بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله منگل 02 / جون / 2020,

Instagram

غامدی صاحب کا دعویٰ ہے قرآن میں توہین رسالت کی سزا نہیں؟ ہمارا سوال ہے کہ قرآن میں اجتہاد اور اجماع کی اصطلاحات کہاں ہیں؟

07 May 2017
غامدی صاحب کا دعویٰ ہے قرآن میں توہین رسالت کی سزا نہیں؟ ہمارا سوال ہے کہ قرآن میں اجتہاد اور اجماع کی اصطلاحات کہاں ہیں؟

 پروفیسر سید خالد جامعی

غامدی صاحب جیسے عقلی لوگ سوال اٹھائیں گے کہ توہین رسالتؐ کے قانون کی خلاف ورزی پرقتل کرنے کی عقلی دلیل کیا ہے۔ ہم اجماع کو نہیں مانتے ہمیں عقل سے بتایا جائے۔سوال یہ ہے کہ کیا عقل ماخذ دین ہے اگر ہے تو اس کی نقلی یا عقلی دلیل پیش کی جائے پھر عقل سے بھی اسے ثابت کردیا جائے گا ویسے غامدی صاحب کا اصول یہ ہے کہ (دانش) عقل پہلی وحی ہے اور قرآن دوسری وحی [ افضال ریحان جاوید غامدی سے انٹر ویو ص ۵۸ مشمولہ اسلامی تہذیب بمقابلہ مغربی تہذ یب حریف یا حلیف لاہور دارالتذکیر ۲۰۰۴ء] اس علمی اصول کے سا تھ انہوں نے قرآن کی کوئی دلیل پیش نہیں کی ویسے بھی تاریخی طور پر یہ معتزلہ کا اصول ہے جو عقل کو پیغمبر باطن قرار دیتے ہیں معتزلہ کے اس اصول پر عالم اسلام میں بے شمار کتابیں لکھی گئیں ہیں لہٰذا اس پر تنقید کی ضرورت نہیں۔ جاوید غامدی صاحب سرسید کے مکتب فکر کے آدمی ہیں جو خود کو معتزلی کہتے تھے ویسے بھی دنیا میں ہردائرہ علم کے کچھ مقدمات، بدیہیات ہوتے ہیں اور اس دائرہ علم میں کلا م کرنے کے لئے ان مقدمات پر ایمان لانا ہوتا ہے اس ایمان کی کوئی دلیل نہیں ہوتی سائنس اور ریاضی میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے [ اس سلسلے میں تفصیلات کے لئے ہمارا مضمون ’’ ہر فرد مجتہد مطلق ہے : محترم ڈاکٹر نجات اللہ کی تحقیق ‘‘ کا مطالعہ فرمائیے]۔جدیدیت اصلاً تاریخ کا، ماضیکا، وحی الٰہی کا ،رسالت کا، آخرت کا انکار ہے اسلامی جدیدیت پسند مفکرین ظاہر ہے ان سب کا انکار نہیں کرسکتے لہذا انکار کے پہلے مرحلے میں وہ ذات رسالت ماب،اجماع اور احادیث کو تنقید توہین تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں یا نشانہ بنانے والوں کی بھر پور حمایت کرتے ہیں تاکہ عشق رسالت کی شمع کو بجھادیا جائے یہ عشق جذ بہ ایمان اور محبت بھی حرارت حرکت اور حرارت کا ماخذ ہے۔ یہ حرکت باقی نہ رہے تو امت مسلمہ دوسری امتوں کی طرح ایک بے روح امت میں تبدیل ہوسکتی ہے لہذا پہلا حملہ محبت رسول کے مظاہر پر ہوتا ہے لہذا اسلامی حدیدث سنت اور حدیث کا انکار یا اس کی ایسی تاویل و تشریح پیش کرتی ہے جس کے نتیجے میں ذات رسالت ماب غیر اہم ، بلکہ محبت کے دائرے نکال دی جاتی ہے سرسید کے مکتب فکر کے لئے سر سید کی اتبا میں توہین رسالت کرنا کوئی جرم نہیں ۔حیات جاوید میں سرسید کے حوالے سے توہن کا واقعہ الطاف حین حالی نے نقل کیا ہے:

"بجنورہی میں اُنھوں نے ایک عجیب خواب دیکھا کہ چاندنی رات ہے اور چاند نکلا ہوا ہے اور وہ اپنے مکان کے سامنے صحن چبوترہ پر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ سید کی نگا ہ اپنے بائیں پانو پر پڑی تو دیکھا کہ ان کی پانو کی اُنگلیوں کی ایک ایک پورکٹ گئی ہے مگر کچھ درد نہیں ہے اور نہ اُس سے لہو بہتا ہے مگر کٹی ہوئی پوروں کے سرے جہاں سے کٹے ہیں نہایت سرخ لہو کے مانند ہورہے ہیں ۔ سید نہایت حیران ہوئے کہ اب کیا کروں اتنے میں ایک بزرگ آئے اور اُنھوں نے ان کٹی ہوئی انگلیوں کے سروں پر اپنا لب مبار ک لگادیا اُس وقت اُن انگلیوں میں نمو شروع ہوا اور سب انگلیاں درست ہوگئیں اور ان میں چاند سے زیادہ روشنی تھی تھی سید چاند کو دیکھتے اور اُن نئی انگلیوں کودیکھتے اور اُن میں چاند سے زیادہ روشنی پاتے تھے خواب ہی میں ان کو کسی طرح یقین ہوا کہ محمد رسول اللہ تھے جنھوں نے لب مبارک لگایاتھا"

تاریخ اسلامی کا یہ پہلا سید ہے جس نے اپنے آقا اور آخری پیغمبر کی خود توہین کی ہے رسالت ماب سرسید کے پیروں کی انگلیوں کو اپنے ہونٹوں سے چومیں یہ تصور ہی ناقابل ہے۔

غامدی صاحب کا دعویٰ ہے قرآن میں توہین رسالت کی سزا کہاں لکھی ہے؟ ہم یہ پوچھتے ہیں کہ قرآن میں اجتہاد اور اجماع کی اصطلاحات کہاں لکھی ہیں؟ جب کہ غامدی صاحب اجتہاد کی اصطلاح بار بار استعمال کرتے ہیں اور اجما ع کو دین کی منتقلی کا واحد ذریعہ تسلیم کرتے ہیں ان اصطلاحوں کا تو قرآن میں سراغ ہی نہیں ملتا تو کیا اجتہاد اور اجماع ترک کردیا جائے؟وہ مقامات میں لکھتے ہیں کہ اجماع اور اجتہاد کی اصطلاح ضعیف احادیث میں استعمال ہوئی ہیں۔ اجتہاد کی روایت منقطع ہے [مقامات ۲۰۱۴ء، ص ۱۵۲] اجماع سے متعلق حدیث ایک کم زور روایت ہے [مقامات ۲۰۱۴ء، ص ۱۶۰] اس کے باوجود ان ضعیف روایتوں کی اصطلاحیں غامدی صاحب کو بہت مرغوب ہے۔ قرآن میں اذان،وضو اور نماز کا طریقہ بھی نہیں بتایا گیا زکوٰۃ کی شرح بھی نہیں بتائی گئی تو کیا نماز زکوٰۃ ترک کردیں؟ قرآن میں تو یہ بھی نہیں لکھا کہ اگر مرد کی دو بیویاں ہوں تو انہیں کس طرح رکھا جائے ان کے حقوق کیا ہوں گے ان کے درمیان عدل کیسے کیا جائے گا؟ قرآن میں تو عید کی نمازوں کا بھی ذکر نہیں ہے قرآن میں تو حفظ قرآن اور تراویح کا ذکر بھی نہیں ہے تو کیا یہ امت قرآن کے خلاف ہی عمل کررہی ہے؟ قرآن میں تو یہ بھی نہیں لکھا کہ مشرکین مکہ کا قتل عام کیا جائے تو عورتوں بچوں کو چھوڑ دیا جائے مگر سورہ توبہ کے نزول کے بعد جب مشرکین کا قتل عام شروع ہوا تو رسالت مآبؐ کے حکم پر عورتوں بچوں کو قتل نہیں کیا گیا۔ جبکہ قرآن کے الفاظ میں عورت بچے کی تخصیص نہیں ہے فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْھُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْثُ وَ جَدْتُّمُوْھُمْ وَخُذُوْھُمْ وَ احْصُرُوْھُمْ وَ اقْعُدُوْا لَھُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ اِِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ[۹:۵] قرآن میں تو یہ بھی نہیں لکھا کہ اگر کوئی قرآن کو جلا دے اللہ کی توہین کرے تو اس کی کیا سزا ہے لہٰذا ایسے جرائم کو معاف کردیا جائے قرآن میں تویہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اگر کوئی شخص مرد سے ، بچے سے، جانور سے عورت سے بد فعلی کرے تو اس پر کیا سزا دی جائے تو کیا ان سب مجرموں کو صرف اس لیے معاف کردیا جائے کہ قرآن میں تو اس کی سزا کہیں نہیں لکھی ہے جب ان سب مجرموں کو قرآن میں ان جرائم کی سزا کا ذکر نہ ہونے کے باوجود سزائیں دی جاسکتی ہیں تو توہین رسالت کے مجرم کو کس طرح معاف کیا جاسکتا ہے ؟ غامدی صاحب کی دلیل ہی غیر عقلی ہے۔

جدیدیت کے سب سے بڑے فلسفی کانٹ سے پوچھا جائے کہ ہم آفاقی اخلاقی اصولوں کے فلسفے (C.I) کو عقل کی بنیاد پر کیوں قبول کرلیں تو وہ کہے گا Believe In Reason یعنی عقل پر ایمان لاؤ پہلے ایمان لاؤ پھر دلیل دیں گے۔ مگر ایمان محتاج دلیل نہیں ہے کیوں کہ وہ take for granted اور self evedent evidence ہے بدیہی حقیقت ہے ، آفاقی سچائی ہے اس کی دلیل کیوں طلب کررہے ہو بس اسے مان لو۔ مغربی فلسفے میں آزادی کے عقیدے کی سب سے کم دلیلیں دی گئیں ہیں کیوں کہ یہ عقیدے ماورائے زمان و مکان ہے اس کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں یہ عقیدہ a historical ہے ۔اس نکتے کی تفصیل کے لئے Negel Warburton کی کتاب Freedom: An Introduction with Readings اور اس مصنف کی دوسری کتاب Free Speechملاحظہ کیجئے ۔ کانٹ نے روشن خیالی کے عقیدے کو بھی اپنے مضمون میں ماورائے تاریخ a historical قرار دیا ہے ۔ کیوں کہ عقیدہ امر بدیہی ہے دلیل کا محتاج نہیں یہ ایمان کا مسئلہ ہے اس پر ایمان لانا ہوگا جس طرح اسلامی علمیت میں سب سے کم دلائل وجود خدا اور رسالت کے برحق ہونے سے متعلق ملیں گے کیوں کہ خدا اور رسول تو بدیہی عقائد ہیں دین کا سفر ان کو مان کر شروع ہوتا ہے ۔کا نٹ کا مضمون What is Enlightenmentپڑھ لیجئے اس میں کانٹ نے لکھا ہے کہ روشن خیال عقل مند انسان وہ ہے جو وحی ، عالم ڈاکٹر کا انکار کرتا ہے اور ہدایت و روشنی کے لئے کسی خارجی ذریعے کی طرف نہیں دیکھتا انسان وہی ہے جو صرف اپنی عقل سے فیصلے کرتا ہے ۔

Enlightenment is man's release from his self-incurred tutelage. Tutelage is man's inability to make use of his understanding without direction from another. Self-incurred is this tutelage when its cause lies not in lack of reason but in lack of resolution and courage to use it without direction from another. Sapere aude! "Have courage to use your own reason!"- that is the motto of enlightenment.

Laziness and cowardice are the reasons why so great a portion of mankind, after nature has long since discharged them from external direction (naturaliter maiorennes), nevertheless remains under lifelong tutelage, and why it is so easy for others to set themselves up as their guardians. It is so easy not to be of age. If I have a book, which understands for me, a pastor who has a conscience for me, a physician who decides my diet, and so forth, I need not trouble myself. I need not think, if I can only pay – others will easily undertake the irksome work for me.

اس فلسفے کی کوئی عقلی دلیل کانٹ نے بیان نہیں کی یہ مضمون نیٹ پرموجود ہے۔

کانٹ بتائے گا کہ ایمان عقلیت سے ماورا ہے اس ایمان کے بعد یعنی اس مابعد الطبیعیات سے ہمارے ذرائع علم نکلیں گے وہ ذرائع علم عقلیت اورتجربیت ہیں ان کے بغیر حقیقی علم کا حصول ممکن ہی نہیں ۔ لہٰذا اصل علم سائنسی علم ہی ہے اور اس پر ایمان لانا ہوگا 

 

Your Comment