بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله ہفتہ 15 / اگست / 2020,

Instagram

اگرممتاز قادریؒ کو شہید کہنا توہین عدالت ہے تو ذوالفقار علی بھٹو کو شہیدکہنا کیا کہلائے گا؟

2017 May 07

اگرممتاز قادریؒ کو شہید کہنا توہین عدالت ہے تو ذوالفقار علی بھٹو کو شہیدکہنا کیا کہلائے گا؟

پروفیسر سید خالد جامعی

اس سوال کے جواب میں کہ کیا ممتاز قادری شہید ہیں؟حضرت غامدی صاحب نے فرمایاممتاز قادریؒ صاحب کو شہید کہنا یہ توہین عدالت ہے پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اسلامی عدالت کے فیصلے کی توہین اسلام کی توہین ہے ممتا ز قادری سرکاری ملازم تھا اس نے لوگوں کی حفاظت کا حلف اٹھایا تھا اسے سب سے پہلے اپنی ملازمت سے استعفیٰ دینا چاہیے تھاآسیہ بی بی ، تاثیر صاحب قادری صاحب قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔قادری صاحب نے دہشت گردی کا ارتکاب کیا ہے۔
غامدی صاحب کے اجتہادات اوراجتہادی فتوے اپنی جگہ__سوال یہ ہے کہ کیا ممتاز قادریؒ ملازمت سے استعفیٰ دے کر سلمان تاثیر کو قتل کر دیتے تو کیا یہ جائز ہوتا ؟ غامدی صاحب کو یہ بھی نہیں معلوم کہ شہید ممتاز قادری نے سلمان تاثیر کو قتل کرکے صرف ملازمت سے استعفیٰ نہیں دیاصرف ملازمت ہی نہیں چھوڑی بلکہ اس دنیاکی عارضی زندگی کو بھی چھوڑ دیا۔
مرکب پہ تنِ پاک تھا اور خاک پہ سر تھا اس خاک تلے جنت فردوس کا در تھا
غامدی صاحب کا یہ ارشاد کہ ممتاز قادریؒ نے گورنر کی حفاظت کا حلف اٹھایا تھا ایک کم زور دلیل ہے ۔ شہید ممتاز قادریؒ نے سب سے پہلے اسلام اور ایمان کی شہادت کا حلف اٹھایا تھا ۔ ایک مسلمان کا کام اللہ کی بندگی اور اس کے رسولؐ کی محبت میں زندگی بسر کرنا ہے ۔ شہید ممتاز قادریؒ نے توہین رسالت کے دریدہ دہن مجرم کی حفاظت کا حلف نہیں اٹھایا تھا جس نے براہ راست شہید ممتاز قادریؒ کے سامنے ذات رسالت مآبؐ کی شان میں توہین آمیز جملے ادا کیے۔ سلمان تاثیر کی جانب سے توہین رسالت کے تمام شواہد ثبوت، دلائل علماء وکلاء ، مفتی منیب الرحمان، مولانا حنیف قریشی اور جسٹس نذیر غازی نے نہایت کثرت سے اور تفصیل کے ساتھ پیش کیے ہیں جنھیں سلمان تاثیر کے صرف دو سطری وضاحتی بیان کی روشنی میں نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔ وضاحتی بیان کے بعد بھی سلمان تاثیر کی جانب سے توہین رسالت کے ساتھ ساتھ__ توہین رسالت کے قانون کی توہین کا سلسلہ متواتر جاری رہا۔
حیرت ہے کہ غامدی صاحب نے کبھی گورنر کوسرکاری نوکری سے استعفیٰ کا مشورہ نہیں دیا کہ وہ اپنی نوکری سے استعفیٰ دیتے اور(نعوذ باللہ) کالے قانون کے خلاف مہم چلاتے ۔اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اجتہاد غامدی صاحب نے صرف ممتاز قادری کے لیے کیا ہے یہی اجتہاد سلمان تاثیر کے لیے نہیں کیا گیا ۔ یعنی متجددین اجتہاد میں بھی مساوات قائم نہیں رکھ پاتے ۔ لبرل انسان کے لیے نرم اجتہاد کرتے ہیں۔ راسخ العقیدہ مسلم کے لیے سخت اجتہاد اور باتیں مساوات کی کرتے ہیں۔ مساوات کا صول دنیا میں کہیں بھی عملاً ممکن نہیں ہے کیوں کہ جو نظریہ ، تہذیب، منہاج علمی اپنے آپ کو الحق کہے گا وہ اپنے الحق کے خلاف دوسرے الحق کو نہ تسلیم کرے گا نہ اسے اپنے تصور خیر کے مساوی سمجھے گا ورنہ الحق، الخیر [Suprem Good] کی بحث بے معنی ہوجائے گی اور کوئی ریاست قائم نہ رہ سکے گی الخیر کے بغیر کسی ریاست کا وجود قائم نہیں رہ سکتا عدالتیں کس بنیاد پر فیصلہ کریں گی کہ یہ صحیھ ہے یا غلط ہے س بنیاد پر ددی جائے گی ریاست کی بنیاد ، وجود اور بقاء تصور الخیر کے بغیر ممکن ہی نہیں۔اسی لیے لبرل ازم کا سب سے بڑا سیاسی فلسفی جاان رالس اپنی کتاب تھیوری آف جسٹس میں ساف صاف لکھتا ہے لبرل ریاست میں تمام تصورات خیر مساوی نہیں ہوسکتے ۔لہٰذا وہ تصورات خیر جنھیں ریاست الحق [Suprem Truth] سمجھتی ہے انہیں جبر سے نافذومسلط کرتی ہے اور وہ تصورات خیر جن کے ترک و اختیار سے ریاست کی ماہیت مقاصد پر کوئی فرق نہیں پڑتا ان میں فرد کو آزاد چھوڑ دیتی ہے احمقانہ کاموں میں ریاست مداخلت نہیں کرتی فرد کو ذاتی زندگی میں حمایت کرنے کا اختیار دیتی ہے بشرطیکہ یہ حمایت لبرل آرڈر کے لیے کبھی کوئی خطرہ نہ بنے ۔
Citiziens are (Left) individually to resolve for the inselves the question of Riligion, Phiilosophy & morals.
مگر دنیا میں انارکسٹ ریاست ابھی تک قائم ہی نہیں ہوسکی۔
پاکستانی ریاست نے سلمان تاثیر کی جانب سے توہین رسالت کے قانون کی مخالفت اور توہین رسالت کے ارتکاب کے معاملے کو تحقیقات کے لئے کسی عدالتی کمیشن کے سپرد کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی نہ سلمان تاثیر کو اخباری مہم جوئی ، بیان بازی سے روکا ۔ پاکستان کی تاریخ کا یہ پہلا حکمران تھا جو اپنے حلف کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ اپنی ہی حکومت اور اپنی ہی عدالت کے قانون اور فیصلوں کے خلاف مسلسل زہر اُگل رہا تھا اور قانونی طریقے اختیار کرنے کے بجائے عوامی بیانات پر اکتفا کررہا تھا ۔ آسیہ بی بی کے خلاف آنے والے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کے فیصلے کا انتظار کرنے کے بجائے وہ مہم جوئی کے سفر پر روانہ ہوگئے ۔سلمان تاثیر کی تمام سرگرمیوں کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا تھا کیوں کہ دنیا کی پہلی نظریاتی اسلامی مملکت کے اسلامی گورنر اپنی عدالت کو جواب دہ ہی نہیں تھے۔ دوسرے معنوں میں قانون پر عمل صرف اور صرف ممتاز قادری کو کرنا چاہیے تھا کیوں کہ اسے آئین نے کوئی استثناء نہیں دیا ۔ اسلامی ریاست میں عدالتی کاروائی کے موقع پر شہری اور حکمران برابر نہیں ہوتے ۔ صرف شہری کا کام قانون کی پابندی کرنا ہے ، حکمران کا کام لاقانونیت پھیلانا ہے ۔ بے چارے علمائے کرام کو ابھی تک یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ جدید ریاست کیا ہوتی ہے اور کیا کرتی ہے ۔
توہین رسالت کی شق ۲۹۵ (سی) پاکستانی قانون کا حصہ ہے یہ شق ۱۹۸۶ء میں منظور ہوئی اس کے الفاظ ہیں۔
دفعہ 295 ۔ سی: ’’جو کوئی عمداً زبانی یا تحریری طو رپر یا بطور طعنہ زنی یا بہتان تراشی بالواسطہ یا بلا واسطہ، اشارتاً یا کنایتاً نام محمد ؐ(صلی اللہ علیہ وسلم) کی توہین یا تنقیص یا بے حرمتی کرے وہ سزائے موت کا مستوجب ہوگا‘‘۔
یہ قانون توہین رسالت کا اصل متن[Text] ہے اس میں کیا چیز غلط ہے اور سلمان تاثیر صاحب اسے کالا قانون کہہ رہے ہیں کیا یہ توہین رسالت کا ارتکاب ہے یا نہیں؟ سپریم کورٹ کہہ رہی ہے کہ اس قانون کو کالاقانون کہنا توہین رسالت نہیں ہے کیا سپریم کورٹ کا یہ موقف درست ہے؟ یہ مسئلہ بھی شریعت کورٹ میں پیش کرنا چاہیے۔

سلمان تاثیر کو توہین رسالت کا قانون اچانک گورنر بننے کے بعد قابل اعتراض نظر آیا ۔ گورنر بننے سے پہلے اس قانون کے خلاف انھوں نے کوئی جدوجہد نہیں کی ماضی میں وہ کبھی اس قانون کے خلاف عدالت نہیں گئے ، کبھی اپنے آئینی عہدے کو استعمال کرکے پیپلز پارٹی کی حکومت سے اس قانون کو تبدیل کرانے کی کوشش نہیں کی انھوں نے قانون کے مطابق عمل کیوں نہیں کیا اور اس کالے قانون (نعوذ باللہ)کی پاسداری کا حلف ہی کیوں اٹھایا ، وہ حلف لینے سے انکار کردیتے اور قانون کے خلاف مہم چلاتے تو سمجھ میں بھی آتا کہ وہ واقعی اپنے کفر میں مخلص ہیں اور بیرونی طاقتوں کے اشاروں پر کام نہیں کررہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ہر قانون کا غلط استعمال ہورہا ہے لیکن انھیں صرف توہین رسالت کے قانون کے غلط استعمال پر کیوں دکھ پہنچا ،انھوں نے صرف آسیہ بی بی کے ساتھ پریس کانفرنس کیوں کی ، اگر وہ جیلوں میں سڑنے والے ہر بے گناہ کے ساتھ بیٹھ کر پریس کانفرنس کرتے اور ہر قانون کے غلط استعمال پر احتجاج کرتے تو شاید ان کی بدنیتی چھپ سکتی تھی۔ آسیہ کے خلاف عدالتی فیصلے کے خلاف جیل کے اندر ملزمہ کو ساتھ بٹھا کر سلمان تاثیر کی پریس کانفرنس خود توہین عدالت تھی لیکن آئین کے تحت گورنر کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوسکتی تھی حالانکہ اسی عدالت نے توہین عدالت پر پاکستان کے وزیر اعظم کو برطرف کردیا تھا ۔عدالت کی توہین پر وزیر اعظم برطرف ہوسکتا ہے رسالت مآبؐ کی بار بار توہین پر گورنر برطرف نہیں ہوسکتا ۔ کیا پاکستانی آئین کی شان شان رسالتؐ سے بھی اونچی ہے ؟ ہمارے علماء کسی عدالت کے سامنے یہ نقطۂ نظر پیش نہیں کرسکے۔سلمان تاثیر نے یہ بھی کہا تھا کہ صدرآصف زرداری اپیل میں آسیہ کو معاف کردیں گے حالانکہ صدر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعدہی آسیہ کومعاف کرسکتے تھے۔ لیکن سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے سے پہلے ہی گورنرتاثیر نے خود فیصلہ بھی سنادیا یعنی گورنر صاحب کو یقین تھا کہ سپریم کورٹ کورٹ کا فیصلہ بھی آسیہ کے خلاف ہی آئے گا ۔سلمان تاثیر کا یہ دعویٰ تھا کہ قانون توہین رسالت کا غلط استعمال کیا جارہا ہے لیکن تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب سے یہ قانون نافذ ہوا ہے اس وقت سے لے کر آج تک کسی شخص کواس قانون کے تحت پھانسی کی سزا نہیں ہوسکی اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے تمام انتظامات قانون میں موجود ہیں اور ایسے سخت انتظامات کسی اورقانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے نہیں کئے گئے لہٰذا یہ بھی محض بہتان الزام دشنام طرازی ہے۔ یہ سلمان تاثیرکے جرائم کی مختصر فہرست ہے یہ دیدہ دلیری، یہ اعتماد اور یہ پس منظر، تاثیر صاحب کے دلائل اور ان کا جارحانہ انداز اگر کسی غیرت مند مسلمان کو اقدام پر آمادہ کرے تو یہ اقدام ایک اسلامی قدم ہے اس کی مذمت کی کوئی گنجائش نہیں ۔ ممتاز قادری کو جذباتی عاشق کہنا اسے قانون کا مجرم قرار دینا بالکل غلط بات ہے۔
سلمان تاثیر نے آئین کی دفعہ ۱۰۲ کے تحت اٹھائے گئے گورنر کے حلف کی توہین کی جب کہ وہ ریاست پاکستان کے ہر قانون کی پاسداری کا حلف اٹھاچکے تھے اس حلف کے تحت وہ عدالتوں کے دیے گئے فیصلوں کے بھی پابند تھے۔ حلف کے الفاظ پڑھیے :

That, as Governor of Province ofّّّّّّ _______ I will discharge my duties, and perform my functions, honestly, to the best of my ability, faithfully in accordance with the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan and the law, and always in the interest of the sovereignty, integrity, solidarity, well- being and prosperity of Pakistan:
That I will preserve, protect and defend the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan:
That, in all circumstances, I will do right to all manner of people, according to law, without fear or favor, affection or ill- will:


آسیہ بی بی ایک عیسائی عورت ہے جس پر الزام تھا کہ اس نے توہین رسالت کا ارتکاب کیا۔پولس اور عدالت کے سامنے اس کے اعترافی بیان کے بعد الزام ثابت ہونے پر اس کے خلاف مقدمہ چلا ،عدالت نے اسے سزا دی ابھی تک اس کی اپیل عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت بلکہ مسلسل زیر التوا ہے __سلمان تاثیر نے گورنر کے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کے قانو ن کی مذمت کی جبکہ انہوں نے آئین اور قانون پاکستان کی پاسداری کا حلف اٹھایا تھا۔ انھوں نے آسیہ بی بی کے مقدمے میں عدالتی فٰیصلے کے باوجود اس فیصلے کے خلاف جیل میں پریس کانفرنس کی اور بعد میں توہین رسالت بھی کرتے رہے جس کے ثبوت پانچ سو علماء کے فتوے میں درج ہیں اور جسٹس نذیر احمدغازی نے وہ ثبوت عدالت میں بھی پیش کردیے ۔ اس حلف کے تحت وہ ریاست کے تمام اسلامی و غیر اسلامی قوانین[Laws] کی حفاظت کے ذمہ دار تھے انھوں نے توہین رسالت کے قانون کو کالا قانون کہہ کر اس کے خلاف اخباری مہم جوئی شروع کی ۔ ریاست عدالت سب خاموش رہے ۔ جسٹس نذیر غازی کی شہادت کے مطابق شہریوں نے گورنر کے خلاف پنجاب کے مختلف تھانوں میں FIR درج کرانے کی کوشش کی تو ہر جگہ ایک ہی جواب ملا کہ گورنر کے خلاف FIR کا اندراج نہیں کیا جاسکتا لوگوں نے گورنر کے خلاف راولپنڈی کی عدالت عالیہ میں آئینی درخواست دائر کی کہ سلمان تاثیر کو توہین رسالت کے قانون کے خلاف بیان بازی سے روکا جائے وہ توہین رسالت کے مرتکب ہورہے ہیں انہیں ان کے عہدے سے برطرف کیا جائے سلمان تاثیر کے خلا ف توہین رسالت کے تمام ثبوت بھی عدالت کے سامنے پیش کیے گئے تو عدالت نے اس درخواست کو مسترد کردیا کہ گورنر کو آئینی تحفظ حاصل ہے ان کے اقدامات اور اعمال کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا ان کے خلاف مقدمہ دائر نہیں کیا جاسکتا۔عدالت نے حکومت کو یہ ہدایت بھی نہیں کی کہ وہ گورنر کو اپنے حلف کی پاس داری کی طرف متوجہ کریں۔ واضح رہے کہ پاکستان کا آئین عین اسلامی ہے آئینی طور پر یہ ایک اسلامی ریاست ہے اور تمام مکاتب فکر کے علماء نے متفقہ طور پر ۱۹۷۳ء میں اس آئین پر دستخط کرکے اس کو اسلامی آئین کی سند بھی عطا فرمائی ہے تمام علماء اسمبلیوں میں اس آئین کا حلف بھی اٹھاتے ہیں۔ یہ غیر اسلامی شق کہ گورنر کے خلاف کوئی عدالتی کاروائی نہیں ہوسکتی۔ سلمان تاثیر کے قتل کا اصل سبب ہے۔اگر آئین کی اصلاح کردی جاتی یا علماء کے فتوے کو غلط ثابت کردیا جاتا یا علماء اپنے فتوے سے خود رجوع کرلیتے اسلامی ریاست اپنے گورنر کو برطرف کردیتی یا اس کے خلاف FIR کٹ جاتی، عدالتوں میں اس کے خلاف مقدمے چلتے رہتے یا عدالتی کمیشن قائم کیا جاتا تو شہید ممتاز قادریؒ کو عدالت، ریاست کے فرائض انجام دینے کی ضرورت پیش نہ آتی ۔ خلاء کبھی باقی نہیں رہ سکتا اسلام کے نام پر جو خلاء جان بوجھ کر باقی رکھاگیا شہید ممتاز قادریؒ نے اپنے ایمان سے اس خلاء کو پُر کردیا۔ اس عمل کی علمیت اجماع امت سے ثابت ہے تمام مکاتب فکر اسے تسلیم کرتے ہیں اگر منشور انسانی حقوق اور پاکستانی قانون اجماع امت کو تسلیم نہیں کرتا تو وہ اپنی اصلاح کرلے امت کی علمیت اور اجماع امت کی اصلاح کی کوشش نہ کرے اسلام کا ہر وہ حکم جو قرآن سنت اور اجماع سے ثابت ہے پاکستان کے آئین پر بالا دست ہے۔اسلامی قوانین کے عقلی دلائل پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں مغرب بھی اپنے مفروضات اور مسلمات کی کوئی عقلی دلیل پیش نہیں کرتا۔
ملحد ، لبرل اور سیکولرحلقون کے ترجماب روزنامہ ’’ڈان‘‘ کیرتی ادارتی صفحے پر تابندی ایم خان نے بھی سلمان تاثیر کی دریدہ دینی کو تسلیم کیا ہے اور لبرل حلقوں کو اپنے مؤقف میں نرمی پیدا کرنے کا مشورہ دیا ہے the middle path کے نام سے وہ لکھتے ہیں
Taseer should let the case be processed through the judiciary. If she was innocent, a higher court would everturn her conviction. But Taseer lunched a media campagin for her release. He called mullahs ignorant. And he asked Zardari to give a presidential pardon to Aasia Bibi, which religious parties have long agitated against because they believe that a ruler doesn't have the right to overturn capital punishments for Islamic laws though courtscan.[DAWN 6 – 4 – 2012]


بنیادی سوال یہ ہے کہ اگرممتاز قادریؒ کو شہید کہنا توہین عدالت ہے تو پاکستان پیپلز پارٹی گزشتہ چالیس سال سے ذوالفقار علی بھٹو کو شہیدکہہ رہی اور لکھ رہی ہے __اخبارات میں بھٹو صاحب کے نام کے ساتھ شہید لکھا جاتا ہے اشتہارات شائع ہوتے ہیں پیپلز پارٹی کی قیادت چالیس سا ل سے بھٹو صاحب کو پھانسی دیے جانے کے فیصلے کو عدالتی قتل Judicial Murderکہہ رہی ہے ۔ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے بھٹو صاحب کو پھانسی کے فیصلوں کے خلاف پیپلز پارٹی کی قیادت کے ہزاروں بیانات اخبارات میں شائع ہوچکے ہیں ۔ پیپلز پارٹی ہزاروں مرتبہ اس فیصلے کو منسوخ کرنے اور اس غلط فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ کرچکی ہے۔ سپریم کورٹ اور فوج کے خلاف جتنا زہر پی پی نے اُگلا اس کا مقابلہ کوئی نہیں کرسکتا اس زہر ناکی کی کچھ حقیقی وجوہات بھی ہیں جن کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن کسی نے آج تک اسے توہین عدالت نہیں کہا حتیٰ کہ عدالت عظمیٰ بھی اتنی روادار ہے کہ اس نے کبھی پیپلز پارٹی کے مسلسل مستقل جارحانہ بیانات پر اس کے رہنماؤں اور اخبارات کو توہین عدالت کا ایک نوٹس بھی جاری نہیں کیا عدالت کے فیصلوں کی چالیس سال سے توہین کرنے والی پیپلز پارٹی چار مرتبہ حکومت بھی بنا چکی ہے جبکہ توہین کا مجرم کبھی کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں ہوسکتا ۔ غامدی صاحب نے اس بارے میں کوئی اجتہاد پیش نہیں کیا ۔سوال یہ ہے کہ اگر ذوالفقار علی بھٹو کو شہید کہااور لکھا جاسکتا ہے اور پی پی کی طرف سے عدالت عظمیٰ کو گالیا ں بھی دی جاسکتی ہیں تو ممتاز قادری کو شہید کہنے میں توہین کا سوال کیسے پیدا ہوگیا؟ کیا بھٹو صاحب کے لیے کوئی خاص قانون اور ممتاز قادری صاحب کے لیے دوسرا قانون ہے یہ کیسا تخلیقی اجتہاد ہے ؟ پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سینٹ کے چیئرمین رضا ربّانی نے سپریم کورٹ کی جانب سے پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کے فیصلے پر طنز اور تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’قانون سب کے لیے برابر ہے توعدالتیں اس سے ہٹ کر فیصلے کیسے کررہی ہیں؟ پرویز مشرف کے بیرون ملک جانے کے بعد آئین کے آرٹیکل ۶ کو آئین ہوتا۔ پرویز مشرف پر آئین سے نکال دینا چاہیے یہ آرٹیکل جمہوریت کے دفاع میں ناکام رہا ۔ لاہور ہائی کورٹ آرٹیکل ۴ یاد رکھتی تو بھٹو کا عدالتی قتل کے آرٹیکل ۶ کے تحت مقدمہ درج تھا وہ بے نظیر بھٹو کے قتل میں ملوث تھا اسے ملک سے باہر جانے دیا جائے تو اس سے زیادہ سنگین مذاق کیا ہوسکتا ہے [جنگ کراچی ص ۳۴؍اپریل ۲۰۱۶ء]
رضابّانی نے سپریم کورٹ کے امتیازی سلوک پر تنقید کرتے ہو ئے کہا :
Musharraf146s exit had also proved that Article 4 of the constitution, which envisages equality of all citizens in the eyes of the law, had lost its credence. He called upon the apex court to ensure implementation of the article in letter and spirit.He said that a reference was pending before the Supreme Court for the last two years seeking review of the conviction of Zulfikar Ali Bhutto. He urged the court to take up the reference so that the 147historical record could be set straight148.[DAWN 3 – 4 – 2016]
پیپلز پارٹی آج بھی عدالتوں کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کرتی مگر اس کے باوجود وہ توہین عدالت کی مجرم نہیں ہے ۔ بھٹو کی برسی پر ۴ اپریل ۲۰۱۶ء کو خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ بھٹو کا قتل (سپریم کورٹ کے فیصلے کے ذریعے قتل ) ایک انسان کا نہیں بلکہ انسانیت کا ملک کے آئین اور جمہوریت کا قتل تھا آج پاکستان میں عدل کے دو نظام قائم ہیں مشرف کے لیے الگ اور ذوالفقار علی بھٹو کے لیے الگ نظام ہے [جنگ کراچی ۵ ؍اپریل ۲۰۱۶ء] بھٹو لیکیسی فاؤنڈیشن نے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف مقدمہ قتل پر ’’جوڈیشل مرڈر‘‘ کے نام سے انگریزی میں ایک کتاب شائع کی ہے جس میں بیگم نصرت بھٹو کی طرف سے ۳۱؍دسمبر ۱۹۷۸ء کو چیف جسٹس آف پاکستان انوارالحق کے نام لکھا جانے والا خط شامل ہے ۔ بیگم صاحبہ نے چیف جسٹس کے ایک بیان پر ردِّ عمل کا اظہار کیا جس میں موصوف نے الزام لگایا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اسلام کو دھوکہ دیا [جنگ ۴؍اپریل ۲۰۱۶ء]عدالت عظمیٰ کی اس سے زیادہ توہین اور کیا ہوسکتی ہے ؟
جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے بھی ۲ اپریل کو منصورہ میں ۳۵ مذہبی جماعتوں کی کانفرنس میں شہید ممتاز قادری کی شہادت کو عدالتی قتل قرار دیا۔
" Any amendment to the blasphemy laws is unacceptable. Execution of Mumtaz qadri is a judical murder". [DAWN 3 April 2016]
ممتاز قادری کو دہشت گردی کے الزام میں سزا سنانے والے جج نے فیصلہ سنانے سے پہلے کہا کہ اسلام کی رو سے تمہارا یہ اقدام جائز اور درست تھا لیکن ملکی قانون کے تحت میں تمہیں دہری موت کی سزا دیتا ہوں (ندائے خلافت جلد ۲۰ شمارہ ۴۰ ۱۷ اکتوبر ۲۰۱۱ء ص ایک، اداریہ) دوسرے معنوں میں ممتاز قادری کا اقدام اسلامی قانون کی روشنی میں درست تھا لیکن ملکی سیکولر قانون کی روشنی میں غلط تھا غامدی صاحب نے اس موقع پر کوئی اجتہاد پیش نہیں کیا۔
جس زمانے میں غامدی صاحب جنرل پرویز کے مشیر خاص تھے اس زمانے میں جنرل صاحب نے چیف جسٹس افتخار چوہدری کو ایوان صدر طلب کرکے ان سے جبری استعفیٰ لینے کی کوشش کی اس کوشش میں جنرل کیانی بھی شریک تھے غامدی صاحب نے اس استبدادی موقع پر کوئی اجتہادی رائے پیش نہیں کی جدید اجتہاد استبداد اور استعمار کا3 سرسید اور عبدہ کے زمانے سے چولی دامن کا ساتھ ہے۔
(
سید خالد جامعی کے مضمون "توہین رسالت کے قانون کا اطلاق" سے ماخوذ

 

Your Comment