بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله منگل 02 / جون / 2020,

Instagram

سرسید صرف پانچ حدیثوں کو صحیح مانتے تھے,غامدی صاحب کتنی حدیثوں کو صحیح مانتے ہیں؟

07 May 2017
سرسید صرف پانچ حدیثوں کو صحیح مانتے تھے,غامدی صاحب کتنی حدیثوں کو صحیح مانتے ہیں؟

پروفیسر سید خالد جامعی

سرسید احمد خان صرف پانچ حدیثوں کو صحیح مانتے تھے اور ان کے فکری وارث غامدی صاحب صرف چودہ حدیثوں کو صحیح مانتے ہیں۔ غامدی صاحب کے نہایت قریبی رفیق ممتاز صحافی ’’بیداری‘‘ کے مدیر حافظ موسیٰ بھٹو غامدی صاحب کے ساتھ گزارے ہوئے ایام کی روداد میں لکھتے ہیں :
اور مقرر خصوصی علامہ جاوید احمد غامدی صاحب۔ جاوید صاحب نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ صحیح احادیث کُل ۱۴ ہیں۔ اس سے زائد نہیں ۔ احادیث کے بارے میں اس مؤقف پر ڈاکٹر ایس ایم زمان صاحب نے ان پر سخت جرح کی تھی اور انھیں فرقہ غامدیہ کا بانی قرار دیا تھا۔ (ڈاکٹر صاحب اس واقعہ کے راوی ہیں ) [ص:۴۲۷] [ محمد موسیٰ بھٹو، عصر حاضر کی شخصیات میری نظر میں، جاوید غامدی کا خاکہ، حیدر آباد سندھ نیشنل اکیڈیمی (ٹرسٹ) ۲۰۰۶ء، ص،۴۳۲]
موصوف کا اصرار ہے کہ امت اب تک صحابہ کرامؓ کے تعامل اور مجددین امت کی تصریحاتِ و تحقیقات کی روشنی میں جس سبیل المؤمنین پر گامزن ہے ، وہ قرآن کے منافی راہ ہے۔ اور امت کا یہ سارا علمی وفقہی ذخیرہ نوے فی صد قرآنی نقطۂ نگاہ سے غلط ہے اور مسترد شدہ ہے۔ [ص۔ ۴۳۰ محولہ بالا]
ٹرول سرسید کے نظریہ احادیث کے بارے میں سرسید کی امہات کتب کے حوالوں سے لکھتا ہے ’’سرسید احمد خان کا عقیدہ تھا کہ صرف قرآن پوری طرح متواتر ہے اور صرف پانچ احادیث متواتر ہیں سرسید نقد اسناد کے روایتی معیار بہت سختی سے عائد کرتے ہیں اس میں صرف پانچ احادیث ایسی نکلی ہیں جو پوری طرح معتبر ہیں اور ان میں بھی یہ یقینی نہیں ہے کہ وہ واقعتاً پیغمبر کے فرمودہ الفاظ ہی ہیں‘‘۔[تہذیب الاخلاق (دور سوم) ۳:۵۱ ‘ تصانیف احمدیہ جلد اول حصہ دوم ص ۴۱۰ ۔ مقالات سرسید جلد گیارہ ص ۴۰۲ ۔ ۴۰۳ ، مقالات سرسید جلد ایک ص ۷۷ (۱۸۷۲ء) اور تصانیف احمدیہ جلد اول حصہ دوم ص ۴۱۰___ مقالات سرسیدجلد گیارہ ص ۴۰۲ ، ۴۰۳ بحوالہ ڈاکٹر سی ڈبلیو ٹرول سرسید احمد خان فکر اسلامی کی تعبیر نو ترجمہ محمد اکرام چغتائی لاہور القمر انٹر پرائزز ۱۹۹۸ء ص ۱۵۹اس کتاب کا انگریزی متن آکسفرڈ بھارت نے شائع کیا ہے اس کا نام ]
حدیث کے بارے میں غامدی صاحب کی تحقیقات درج ذیل ہیں ۔
حدیث دین نہیں ہے ۔ دین صرف قرآن و سنت کا نام ہے [مقامات ۲۰۱۴ء ص ۱۴۸] حدیث کو مسترد کرنے کے بعد فرماتے ہیں پہلے سے موجود اور متعارف چیزوں سے ہٹ کر کوئی نیا حکم دینا یا دین میں کسی نئی بات کا اضافہ کرنا میرے نزدیک نبیؐ کے دائرۂ کار میں شامل ہے [مقامات ۲۰۱۴ء ص ۱۵، ۱۵۱] اس کے بعد پھر ارشاد ہوتا ہے : حدیث سے دین میں کسی عقیدہ و عمل کا اضافہ نہیں ہوتا [مقامات ۲۰۱۴ء ص ۱۴۸] حدیث سے جو علم حاصل ہوتا ہے وہ کبھی درجۂ یقین کو نہیں پہنچتا [میزان طبع سوم ۲۰۰۸ء ص ۱۵] عید الفطر عید الضحیٰ کا ذکر قرآن میں نہیں ہے ۔ غامدی صاحب کی تحقیق یہ ہے کہ یہ دونوں تہوار نبیؐ نے اللہ کی ہدایت کے مطابق (حدیث رسولؐ کے ذریعے) مسلمانوں کے لیے مقرر فرمائے یہ دونوں تہوار مدینہ میں ہجرت کے بعد مقرر کیے گئے [میزان ۲۰۰۸ء ص ۶۴۸] ظاہر ہے ان کا علم صحابہؓ کو حدیثوں کے ذریعے ہوا دین میں عمل کا اضافہ ہوگیا ۔ غامدی کے تمام ا صول ہی Oxymoron ہیں ۔
غامدی صاحب کے افکار، خیالات، تحقیقات، اجتہادات کی طرح ان کا نام ’’غامدی‘‘ بھی ایک چیستان ہی ہے جس کے معانی وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں ماہنامہ ساحل کراچی نے اپریل ۲۰۰۷ء کے شمارے میں ’’غامدی‘‘ صاحب کی جانب سے غامدی صاحب کی کنیت کے بارے میں چار مختلف مؤقف بیان کیے گئے تھے جن پر ڈاکٹر رضوان علی ندوی نے نقد بھی کیا تھا ۔ حیرت ہے کہ غامدی صاحب اپنے نام اپنی کنیت کے بارے میں بھی متضاد خیالات کے حامل ہیں ان کو اس بارے میں درجۂ یقین حاصل نہیں۔اپنے مذہبی فلسفے پر عدم یقین کا یہ عالم ہے کہ ان کے داماد ہمارے محترم دوست جناب حسن الیاس ۲۴؍جون ۲۰۱۴ء کو ہمارے پاس ملاقات کے لیے تشریف لائے تو فرمایا کہ غامدی صاحب کہتے ہیں جو کچھ دین میں میزان میں پیش کیا ہے اگر کوئی اس کو غلط ثابت کردے تو میں اس دین کو ترک کرنے میں ایک لمحہ بھی نہیں لگاؤں گا ۔ ہم نے ان سے عرض کیا کہ جو دین تحقیق و تنقید اوررجوع کے قابل ہووہ دین ہی نہیں ہے دین پر رسالت مآبؐ کی طرح اعتماد ہونا چاہیے ۔کفار مکہ سے رسالت مآبؐ نے یہی کہا تھا کہ اگر تم میرے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے ہاتھ پر چاند لاکر رکھ دو تب بھی میں اس دین کی دعوت سے دستبردار نہیں ہوں گا ۔ حالانکہ سورج اور چاند اللہ کی مخلوق ہیں اور وحی الٰہی بھی اللہ کی طرف سے عطا ہوئی تھی_____ اس یقین کے بغیر دین مختص تحقیق ہے ۔تحقیقی پروجیکٹ آخرت کے لیے کارآمد نہیں ۔میزان میں بھی انھوں نے یہی لکھا ہے کہ دین نرمی کرتے ہوئے آج اس مقام تک پہنچا ہے اپنے دین کے بارے میں لکھتے ہیں : میزان اس پورے دین کا بیان ہے جو پیغمبر سے ملا ہے (یہ دین) ایک انسان کا کام ہے جو کسی طرح غلطیوں سے مبرا نہیں ہوسکتا ۔ میں بار بار اس (دین کو) دیکھتا اور اس میں ترمیم و اضافہ کرتا رہا ہوں۔اخذواستنباط کی کوئی غلطی اگر مجھ پر واضح ہوگئی ہے تو اگلے ایڈیشن میں بغیر کسی تردّد کے میں نے اس (دین کی) اصلاح کردی ہے ۔میں ہر وقت اس کے لیے تیار ہوں کہ آئندہ بھی اس دین (کتاب) کی جو غلطی مجھ پر واضح ہوجائے گی یا واضح کردی جائے گی ان شاء اللہ میں اس کی اصلاح کردوں گا [میزان ۲۰۱۵ء خاتمہ]
ڈاکٹر رضوان علی ندوی : کو انٹرویو دیتے ہوئے عرصہ قبل میں نے اُن سے بذریعہ خط دریافت کیا تھا کہ آپ کے نام کے ساتھ غامدی لکھا ہوا ہے ، کیا آپ کا تعلق قبیلہ بنو غامد سے ہے جو سعودی عرب کے جنوب اور یمن کے شمال میں ہے ؟ تاہم مجھے حیرت ہوئی جب انھوں نے جواب دیاکہ ان کے علاقے میں غامدی نام کے ایک بزرگ آئے تھے تو ان کے والد نے متاثر ہوکر ان کے نام کے ساتھ غامدی لگادیا [فرائیڈے اسپیشل انٹرویو ص ۲۹ ۸ اپریل ۲۰۱۶ء]
اس قسم کے متجددین کے تفردات کی علمی دنیا میں کیا حیثیت ہوگی اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

اصول یہ ہے کہ جن سے ہم دین لیتے ہیں انہیں دیکھنا پرکھنا بھی ضروری ہے کہ آیا ان سے دین لیا جاسکتا ہے یا نہیں کیونکہ صرف پیغام [Message] ہی اہم نہیں اس سے بھی اہم تر وہ ذریعہ [Medium] ہے جس سے پیغام وصول کیا جارہا ہے کیوں کہ ذریعہ خود ایک پیغام [The Medium is Message] ہے۔
غامدی صاحب ’’میزان‘‘ کے باب ایمانیات میں لکھتے ہیں’’ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ دل کی تصدیق کے ساتھ انسان کے قول و عمل کو بھی اس پر گواہ ہونا چاہیے ہر نیکی ایمان کا خاصہ اور ایمان والوں کا لازمی وصف ہے ایمان کے دو شاہد قرار دیے گئے ہیں ایک قول دوسرا عمل۔ قول چونکہ جھوٹ بھی ہوسکتا ہے لہٰذا صرف زبان سے اقرار کرنے والا مومن نہیں بلکہ ضروری ہے کہ اس کا عمل اس کے ایمان کی تصدیق کرے [میزان، طبع سوم ، ۲۰۰۸ء ، ص ۸۱، ۸۲] ایمان اور عمل لازم و ملزوم ہیں[میزان، ۲۰۰۸ء، ص ۸۵] سوال یہ ہے کہ کیا ایمان سچ بولنے کا تقاضہ نہیں کرتا۔ رسالت مآبؐ کا خاص وصف صدق اور امانت تھا۔ آپؐ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔
کیا دین کا داعی جھوٹ بول سکتا ہے؟ جو جھوٹ بول رہے ہیں کیا ان سے دین لیا جاسکتا ہے؟اس سے بھی اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا جھوٹ بولنے والے (نعوذ باللہ) منصب نبوت پر بھی فائز ہوسکتے ہیں کیوں کہ غامدی صاحب نے ۱۹۷۵ء میں یہ اشارہ دیا تھا کہ وہ نبی ہیں۔ اس زمانے میں وہ جماعت اسلامی کے رکن تھے ان سے انٹر ویو کرنے والے ڈاکٹر ممتاز حمد خان اس وقت اسلامی جمعیت طلباء کے رکن تھے اور اب انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے صدر ہیں ممتاز احمد خان نے وہ انٹر ویو اپنی نئی کتاب ’’دینی مدارس روایت اور تجدید علماء کی نظر میں‘‘ اسلام آباد ایمل مطبوعات ۲۰۱۴ء میں شامل کیا ہے۔ سوال جواب پڑھیے:
س: [میرے اس سوال کے جواب میں کہ مولانا مودودی صاحب نے دین کی جو تعبیر پیش کی ہے اور مختلف دینی مسائل پر جو کچھ انہوں نے لکھا ہے آپ اس سے کس حد تک متفق ہیں ؟ جاوید صاحب نے کہا]
ج: یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ ہر آنے والا نبی اپنے سے پہلے نبی کی تصدیق کرتا ہے۔ مجھے مولانا مودودی کی تعبیر دین سے اتفاق ہے لیکن یہ تعبیر دین میں نے مولانا مودودی سے نہیں سیکھی بلکہ قرآن و حدیث کے آزادانہ مطالعہ سے براہِ راست حاصل کی ہے۔ بعد میں مولانا مودودی کی تصنیفات پڑھیں تو معلوم ہوا کہ مولانا بھی دین کو اسی طرح سمجھے ہیں جیسا کہ میں نے سمجھا ہے۔ پھر جب ان میں بھی وہی بات دیکھی جو میں نے سمجھی تھی تو ان کے ساتھ شامل ہوگیا۔ لیکن بعض مسائل پر مجھے مودودی صاحب سے اختلاف بھی ہے اگر چہ وہ بنیادی مسائل نہیں ہیں3
س: [اجتہاد کے بارے میں میرے ایک سوال پر جاوید صاحب نے کہا]
ج: اصل مسئلہ یہ ہے کہ جدید دور کے حالات کو کتاب و سنت کے مطابق ڈھالا جائے نہ کہ کتاب و سنت کو جدید دور کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی جائے۔ دنیا میں کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس کا حل اسلام نے نہ دیا ہو۔میں آپ کو اپنا تجربہ بتاتا ہوں۔ میں اکثر پڑھے لکھے سامعین کے سامنے تقریریں کرتا ہوں۔ آج تک میرے سامنے کوئی ایسا سوال نہیں کیا گیا جس کا جواب میں قرآن و سنت کی روشنی میں نہ دے سکا ہوں۔ میں بیسیوں اجتماعات سے خطاب کرچکا ہوں اور میں نے ہمیشہ پڑھے لکھے افراد کی اس بارے میں تشفی کردی ہے کہ اسلام جدید دور کے تمام مسائل کا بہترین حل پیش کرتا ہے۔[ممتاز احمد دینی مدارس روایت اور تجدید :علماء کی نظر میں،ص۷۳،۷۴]
اس کتاب کے مقدمے میں ممتاز احمد خان نے غامدی صاحب کے لب و لہجے اور تکبر پر طنز کرتے ہوئے لکھا ہے ان علماء کی گفتگو میں نہ ہٹ دھرمی تھی نہ مبالغہ آرائی نہ غرور سب سے بڑھ کر یہ کہ ماسوائے ایک نوجوان عالم کے (مراد جاوید غامدی جو اس وقت ۲۵ سال کے تھے بقیہ تمام علماء ۵۰ سال سے زیادہ عمر کے تھے) کسی نے اپنی رائے کو تحکم اور ادعا کے ساتھ یا حرف آخر کے طور پر پیش نہیں کیا ایک ایسا دھیما وقار تھا ان کی گفتگو میں جو مجھے آج کے اکثر علماء میں بہت کم نظر آیا ہے۔ [دینی مدارس روایت اور تجدید ص ۹ محولہ بالا]
اس عبارت سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ غامدی صاحب کی اٹھان کیسی تھی اور اب ان کی پرواز کا رخ کیا ہے؟ غرور کی چٹکی بھر مٹی ۔ ہوا کا رخ ۱۹۷۵ء میں بتا رہی تھی۔
جھوٹ اور خیانت غامدی صاحب کے اوصاف حمیدہ کی فہرست کا خاص وصف ہے ۱۹۸۵ء میں ان کی پہلی تصنیف میزان حصہ اول خود غامدی صاحب نے لاہور سے اپنے گھر سے شائع کی [جاوید الغامدی، میزان ، حصہ اول ، لاہور ، دارالاشراق، ۱۷۹ بی او بکر بلاک نیو گارڈن ٹاؤن، صفحات ، صفحات ۲۳۲] اس کے اکثر مباحث وہی ہیں جو میزان ۲۰۰۷ء میں موجود ہیں۔ میزان۲۰۰۷ء میں منظر عام پر آئی تو اس کے خاتمے میں حضرت والا نے انکشاف کیا کہ ’’اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس کتاب (میزان) کی تصنیف کا جو کام میں نے ۱۹۹۰ء میں کسی وقت شروع کیاتھا وہ آج سترہ سال بعد پایۂ تکمیل کو پہنچ گیا ہے۔[غامدی، میزان، لاہور، المورد، طبع اول،۲۰۰۷ء، ص ۶۵۳، میزان ،طبع سوم، ۲۰۰۸ء، ص ۶۵۳، میزان ،طبع دہم، ۲۰۱۵ء، ص ۶۵۰] سوال یہ ہے کہ اگر میزان ،کی تصنیف کا کام ۱۹۹۰ء میں شروع ہوا تھا تو میزان کے آغاز تحریر سے پانچ سال پہلے ۱۹۸۵ء میں میزان خود بخود کیسے شائع ہوگئی۔ یہ جھوٹ ، خیانت کیوں؟ کیا ایسے ذریعے سے دین لیا جاسکتا ہے جو اس قدر ناقابل اعتماد ہو؟
(
سید خالد جامعی کے مضمون "قانون توہین رسالت کا اطلاق "سے ماخوذ)

 

 

 

Your Comment