بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله پیر 10 / اگست / 2020,

Instagram

ذات رسالت مآبؐ کی حرمت و عزت کی حفاظت پاکستان کے آئین سے زیادہ اہم ہے

2017 Apr 28

ذات رسالت مآبؐ کی حرمت و عزت کی حفاظت پاکستان کے آئین سے زیادہ اہم ہے

پروفیسر سید خالد جامعی

ذات رسالت مآبؐ اسلامی علمیت میں سب سے اہم ترین ہستی ہے وہ ماخذ دین ہیں ان کی حرمت و عزت کی حفاظت پاکستان کے آئین سے زیادہ اہم ہے خود چیف جسٹس انورظہیر جمالی نے سپریم کورٹ میں عاصمہ جہانگیر کی جانب سے دلائل سننے کے بعد پاکستان کے آئین کی وکالت میں جو کچھ کہا وہ ہمارے موقف کی ہی ترجمانی ہے کہ ذات رسالت مآبؐ پر حملہ کرنے والے ملزموں کے ساتھ عام سلوک نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ ذات آئین پاکستان سے بھی بالاتر، برتر اور بہتر ہے جب پاکستانی آئین کے مخالفین کے لیے عام شہریوں کے مقابلے میں دوسرا قانون ہے ان کے لیے عدل کا دوسرا پیمانہ ہے تو ذات رسالت مآبؐ کے تحفظ کے لیے بھی اسلام کا قانون دوسرا ہے۔ جس طرح فوج پر حملہ آور شخص عام مجرم نہیں اس امت کے ایمان کی فوج کے سربراہ ذات رسالت پر حملہ آور بھی عام مجرم نہیں۔ لہٰذا اس مجرم کو اختیار ہی نہیں کہ وہ اسلام کے قانون عفو، درگزر، رحم کے تحت اپنے لیے جاں بخشی کا تقاضہ کرسکے۔ایسے مجرم کے لیے رحم کی اپیل اُس بدبخت کی طرح ہے جس نے اپنے ماں باپ کو قتل کردیا اور جب اسے پھانسی کی سزا سنائی گئی تو اس نے عدالت سے اس بنیاد پر رحم کی اپیل کی کہ وہ ایک یتیم و یسیر شخص ہے رحم کی بنیاد کو تباہ کرنے کے بعد رحم کی خواہش محض بدترین بے رحمی ہے ۔
عاصمہ جہانگیر نے عدالت سے کہا:
’’ہم دہشت گردی کے خلاف ہیں، لیکن ہر شخص کو انصاف ملنا چاہیے۔ ہمارے پاس امید کی صورت میں سپریم کورٹ آخری فورم ہے اگر عدالت بھی سکیورٹی کے نام پر بنیادی حقوق سے انحراف کرے تو یہ درست نہیں، بنیادی حقوق ہر شخص کا حق ہے۔ جس پر فاضل چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ دنیا بھر میں دہشت گردوں کو ایسے ہی سخت سزائیں دی جاتی ہیں۔جو آئین و قانون کو نہیں مانتا کیا اسے آئین کو بطور دفاع پیش کرنے کا حق حاصل ہے؟چیف جسٹس نے عاصمہ جہانگیر سے استفسار کیا کہ جو لوگ فوج پر حملوں میں ملوث ہیں کیا ان کے خلاف عام ملزموں جیسا سلوک کیا جائے؟ جو شخص آئین و قانون ہی کو نہیں مانتا وہ اسی آئین کے تحت کیسے انصاف مانگ سکتا ہے؟کیاان دہشت گردوں کے ساتھ عام طریقے کا برتاؤ کیا جاسکتا ہے؟ ہمیں دیکھنا ہے کہ سب سے زیادہ ملک کے ساتھ کون وفادار ہے؟ وہ لوگ جو آئین کو ہی نہیں مانتے، بعد میں اسی آئین کو بطور دفاع استعمال کرتے ہیں۔جو آئین کو مانتے ہی نہیں ان کو بنیادی حقوق کیسے دیے جاسکتے ہیں ؟ بنیادی حقوق صرف اس شخص کے ہوتے ہیں جو آئین کو مانتا ہے۔[روز نامہ جنگ،
۵؍اپریل ۲۰۱۶ء کراچی]

 

Your Comment