بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله منگل 02 / جون / 2020,

Instagram

غامدی صاحب کی عربی دانی اور انگریزی شاعری

07 May 2017
غامدی صاحب کی عربی دانی اور انگریزی شاعری

پروفیسر سید خالد جامعی

غامدی صاحب کی عربی دانی کا یہ حال ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں کُل تین عربی مضامین لکھے ان میں سے چھبیس صفحے کا صرف ایک عربی مضمون ’’ شواہد الفراہی‘‘ کے نام سے شائع ہوا بقیہ دو مضامین صرف نیٹ پر رکھے گئے تھے۔شائع ہونے والا مضمون ان کی کتاب مقامات طبع دوم ۲۰۰۶ء میں شامل تھا اس مضمون میں عربی کی چھ سو پچاس اغلاط تھیں جن کا تنقیدی جائزہ ڈاکٹر رضوان ندوی نے لیا یہ جائزہ ماہنامہ ساحل کے شمارہ اپریل ۲۰۰۷ء میں پیش کیا گیاجس کے بعد غامدی صاحب نے یہ کتاب بازارسے غائب کرادی ۔ غامدی صاحب کے دو عربی مقالات الوضع السیاسی لامۃ المسلمۃ اور مبدا ء الجہاد المورد کی عربی ویب سائٹ سے اپریل ۲۰۰۷ء میں حاصل کیے گئے ان دونوں مقالات میں بھی عربی کی بے شمار اغلاط تھیں ان مقالات کا عربی میں ناقدانہ جائزہ ڈاکٹر رضوان ندوی صاحب نے ساحل کے شمارہ جولائی ۲۰۰۷ء میں پیش کیا غامدی صاحب کی سرقہ بازی اور سرقہ شدہ انگریزی شاعری کا جائزہ ساحل مئی ۲۰۰۷ء میں پیش کیا گیا ۔
اپنی عربی دانی کے زعم میں غامدی صاحب نے ۱۹۷۵ء میں سیالکوٹ کی ایک مجلس میں قرآن کے مقابلے پر چند قرآنی آیات پیش کیں جو اصلاً معری کی آیات کا سرقہ چربہ تھیں ان آیات کا اردو ترجمہ جو غامدی صاحب کے قلم سے ہوا وہ بھی غلطیوں کا شاہکار تھا ۔ ان آیات کا تحقیقی تنقیدی جائزہ ڈاکٹر رضوان ندوی صاحب نے ساحل کے شمارہ اگست ۲۰۰۷ء میں پیش کیا جس کے بعد غامدی صاحب کی علمی حیثیت کی اصل حقیقت اہل علم پر واضح ہوگئی۔ساحل نے انہیں ہر ایک تنقیدی شمارے کے بعد پیش کش کی کہ ہر اگلا شمارہ صرف ان کے موقف کو شائع کرے گا اگر وہ اپنے دفاع میں کچھ لکھنا پسند کریں مگر انہوں نے اس علمی مباحثے میں شرکت سے انکا رکردیا اور خط لکھا کہ آپ اپنا کام کریں میں اپنا کام کررہا ہوں فیصلہ تاریخ کرے گی مگر فیصلہ تاریخ پر چھوڑنے کے بجائے انہو ں نے تین زبانوں میں شائع کی گئی اپنی کتاب مقامات بازار سے اٹھوالی اور صرف اردو میں اسی نام سے ایک نئی کتاب ۲۰۰۸ء میں شائع کی جس پر حضرت والا کی تصویر بھی تھی اور جس پر لکھا تھا مقامات طبع اول ۲۰۰۸ء اس میں سے عربی اور انگریزی حصے خارج کردیے گئے۔
غامدی صاحب کے ترجمان ماہنامہ اشراق میں اور غامدی صاحب کی تمام کتابوں و کتابچوں میں سترہ سال تک ان کی عربی تفسیر ’’ الاشراق‘‘ کا اشتہار چھپتا رہا اب عربی تفسیر کا نام غامدی صاحب نے اپنی زیر طبع کتب کی فہرست سے بھی خارج کردیا ۔غامدی صاحب اسلامی تاریخ کے پہلے متجدد ہیں جنھوں نے یہ اجتہاد کیا کہ شراب حرام نہیں ہے [جاوید غامدی، میزان، طبع دہم جون ۲۰۱۵ء ص ۶۳۰]وہ لکھتے ہیں نشہ آور چیزوں کی غلاظت سمجھنے میں بھی انسان کی عقل عام طور پر صحیح نتیجے پر پہنچی ہے لہٰذا خدا کی شریعت نے اس معاملے میں انسان کو اصلاً اس کی فطرت ہی کی رہنمائی پر چھوڑ دیا ہے[میزان ۲۰۱۵ء ص ۶۳۰] جسٹس جاوید اقبال غامدی صاحب کے اسی اجتہاد کی روشنی میں شراب پیتے تھے کہ شراب حرام نہیں ہے تو پھر وہ یقیناً حلال ہے۔
احکامات اخذ کرنے کا یہ طریقہ استقراء {Induction] کی منطق ہے یعنی اگر رات نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یقیناً دن ہے ۔چودہویں کی رات اگرچاند نظر نہیں آرہا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ چودہویں نہیں ہے حالانکہ چاند نظر نہ آنے کا سبب چاند گرہن ہوسکتا ہے یا ہوسکتا ہے کہ برسات کا موسم ہے اور بادل آئے ہوئے ہیں۔
استقرائی منطق کے تحت اندھیرا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دن ختم ہوگیا ہے حالانکہ سورج گرہن سے بھی اندھیرا ہوسکتا ہے موسم ابر آلود ہو تو ماحول ظلمت میں ڈوب جاتا ہے تمام جدیدیت پسند اصول استقراء سے احکامات دین اخذ کرتے ہیں جب کہ کتابوں میں صدیوں سے لکھا ہوا ہے کہ استقراء یقین کا فائدہ نہیں دیتا ۔
(سید خالد جامعی کے مضمون "قانون توہین رسالت کا اطلاق "سے ماخوذ)

Your Comment