بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله بدھ 26 / فروری / 2020,

Instagram

غامدی صاحب کے اصول کے تحت زنا کاری ،ہم جنس پرستی، سود، نشہ، لواطت، جانوروں سے جنسی تعلق، شراب، ننگا پن سب حلال ہیں (نعوذ باللہ)

07 May 2017
غامدی صاحب کے اصول کے تحت زنا کاری ،ہم جنس پرستی، سود، نشہ، لواطت، جانوروں سے جنسی تعلق، شراب، ننگا پن سب حلال ہیں (نعوذ باللہ)

سید خالد جامعی

ساحل، کراچی

اسلامی علمیت ، تاریخ اور تہذیب میں خیر و شر ، حق و باطل اور حلال و حرام کا علم قرآن، نبوت اور سنت کے ذریعے حاصل ہوتا ہے لیکن غامدی صاحب کی شریعت میں ان تمام امور کا علم قرآن و سنت سے نہیں فطرت عقل اور اجماع انسانیت سے حاصل ہوتا ہے ان اصولوں کی تقریر غامدی صاحب نے میزان اور مقامات میں جگہ جگہ کی ہے ۔
اصول:انسان کا نفس عقل کا فیصلہ الہامی ہوتا ہے:غامدی
انسان کی محبت و نفرت الہامی ہوتی ہے:غامدی
(۱) نفس و عقل کے تمام فیصلے الہامی ہیں

نفس کسی کی طرف مائل ہوتا اور کسی سے گریز کرتا ہے کسی معاملے پر حسن اور قبح کا حکم لگاتا ہے اس لیے کہ وہ ترک و ا ختیار اور مرغوبات و مکروہات میں امتیاز کرسکتا ہے اور اختیار و تصرف کا یقین رکھتا ہے جس طرح علم و ادراک کے معاملے میں اس کا یقین الہامی ہے اسی طرح نفرت و محبت کے معاملے میں بھی الہامی ہے۔ [غامدی ، مقامات، ۲۰۱۴ء،ص ۱۲۸]یعنی کفار مکہ اور صحابہ کرام رسالت مآب سے جو محبت و نفرت رکھتے تھے یہ الہامی کام تھا۔ کفار کی نفرت بھی الہامی تھی کیوں کہ اس کا یقین بھی الہامی ہے ابو جہل نے رسالت مآبؐ سے نفرت کی تو یہ اس کا قصور نہیں تھا وہ نفرت کرنے پر مجبور تھا کہ اسے اس نفرت کا الہامی یقین حاصل تھا۔(نعوذ باللہ)
اصول: خیر و شر کا امتیاز فطرت میں الہام کردیا گیا ہے:غامدی
(۲) خیرو شر فطرت میں الہام کردیئے گئے

خیر و شر کا امتیاز بھی من جملہ الہامات نفس ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ نفس انسانی صرف مرغوبات و مکروہات میں امتیاز نہیں کرتا۔ اس کے ساتھ ان پر خیر و شر اور برواثم کا حکم بھی لگاتا ہے وہ جانتا ہے کہ طیب خبیث سے اور بلندی پستی سے کس طرح الگ ہے یہ اس الہام کا نتیجہ ہے جو اس کی فطرت میں ودیعت کیا گیا ہے [غامدی مقامات۲۰۱۴ء ص۱۲۹،۱۳۰]
اصول: انسان کا دل و دماغ خیر و شر کو پہچانتا ہے:غامدی
(۳)ماخذ خیر و شر صرف دل و دماغ ہے

انسان کے لیے خیر و شر کے جاننے کا ذریعہ کیا ہے؟ یہ فلسفۂ اخلاق کا سب سے بنیادی سوال ہے۔اللہ تعالیٰ نے جس طرح انسان کو دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سننے کے لیے کان دیے ہیں بالکل اسی طرح نیکی اور بدی کو الگ الگ پہچاننے کے لیے ایک حاسۂ اخلاق بھی عطا فرمایا ہے۔ وہ محض ایک حیوانی اور عقلی وجود ہی نہیں ہے اس کے ساتھ ایک اخلاقی وجود بھی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ خیر و شر کا امتیاز اور خیر کے خیر اور شر کے شر ہونے کا احساس انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی اس کے دل و دماغ میں الہام کردیا گیا ہے۔
یہ امتیاز و احساس (خیر و شر کا) ایک عالم گیر حقیقت ہے ۔ چنانچہ برے سے برا آدمی بھی گناہ کرتا ہے تو پہلے مرحلے میں اسے چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ آدم علیہ السلام کے بیٹے قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کردینے کے بعد اس کی لاش چھپانے کی کوشش کی تھی تو ظاہر ہے کہ احساس گناہ ہی کی وجہ سے کی تھی۔ یہی معاملہ نیکی کا ہے۔ ا نسان اس سے محبت کرتا ہے اس کے لیے اپنے اندر عزت و احترام کے جذبات پاتا ہے۔[غامدی،میزان ، ۲۰۱۵ء، ص۱۹۸]
اصول:خیر و شر کے اصول بالکل فطری ہیں:غامدی
(۴) ماخذ خیر و شر فطرت ہے

انسان کی فطرت جن فضائل اخلاق کو پانے اور جن رذائل سے بچنے کا تقاضا کرتی ہے ان کی بنیادیں اس میں واضح کردی گئی ہیں۔ خیر و شر کے یہ اصول بالکل فطری ہیں لہٰذا خدا کے دین میں بھی ہمیشہ مسلم رہے ہیں۔ تورات کے احکام عشرہ انھی پر مبنی ہیں[غامدی، میزان،۲۰۱۵ء، ص ۲۰۲]
اصول :منکر جاننے کے لیے شریعت کی ضرورت نہیں:غامدی
(۵) منکر کی پہچان شریعت سے نہیں نفس، اجماع انسانیت سے ہوتی ہے

اس اصول کی تقریر غامدی صاحب میزان میں اس طرح کرتے ہیں دوسری چیز’’ منکر‘‘ ہے۔ یہ معروف کا ضد ہے۔ یعنی وہ برائیاں جنھیں انسان بالعموم برا جانتے ہیں ہمیشہ سے برا کہتے رہے ہیں اور جن کی برائی ایسی کھلی ہوئی ہے کہ اس کے لیے کسی استدلال کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مذہب و ملت اور تہذیب و تمدن کی ہر اچھی روایت میں انھیں برا ہی سمجھا جاتا ہے۔ قرآن نے ایک دوسرے مقام پر اس کی جگہ اثم کا لفظ استعمال کر کے واضح کردیا ہے کہ اس سے مراد یہاں وہ کام ہیں جن سے دوسروں کے حقوق تلف ہوتے ہیں۔[غامدی،میزان،۲۰۱۵ء، ص ۲۰۳]
اصول:خیر و شر کا ماخذ فطرت ہے جس پر الہام ہوا: غامدی
(۶) فطرت خیر و شر جاننے کا ذریعہ ہے

یہی معاملہ معاملہ خیر و شر کے شعور کا ہے۔ خیر و شر کا امتیاز اور خیر کے خیر اور شر کے شر ہونے کا ا حساس انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی نفس انسانی میں الہام کردیا گیا ہے۔ [غامدی، مقامات، ۲۰۱۴ء،ص ۱۱۹]
اصول:خیر و شر کا ماخذ فطرت اوراجماع انسانیت ہے:غامدی
(۷) ماخذات خیروشر قرآن و سنت نہیں ہیں

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے معنی یہ تھے کہ معاشرہ خیر و شر کے مسلمات سے بے تعلق نہیں رہے گا۔ انسانی فطرت میں جو چیزیں خیر کی حیثیت سے پہچانی جاتی ہیں اور جنھیں پوری انسانیت مانتی ہے، ان کی تلقین کی جائے گی، اور جن چیزوں کو فطرت شر سمجھتی اور پوری انسانیت جن سے نفرت کرتی ہے ان سے لوگوں کو ہر حال میں روکا جائے گا۔[غامدی، مقامات، ۲۰۱۴ء،ص ۱۷۸،۱۷۹]
اصول : فطرت ایسی چیز نہیں جس پر انسان فطری انداز سے خود بخود چلنے لگے : غامدی
اصول : ہر دور میں انسانوں کا فطرت پر چلنا مشکل ہوتا ہے : غامدی
انسان ہر عورت سے زنا کرنا چاہتا ہے : غامدی
(۸) انسان فطرت پر چلنا پسند ہی نہیں کرے گا

ابھی غامدی صاحب فطرت کو ماخذ دین کے طور پر ثابت کررہے تھے مگر اچانک وہ فطرت کی مذمت شروع کردیتے ہیں افضال ریحان کو انٹرویو دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔
افضال ریحان :کہا جاتا ہے کہ اسلام دین فطرت ہے ۔ اب فطرت ایسی چیز ہوتی ہے جس پر انسان فطری انداز سے خود بخود چلنے لگتے ہیں؟
غامدی : انسان کے اندر ایک بڑی زبردست کشمکش موجود ہے ۔ انسان فطرت کے خلاف بھی تو چلتا ہے اگر وہ فطرت کے خلاف نہ چلے پھر تو وہ بالکل جانور بن کر رہ جائے ۔ اس کے اندر اپنے فطرت سے انحراف کی پوری قوت موجود ہے اس کے اندر بڑی ترغیب رکھی گئی ہے کہ وہ اپنی فطرت کے بندھن کو توڑے اور فطرت کے خلاف چلنے میں بھی ایک لذت ہے ۔ اس پر بحث کرنے کی کیا ضرورت ہے کہ فطرت یہ ہے کہ ایک میاں بیوی کے درمیان صحیح تعلق پیدا ہونا چاہیے۔ ساری دنیا کا تمدن اسی سے بنتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے زنا میں اتنی کشش رکھ دی ہے کہ انسان اپنی فطرت کے خلاف ہر عورت سے یہ تعلق بنانا چاہتا ہے ۔ آپ کے سامنے برطانوی شہزادی کا جو حادثہ ہوا ہے آپ کہتے ہیں کہ اس بات کو مؤخر کردوں لیکن آپ دیکھیں وہ حادثہ کہاں سے شروع ہوا ؟ وہ حادثہ اسلام کے خاندانی اصولوں کی پامالی سے شروع ہوا۔ ایک آدمی نے اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری عورت سے تعلقات رکھنے چاہے ۔ اب برطانیہ جیسے ملک کے پڑھے لکھے لوگ فطرت پر کیوں نہ چل سکے۔ اسی لیے فطرت پر چلنے کے لئے قربانی دینی پڑتی ہے ۔ اسلام نے چودہ سو برس پہلے کہا کہ تم لوگوں کو عورتوں کے بارے میں غص بصر سے کام لینا چاہیے لیکن اس بات پر عمل کرنا مشکل ہوتا ہے انسانوں کو ہر دور میں فطرت پر چلنا مشکل دکھائی دیتا رہا ہے۔ افضال ریحان کو انٹرویو اسلامی تہذیب بمقابل مغربی تہذیب حلیف یا حریف لاہور دارالتذکیر ۲۰۰۴ء ص ۵۶،۵۷] افضال ریحان : فطرت اور جبلت میں کیا فرق ہے ؟ غامدی : جبلت وہ چیز ہے جس کا ہر جان دار پابند ہے اور خلاف ورزی نہیں کرتا جب کہ فطرت وہ ہے جس کی خلاف ورزی وہ کرسکتا ہے۔
اگر فطرت اتنا زبردست ماخذ ہے تو انسا ن فطرت پر کیوں نہیں چلتا وہ فطرت سے انحراف کیوں کرتا ہے وہ فطرت کو مسخ کیوں کردیتا ہے ظاہر ہے نبوت اور شریعت کی ضرورت اسی لیے ہے کہ وہ انسان کو بتائے کہ کیا صحیح کیا غلط ہے ؟ کیا حلال ہے کیا حرام ہے کیا خیرہے کیا شر ہے کیا معروف ہے کیا منکر ہے کیا حق ہے کیا باطل ہے ۔
انسان کی فطرت کو پرکھنے کا پیمانہ بھی سنت اور شریعت ہے فطرت خود پیمانہ نہیں ہے اگر فطرت کو پیمانہ مان لیا جائے تو آج مغرب کا ہر انسان سود، سٹّے، زناکاری، بدکاری، بدفعلی، محرمات سے جنسی تعلقات ، عریانی، فحاشی کو عین فطرت سمجھتا ہے اس کے برعکس مشرق اور مذاہب عالم کو ماننے والے انسان مغرب کے ان تصورات فطرت کو درست تسلیم نہیں کرتے اب سوال یہ ہے کہ فطرت پر کون ہے۔
اصول:خیر و شر کا ماخذاجماع انسانیت ہے:غامدی
(۹) ماخذ خیرو شر قرآن و سنت نہیں

قانون نافذ کرنے والے ادارے اصلاً امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ادارے ہوں گے۔ چنانچہ معاشرے کے صالح ترین افراد ان اداروں کے لیے کارکنوں کی حیثیت سے منتخب کیے جائیں گے۔ وہ لوگوں کو بھلائی کی تلقین کریں گے اور ان سب چیزوں سے روکیں گے جنھیں انسان ہمیشہ سے برائی سمجھتا رہا ہے۔[غامدی، مقامات، ۲۰۱۴ء،ص ۱۸۶]
اصول: شر وہ ہے جسے انسانیت کا اجماع شر کہتا ہے:غامدی
اصول : مذہبی احکام کی خلاف ورزی برائی یعنی ’’منکر‘‘ نہیں:غامدی
(۱۰) خیروشر کا ماخذ اجماع انسانیت ہے

برائی کے لیے اس روایت میں ’منکر‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔اس سے مراد وہ برائیاں نہیں ہیں جو خالص مذہبی احکا م کی خلاف ورزی سے پیدا ہوتی ہیں بلکہ وہ برائیاں ہیں جنھیں پوری انسانیت بلا امتیاز مذہب و ملت برائی سمجھتی ہے۔ چوری ، جھوٹ، بد دیانتی، غبن، خیانت، ناپ تول میں کمی، ملاوٹ حق تلفی، فواحش، جان،مال، اور آبرو کے خلاف زیادتی اور اس نوعیت کی دوسری برائیوں کو عربی زبان میں لفظ منکر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد انہی برائیوں سے متعلق ہے۔۔[غامدی، مقامات، ۲۰۱۴ء،ص۲۰۷۔۲۰۸]
اصول :انسانی فطرت حلال و حرام کا تعین خود کرلیتی ہے:غامدی
(۱۱) حلال و حرام کے تعین کے لیے شریعت کی ضرورت نہیں

اللہ تعالیٰ نے بطور قاعدہ کلیہ کے فرمایا ہے احل لکم الطیبت (تمہارے لیے سب پاکیزہ چیزیں حلال ہیں) خبائث ہر حال میں ممنوع ہیں۔
ان طیبات و خبائث کی کوئی جامع و مانع فہرست شریعت میں کبھی پیش نہیں کی گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی فطرت اس معاملے میں بالعموم اس کی صحیح رہنمائی کرتی ہے اور وہ بغیر کسی تردد کے فیصلہ کرلیتا ہے کہ( کیا چیز حلال ہے کیا حرام ہے) طیب اور کیا خبیث ہے۔[غامدی میزان ۲۰۱۵ء ص۶۲۹ ]اگر انسان کی فطرت اتنی اچھی ہے کہ وہ حلال و حرام پہچان لیتی ہے تو غامدی صاحب نے اس کے بارے میں یہ کیوں لکھا کہ انسان کو ہر دور میں فطرت پر چلنا مشکل دکھائی دیتا ہے اگر فطرت پر چلنا مشکل ہے تو انسان فطرت پر کیسے چلے گا ؟ دوسرا اصول یہ ہے کہ انسان فطرت پر قائم ہے یا نہیں اس کو پرکھنے کا پیمانہ کیا ہوگا ؟ مثلاً ایک عورت کپڑے نہیں پہنتی اور دلیل دیتی ہے کہ میں دنیا میں بغیر کپڑوں کے آئی میں فطرت پر قائم ہوں تو کیا اس کی دلیل عقلی مان لی جائے گی یا اس کی فطرت کو شریعت پر پرکھا جائے گا ؟ اگر فطرت خود پیمانہ ہے تو اس کو پرکھنے کی ضرورت نہیں فطرت جو بھی کررہی ہے وہ درست ہے اگر فطرت پیمانہ نہیں ہے تو فطرت ماخذ Source بھی نہیں ہوسکتی۔حضرت آدم ؑ کامل فطرت پر تھے ایسی فطرت پر جو گناہ ، عصیان ، سہو کے تصور سے ہی خالی تھی اور اللہ تعالیٰ خالق فطرت نے اس پاکیزہ فطرت ہستی کو براہ راست ہدایت کی تھی کہ اس درخت کے قریب نہ جانا اور شیطان سے بچنا اس کے باوجود حضرت آدمؑ کی فطرت انھیں نسیان سے محفوظ نہ رکھ سکی ان کی فطرت نے غلطی کی اور فوراً توبہ کی کیوں کہ فطرت کو پرکھنے کا پیمانہ فطرت نہیں خالق فطرت کے کلمات تھے اسی طرح اس دنیا میں قیامت تک فطرت کو پرکھنے کا پیمانہ قرآن و سنت اجماع امت ہے۔
اصول:چار چیزوں کے سوا عقل و فطرت حلال و حرام کا تعین خود کرلیتی ہے:غامدی
(۱۲) حلال و حرام کے تعین کے لیے شریعت نبوت کی ضرورت نہیں

دنیا میں انسانو ں کی عادات کا مطالعہ بتاتاہے کہ ان کی ایک بڑی تعداد اس (حرام و حلال کے ) معاملے میں بالعموم غلطی نہیں کرتی۔ چنانچہ خدا کی شریعت نے بھی ان جانوروں کی حلت و حرمت کو اپنا موضوع نہیں بنایابلکہ صرف یہ بتا کر کہ تمام طیبات حلال اور تمام خبائث حرام ہیں انسان کو اس کی فطرت ہی کی رہنمائی پر چھوڑ دیا ہے۔ چنانچہ شریعت کا موضوع اس باب میں صرف وہ جانور اور ان کے متعلقات ہیں جن کی حلت و حرمت کا فیصلہ تنہا عقل و فطرت کی رہنمائی میں کرلینا انسان کے لیے ممکن نہ تھا۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کے ذریعے سے ا سے بتایا کہ سور، خون، مردار اور خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیے گئے جانور بھی کھانے کے لیے پاک نہیں ہیں اور انسان کو ان سے پرہیزکرنا چاہیے۔ جانوروں کی حلت و حرمت میں شریعت کا موضوع اصلاً یہ چار ہی چیزیں ہیں۔اللہ تعالیٰ نے جانوروں کی حلت و حرمت کے باب میں صرف یہی چار چیزیں حرام قرار دی ہیں۔ [غامدی ۲۰۱۵ء میزان ۲۰۱۵ء ص۳۶ ]
وہ ہمیشہ سے جانتا ہے کہ شیر چیتے ہاتھی چیل کوے گدھے، عقاب، سانپ، بچھو اور خود انسان کوئی کھانے کی چیز نہیں ہیں اسے معلوم ہے کہ گھوڑے اور گدھے دستر خوان کی لذت کے لیے نہیں سواری کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ ان جانوروں کے بول و براز کی نجاست سے بھی وہ پوری طرح واقف ہیں ۔ نشہ آور چیزوں کی غلاظت کو سمجھنے میں بھی اس کی عقل عام طور پر صحیح نتیجے پر پہنچتی ہے۔ چنانچہ خدا کی شریعت نے اس معاملے میں انسان کو اصلاً اس کی فطرت ہی کی رہنمائی پر چھوڑ دیا ہے۔
دنیا میں ا نسانوں کی عادات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کی ایک بڑی تعداد اس معاملے میں بالعموم غلطی نہیں کرتی۔ چنانچہ شریعت نے اس طرح کی کسی چیز کو اپنا موضوع نہیں بنایا۔ اس باب میں شریعت کا موضوع صرف وہ جانور اور ان کے متعلقات ہیں جن کی حلت و حرمت کا فیصلہ تنہا عقل و فطرت کی رہنمائی میں کرلینا انسانوں کے لیے ممکن نہ تھا۔[غامدی میزان ۲۰۱۵ء ص ۶۳۰ ]بے چارے غامدی صاحب کو یہ بھی نہیں معلوم کہ انسانوں کی اکثریت غلطی پر ہوسکتی ہے UNO نے سور، شراب، لواطت، باہمی رضامندی زناکاری وغیرہ وغیرہ تمام حرام کو حلال کردیا انسانوں کی اکثریت آج آزادی کے عقیدے کے تحت سود ، سٹّے ، شراب، جنسی آزادی ، بدکاری ، بدفعلی ، عریانی ، فحاشی کو جائز سمجھتی ہے ۔ سود شراب پوری دنیا میں عام ہے اسلامی ملکوں میں بھی شراب پی جاتی ہے لہٰذا غامدی صاحب کا یہ اصول کہ انسانوں کی اکثریت غلطی نہیں کرتی ایک غلط اصول ہے

Your Comment