بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله منگل 02 / جون / 2020,

Instagram

غامدی صاحب کی ملائیشیا ہجرت میزان کے اصولوں کے منافی ہے

07 May 2017
غامدی صاحب کی ملائیشیا ہجرت میزان کے اصولوں کے منافی ہے

پروفیسر سید خالد جامعی

غامدی صاحب کی ملائیشیا ہجرت میزان کے اصولوں کے منافی ہے
کوالالمپور میں ترقی کے بعد گھروں سے باورچی خانہ ختم کردیا گیا ہے
غامدی صاحب کے پسندیدہ ملک ملائشیا کا ترقی کے بعد کیا حال ہوا اسے بھی دیکھتے ہیں پہلے غامدی صاحب کے سفر ترک وطن کا جائزہ لیتے ہیں کہ پاکستان چھوڑ کر کولاالمپور میں جہاں انھوں نے اپنے ہی قرآنی اصول کے خلاف رہائش کیوں اختیار کی ہے۔
غامدی صاحب اسے ہجرت کا سفر کہتے ہیں حالانکہ وہ برہان میں لکھ چکے ہیں کہ ہجرت کی اصطلاح ہی نہیں ہجرت کی حقیقت بھی ختم ہوگئی ہے جس طرح ختم نبوت کے ساتھ نبوت کی حقیقت بھی ختم ہوگئی ہے اسی لیے مقامات میں انھوں نے ہجرت کی آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے ہجرت کو منتقلی لکھا ہے [مقامات ۲۰۱۴ء ص ۱۶۹]
ان کا اصول ہے کہ داعی اپنے علاقے کو چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتا کیونکہ سورۃ توبہ کی آیت وَ مَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْھُمْ طَآءِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّھُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَیْھِمْ لَعَلَّھُمْ یَحْذَرُوْنَ[۹:۱۲۲] سے دعوت کا دائرہ بالکل متعین ہوجاتا ہے اور اس چیز کے لئے کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ داعی اپنی قوم کو چھوڑ دے۔حکمرانوں کا ظلم بھی داعی کو اس کام سے باز نہ رکھ سکے علماء کے لیے یہی سب سے بڑا جہاد ہے] غامدی میزان ۲۰۱۵ ص ۵۵۰،۵۵۱[
لیکن غامدی صاحب صرف گفتار کے غازی ہیں کردار کے نہیں دوسرے علماء اور داعی پر تو انھوں نے یہ پابندی عائد کی کہ حکمرانوں کے ظلم کا بھی مقابلہ کریں اور اپنی قوم کوہرگز نہ چھوڑیں کیوں کہ یہ قرآن کا منصوص حکم ہے مگر پاکستانی حکمران تو غامدی صاحب پر بہت مہربان تھے مگر غامدی صاحب نے سب سے بڑا جہاد___ اپنی قوم کو دعوت دینے کا کام ترک کرکے ملائیشیا میں خود ساختہ جلا وطنی اختیار کرلی معلوم نہیں یہ جہاد کی کون سی نئی شکل ہے ۔ جگنو محسن اور سلیم صافی نے پوچھاکہ آپ وہاں کیوں چھپے ہوئے ہیں ملک چھوڑ کر کیوں فرار ہوگئے تو جواب ملا میری وجہ سے میرے دوستوں کی جان کو خطرہ تھا خطرہ دوستوں کو تھا وہ یہاں خطرے میں ہیں اور غامدی صاحب نے خطرے کی جگہ سے نقل مکانی کردی رسالت مآبؐ نے اپنے صحابہ کو جان بچانے کے لیے ہجرت حبشہ کی اجازت دی تھی لیکن غامدی صاحب نے اپنے ساتھیوں کی جان کو خطرے میں رہنے دیا ان کو اپنے ملک میں ظلم سہنے کے لیے چھوڑ دیا خود ملائیشیا جلا وطن ہوگئے رسالت مآبؐ مکہ میں مقیم رہے جب کفار نے قتل کا ارادہ کیا تو اللہ کے حکم پر آپ نے ہجرت اختیار کی اور ہجرت کے بعد بھی کسی صحابی کی زندگی کو مکہ میں کبھی کوئی خطرہ پیش نہیں آیا۔
غامدی صاحب کی خود ساختہ جلاوطنی والاس ملک کے دارالحکومت کوالا لمپور کی عورت مغرب کی غلامی میں اتنی آگے نکل گئی ہے کہ کوالا لمپور کے گھرو ں میں باورچی خانہ ہی نہیں ہوتا گھر میں اس فضول خانے [Kitchen] کی کیا ضرورت؟ غلام تقلید میں ہمیشہ آقا سے آگے ہی نکلتا ہے۔
دنیا میں ہر جگہ ترقی کے نتیجے میں عورت گھر سے باہر نکل گئی اس کے پاس وقت نہیں لہٰذا کھانے پینے کی تما م چیزوں کی فراہمی اب گھر اور باورچی خانے کے بجائے ملٹی نیشنل کارپوریشن ، ہوٹل، ریسٹورنٹ، بیکری کے ہاتھ میں آگئی ، کسی عورت کے پاس باورچی خانے میں جانے کا وقت نہیں لہٰذا خورو نوش کی کیمیائی غذائیں GMF والی اجناس سرطان کی طرح معاشرے میں پھیل گئیں لوگوں کو اصلی مکھن تک دستیاب نہیں جو چیز مکھن [Butter]کے نام پر مہیا کی جاتی ہے وہ اتنی سخت ہوتی ہے کہ مکھن نہیں کہلا سکتی لہٰذا اس کا متبادل اب Spread کے نام سے آتا ہے یہ مکھن پھیل سکتا ہے مگر یہ مکھن نہیں ہے اس میں تیل ملا ہوا ہے فریج سے نکالتے ہی یہ ایک لمحے میں پگھل جاتا ہے مگر لوگ اسے مکھن سمجھ کر کھا رہے ہیں۔
کوالالمپور میں باورچی خانہ ختم کرنے والوں سے سوال یہ ہے کہ کیا ملٹی نیشنل فوڈز کارپوریشن ، پروسس فوڈز، ریسٹورنٹ،ہوٹل، ڈھابے گھر کے صاف ستھرے باورچی خانے کا مقابلہ کرسکتے ہیں جدید ترقی یافتہ انسان کے پاس اس طرح کے احمقانہ سوالات پر سوچنے کا وقت ہی نہیں ہے وہ جاوید غامدی صاحب کی طرح بس اسلامی اقدار روایات کے بارے میں تنقیدی نقطۂ نظر رکھتا ہے اور بغیر سوچے سمجھے آزادی ، مساوات اور ترقی کے مغربی عقیدوں کو عین اسلامی ثابت کردیتا ہے یہی تشکیل جدید اسلامی Reconstruction of Religious thoughts کا منصوبہ ہے۔
(سید خالد جامعی صاحب کے ایک مضمون سے ماخوذ)

Your Comment