وہ روشنی میں نہیں بلکہ تاریکی میں رہتاہے  جسے اصل علم اور معرفت بھی نہیں مل سکتی۔

’’سید مودودیؒ‘‘ تحریر فرماتے ہیں۔

’’درحقیقت علم سے مراد فلسفہ وسائنس اور تاریخ وریاضی وغیرہ درسی علوم نہیں ہیں۔ بلکہ صفاتِ الٰہی کا علم ہے۔ قطعِ نظراس سے کہ آدمی  خواندہ ہو یا ناخواندہ۔ جو شخص خدا سے بے خوف ہے وہ علامۃ دہر بھی ہو تو اس علم کے لحاظ سے جاہل محض ہے۔‘‘(تفہیم القرآن ۔ چہارم۔ ص۲۳۲)

’’سید مودوی ‘‘علم کا مقصد معرفت ِ الٰہی کو قرار دیتے ہیں ۔ اور ظاہر سی بات ہے کہ ہمیں یہ معرفت انبیاء ہی کی لائی ہوئی تعلیم سے مل سکتی ہے ۔ اب اگر کوئی اس اصل علم کو پسِ پشت ڈالتا ہے تو وہ ضلالت میں ضرور جا گرے گا جیسا کہ علمی دنیا کے ہزاروں ، لاکھوں بابائے آدم کہے جانے والے کہیں سولن کی شکل میں، کہیں فیثا غورث کی شکل میں، کہیں گلیلیوکی شکل میں ، کہیں کوپر نیکس کی شکل میں، تو کہیں ہابز ، والیئر، روسو، حیوم ، ڈارون ، کانٹ، ہیگل، اور مارکس وغیرہ کی شکل میں ضلالت سے بچ نہیں پائے ہیں ۔ اس علم کو ٹھکرا کر انہوں نے اپنے کوجاہلین میں لاکھڑا کرلیاہے۔

’’سید مودودی ؒ‘‘ کہتے ہیں :۔

’’علم کی بنیاد قرآن ہے ۔ اس کتاب پاک میں وہ تمام اصول اور قوانین بیان کردیے گئے ہیں جن پر اسلام کا مدار ہے ۔ علم کادوسرا سرچشمہ رسول اللہ کی زندگی ہے ۔ آپ  نے ایک نبیؐ کی حیثیت سے ۲۳ سال تک جو کچھ کیا اورجو کچھ کہا ہے وہ سب قرآن کی تفسیر ہے ۔ علم کا تیسرا سرچشمہ صحابہ ٔ کرام کی زندگی ہے ۔ انہوںنے قرآن کو خود حاصل قرآن سے سمجھا ہے ۔۔۔۔ جولوگ ان تینوں سرچشموں سے استفادہ کرکے اسلام کے اصول اور زندگی کے جزئی مسائل پر ان کو منطبق کرنے کے طریقوں کو اچھی طرح سمجھ لیں ان میں یہ قابلیت پیدا ہوجاتی ہے کہ زندگی کے عام معاملات میں جو ہر ملک اورہرزمانے میں نئے ڈھنگ اور نئے طور سے پیش آتے ہیں ۔ اصول اسلام کے مطابق احکام اورقوانین بنا سکیں‘‘۔

(دین کے اصل مطالبات اورہمارا طرز عمل۔ ص  ۱۳۔۱۴)

سید مودودی کے یہی وہ پیش کردہ نقوش ہیں جو انسان کو مقصد علم، مقصدِ زندگی اورخدا کی حقیقی معرفت تک لے جائیں گے۔اس کے علاوہ انسان کے دیے ہوئے خطوط جو اداروں میں پڑھائے جاتے ہیں وہ انسان کی رہنمائی کے لیے ناکافی ہیں ۔ انسان کو صحیح فکر، صحیح عقل، صحیح علم اور زمین پر بھیجنے کا مقصد صرف دو چیزیں دے سکتی ہیں ۔ ایک کتاب اللہ اور دوسرے سنت ِ رسول اللہ ۔ اس الہٰی اور پیغمبری علم سے لاعلم ہوکر کسی اور طرح سے مصنوعی علوم پر ایمان رکھنا جاہلیت کی تعریف میںآتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ دنیا میں کوئی نبیؐ اور رسول الجبرا، کمیا، فلسفہ یا سائنس کی تعلیم دینے نہیں آیاتھا بلکہ وہ خدا کو پہنچانوانے اورانسان کو خالص اس کا بندہ بنانے کے لیے آیاتھا۔لیکن افسوس کہ جدید دنیا نے ایک ایسا حادثہ کیا کہ اس اصل علم کو ٹھکراکر اپنے بنائے ان علوم کے گرد کلیۃً منڈلانا شروع کردیا جو خدا کی ضد تھے۔ ہمارے ہاں مغربی تعلیم میں پروردہ حضرات اٹھے توان بیچاروں نے اپنے کوقرآن کی ہواہی نہیں لگنے  دی کہ جس سے سمجھ سکیں کہ تعلیم کا اصل مقصد کیاہے، مسلمانوں کامطلب کیا ہے، اور اصل تعلیم کہتے کسے ہیں ۔ جس کی وجہ سے وہ ہر مرض کا علاج جدید تعلیم کو سمجھنے لگے۔ انجام کا ر! ذہنی اعتبار سے اس قدر غریب ہوگئے کہ نہ کوئی نصب العین بناپائے، نہ ہی مسلمان کا مقصد سمجھ پائے، نہ ہی اسلام کا تقاضا سمجھ سکے۔ سمجھے بھی توصرف پیٹ کہ اسے کس طرح سے بھرا جائے۔ اب کیا تھا مغرب سے جو کچھ برآمد ہو جائے اس کی اقتداء میں ترقی ہے باقی سب کچھ تنزلی ہے۔

’’سید مودودی ‘‘ کا درد سنئے، آنجناب فرماتے ہیں:۔

’’اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان کی حالت دیکھ کر میرا سر چکر انے لگتاہے ۔ میں حیران ہوکر سوچنے لگتاہوں کہ اس نظام تعلیم کو کس نام سے یاد کروں۔ جو پندرہ بیس سال کی مسلسل دماغی تربیت کے بعد بھی انسان کو اس قابل نہیں بناتا کہ وہ اپنی قوتوں اور قابلیتوں کا کوئی مصرف اور اپنی کوششوں کامقصود معین کرسکے۔ بلکہ زندگی کے لیے کسی نصب العین کی ضرورت محسوس کرسکے۔ یہ انسانیت کو بنانے والی تعلیم ہے یا اس کو قتل کرنے والی۔ بے مقصد زندگی بسرکرنا تو حیوانات کا کام ہے۔‘‘  (خطبۂ تقسیم اسناد۔ ص ۱۱)

ایسا ہی کچھ حال ہمارے اسلامی اداروں کا ہے ۔ وہاں بھی دماغ چند چیزوں کے دائرے میں قید ہوکر رہ جاتی ہے ۔ بچوں کے اندر یہ سلیقہ ہی نہیں آپاتا کہ جس تعلیم کوہم حاصل کررہے ہیں اس کا اصل مقصد کیا ہے ۔ کشادہ ذہنی، تدبر، تحقیق، اجتہاد اور انقلاب کہتے کسے ہیں۔  انہیں خود پتہ نہیں ہے کہ قرآن پر کیسی محققانہ تعلیم، حدیث پر کیسا غائرانہ مطالعہ اور تاریخ اسلام پر کیسا مجتہدانہ درس نئے علوم کی روشنی میں دیا جائے اور بچوں کے اندر کس طرح سے اجتہادی اور تنقیدی حس بیدار کی جائے۔ البتہ چھ سو سال پرانی فقہ پر اتنا زور دیا جاتاہے کہ طالب علم سمجھتاہے کہ اصل قیمتی شے بس یہی ہے ۔ اسلامی ترتیب تو پہلے قرآن پھر حدیث ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بچوں کے ذہن گندے ہوئے ، انہیں بلند فکری ملنا بند ہوگئی۔ ان کا کوئی معیار ایسا نہیں رہ گیا کہ جسے دیکھ کر لوگ متاثر ہوں۔ فقہ کے ذریعہ سے ذہن تربیت پر توزور خوب دیاگیا۔ لیکن قرآن کے ذریعہ سے اخلاقی تربیت کونظر انداز (Disregard) کردیا گیا  اور بالآخر وہی ہوا جوخدا کی سنت چھوڑنے کے بعد ہواکرتاہے۔

اسی دنیا نے ایک دور یہ بھی دیکھا کہ یہی قرآن تھاجس کی بدولت ہم دنیا کی گاڑی ہانک رہے تھے، ہم جو کہہ دیں وہی لوگوں کے لیے سند بن جایا کرتی تھی۔ حتیٰ کہ موجودہ دور کی دنیا کے امام تسلیم کئے جانے والے براعظم ہمارے علم کے غلام ہوا کرتے تھے۔ یہ صرف قرآن کااثر تھاکہ جب تک ہم اس پر عمل اور تحقیق کرتے رہے تب تک ثریٰ سےثریا تک راستہ بناتے رہے۔ اس قرآن نے ایک سے ایک فلسفی، سائنٹسٹ ، حکیم اور مورخ کہیں ابن بیکار کی شکل میں ، کہیں جابر بن حیان کی شکل میں، کہیںزکریا رازی کی شکل میں ، کہیں قاسم زہراوی کی شکل میں تو کہیں الفارابی ، ابن مسکویہ ، ابن سینا، المسعودی، الطبری اور الغزالی وغیرہم کی شکل میں پیدا کئے۔ جس کا اعتراف اغیار بھی کرتے ہیں۔

ایک مورخ’’جارج سارٹن‘‘ (Gorge Sorton) لکھتاہے:۔

’’ عالم انسانیت کا اہم کام مسلمانوں نے انجام دیا۔ سب سے بڑا فلسفی الفارابی مسلمان تھا۔ سب سے بڑے ماہر ریاضی ابو کامل اور ابراہیم بن سنان مسلمان تھے۔ سب سے بڑا جغرافیہ داں المسعودی مسلمان تھا۔ اور سب سے بڑا مورخ الطبری بھی مسلمان ہی تھا۔‘‘

(History of Science- v-i P. 624)

لیکن جب ہم نے قرآن کے اسرارو رموز پر غور کرنا بند کردیا، اس کی سائنس اور سیاسی حکمت پر دیدے کھپانا ختم کردیا اور اس کے ان علوم وفنون کی رفتار کو جواپنے اندر انقلابی پہلو رکھتے تھے منجمد (Frozen)کردیا تو ڈھنگ کا ایک عالم بھی پیدا ہونا بندہوگیا۔کیوں؟ اس لیے کہ ہم نے قرآن کے ان علوم کو نظر انداز کرکے جو دنیا پر پڑے ہوئے بہت سے پردے کو اٹھاکر انسانیت کو مبہوت کرنیوالے تھے، ان بحوث نظم ِ قرآن ، قسم قرآن، ادبِ قرآن ، قرأتِ قرآن وغیرہ کو مرکزِ توجہ بناکر سارا زور اس طرح کھپا ڈالا کہ ایک وقت میں وہی قرآن کا اصل مغز ثابت ہوگئے تب سے ایسے مفکریں کی گردش تھم گئی جودین اوردنیا دونوں کی امامت کررہے تھے۔ اور دوسرے لوگ ان علوم پر غور کرکے دنیا کی گاڑی ہانکنے اورانھیں قبلہ بناتے۔

’’پروفیسر فلپ کے حتی‘‘ اپنی تاریخ میں لکھتاہے:۔

’’قرآن صرف ایک مذہب کادل اور آسمانی بادشاہت کا راستہ دکھانے والا ہی نہیں ، بلکہ وہ علوم وفنون اورسائنس وحکمت کانچوڑ اورایک ایسی سیاسی دستاویز ہے جس میں ارضی بادشاہت کے قوانین بھی پیش کیے گئے ہیں۔‘‘  (تاریخ عرب۔ ص۳۶۔ فلپ کے حتی)

یہ ہے ان لوگوں کا تاثر قرآن کے بارے میں جوحقیقی دین کے تعلق سے ٹھوکر کھارہے ہیں۔ اور ہم ہر طرح کا راستہ رکھنے کے بعد بھی بجائے اس پر چلنے کے اس میں تصوف، تقلید، کشف، رفع یدین، خوابوں کی تعبیر اور زیارتِ قبور وغیرہ جیسے مہمل مسائل پر فکر ونظر کا زیاں کررے ہیں۔ اسی وجہ سے قحط الرجال کاشکار ہیں۔

اسی پر ’’سید مودودی‘‘ کہتے ہیں:۔

’’دنیا اب آگے بڑھ چکی ہے۔ اس کو اب الٹے پاؤں ان منازل کی طرف واپس لے جانا ممکن نہیں ہے ۔ جن سے وہ چھ سوبرس پہلے گذر چکی ہے۔ علم وعمل کے میدان میں رہنمائی وہی کرسکتاہے جو دنیا کوآگے کی جانب چلائے نہ کہ پیچھے کی جانب۔ لہذا اب اگر اسلام دوبارہ دنیا کا رہنما بن سکتاہے تواس کی بس یہی ایک صورت ہے کہ مسلمانوں میں ایسے مفکر اور محقق پیدا ہوں جو فکر و نظر اور تحقیق واکتشاف کی قوت سے ان بنیادوں کو ڈھادیںجن پر مغربی تہذیب کی عمارت قائم ہوئی ہے۔ قرآن کے بتائے ہوئے طریق فکر ونظر پر آثار کے مشاہدے اورحقائق کی جستجو سے ایک نئے نظام فلسفہ کی بنیاد رکھیں جوخالص اسلامی فکر کانتیجہ ہو ۔ ایک نئی حکمتِ طبیعی (Natural Scince)کی عمارت اٹھائیںجو قرآن کی ڈالی ہوئی داغ بیل پر اٹھے۔‘‘ (تنقیحات۔ ص ۱۷)

اس لئے اب ہمیں چاہئے کہ ایک ایسا نصاب تعلیم مرتب کریںجو دورِ جدید کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اسلامی تہذیب کو عروج بخشے۔ اور اس کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے قرآن کی تعلیم جدید علوم کی روشنی میں اس طرز سے دی جائے کہ بچوں کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جائے کہ علم کا اصل منبع یہی ہے۔ آج تحقیق تعلیم نہ دینے کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری قوم کے کم ازکم اسی۸۰ فیصد افراد اپنے ذہن میں یہ تصور رکھتے ہیں کہ قرآن عبادات کا مجموعہ ہے اور زیادہ سے  زیادہ اس کی تعلیم اخلاق سے لے کر عذاب وثواب اور جنت وجہنم تک محدود ہے ۔ سب سے پہلے بچوں کے ذہن میں اس غلط تصور کو نکالا جائے کہ قرآن کی بحث محض عبادت، ریاضت ، حلال وحرام اوربہشت و نار تک موقوف ہے ۔ بلکہ اس کی بحث جب سے قرآن آیا ہے تب سے لے کر قیامت تک رونما ہونے والی سبھی مسائل سے ہے ۔ اس میں سیاسیات بھی ہے، سائنسیات بھی ہے ، معاشیات بھی ہے ، اخلاقیات بھی ہے، عملیات بھی ہے، تہذیب ومعاشرت بھی ہے، ادب و آر ٹ بھی ہے، الغرض کہ کوئی ایسا علمی شعبہ اورانسانی مسئلہ نہیں ہے جس کے متعلق وہ رہنمائی نہ فرماتا ہو۔ نیز نہ ہی کوئی ایسا دنیاوی میدان ہے جس میں انسان قرآن کے دیے ہوئے خاکے پر عمل کرکے کامیابی کے منازل طے نہ کرسکتاہو۔ یہ توصرف کہاوت ہے کہ مغربی تعلیم ہی روٹی دے سکتی ہے ۔ اور ساتھ ہی یہ بھی سمجھا دیجئے کہ اس قرآن کو سمجھنے کے لیے اس کی سب سے پہلی، سب سے مستند اور سب سے پائیدار تفسیر حدیث ہے۔

جس دن آپ تعلیم سے طلبا ء کے دماغ میں اور تقریر سے قوم کے دماغ میں یہ بات اتار دیں گے تو قسم بخدا وہ انقلاب پھر سے شروع ہوجائے گا جو حضرت عمرؓسے لے کر خالد بن ولید تک اٹھا تھا۔ اور پھر سے وہ انقلابی شخصیات پیدا ہونی شروع ہوجائیں گی جو آج تاریخ کے صفحات میں عبداللہ بن عباس، خالد بن یزید، ابواسحاق، جابر بن سنان، ابن الہیثم اورامام رازی وغیرہم کی شکل میں ثبت ہیں۔

اور ہمیں ایسے نصاب کو مرتب کرنے کے لیے کہیں کا سفر نہیں کرنا ہے ، بلکہ تھوڑا سا سید مودودی کے تعلیمی نظریات کی طرف دماغ کو سفر کرانا پڑے گا جس میں آپ کو ہر طرح کے نقوش اورتمام طرح کی حائل پریشانیوں کے حل مل جائیں گے۔

لادینی تعلیم :۔

 مغرب کی بے خدا تعلیم نے بڑے پیمانے پر دنیا کواس قدر تباہ کردیاہے کہ ہر انسان پر مادیت کا دورہ پڑنے لگاہے ۔ اورانسان روحانیت کو بھول بیٹھا ہے ۔ اگر اس نے اپنی تعلیم میں خدا کو جگہ دے دی ہوتی تویہ دنیا کی اتنی بڑی خدمت ہوتی کہ انسان تو کیا فرشتے بھی عش عش کرنے لگتے ۔ لیکن اس نے انسان کے ساتھ اتنا بڑا ظلم کیا کہ اس کی نظر کو خدا پرستی سے ہٹا کر نفس پرستی پر لاکر مرکوز کردی۔ جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ انسان ایک ایسی مخلوق بن گیا جس کا کام صرف معبودِ نفس کے چرنوں میں اٹھنا اور جھکنا ہو اٹھا۔ ایسے میںغیروں کا تباہ ہونا توایک فطری چیز تھی۔ کیونکہ ان کے پاس کوئی حقیقی ہدایت موجود نہ تھی۔ لیکن مسلم دنیا کا تباہ ہونا یہ اتنا بڑا معجزہ اور مضحکہ کہئے کہ جسکا کاکوئی تصور نہیں ۔ کیونکہ ہم توایک حقیقی الٰہی شریعت کے حامل تھے۔

اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں مغربی تعلیم کا مخالف ہوں ۔ نہیں۔ میری اس تعلیم سے کوئی دشمنی نہیں ہے ۔ بلکہ دشمنی اس کے اس فاسد اصول سے ہے جوالٰہی فطرت سے ہٹ کر آزادانہ فطرت پر قائم کیا گیاہے۔ جن میں کسی علیم وخبیر، کسی حشر ونشر اور کسی عدالت کا وجود نہیں ہے ۔ اس تعلیم کی خرابی کا اصل سبب یہی ہے ۔ آج دنیا میں بگاڑ اسی وجہ سے ہے کہ انسان ان چیزوں کی طرف تیزی سے لپکتاہے جس میں اسے فائدہ نظر آتاہے۔ اور اخلاق وتہذیب ، شرافت و دیانت کو وہ کتابی باتیں سمجھتاہے ۔ ساری دنیا حیران ہے کہ کیوں انسان کے اندر سے رحم، صداقت اور خلوص ختم ہوتا جارہاہے اور بڑے پیمانے پر اس کے اندر بے رحمی، مفاد پرستی اور ہر طرح کی نفس پرستی کا غلبہ فروغ پارہاہے ۔ ظاہر سی بات ہے کہ جس کی تعلیم اورمزاج میں خدا سے بے خوفی ہو تواس طرح کی حیوانیت کا آنا عین اس کی فطرت میں شامل ہے۔ اور جس کی فطرت میں یہ شامل ہو جائے وہ اس زمین کا سب سے بڑا بھیڑیا ہے۔

آج تمام ائمۂ فرنگ محسوسات (Sensations) کے غلام اور معقولات کے دشمن ہیں۔ ہماری عداوت کا اصل سبب یہی بے دینی اور خالص عقل اور مادّہ ہے جس کا آخرت سے کوئی تعلق نہیں۔ اوریہ ایسی مصیبت ہے کہ اگر اس کا علاج نہ کیا گیا تو تمام انسانوں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں پر بھی شبخوں مارکر چھوڑے گی۔ بلکہ غیروں کا تو کم جائے گا لیکن ہمارا سب کچھ چلاجائے گا۔

’’سید مودودی‘‘ کہتے ہیں :۔

’’جدید تعلیم وتہذیب کے مزاج اوراس کی طبیعت پر غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ وہ اسلام کے مزاج اور اس کی طبیعت کے بالکل منافی ہے ۔ اگرہم اس کو بجنسہ لے کر اپنی نوخیز نسلوں میں پھیلائیں گے توان کو ہمیشہ کے لیے ہاتھ سے کھودیں گے ۔ آپ ان کووہ فلسفہ پڑھاتے ہیں جو کائنات کے مسئلے کو خدا کے بغیر حل کرنا چاہتاہے ۔ آپ ان کو وہ سائنس پڑھاتے ہیں جو معقولات سے منحرف اور محسوسات کا غلام ہے ۔ آپ ان کوتاریخ ، سیاسیات ، معاشیات، قانون اور تمام علوم عمرانیہ کی وہ تعلیم دیتے ہیں جواپنے اصول سے لے کر فروع تک اورنظریات سے لے کر عملیات تک اسلام کے نظریات اور اصول عمران سے یکسر مختلف ہے ۔ آپ ان کی تربیت تمام تر ایسی تہذیب کے زیر اثر کرتے ہیں جواپنی روح اور اپنے مقاصد اور اپنےمناہج کے اعتبار سے کلیۃ’’ اسلامی تہذیب کی ضد واقع ہوئی ہے ۔ اس کے بعد کسی بنا ء پر آپ یہ امید رکھتے ہیں کہ ان کی نظراسلامی نظر ہوگی۔ ان کی سیرت اسلامی سیرت ہوگی۔‘‘ (تعلیمات۔ ص ۱۷)

یہ ہے ہمارا تعلیمی ڈھانچہ۔ اسی کو ترقی پسندی اور روشن خیالی سمجھا جارہاہے ۔ جو بے چارہ اپنے بچوں کواس طرح کی بے خدا تعلیم سے دور رکھنا چاہے اسے بوڑھی سوچ کاطعنہ دیا جاتاہے، اور جب گدھا کھیت چَر چگتاہے تب سمجھ میں آتاہے کہ ہم نے اس کی آبیاری کے لیے جو گود منتخب کی تھی وہ گو د تھی یا گور (Grave

اب اگر ہم اس سسٹم کو بدلیں گے نہیں تو قطعاً ہمارے بچوں کے اندر اسلامی کلچر کے آثار ونقوش ملیں گے نہیں اور وہ انگریز اور مسلمان سے ہٹ کر ایک ایسی تیسری جنس کا نمونہ بنیں گے جن کی دوڑ صرف بے دردی ، نفس کی غلامی اور دنیا پرستی تک سمٹ کر رہ جائے گی۔

’’سیّدمودودی‘‘ کہتے ہیں:۔

’’اگر آپ چاہتے ہیں کہ اسلامی کلچرپھر سے جوان ہوجائے اورزمانے کے پیچھے چلنے کے بجائے آگے چلنے لگے تو اس ٹوٹے ہوئےربط کو پھر سے قائم کیجئے۔مگر اس کو قائم کرنے کی صورت میں یہ نہیں ہے کہ دینیات کے نصاب کو جسم کی تعلیم کی گردن کا قلادہ یاکمر کا پشتارہ بنادیا جائے۔ نہیں اس کوپورے نظام تعلیم وتربیت میں اس طرح اتار دیجئے کہ وہ اس کا دورانِ خون، اس کی روحِ رواں، اس کی بینائی وسماعت ، اس کا احساس وادراک ، اس کا شعور وفکر بن جائے۔ اورمغربی علوم وفنون کے تمام صالح اجزاء کواپنے اندر جذب کرکے اپنی تہذیب کا جز بناتا چلاجائے۔ اس طرح آپ مسلمان فلسفی، مسلمان سائنسداں ، مسلمان ماہرین معاشیات ، مسلمان مقنن ، مسلمان مدبرین غرض تمام علوم وفنون کے مسلمان ماہر پیدا کرسکیں گے۔ جوزندگی کے مسائل کواسلامی نقطۂ نظر سے حل کریں گے، تہذیب حاضر کے ترقی یافتہ اسباب وو سائل سے تہذیب اسلامی کی خدمت لیںگے۔۔۔ یہاں تک کہ اسلام از سرنوعلم وعمل کے ہر میدان میں اسی امامت ورہمنائی کے مقام پر آجائے گا جس کے لیے درحقیقت دنیا میں پیدا کیا گیاہے۔‘‘ (تعلیمات ، ص ۲۷۔۲۸)

’’ ہمیں ایک ایسا نظام تعلیم رائج کرنا چاہئے جوایسے افراد تیار کرے جوہماری قومی تہذیب کو جو دین کے سواکچھ نہیں اچھی طرح سمجھتے ہوں… اور یہ نظام تعلیم ایسا ہو جوآنے والی نسلوں کواگر سول سروس کے امتحان کے لیے تیار کرے تو ساتھ ساتھ انہیں امام، مفتی اور علمائے دین بھی بنا سکے۔

یاد رکھئے جب تک آپ قرآن وحدیث کا دامن نہیں تھامتے بچوں میں اسلامی روح پیدا کرنے سے قاصر ہیں جواسلامی زندگی بسر کرنے کے لیے ضروری ہے۔ ان اداروں سے پڑھ کر نکلنے والے کسی طوربھی قومی قیادت کرنے کے قابل نہیں بن سکتے۔ وہ اس طرح رشوتیں کھائیں گے ، اسی طرح بددیانتی اور خیانت کریں گے جیسا کہ آج ہورہاہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ آپ علوم حاضرہ کو چھوڑدیں بلکہ میرا مقصد یہ ہے کہ آپ ان تمام علوم کواپنایئے جوآج دنیا میں پڑھائے جاتے ہیں ۔ لیکن ان کے پڑھانے سے قبل بچے کے ذہن کواسلامی اقدار، اسلامی عقائد اوراسلامی اخلاقیات پر اس قدر پختہ کردیجئے کہ اسکا ذہن کسی مرحلے پر بھی شک وشبہہ کا شکار نہ ہوسکے۔‘‘ (مولانا مودودی کے انٹرویو۔ ص ۹۰ و ۹۳)

یہ ہیں سید مودودیؒ کے تعلیمی نظریات جن میں آنجناب کسی تخصیص (Specialization)  کے قائل نہیں ہیں۔ بلکہ ان کی تنقید کا مدعا یہ ہے کہ لادینی علوم وفنون کو ہم بند آنکھوں نہ لیں۔ بلکہ انہیں اسلامی تعلیم میں رنگ دیں، اسلامی سوچ سے وابستہ کردیں۔ تاکہ سارے علوم مسلمان ہوجائیں۔

اب جب تک ہم اس طرح کے طرزِ تعلیم کواپنائیں گے تب تک ہمیں غلامی سے نجات نہیں ملے گی اورنہ ہی کسی میدان میں رہنمائی کے لائق بنیںگے۔ خواہ ہم لاکھوں حافظ، لاکھوں قاری اور لاکھوں مفتی پیدا کرلیں۔   

(اشاعت اول: زندگی نو ،نئی دہلی ،اگست 2015)                                    


 

Your Comment