بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله ہفتہ 27 / نومبر / 2021,

Instagram

غامدی صاحب مسلمان عورت کو ایک مغربی عورت بنانا چاہتے ہیں

2017 May 07

غامدی صاحب مسلمان عورت کو ایک مغربی عورت بنانا چاہتے ہیں

پروفیسر سید خالد جامعی

عورتوں کو مرد بنانے کے بعد عالمی خواتین کا دن منایا جاتا ہے
اب عورت Man، Human،Citizen،Individual ہے
غامدی صاحب مسلمان عورت کو ایک مغربی عورت بنانا چاہتے ہیں
مغرب نے آزادی اور مساوات کے نام پر خواتین کو مارکیٹ میں لا کر خاندانی نظام تباہ و برباد کرنے کے بعد عورت کو مرد بنانے کے بعد اس کچلی ہوئی پسی ہوئی عورت کے حقوق کے لیے ۸؍مارچ ۱۹۷۵ء کو خواتین کا عالمی سال قرار دیا جدید دنیا میں عورت اپنے وجود سے بے زار ہوکر بالکل مرد جیسی ہوگئی ویسے ہی کپڑے پہننے لگی جب وہ نایاب ہوگئی تواب ہر سال عورت کا دن منایا جاتا ہے۔
خواتین کا عالمی دن منانے کا مطلب یہ ہے کہ عورت اب سال میں صرف ایک بار موضوع سخن بنے گی کیوں کہ عورت کا وجود ماڈرن ازم نے ختم کردیا وہاں صرف Human ہوتا ہے فرد Individual ہوتا ہے۔ Citizen ہوتا ہے جدید معاشرہ Civil Society ہوتی ہے سب برابر ہیں یعنی Equality ہوتی ہے لہٰذا عورت مرد تو سرے سے ہوتے ہی نہیں وہاں تو لوگوں کی شناخت صرف ان کے پیشے سے ہوتی ہے یہی سول سوسائٹی ہے وومن ڈے اسی طرح کا ڈے ہے۔ جس طرح فادر ڈے، مدر ڈے، سندھی ثقافت ڈے، بلوچ ثقافت ڈے ان سب کا مطلب یہی ہے کہ یہ سب ہماری حقیقی عملی زندگی سے خارج ہوچکے ہیں لہٰذا ان کو ماضی کی خوب صورت یادگار کے طور پر سال میں ایک مرتبہ یاد کرلیا جائے۔
انیسویں صدی سے پہلے ماں باپ ہر وقت اولاد کے ساتھ ہی رہتے تھے لہٰذا فادرڈے مدر ڈے کی ضرورت نہیں تھی جب خاندان، آزادی، ترقی ،انفرادیت پرستی کے حصول کے لیے تسبیح کے دانوں کی طرح بکھر گئے تو ان کو جمع کرنے کا خیال ڈے منانے کے طور پر سامنے آیا۔
۱۹۸۴ء میں رابن مارگن کی مشہورکتاب ’’بہنا پا عالمی ہے‘‘ Sister hood is Global آئی ۔اس سے پہلے ان کی ایک اور کتاب بہناپا بہت قوی ہے Sister hood is powerful آئی تھی جس میں امریکا کی حقوق نسو اں کی تحریک سے متعلق تحریریں یکجا کردی گئی تھیں۔
بہناپا عالمی ہیمیں مارگن نے دنیا کے ستر ملکوں میں حقوق نسواں کی تحریکوں کی تفصیلات درج کیں خواتین کے مسائل ،معلومات ،سماجی حیثیت سب کچھ اس میں جمع کردیا گیا اس تحریک کا مقصد صرف یہ ہے کہ عورت مرد جیسا ہونا چاہتی ہے یا عورت چاہتی ہے کہ دنیا کا اقتدار مرد کے بجائے اس کے ہاتھ میں آجائے ظاہر ہے مساوات عورت مرد کا مطلب یہی ہے لیکن یہ تصور فطرت کے اور مذہب کے خلاف ہے روایتی تہذیبوں میں مساوات نہیں مواخات اور وجود کے مراتب ہوتے ہیں مغرب نے عورت کو مساوات کا نعرہ دیا مگر اس کی ٹیکنو سائنس عورت کو مرد جیسا نہیں بناسکی۔
بچے آج بھی عورت ہی پیدا کرسکتی ہے کرایہ کی ماں بننے کے لیے عورت کی کوکھ ہی کام آتی ہے مرد کے لیے سائنس کو کھ تخلیق نہیں کرسکی آج بھی دودھ عورت ہی پلا سکتی ہے مرد کے جسم پر پستان نہیں اگائے جاسکے ٹیکنو سائنس کے ذریعے عورت کے حیض مرد کو منتقل نہیں ہوسکتے اسی لیے لبرل مرد بچہ پیدا کرنا بھی چاہے تو پیدا نہیں کرسکتا کہ اس کا خلقی طبعی نظام عورت سے مختلف ہے لہٰذا پوری دنیا میں ترقی جدیدیت کے باوجودبلا شک و شبہ عورت کا آج بھی Politness اور Loving ، Caring پر کامل اجارہ[Total Monopoly] ہے ۔محبت دیکھ بھال اور سب کا خیال یہ صرف اس کا خلقی طبعی اخلاقی روحانی اجارہ ہے مرد اس سے یہ مقام کبھی چھین نہیں سکتا اس کے دل میں وہ نازک جذبات احساسات اور گرمی ہی نہیں ہے جو عورت کو عطا کی گئی ہے۔عورت یہ مقام ترک کرکے مرد جیسا بننا چاہتی ہے ٹسٹ ٹیوب بے بی، کرائے کی ماں surrogate mother روبوٹ وغیرہ بھی نسل انسانی کی پیدائش کے مسائل حل نہیں کرسکتے عورت کی خلقی طبعی ساخت کو بدلے بغیر مرد جیسی کارکردگی کا حصول نا ممکن ہے وہ جلد جوان ہوتی جلد بوڑھی ہوتی ہے اس کی فزیالوجی اس کی اناٹومی اس کا جسم اس کی ہڈیاں سب مرد کے مقابلے میں کم زور ہیں وہ مرد نہیں بن سکتی لیکن عورت کو مرد بنانے کے لیے اب تک کئی عالمی کوششیں ہوچکی ہیں۔ مغرب میں یہ کوششیں کسی حد تک کامیاب ہیں مگر مشرق میں ابھی تک بالکل ناکام۔ مغرب کے ماہرین سماجیات فخر سے دعویٰ کرتے ہیں کہ
برطانوی قانون عام [common law] میں شادی کے وقت عورت کی تمام جائیداد اس کے شوہر کو منتقل ہوجاتی تھی اور وہی اس کے سیاہ اور سفید کا مالک ہوتا تھا ہم نے عورت کو ظلم سے آزادی دی۔
یورپ میں ووٹ ڈالنے کا حق انیسویں صدی سے ملنا شروع ہوا ہنگری میں ۱۹۱۸ء میں آئس لینڈ میں ۱۹۱۵میں اٹلی میں ۱۹۴۵ء میں عورت کا ووٹ ڈالنے کا حق تسلیم کیا گیا۔یہ کارنامہ ہم نے انجام دیا۔
سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا و یورپ میں آج سے ۴۵ اور ۵۰ سال پہلے عورتیں اپنا بینک اکاؤنٹ بھی نہیں کھول سکتی تھیں (واضح رہے کہ پاکستان میں بنک اکاؤنٹ کھولنے کی مکمل آزادی کے باوجود آبادی کے صرف چودہ فی صد لوگوں کے بنک اکاؤنٹ ہیں ۸۶ فی صد لوگوں کا بنکوں سے کوئی تعلق نہیں اس مسئلے کا پاکستان میں عورت مرد سے بھی کوئی تعلق نہیں۔
عورت کو مرد کے برابر لانے کے لیے ہر طرح کے امتیاز کے خاتمے کے پیش نظر ۱۹۸۰ء میں کوپن ہیگن میں ۱۹۸۵ء نیروبی میں بیجنگ میں1995 اور 2000 میں اور 2005 میں نیو یارک میں خواتین کی عالمی کانفرنس منعقد ہوئیں۔ دیگر ممالک نے CEDAW جیسے معاہدات اور بیجنگ پلس فائیو کے اثرات کے پیش نظر اپنے اپنے ملکوں کے اندر اس حوالے سے ترقیاتی کام کیے۔ حکومت پاکستان نے زری سرفراز کمیشن اور ویمن کمیشن تشکیل دیا نیز ملک کی بڑی یونیورسٹیوں میں ویمن ڈیولپمنٹ قائم کیے گئے۔ پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 50000سے زائد این جی اوز کام کررہی ہیں جن میں سے زیادہ تر عورت کے حقوق کے حوالے سے ہی ہیں اور اکثر عالمی اداروں کے مہیا کردہ وسائل سے بھی مالا مال ہیں۔UNO کے تحت چین میں ہونے والی کانفرنسوں میں عورتوں کو حرام کاری، زنا کاری ، آوارگی ، عورت کی عورت سے شادی، بچے نہ پیدا کرنے کی آزادی،شادی نہ کرنے کی آزادی، شادی کے بغیر جنسی خواہشات پوری کرنے کی آزادی، مرد سے الگ رہنے مرد کو اپنا سرپرست نہ ماننے کی آزادی، خاندان سے الگ آزاد تنہا رہنے کی آزادی عطا کی گئی ، اسقاط حمل وغیرہ کی مکمل آزادی دی گئی اس کے بغیر عورت طاقتور Empower نہیں ہوسکتی تھی اس طرح اسے آزادانہ اختیارات منتقل کیے گئے۔
ایک بہت اہم پیش رفت تو خود اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے ۱۹۷۰ء کے عشرے میں ہوئی جب ۱۹۷۵ء کو خواتین کا عالمی سال قرار دیا گیا۔ نیز 1975 سے 1985 تک کے عرصے کو خواتین کے عشرے کے طور پر منانے کا اعلان ہوا۔ اس عشرے میں اقوام متحدہ کی طرف سے دنیا کے مختلف ملکوں میں کانفرنسوں کا انعقاد ہوا۔بڑے پیمانے پر لٹریچر شائع ہوئے تاکہ عورت مادر پدر آزاد ہوجائے تاکہ خاندان ختم ہو جو آزادی میں اصل رکاوٹ ہے ۔
۱۹۹۵ء میں بیجنگ میں ایک بڑی کانفرنس منعقد ہوئی اور پھر ۲۰۰۰ء میں بیجنگ پلس فائیو کے نام سے ایک اور کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ اقوام متحدہ ہی کے زیر اہتمام خواتین کی کانفرنسوں نے ہزار سالہ ترقیاتی مقاصد [Millenium Development Goals] کا تصور اجاگر ہوا ان سب کا مقصد ایک ہی تھا کہ عورت مرد بن جائے اور مرد بن کر بچے پیدا نہ کرے رالس نے اپنی آخری کتاب Law of the people میں یہی تو بتایا تھا ۔
China have imposed harsh restrictions on the size of faimlies & have adopted other draconian measurs but there is no need to be so harsh. Instructive here is the Indian state of Kerala, which in the late 1970s empowered women to vote & to participate in politics to receieve & used education & to own & manage wealth & property. As a result, within several years Kerala's birth rate fell below china's without invoking the corecive powers of the state. China's birth rate in 1979 was 2.8 Kerala's 3.0. In 1991 these rates were 2.0 & 1.8 respectively. [John Rawls., The Law of People with the Idea of Public Reason Revisited, Harvard University Press, USA. 2003, p. 110]
Sister hood is globalکی مصنفہ لکھتی ہے ’’کیونکہ عملاً تمام موجود ممالک پدرسری ذہنیت پر استوار شدہ سماجی ڈھانچوں کے حامل ہیں چنانچہ ان سب ملکوں میں انسان ہونے کا معیار مرد ہونا ہے یوں عو رتیں جو انسان ہی ہیں وہ دوسری اور دکھائی نہ دینے والی چیزthe otherبن جاتی ہیں اس کے نتیجے میں ہوتا یہ ہے کہ حکومتیں اور بین الاقوامی ادارے جب عالمی مسائل کا ذکر کرتے ہیں تو عورت کا ذکر نہیں کرتے ہر مرد عورت کا استحصال کررہا ہے‘‘۔اس تحقیق یا Feminism کے فلسفے کا خلاصہ یہ ہے کہ موجودہ سماجی ڈھانچے میں رہتے ہوئے عورت کے استحصال سے مکمل طور پر نجات حاصل نہیں کی جاسکتی۔بنیادی طور پر یہ معاشرے اور سماجی ڈھانچے میں صنفی تقسیم محنت کا اسلوب ہے جس نے عورت کو وہ سماجی کردار دیا ہے جو اس کو ایک انسان کے مرتبے سے کم تر تصور کرتا ہے تب اس کی جملہ صلاحیتیں سماجی نظام کی بقاء اور اس کی بہتر کارکردگی کے لیے صرف ہوتی ہیں۔

عورت کے بارے میں مغرب کے اس فلسفے سے یہ ثابت ہوا کہ عورت نہ ماں ہے نہ بیٹی نہ بہو نہ بیوی نہ بہن۔ ہر روایتی معاشرے میں عورت کے یہ پانچ بنیادی مقامات ہوتے ہیں اب عورت صرف لیبرLabour , Worker ہے بھاڑے کا ٹٹو۔ جسے کرایہ پر لینے والے سرمایہ دار پورا کرایہ نہیں دیتا فیمن ازم بس اسے ظالم مرد سرمایہ دارسے پورا کرایہ دلانا چاہتا ہے۔لیکن بات صرف یہاں ختم نہیں ہوتی فیمن ازم جان لاک، روسو، ھابس، گلز دلیوز، وغیرہ کے حالات فطری State of Nature کے زمانے کو دوبارہ لانا چاہتے ہیں ۔Feminism جس کے فلسفی تاریخ کے اس دور کو واپس لانا چاہتے ہیں جب نہ عورت کے یہ رشتے تھے نہ خاندان تھا نہ محرمات کا کوئی قانون تھا نہ مذہب تھا نہ حلال و حرام کی دیوار تھی نہ کوئی پابندی تھی نہ اخلاقیات تھی وہ فطری زندگی کا خوب صورت بے مثال باکمال Primitive Age دور تھا جس میں عورت جو چاہتی جس سے چاہتی جب چاہتی کرسکتی تھی وہ زنجیروں میں جکڑی مخلوق نہ تھی ۔
مغربی فلاسفہ چونکہ تاریخ کا انکار نہیں کرسکتے اور تاریخ کے بغیر اپنے فلسفے کو ثابت بھی نہیں کرسکتے لہٰذا تمام فلاسفہ تاریخ کا ایک خود ساختہ تصور چشم تخیل اور چشم تصورسے خو د تخلیق کرلیتے ہیں اس طرح کے معاشروں کا تاریخ انسانی میں کبھی کوئی وجود نہ تھا یہ صرف ان کی فلسفیانہ موشگافیاں ہیں اوران مفروضات کی بنیاد پر وہ تاریخ سے ماضی سے صرف اپنی پسند کے نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں یہی ماڈرن ازم اور پوسٹ ماڈرن ازم کی دانشورانہ سچائی ہے۔انہی معنوں میں ایک طرف یہ تاریخ کا انکار بھی ہے اورتاریخ کی خود ساختہ تخلیق کا عمل بھی۔
گزشتہ دو سوسال میں خواتین کی تحریکوں کو مختلف لہروں کی شکل میں زیر بحث لانے کی کوشش کی گئی ہے اس ضمن میں تین بڑی لہروں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ پہلی لہر اٹھارہویں سے بیسویں صدی کے اوائل تک کے عرصے کا احاطہ کرتی ہے، اس عرصے میں امریکا اور یورپ میں خواتین کی جدوجہد کا محور ووٹ کا حق حاصل کرنا تھا یہ دھوکہ دیا گیا کہ ووٹ کی قوت سب کچھ ہے جبکہ جمہوریت میں آزادی کے اظہار کے صرف دو طریقے ہیں ایک ٹھوس جو سرمایہ [Capital]ہے دوسرا تجریدی abstract جو ووٹ ہے یعنی یہ احساس دلانا کہ تم ہی تو ہو تمہارے بغیر کوئی کچھ نہیں حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ جمہوریت میں تو تمام اختیار صرف سرمایہ دارانہ اقلیت کے پاس ہوتا ہے فرید زکریا کی کتاب The Future of Freedom پڑھ لیجیے یا ورلڈ بنک کی نائب صدر ایمی چوا کی کتاب The world on fire پڑھ لیجیے۔
مغرب میں عورتوں کی یہ تحریک جسے حق رائے دہی کی تحریک کا نام دیا گیا یعنی [Suffarge Movement] بہت مرحلوں سے گزری۔ امریکا میں ۱۹۱۹ء میں دستور میں انیسویں ترمیم متعارف ہوئی ۔ جس کے نتیجے میں خواتین کو ووٹ کا حق حاصل ہوا۔ برطانیہ میں خواتین کو یہ حق ۱۹۱۸ء میں جزوی طو رپرملا اور پھر ۱۹۲۸ء میں سب خواتین کو یہ حق حاصل ہوگیا۔
خواتین کے حقوق کی جدوجہد کا دوسرا قابل ذکر دور ۱۹۶۰ء کے عشرے کے اوائل اور ۱۹۸۰ء کے عشرے کے اواخر کے درمیانی زمانے میں سامنے آیا۔ اس دور میں خواتین کی جدوجہد کا محور خواتین کے اندر موجود امتیازات کو ختم کروانا تھا۔ اس دور میں قوانین نے شرائط ملازمت تعلیم کے شعبے میں نمائندگی حقوق ملکیت سے متعلق قوانین اور ایسے ہی دوسرے شعبے میں برابری کے لیے آواز اٹھائی اس کے نتیجے میں خواتین کی ساری جدوجہد گھر کے بجائے باہر کی دنیا کے لیے ہوئی لہٰذا خواتین کا اصل مقام گھر اس جدوجہد کے درمیان ہی ختم ہوگیا عورت گھر سے بے گھر ہوئی اس کے مرد شادی کرکے بچے پیدا کرکے اس سے الگ ہوتے رہے یاشادی کے بغیر عورت سے لذت حاصل کرکے حرامی بچے پالنے کے لیے اس کے سپرد کرگئے ۔ کوئی تحریک مرد کی بے وفائی، مرد کی جنسی دہشت گردی، لذت پرستی، کے خلاف نہیں چلی کوئی تحریک یہ نہیں چلی کہ مرد سے طلاق کا حق چھین لیا جائے عورت بچے پیدا نہیں کرے گی اگر کرے گی تو مرد پالے مرد کی اصلاح کی جائے اسے گھر بار کی ذمہ داری دی جائے عورتوں نے اس بے گھری، ذلت، رسوائی کے لیے آج تک کوئی تحریک نہیں چلائی کیوں کہ آزادی کے کچھ مزے بھی ہیں اور آزادی کی کچھ قیمت بھی ہے وہ قیمت ادا کرنے پر تیار ہے آزادی کے عقیدے کو ترک کرنے پر تیار نہیں۔
عورتوں کی تحریک آزادی کے اس سفر کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ ۱۹۱۸ء میں برطانیہ اور ۱۹۱۹ ء میں امریکا میں خواتین کو ووٹ کا حق دلانے اور ۱۹۶۰ء سے مردوں کی طرح کے حقوق یکساں دلانے کے لیے جو جدوجہد شروع ہوئی اس میں شریک تمام خواتین سر سے پیر تک ساتر لباس میں ملیں گی ایک عورت بھی آپ کو عریاں نہیں ملے گی لیکن ووٹ کے حق کے حصول کے چالیس سال بعد عورتوں نے عورت مرد کی تنخواہ کوبرابر کرنے کی تحریک چلائی تو کسی عورت کا لباس ساتر نہیں رہا یہ تبدیلی کیوں اور کیسے پیدا ہوئی اس کے لیے آزادی و مساوات اور ترقی کے عقیدے کی حقیقت سے واقفیت ضروری ہے۔جس کی تفصیل اوپر آچکی ہے اور اب غامدی صاحب مسلم عورتوں کو تنہا سفر کی آزادی دے کر مسلمان عورت کو بھی مغربی عورت کی طرح بے پتوار کشتی بے ڈور کی پتنگ اور بے پیندے کے برتن میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔واضح رہے کہ غامدی صاحب اسلامک فیمن ازم کے علبردار ہیں ان کے شاگرد رشید جناب خورشید احمد ندیم اسلام آباد میں ایشیاء فاؤنڈیشن کی بھاری مالی امداد سے (یہ امریکی CIA کا ادارہ ہے) اسلامک فیمن ازم پر سو سے زیادہ کتابیں شائع کرچکے ہیں یہ کتابیں ملائیشیا کی تنظیم ’’سسٹر آف اسلام‘‘ کے تراجم پر مشتمل ہیں۔
کراچی یونیورسٹی کی سابق ڈین فیکلٹی آف اسلامک اسٹیڈیز ریحانہ فردوس صاحبہ نے بھی اسلامک فیمن ازم پر ایسی خطرناک کتاب شائع کی تھی جسے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ظفر سیفی صاحب کے حکم پر ضبط کرلیا گیا تھا ڈاکٹر حافظ شکیل اوج اس کتاب کی تنقید لکھ رہے تھے کیوں کہ وہ اصولی طور پر نہیں عملی زندگی میں اپنے تلخ تجربات کی بنیاد پر عورتوں کی ملازمت کے شدید مخالف تھے ان کی سب سے پسندیدہ کتاب امین احسن اصلاحی کی کتاب ’’اسلام میں عورت کا مقام‘‘ تھی وہ اس کتاب کی روشنی میں اسلامک فیمن ازم کا نقد لکھ رہے تھے۔
(سید خالد جامعی صاحب کے ایک مضمون سے ماخوذ)

Your Comment