بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله پیر 24 / جنوری / 2022,

Instagram

جاوید غامدی: شاہ زیب خانزادہ : علماء

2017 May 01

جاوید غامدی: شاہ زیب خانزادہ : علماء

پروفیسر سید خالد جامعی

۸؍ اپریل ۲۰۱۷ء کو شاہ زیب خان زادہ کی تحقیق :دہشت گردی کا اصل سبب اور اصل مجرم فیس بک ہے 
لیکن خان زادہ کا پروگرام اس کی ذمہ داری اسلام ،مدارس اور علماء پر ڈالتے ہیں
غامدی صاحب نے ہر شخص کو عقل سے قرآن میں اجتہاد کی آزادی دی یہ اس کا انجام ہے ____ غامدی صاحب نے عقل سے آزادانہ اجتہاد کا طریقہ پروٹسٹنٹ ازم کے مارٹن لوتھر سے لیا ہے ۔
علماء کا اجتہاد قرآن و سنت قیاس و اجماع کے اصول پر ہوتا ہے اورغامدی صاحب ان اصولوں کو نہیں مانتے 
القاعدہ داعش کا اجتہاد غامدی صاحب کے اصول پر بالکل آزادانہ اجتہاد ہوتا ہے اس کا انجام غامدی صاحب کے سامنے ہے ان کا مضمون ’’اجتہاد‘‘ ان کی کتاب ’’مقامات‘‘ ۲۰۱۴ء میں پڑھ لیجے۔
سرسید نے بھی اجتہاد کا یہی طریقہ بتایا تھا کہ ہر مسلمان خود عقل سے کام لے اور خود اجتہاد کرے۔
طلباء داعش القاعدہ سے فیس بک کے ذریعے متاثر ہورہے ہیں ان میں شامل ہورہے ہیں دہشت گرد بن رہے ہیں مگر لبرل اور سیکولر گالیاں علماء ، مدارس کو دے رہے ہیں کوئی فیس بک اور داعش کواور سرسید اور غامدی صاحب کے آزاد اسلام کو گالیاں نہیں دے رہا۔ 
القاعدہ اور داعش کی جوابی دہشت گردی کا سبب مغرب کی سو سال سے مسلّط کردہ دہشت گردی اور سرسید اور غامدی صاحب کا اسلام ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ سرسید اور غامدی صاحب ہر شخص کودین کے مسائل میں عقل سے اجتہاد کی آزادی دیتے ہیں لہٰذا ان کے اصول کے مطابق داعش القاعدہ بوکو حرام ____ علماء کے اصول کو ترک کرکے غامدی صاحب کے اصول پر اجتہاد کرکے قرآن کی من مانی تشریحات کررہے ہیں اگر وہ اہل سنت والجماعت کے علماء کے اصول اجماع کے تحت اجتہاد کرتے تو کبھی غلطیاں نہ کرتے مگر شاہ زیب خان زادہ کبھی سرسید اور غامدی صاحب کو گالیاں نہیں دیتے جنھوں نے ہر ایک کو اجتہاد کرنے کی مکمل آزادی دے دی ہے اب آزادانہ اجتہاد ہورہا ہے تو علماء کیا کرسکتے ہیں ۔تمام لبرل سیکولر غامدی صاحب کے مداح ہیں کیوں کہ غامدی صاحب کی وجہ سے اسلام کا نام باقی رہتا ہے اور اسلام کی روح ختم ہوجاتی ہے۔

مرتبہ : محسن علی مغل

 

Your Comment