بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله بدھ 02 / دسمبر / 2020,

Instagram

شہیدممتاز قادری اور جاوید غامدی صاحب کی شخصیت میں بنیادی فرق

2017 May 07

شہیدممتاز قادری اور جاوید غامدی صاحب کی شخصیت میں بنیادی فرق

پروفیسر سید خالد جامعی

غامدی صاحب کے تفردات پر تنقید سے پہلے ایک اہم ترین انکشاف غامدی صاحب کی علمیت کے مصادر سے متعلق ہے ’’ میزان ‘‘ کے باب ’’ قانون جہاد‘‘ میں انہوں نے امت کے اجماع سے ثابت اقدامی جہاد کا انکار کیا ہے اس تصور جہاد کی روشنی میں اسلامی تایخ کے تمام جہاد دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں غامدی صاحب نے جہاد کا یہ فلسفہ خود تخلیق نہیں کیا بلکہ یہ فلسفہء جہاد فرانسیسی مفکر رینے گینوں ( یحییٰ نور الدین ) کے گمراہ روایتی مکتب فکر [Traditional School of Thought]کے اہم محقق ولیم چیٹک کی کتاب Vision of Islamاور ڈاکٹر حسین نصر کی کتاب Islam in the Modern Worldاور مرزا غلام احمد قادیانی کے صاحبزادے مرزا بشیر الدین محمود کی کتاب ’’ دعو ۃ الامیر‘‘ کا لفظ بہ لفظ ، حرف بہ حرف سرقہ او ر چربہ ہے ۔ غامدی صاحب لکھتے ہیں : مسلمان دین کے غلبے کے لیے نہ خود کوئی اقدام کرسکتے اور نہ ہی دنیا قوموں پر اس مقصد کے لیے حملہ آور ہوسکتے یہ حق قرآن نے نہیں دیا [مقامات ۲۰۱۴ء ص ۱۹۵] روایت کا مکتب فکر وحدت ادیان کے کفر کا قائل ہے اس مکتب فکر کے یہاں غامدی صاحب کی طرح اسلامی ریاست، سیاست ، خلافت ، قوت طاقت ، کی بحث سرے سے ناپید ہے یہ مکتب فکر اسلامی سا ئنس ، اسلامی فن تعمیر، اسلامی فنون کے احیاء کی بات کرتا ہے مگر یہ نہیں بتا تا کے ان سب کا احیاء اسلامی ریاست کے احیاء کے بغیر کیسے ممکن ہے ۔
مرزا بشیرالدین محمود کی کتا ب ’’ دعو ۃ الامیر‘‘ ۲۸۴ صفحات پر مشتمل ہے یہ کتاب اصلاً ایک فارسی مکتوب ہے جو امیر افغا نستان امیر امان اللہ خان کے نام قادیانی مذہب کی دعوت پہنچانے کے لئے تحریرکیا گیا تھا اس مکتوب کے اردو ترجمہ کا نام بھی ’’ دعوۃ الامیر‘‘ ہے۔ ہمارے سامنے کتاب کی نویں اشاعت ہے جو ۱۹۷۹ء میں ضیاء الاسلام پریس ربوہ سے شائع ہوئی اس کے ناشر الشرکۃ الاسلامیہ ربوہ ہیں ۔ کتاب کے صفحہ ۴۲ تا ۴۷ میں قادیانیت کا نظریہ جہاد بیان کیا گیا ہے ۔ غامدی صاحب نے ان چھ صفحات کا خلاصہ اور قرآن کی آیتیں بھی اپنے قانون جہاد میں سرقہ کرکے شامل کردیں ۔
غامدی صاحب نے قیامت تک جہاد کو ممنوع قرار دیا ہے ۔ ان کی تحقیق یہ ہے کہ دنیا سے مذہبی ظلم Persecution یعنی ظلم و جبر کے ساتھ مذہب سے برگشتہ کرنے کی روایت کا خاتمہ ہوچکا ہے .مذہب سے بالجبربرگشتہ کرنا فتنہ ہے مگر فتنہ کی یہ روایت اب بڑی حد تک دنیا سے ختم ہوگئی ہے ۔( لہٰذا اگر کبھی جہاد ہوگا تو صرف اس مقصد کے لیے اس لیے قرآن کا یہ حکم قیامت کے لیے باقی ہے [میزان ۲۰۱۵ء ص ۵۹۳] دوسرے معنوں میں رسالت مآبؐ کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد غلبہ دین کے لیے جہاد ہمیشہ کے لیے ختم ہوگیا تھا صحابہؓ نے قیصروکسریٰ کے خلاف جو جہاد کیا وہ جہاد نہیں تھا کیوں کہ قیصروکسریٰ کے عوام فتنہ میں مبتلا نہیں تھے ۔ اس امت نے دنیا میں غلبے کے لیے جو جہاد کیے وہ دہشت گردی تھی ، قرآن کی خلاف ورزی تھی ۔ غامدی صاحب لکھتے ہیں مسلمان دین کے غلبے کے لیے نہ کوئی خود کوئی اقدام کرسکے اور نہ ہی دنیا کی قوموں پر اس مقصد کے لیے حملہ آور ہوسکے یہ حق قرآن نے نہیں دیا [مقامات ۲۰۱۴ء ص ۱۹۵] اور اب قیامت تک جہاد کا امکان بھی نہیں ہے کیوں کہ مذہب بدلنے کے لیے جبر کوئی نہیں کررہا ۔ یو این او تو مذہب کو تسلیم ہی نہیں کرتا ۔اسلام دین پھیلانے کے لیے آیا ہے اس کا مقصد ریاست و حکومت قائم کرنا نہیں ہے ۔وہ لکھتے ہیں دین و دنیا میں دعوت دینے کے لیے آیا ہے دنیا میں اپنے ماننے والوں کی حکومت قائم کرنے کے لیے نہیں آیا [مقامات ۲۰۱۴ء ص ۱۸۲] وہ فطرت کو دین کا ماخذ تسلیم کرتے ہیں [میزان ۲۰۱۵ء ص ۴۵] معروف و منکر، خیروشر، نیکی و بدی کا علم فطرت سے ہوتا ہے ۔ یہ علم من جملہ الہامات نفس ہے [مقامات ۲۰۱۴ء ص ۱۲۹] لہٰذا میزان کے قانون سیاست میں وہ لکھتے ہیں کہ فطرت کا مطالبہ یہ ہے ۔ لہٰذا عقل کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ایک نظم اجتماعی (ریاست؍ پولیٹیکل آرڈر)پیدا کرے (کیوں کہ ) اس دنیا میں حکومت کے بغیر کسی معاشرے اور تمدن کا خواب نہیں دیکھا جاسکتا ۔ انسان کی فطرت نے اسے بالعموم یہی راہ (سیاست، ریاست، حکومت) دکھائی ہے اور اسی راستے پر جدوجہد کے لیے آمادہ کیا ہے[میزان ۲۰۱۵ء ص ۴۸۱] ریاست قائم کرنا اس فلسفۂ سیاست کے باوجود ان کی نظر میں صرف مسلمانوں کے لیے ریاست کا قیام نہ فطرت کا مطالبہ ہے نہ دین کا تقاضا۔ سوال یہ ہے کہ جب اسلام دین فطرت ہے اور فطرت کے الہامات عین الحق ہیں تو مسلمانوں کے لیے اس فطرت کے مطالبے پر عمل کرنا کیوں غیر فطری ہے بلکہ غلبہ کے وعدے کا ظہور کسی جدوجہد کوشش اور جہاد سے نہیں۔ صرف اور صرف تکوینی طور پر ہوتا ہے اور اس کے اسباب بھی اسی طریقے سے پیدا کیے جاتے ہیں۔ مسلمان صرف خدا کے سب حکموں پر عمل کریں [مقامات ۲۰۱۴ء ص ۱۹۵] ظاہر ہے ریاست کے بغیر خدا کے سب حکموں پر عمل کبھی ممکن ہی نہیں کیوں کہ’’موکول علی السلطان‘‘ کا دائرۂ ریاست کے بغیر کبھی قابل عمل نہیں ہوسکتی ۔ زکوٰۃ، جہاد، حدودوتعزیرات کے لیے ریاست لازم ہے چونکہ مسلمان غامدی صاحب کی شرط کے مطابق خدا کے سب حکموں پر عمل نہیں کرسکیں گے لہٰذا قرآن کے مطابق ان کا غلبہ تکوینی طور پر بھی ممکن نہیں ہے اور جہاد کوغامدی صاحب کے دین میں وجود ہی نہیں رکھتا۔لہٰذا مسلمانوں کو اب دنیا میں قیامت تک اقتدار نہ جہاد سے مل سکتا ہے نہ تکوینی طریقے سے۔
غامدی صاحب سے بہتر تو سرسید احمد خان تھے جو صرف انگریزوں کے خلاف ہندوستانی مسلمانوں کو جہاد کی اجازت نہیں دیتے تھے مگر ان مسلمانوں کو انگریز کے خلاف جہاد کی اجازت دیتے تھے جو ہندوستان میں رہتے تو ہیں مگر ہندوستان کے شہری نہیں ہیں وہ انگریزی استبداد اور استعمار کے اتنے حامی نہیں تھے جتنے غامدی صاحب ہیں ’’تفسیر القرآن‘‘ میں وہ جہاد کے امکانات، اجازت کے بارے میں صاف صاف لکھتے ہیں: اسلام فساد اور دغا اور غدر و بغاوت کی اجازت نہیں دیتا3جس نے اُن کو امن دیا ہو مسلمان ہو یا کافر، اس کی اطاعت اور احسان مندی کی ہدایت کرتا ہے3 کافروں کے ساتھ جو عہد و اقرار ہوئے ہوں ان کو نہایت ایمان داری سے پورا کرنے کی تاکید کرتا ہے3 خود کسی پر ملک گیری اور فتوحات حاصل کرنے کو فوج کشی اور خون ریزی کی اجازت نہیں دیتا3 کسی قوم یا ملک کو اس غرض سے کہ اس میں بالجبر اسلام پھیلادیا جاوے حملہ کرکے مغلوب و مجبور کرنا پسند نہیں کرتا، یہاں تک کہ کسی ایک شخص کو بھی اسلام قبول کرنے پر مجبور کرنا نہیں چاہتا3 صرف دو صورتوں میں اس نے تلوار پکڑنے کی اجازت دی ہے3 ایک اس حالت میں جب کہ کافر اسلام کی عداوت سے اور اسلام کے معدوم کرنے کی غرض سے نہ کسی ملکی اغراض سے، مسلمانوں پر حملہ آور ہوں، کیوں کہ ملکی اغراض سے جو لڑائیاں واقع ہوں، خواہ مسلمان مسلمانوں میں خواہ مسلمان و کافروں میں ، وہ دنیاوی بات ہے مذہب سے کچھ تعلق نہیں ہے3 دوسرے جب کہ اس ملک یا قوم میں مسلمانوں کو اس وجہ سے کہ وہ مسلمان ہیں ان کی جان و مال کو امن نہ ملے اور فرائض مذہبی کے ادا کرنے کی اجازت نہ ہو 3مگر اس حالت میں بھی اسلا م نے کیا عمدہ طریقہ ایمان داری کا بتایا ہے کہ جو لوگ اس ملک میں جہاں بطور رعیت کے رہتے ہوں، یا امن کا علانیہ یا ضمناً اقرار کیا ہو اور گو صرف بوجہ اسلام ان پر ظلم ہوتا ہو تو بھی ان کو تلوار پکڑنے کی اجازت نہیں دی۔ یا اس ظلم کوسہیں یا ہجرت کریں، یعنی اس ملک کو چھوڑ کر چلے جاویں۔ ہاں جو لوگ خود مختار ہیں اور اس ملک میں امن لیے ہوئے بطور رعیت کے نہیں ہیں، بلکہ دوسرے ملک کے باشندے ہیں، ان کو ان مظلوم مسلمانوں کے بچانے کو جن پر صرف اسلام کی وجہ سے ظلم ہوتا ہے، یا ان کے لیے امن اور ان کے لیے ادائے فرائض مذہبی کی آزادی حاصل کرنے تلوار کو پکڑنے کی اجازت دی ہے3 لیکن جس وقت کوئی ملکی یا دنیوی غرض اس لڑائی کا باعث ہو اس کو مذہب اسلام کی طرف نسبت کرنے کی کسی طرح اسلام اجازت نہیں دیتا۔ [سرسید احمد خان، تفسیر القرآن ، جلد اول ، ص ۲۳۹، انسٹی ٹیوٹ پریس علی گڑھ، ۱۸۸۰ء]
’’
جب تک مذہبی معاملات میں ہمکو ہر قسم کی آزادی ہندوستان میں حاصل ہے ، اپنے مذہبی فرائض بے کھٹکے ادا کرتے ہیں ، اذان جسقدر بلند آواز سے چاہیں مسجد میں دے سکتے ہیں ، شارع عام میں دعوت اسلام کرسکتے ہیں ، پادری جو اعتراض مذہب اسلام پر کرتے ہیں اُنکا کا جواب بلا خوف و خطر دے سکتے ہیں ، خود مذہب عیسوی پر اعتراض کرسکتے ہیں ، اُسکے برخلاف کتابیں چھاپ سکتے ہیں اور عیسائیوں کو بلا کسی خووف اور اندیشے کے جب وہ مسلمان ہونا چاہیں مسلمان کرسکتے ہیں ۔ اُس وقت تک انگریزی امان سے علیحدہ ہونا اور غنیم کو مدد دینا کسی مسلمان کا مذہبی فرض نہیں ہے ۔اور اگر مسلما ن ایسا کریں تو وہ گنہگار خیال کئے جائیں گے ۔ کیونکہ ان کا یہ فعل اس پاک معاہدے کا توڑنا ہو گا جو رعایا اور احکام کے درمیان ہے اور جس کی پابندی مرتے دم تک کرنا مسلمانوں پر فرض ہے ۔‘‘
اسکے بعد سرسید لکھتے ہیں کہ’’ البتہ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اگر آیندہ کو ئی مسلمان یا کوئی اور بادشاہ ہندوستان پر حملہ کرے تو اُس صورت میں باعتبار عمل درآمد کے ٹھیک ٹھیک مسلمان کیا کرینگے؟ کیونکہ وہ شخص درحقیقت نہایت دلیر ہے جو اپنے دلی دوستو ں اور رشتہ داروں کے سوا تمام شخصوں کی طرف سے بھی کچھ جواب دے ، بلکہ میری دانست میں تو شاید رشتہ داروں اور دوستوں کی طرف سے بھی کچھ جواب دینا مشکل ہے ۔میں یقین کرتا ہوں کہ ایسی حالت میں مسلمان وہی کرینگے جواُ نکی پولٹکل حالت اُنسے کروائیگی۔‘‘[الطاف حسین حالی، حیات جاوید، ص ۱۹۵]مرزا غلام احمد قادیانی نے جہاد کو قیامت تک منسوخ کرنے کے اعلان کے باوجود بھی بعض مقامات پر سہواً صرف ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف جہاد کو حرام قرار دیا ہے لیکن غامدی صاحب نے تمام کفار کے خلاف غلبہ اسلام کے لیے جہاد کی ممانعت فرمادی ہے مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ شریعت اسلام کا یہ واضح مسئلہ ہے جس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ ایسی سلطنت سے لڑائی اور جہاد کرنا جس کے زیر سایہ مسلمان لوگ امن اور عافیت اور آزادی سے زندگی بسر کرتے ہوں اور جس کے عطیات سے ممنون منت اور مرہون احسان ہوں اور جس کی مبارک سلطنت حقیقت میں نیکی اور ہدایت پھیلانے کے لیے کامل مدد گار ہو ، قطعی حرام ہے[براہینِ احمدیہ (مرزا غلام احمد قادیانی) مطبوعہ لاہور (۱۹۷۰ء) حصہ سوم، ص ۶۹]۔
ایسی گورنمنٹ سے جو دین اسلام اور دینی رسوم پر کچھ دست اندازی نہیں کرتی اور نہ اپنے دین کو ترقی دینے کے لیے ہم پر تلواریں چلاتی ہے، قرآن شریف کی رو سے جنگ مذہبی کرنا حرام ہے[کشتئ نوح(مرزا غلام احمد قادیانی) مطبع ضیاء الاسلام قادیاں(۱۹۰۲ء) ص ۶۹]۔
۔۔۔کیونکہ مسلمانانِ برٹش انڈیا اس گورنمنٹ برطانیہ کے نیچے آرام سے زندگی بسر کرتے ہیں اور کیوں کر آزادگی سے اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے پر قادر ہیں اور تمام فرائض منصبی بے روک ٹوک بجا لاتے ہیں، پھر اس مبارک اور امن بخش گورنمنٹ کی نسبت کوئی خیال بھی جہاد کا دل میں لانا کس قدر ظلم اور بغاوت ہے! [تحفہ قیصریہ، ص ۱۲]د

(سید خالد جامعی کے مضمون "قانون توہین رسالت کا اطلاق "سے ماخوذ)

 

Your Comment