بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله ہفتہ 25 / ستمبر / 2021,

Instagram

اسلام میں ڈسپلن کی اہمیت

2015 Nov 25

اسلام میں ڈسپلن کی اہمیت

محمد جاوید اقبال،دہلی

ڈسپلن کے معنی منظم اورمضبوط رویہ کے ہوتے ہیں ۔ اس کو انگریزی میںــControlled behaviourکہا جاسکتا ہے ۔ اسلامی نقطۂ نظر سے سادہ زبان میں اس کی تعریف اس طرح کی جاسکتی ہے : ’’ایسا منظم اورنتیجہ خیز رویہ جس کی بنیاد اخلاقی اقدار پر ہو۔‘‘ ڈسپلن انفرادی اوراجتماعی دونوں کا موںپرمحیط ہوتا ہے ۔ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں کچھ طے شدہ اصولوں پر عمل پیرا ہو تو یقیناً وہ دوسرے لوگوں کی بہ نسبت زیادہ کامیاب ہوگا۔ اسی طرح اگرکوئی ادارہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے کچھ متعین اصولوں پر عمل کرے جس میں اپنے کارکنوں کی خیر خواہی  اور عزتِ نفس کالحاظ رکھا جانا ہو توایسے ادارے کوایک منظّم ادارہ کہا جاسکتا ہے۔

اس کو ایک خاندان کی مثال سے بہ آسانی سمجھاجاسکتا ہے ۔ ایک گھر، جس میں ماں باپ بچے اور دیگر قریبی رشتہ دار رہتے ہیں ، اگراس خاندان کا سربراہ حسبِ استطاعت گھر کی تمام ضروریات پوری کرتا ہو، بیوی بچوں سے محبت اور ان کی تعلیم کا نظم کرتا ہو، گھر کے کاموں کے اوقات مقرر ہوں،گھر کی اشیاء کے لیے جگہیں متعین ہوں۔ گھر کے کام مشورے سے کیے جاسکتے ہوں۔ ایسے خاندان کو ہم ایک منظّم خاندانکہہ سکتے ہیں۔

اسی طرح اگرکوئی تعلیمی ادارہ، مدرسہ،اسکو ل یا کالج اپنے مقاصد کے حصول کے لیے منظّم کوشش کرے، جس میں اساتذہ وقت پر آئیں، اپنے فرائض بہتر طور پر ادا کریں، اخلاقی اقدار کو پروان چڑھانے کی کوشش کریں۔ ہرچیز کا ایک ضابطہ مقرر ہو، پورے ماحول میں محبت والفت کی کارفرمائی ہو توایسے تعلیمی ادارے کوہم ایک کامیاب ومنظّم تعلیمی ادارہ کہہ سکتے ہیں۔

اس کے بر خلاف جس ادارے میں اصول وضوابط کی پابندی نہ کی جاتی ہو ،ادارہ کے مقاصد متعین نہ ہوں، کاموں کا جائزہ نہ لیا جاتا ہو، اصلاحِ حال کی کوششیں نہ کی جاتی ہو تواس ادارے کو ہم ایک ناکام اورغیرمنظم ادارہ  کہیں گے۔ اسلام نے آغاز ہی سے نظم وضبط کوغیر معمول اہمیت دی ہے  عبادات، معاملات، معیشت، معاشرت ، سیاست،غرض کہ تمام شعبہ جات میں نظم وضبط کی کارروائی واضح طورپر دکھائی دیتی ہے۔

نماز ہی کو لیجئے ۔ قرآن پاک میں فرمایاگیا ہے :     اِنَّ الصَّلٰوۃَ كَانَتْ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا(النساء:۱۰۳) ’’ نماز مومنوں پر وقت کی پابندی کے ساتھ فرض کی گئی ہے ۔‘‘ مردوں کو جما عت سے نماز پڑھنے کی تاکید  ہے۔ لیکن عورتوں کے لیے گھر پر نماز ادا کرنے کو بہتر قرار دیا گیا ہے ۔ نماز کے ارکان وشرائط نظم کی کھلی دلیل ہیں نماز کے لیے جب آدمی مسجد میں جائے توجماعت میں شامل ہونے کے لیے دوڑ بھاگ نہ کرے ، بلکہ وقار اور سنجیدگی کوملحوظ رکھے، صفوں کی درستگی کا خیال رکھے ، جماعت کی نماز میں مقتدی امام کی پیروی کرے البتہ امام سے اگرکوئی سہو ہوجائے تواصلاح کردی جائے ۔ نماز کے اس عمل سے ہمیں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ اگر مسجد کے باہر مسلمانوں کا امیر یا سربراہ کوئی غلطی کرے تواس کو متوجہ کرنا ضروری ہے ۔ اس سے نظم وضبط بہتر ہوگا ۔ معاشرے میں اقدار پروان چڑھیں گے اور امن و سکون قائم ہوگا۔اسی طرح روزہ، حج اورزکوٰۃ جیسی عبادات کے لیے بھی کچھ شرائط وضوابط مقرر ہیں۔ اگر ان کی پابندی نہ کی جائے توعبادت کی ادائیگی ممکن نہ ہوسکے گی یہ تمام امور نظم وضبط کے دائرے میں آتے ہیں۔

ڈسپلن کے اجزائے ترکیبی میں وقت کی پابندی ، عہد کی پاسداری ، کاموں کو ایک معمول کے مطابق کرنا ، کرانا ،فیصلوں پر عمل در آمد کرنا بھی شامل ہے اسی طرح کاموں کوبہتر طور سے انجام دینے کے لیے مشورے کرنے کا اہتمام بھی ضروری ہے ۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وَاَمْرُہُمْ شُوْریٰ بَیْنَہُمْ (الشوریٰ : ۳۸) ’’ان کے کام مشورے سے طے پاتے ہیں۔)

معاملات میں ڈسپلن

اسلام نے مالی معاملات اور لین دین میں جوہدایات دی ہیںان کا بیش تر لوگوں کوعلم نہیں ہے اوراگر علم ہے بھی تو اس پر عمل در آمد نہیں کیا جاتا ، جس کی وجہ سے تعلقات کشیدہ ہوتے ہیں بلکہ دل پھٹ جاتے ہیں ، محبت ختم ہوجاتی ہے اورنوبت لڑائی جھگڑے تک پہنچ جاتی ہے ۔ اس کے برعکس اگر اسلام کے اصولوں کی پابندی کی جائے توایک پرامن معاشرہ وجود میں آتا ہے ۔ قرآن مجید میں سورۂ بقرہ کی آیت نمبر۲۸۲ جوقرآن کی سب سے بڑی آیت ہے اس میں لین دین کے واضح اورتفصیلی اصول بیان کئے گئے ہیں اگران اصولوں کی پابندی کی جائے توبہت سے معاشرتی مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے ۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے :

’’اے لوگو! جوایمان لائے ہو ! جب کسی مقررہ مدت کے لیے تم آپس میں قرض کا لین دین کرو تواسے لکھ لیا کرو۔ فریقین کے درمیان انصاف کے ساتھ ایک شخص دستاویز تجویز کرے۔ جسے اللہ نے لکھنے پڑھنے کی صلاحیت بخشی ہو اُسے لکھنے سے انکار نہ کرنا چاہیے وہ لکھے اوراملا وہ شخص کرائے جس پر حق آتا ہے (یعنی قرض لینے والا ) اوراسے اللہ اپنے رب سے ڈرنا چاہیے کہ جومعاملہ طے ہوا ہو اُس میں کوئی کمی پیشی نہ کرے لیکن اگر قرض لینےوالا خود نادان یا ضعیف   ہو یا املا نہ کراسکتا ہوتواس کا ولی انصاف کے ساتھ  املا کرائے ، پھر مردوں میں سے دو آدمیوں کی اس پر گواہی کرالو اوراگر دو مرد میّسر نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتوں سے گواہی کرلو تا کہ ایک بھول جائے تودوسری اُسے یاد دلادے ۔یہ گواہ ایسے لو گو ں  میں سے ہونے چاہیں جن کی گواہی تمہارے درمیان مقبول ہو۔ گواہوں کوجب گواہ بننے کے لیے کہا جائے تو انہیں انکار نہ کرنا چاہیے ۔ معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا، معیادکی تعین کے ساتھ اس کی دستاویز لکھوانے میں تساہلی نہ کرو۔ اللہ کے نزدیک یہ طریقہ تمہارے لیے زیادہ مبنی بر انصاف ہے ۔ اس سے شہادت قائم ہونے میں زیادہ سہولت ہوتی ہے اورتمہارے شکوک وشبہات میں مبتلا ہونے کا امکان کم رہ جاتا ہے ۔ مال ، جوتجارتی لین دین دست بدست تم لوگ آپس میں کرتے ہو اس کو نہ لکھا جائے تو کوئی حرج نہیں ، مگر تجارتی معاملہ طے کرتے وقت گواہ کرلیا کرو ۔ کاتب اورگواہ کوستایا نہ جائے ایسا کرو گے توگناہ کا ارتکاب کروگے۔ اللہ کے غضب سے بچو، وہ تم کوصحیح عمل کی تعلیم دیتا ہے اوریاد رکھو اسے ہر چیز کا علم ہے ۔‘‘

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ سے ڈسپلن کی کچھ مثالیں پیش خدمت ہیں:

  ڈسپلن کے لیے وقت کی پابندی ایک لازمی شرط ہے ۔ آپؐ اپنے معمولات کے سخت پابند تھے چنانچہ آپؐ نے اپنے ہرکام کا وقت مقرر کرلیا تھا ۔

جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کی اجازت آگئی توآپؐ دوپہر کے وقت حضرت ابوبکرصدیقؓ کے گھر تشریف لے گئے اہل خانہ کو تعجب ہوا اورانہوں نے آپس میں کہا کہ یہ وقت آپؐ کے آنے کا نہیں ہے ۔ ضرور کوئی غیر معمولی بات ہوگی کیوںکہ آپ کا معمول حضرت ابوبکر ؓ کے گھر جانے کا صبح یا شام کا تھا ۔ اسی طرح آپ اپنی بیٹی فاطمہ ؓ کے یہاں عصر کی نماز کے بعدتشریف لے جاتے تھے ۔ہجرت کے موقع پر جو پلاننگ آپؐ نے کی وہ بھی ڈسپلن کی بہتر ین دلیل ہے ۔ ہر غزوہ میں بھی ڈسپلن کی کارفرمائی ہمیں صاف نظر آتی ہے ۔

اسلام اجتماعی زندگی گزارنے کولازمی قرار دیتا ہے ۔ چنانچہ حضورؐ کا ارشاد گرامی ہے : تین آدمی اگرکہیں سفر کررہے ہوں تو انہیں اپنے میں سے کسی ایک کو امیر بنا لینا چاہیے ۔ (ابوداؤد) دوسری جگہ آپ نے فرمایا :’’ ایک مومن دوسرے مومن کے لیے ایک عمارت کی مانند ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کے لیے مضبوطی اور تقویت کا باعث ہوتا ہے‘‘ ۔ یہ فقرہ ارشاد فرماکر آپؐ نے اپنی ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر لوگوں کو سمجھایا ۔ (بخاری)

اجتماعی زندگی ڈسپلن پرعمل کرنے سے عبارت ہے ۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ہے کہ ’’ ان سے مشورہ کرو لیکن جب کسی چیز کا عز م کرلو توپھر اللہ پر بھروسہ کرو اوراس کام کو انجام دو ۔ ‘‘ (آل عمران : ۱۵۹)

حضرت ابوبکر صدیقؓ خلیفہ اول نے مشورے کو بڑی   اہمیت دی اس کے برخلاف قرآن ہی کی روشنی میں اپنا حکم نافذ کیا  چنانچہ جب کچھ لوگوں نے زکوۃ دینے سے انکار کیا توآپؐ نے فرمایا زکوٰۃ لازماً وصول کی جائے گی اگرایک بکری کی رسی پر بھی زکوٰۃ واجب ہوتی تواس کی ادائیگی کرنا ہوگی۔حضرت ابوبکرؓ کے بعد حضرت عمرؓ خلیفہ ہوئے ۔ ان کے زمانے میں فتوحات کی کثرت ہوئی قیصر وکسریٰ کی سلطنتیں ٹوٹ کر اسلامی ریاست میںشامل ہوگئیں جس کے لیے حکومت کا جامع اوروسیع نظام قائم کیا گیا نئے نئے شعبہ جات وجود میں آئے۔

حضرت عمرؓ نے خلیفہ منتخب ہونے کے بعد جوتقریر کی اس سے ان کے بہترین منتظم ہونے کا پتہ چلتا ہے ۔ انہوںنے فرمایا : ’’ جوشخص اپنے آپ کو طاقتو ر سمجھتا ہے وہ میرے نزدیک کمزور ہے جب تک کہ میں اس سے کمزور کا حق وصول نہ کرلوں اورکمزور میرے نزدیک طاقتور ہے جب تک کہ میں اس کا حق اسے نہ دلادوں۔‘‘ اس تقریر سے کمزور وں کا حوصلہ بلند ہو ا اور طاقت ور لوگوں پر حضرت عمر ؓ کا رعب طاری ہوگیا ۔چنانچہ عمل وہی ہوا جس کا اعلان انہوںنے کیاتھا ۔ ماحول میں آزادی و مساوات اور بے تکلفی کی فضا عام ہوگئی۔ حضرت عمرؓ عام لوگوں سے ملتے ان سے ان کی باتیں سنتے، ان کے اعتراضات سنتے، خود انہیں اپنے خلاف بولنے کا موقع فراہم کرتے، ان کی صحیح باتوں کوسراہتے، ان کی تائید کرتےاور ان پر عمل کرتے ۔

ایک عورت نے ایک مرتبہ حضرت عمرؓ کوراستے میں روکا اورکہا۔ اے عمر! آج تم امیر المومنین کہلاتے ہو میں نے وہ زمانہ بھی دیکھا ہے جب تم اونٹ چراتے تھے اور لوگ تمہیں عمیر کہتے تھے ۔

ایک شخص نے اس عورت سے کہا! کیا تم امیر المومنین کا احترام نہیں کرتیں۔ تمہاری گفتگو خلافِ ادب معلوم ہوتی ہے ۔ حضرت عمرؓ نے اس شخص کی بات سن کر کہا : ’’ یہ عورت ٹھیک کہتی ہے ۔‘ ‘  اس طرح ایک شخص نے کئی مرتبہ کہا : اِتَّقِ اللہَ یَا عُمَر ۔ ’’ اے عمر! اللہ سے ڈرو‘‘دوسرے شخص  نے پہلے شخص کو روکنا چاہا ۔ حضرت عمرؓ نے کہا : ’’اسے کہنے دو ۔ اُس کا حق ہے کہ وہ کہے اور ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اس کی بات سنیں۔‘‘ آپؓ نے یہ بھی فرمایا : رَحِمَ اللہُ  امرءً اٰھدیٰ اِلَیَّ عیوبی ’’ اللہ اس شخص پر اپنا رحم فرمائے جومیرے عیوب مجھ پر آشکارا کرے ۔‘‘ کتنی عظیم تھی وہ شخصیت ! تاریخ عمرؓ جیسی کوئی مثال نہیں پیش کرسکتی ۔

حضرت عمرؓ نے اپنے دور حکمرانی میں بڑے بڑے گورنروں اورعہد ے داروں کا تبادلہ کیا ، ان کے خلاف ضابطے کی کارروائی کی اور کبھی کبھی عہدوں سے سبکدوش بھی کردیا۔ مولانا شبلی نعمانی نے اپنی مشہور کتاب ’’الفاروق‘‘میں لکھا ہے کہ حضرت عمرؓ کومعلوم ہوا کہ ان کے بیٹے ابوشحمہ نے شراب پی ہے ۔ انہوںنے اپنے سامنے اس کے اسی ۸۰ کوڑے لگوائے جس کے نتیجے میں کچھ دنوں کے بعداُس کی موت واقع ہوگئی اسی طرح اپنے برادر نسبتی کوبھی ایسی ہی سزا دی ۔ جب کوئی حکم راں اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ یہ عمل کر ے تواس کے نظم وضبط پر کون انگلی اُٹھا سکتا ہے ۔ اس کی سلطنت میں کرپشن خود بخود اپنی موت مر جا ئے گا  ۔ اسی طرح اگرکوئی گورنر زیادہ زور پکڑلیتا توحضرت عمرؓ یا تواس کا تبادلہ کردیتے یا سبکدوش کردیتے لیکن یہ اعلان بھی کرادیتے کہ ’’ اس شخص کے خلاف یہ قدم بعض مصالح کے تحت کیا جارہا ہے نہ کہ کسی خیانت کی بنیاد پر ‘‘ آج کے حکم رانوں اور تحریکات کے سربراہوں کے لیے حضرت عمرؓ کی زندگی مشعلِ راہ ہے ۔ وہ ڈسپلن پر عامل اور بہترین ڈسپلن قائم کرنے والے حکمراں تھے۔ اورکیوں نہ ہوتے ۔ اس لیے کہ حضرت محمد رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اگر میرے بعد کوئی رسول ہوتا تو وہ عمر ہوتے۔‘‘(ترمذی)

آئیے  ہم بھی قرآن وسنت کی روشنی میں اپنی زندگی اورطور وطریقوں کوایک خوبصورت جامہ پہنائیں ، تاکہ اسلام کی حسین تصویر سامنے آسکے ۔ آمین ۔

(اشاعت اول: زندگی نو ،نئی دہلی ،نومبر 2015)   


Your Comment