بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله منگل 05 / جولائی / 2022,

Instagram

امدی صاحب کے اصول ہی نہیں حالات و کیفیات بھی متناقض ہیں: سید خالد جامعی

2017 May 07

امدی صاحب کے اصول ہی نہیں حالات و کیفیات بھی متناقض ہیں: سید خالد جامعی

پروفیسر سید خالد جامعی

ساحل، کراچی

غامدی صاحب کے اصول ہی نہیں
حالات و کیفیات بھی متناقض Oxymoron ہیں
داعی صادق ہو صدق کا ضد نفاق ہے :غامدی
غامدی صاحب کے بے شمارجھوٹ ان کی تحریروں کے آئینے میں
مقامات ۲۰۱۴ئکے صفحہ ۲۸ اور صفحہ ۴۳ کا تقابلی مطالعہ
۱۹۸۳ء سے ۱۹۹۰ء تک حضرت انتشار خلفشار اور کو مے کی
حالت میں تھے مگر اسی حالت میں المورد بھی بنالیا اور
اشراق بھی نکال لیا حالانکہ دونوں کیفیات ہی متناقض Oxymoron ہیں
محترم قارئین سچ کیا ہے یہ آپ خود تلاش کرلیں
سیدخالد جامعی

داعی کی صفات غامدی صاحب کے افکار کی روشنی میں:
غامدی صاحب نے میزان میں صدق کو داعی کی ایک عظیم اور لازمی صفت کے طور پر پیش کیا ہے داعی کو صادق ہونا چاہیے ورنہ اس کی دعوت قابل قبول نہ ہوگی میزان میں لکھتے ہیں :
داعی کے قول و عمل میں کسی پہلو سے کوئی تضاد نہ ہو [میزان ۲۰۱۵ء ص ۵۵۲]ایمان یہ ہے کہ انسان کا قول و عمل اس پر گواہ ہو [میزان ۲۰۱۵ء ،ص۸۱] ایمان اور عمل لازم و ملزوم ہیں [غامدی میزان ص ۸۵]ایمان اور عمل صالح اصل دین ہیں[غامدی میزان ۲۰۱۵ء ص۱۹۷]
چوتھی چیز صدق ہے آدمی کے منہ سے کوئی حرف صداقت کے خلاف نہ نکلے یہ صدق ہے قرآن نے اس کے ضد کردار کو نفاق سے تعبیر کیا ہے [غامدی میزان ۲۰۱۵ء ص ۲۴۶]
داعی کے لیے صدق کی صفت بیان کرنے کے بعد غامدی صاحب خود کذب کا وطیرہ اختیار کرتے ہیں ان کی کتاب مقامات ۲۰۱۴ء صدق سے انحراف اور جھوٹ میں گرفتار ہونے کے شواہد و دلائل مہیا کرتی ہے ذیل میں مقامات کے صرف دو صفحات کا تقابلی مطالعہ پیش کیا جارہا ہے اس کے بعد اس مطالعے پر مختصر تبصرہ تاکہ عہد حاضر کے داعی دین کی اصل حقیقت واضح ہوجائے۔
اپنے اصول کی خلاف ورزی ضمیر کے ساتھ خیانت ہے:
واضح رہے کہ غامدی صاحب نے میزان میں یہ اصول بیان کیاہے کہ مجتہد کے لیے اپنے اصول اور اجتہاد کی خلاف ورزی جائز نہیں ہے چنانچہ قرآن نے اسے ضمیر کے ساتھ خیانت سے تعبیر کیا ہے [غامدی میزان ۲۰۱۵ء’ ص ۳۶۶]
غامدی صاحب کے اس اصول کے تحت اگر وہ داعی ہیں تو داعی کی صفت حق گوئی لازمی ہے مگر وہ اس صفت سے محروم ہیں لہٰذا وہ اپنے ہی اصول کی خلاف ورزی کرکے قرآن کی نظر میں ضمیر کے ساتھ خیانت کے مجرم بن چکے ہیں کیا ضمیر کے خائن سے دین لیا جاسکتا ہے؟
غامدی صاحب کے جھوٹ آمنے سامنے
مقامات صفحہ ۲۸کی عبارت
ان کا ارشاد تھا کہ قلم اس وقت اٹھائیے جب کوئی نئی حقیقت سامنے آئے۔ چنانچہ طالب علمی کے اس دور میں جو( ۱۹۷۳ء شروع ہو کر ۱۹۸۳ء میں ختم ہوا) لکھنے کی ہمت کم ہی ہوئی۔
میں شعر کہتا تھا نثر لکھنے سے مجھے کچھ دل چسپی بھی نہیں تھی۔ تاہم چند چیزیں اردو اور عربی زبان میں قلم سے نکلیں لیکن وہ ایسی ہی تھیں جیسی کسی نو آموز لکھنے والے کی ہوسکتی ہیں۔
۱۹۸۳ء میں تعلیم کا یہ (امین احسن اصلاحی سے تعلیم کا مرحلہ جو ۱۹۷۳ء میں شروع ہواتھا) مرحلہ ختم ہوا تو میرے معتقدات کی دنیا میں ایسا اضطراب پیدا ہو چکا تھا کہ ہر چیز اپنی جگہ چھوڑتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ فقہ ،اصول فقہ ،تصوف ،علم کلام سب قرآن میں اپنی بنیادیں تلاش کررہے تھے۔ دین کی صحیح تعبیر کیا ہے؟
اس سوال کے جتنے جوابات ابھی تک سامنے تھے وہ سب اعتراضات کی زد میں تھے۔ میرے تصورات کا قصر منہدم ہوچکا تھا اور نئی تعمیر اب نئے بندوبست کا تقاضا کررہی تھی۔اگلے سات سال(۱۹۸۳ء سے ۱۹۹۰ء تک) اسی بندوبست کی نذر ہوگئے۔
اس عرصے میں معلوم نہیں کتنی وادیاں قطع کیں کتنے راستے ڈھونڈے کتنے موڑ مڑے، کتنے پتھر الٹے اور پاؤں کے آبلوں سے کہاں کہاں کانٹوں کی پیاس بجھائی۔ یہ عجیب سفر تھا۔ ایک کے بعد دوسری منزل گزر رہی تھی اور کچھ معلوم نہ تھا کہ آگے کیا پیش آنے والا ہے۔
اس زمانے میں اگر کچھ لکھا بھی تو کسی ضرورت کے تحت۔ بت کدۂ تصورات میں تراشیدم ، پرستیدم،شکستم کی جو صورت پیدا ہوگئی تھی، اس میں دوسروں سے کیا کہا جائے؟ یہ دور اسی طرح گزر گیا۔
یہاں تک کہ ۱۹۹۰ء میں جا کر وہ زمین کہیں ہموار ہوئی، جہاں نئی تعمیر کے لیے نیو ڈالی جائے ۔ زندگی کے چالیس سال پورے ہونے کو تھے۔فکر و خیال میں بڑی حد تک وضوح پیدا ہوچکا تھا اور نقشۂ کار بھی واضح تھا۔ میں نے تصنیف و تالیف کا ایک پروگرام ترتیب دیا اور اس کے مطابق کا م کی ابتداء کردی۔[غامدی، مقامات، ۲۰۱۴ء،ص۲۸،۲۹]
مقامات صفحہ ۴۳ کی عبارت
اس زمانے میں(۱۹۸۳ء میں جب غامدی صاحب خود اصلاحی صاحب کے طالب علم تھے ) طلبہ کی ایک جماعت مجھ سے پڑھ رہی تھی۔ ان میں ایک نعیم رفیع بھی تھے۔ وہ مجھ سے ملنے کے
لیے آتے تو بار بار اصرار کرتے کہ اس کام کا احیا ہوناچاہیے جو ۱۹۷۸ء میں ختم ہوگیا تھا(اصلاحی صاحب کی طالب علمی کے زمانے کے کام کا احیاء )۔ پچھلے تجربات کی وجہ سے میں اس کے لیے راضی نہ تھا۔
پھر خالد ظہیر اور آفتاب شمسی جیسیاحباب بھی ان کے ہم نوا ہوگئے تو بالآخر میں آمادہ ہوا۔ اس کی افتتاحی تقریب استاذ امام امین احسن اصلاحی کے زیر صدارت لاہور کے جناح ہال میں منعقد ہوئی جس میں ارباب علم و دانش کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور جون ۱۹۸۳ء میں وہ ادارہ وجود میں آگیا جو اب ’’المورد‘‘
کے نام سے ۵۱ کے ماڈل ٹاؤن میں قائم ہے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد ۱۹۸۵ء میں ’’اشراق‘‘ کا احیاء بھی ہوگیا۔ڈیڑھ دو سال یہ ایک مجلے کی صورت میں شائع ہوتا رہا۔۱۹۸۷ء میں مجھے اس کا ڈیکلریشن مل گیا۔ اللہ کا شکر ہے کہ
اس وقت سے اب تک یہ رسالہ بغیر کسی انقطاع کے نکل رہا ہے۔ رینی ساں ۱۹۹۰ء میں نکلنا شروع ہوا۔ وہ بھی اسی طرح جاری ہے۔ یہ رسالہ ابتداء ہی سے عزیزم شہزاد سلیم کے سپر دہے۔[غامدی، مقامات، ۲۰۱۴ء،ص۴۳]
۱۹۸۷ء کے بعدامور پر تعطل کا زمانہ بھی آیا[غامدی مقامات ص ۴۴]

غامدی صاحب ۸۳ سے ۹۰ تک اضطراب کی حالت میں تھے
غامدی صاحب کے افکار آپ نے پڑھ لیے ۱۹۸۳ء سے ۱۹۹۰ء تک وہ حالت اضطراب میں تھے ان کو اس وقت تک دین کی کوئی تعبیر صحیح نہیں لگ رہی تھی دین کی تمام تعبیرات اعتراضات کی زد میں تھیں یہ حالت اضطراب جس کی تصویر شاعر نے ایک شعر میں نہایت خوبصورتی سے کھینچی ہے۔
کیا جانئے لکھ دیا تھا اسے اضطراب میں قاصد کی لاش آئی ہے خط کے جواب میں
اس اضطراب میں جبکہ وہ تشکیک ، بے یقینی کے سفر میں تھے ان کا عقیدہ ہی واضح نہ تھا ان کے عقیدے کی دنیا اور عقیدے کی تمام بنیادیں ہل چکی تھی تو اسی بد اعتقادی کے دور میں حضرت والا نے ۱۹۸۳ء میں ہی عظیم علمی ادارہ المورد قائم کردیا جب ۱۹۹۰ء تک حضرت والا کو دین کا پتہ ہی نہیں تھا تو دین کے فروغ کے لیے ادارہ کا قیام ایک چیستان ہے اشراق بھی نکال لیا جب دین کی کوئی تعبیر صحیح نہیں تھی اور ۱۹۹۰ء میں جا کر غامدی صاحب کی کشت ناموزوں ان کے بقول بڑی مشکل سے یہ زمین ہموار ہوئی[غامدی مقامات ۲۰۱۴ء ص۲۹]یعنی
پست و بلند تھی کوچہ قاتل کی سرزمین بسمل نے لوٹ لوٹ کر ہموار کردیا
پھر فرماتے ہیں۱۹۹۰ء میں جب زمین ہموار ہوئی تو نئی تعمیر کی نیو ڈالی چالیس سال عمر ہوگئی تھی فکر و خیال میں بڑی حد تک وضو ح پیدا ہوچکا تھا اور نقشۂ کار بھی واضح تھا[غامدی مقامات ۲۰۱۴ء ص ۲۹]
غامدی صاحب کے سات جھوٹ
سوال یہ ہے کہ جب ۔۱۹۹۰ء تک وہ حالت اضطراب میں تھے زمین ہموار نہ تھی عمر چالیس سال نہ تھی فکر و خیال میں وضوح نہ پیدا ہوا تھا نقشۂ کار بھی واضح نہ تھا تو حضرت والا نے اس شکست خوردگی، پسماندگی، درماندگی اور داماندگی کے عرصے میں ہی المورد کیسے کھول لیا اور اشراق کیوں نکال لیا؟
حضرت والا جھوٹ بولنے کے ماہر ہیں لکھتے ہیں طالب علمی کے اس دور میں(اصلاحی صاحب کی شاگردی کا دور جو ۱۹۷۳ء سے ۱۹۸۳ء تک تھا) لکھنے کی ہمت کم ہی ہوئی تاہم چند چیزیں اردو میں قلم سے نکلیں ۔[غامدی مقامات ۲۰۱۴ء ص ۲۸]یہ بھی سراسر جھوٹ ہے۔بے شمار چیزیں اس دور میں قلم سے نکلیں اشراق کے مضامین ، کتابچے ، تقریریں وغیرہ
(
۱) حضرت والا نے اسی شاگردی کے دور میں ۱۹۷۳ء میں جماعت اسلامی کی رکنیت اختیار کی اور ۱۹۷۶ء تک جماعت اسلامی کے رکن رہے ادارہ معارف اسلامی کے ناظم رہے اور تین سال تک یہاں بہت کچھ لکھتے رہے (تفصیلات کے لیے مقامات ص۳۵ ، ص ۳۶ ملاحظہ کیجیے)
(
۲) خود لکھتے ہیں مارچ ۱۹۷۳ء میں دائرۃ الفکر سے ایک مجلہ اشراق کے نام سے چھاپا [غامدی مقامات ص ۳۴ ]
(
۳) ۱۹۷۴ء میں دارالاشرق کے نام سے ادارہ قائم کیا طلباء داخل کیے ان کو دینی تعلیم دی گئی[مقامات ص ۳۵]
(
۴) نومبر ۱۹۷۰ء سے اپریل ۱۹۷۸ء تک دارالاشراق کے نام سے مرید کے میں ایک اسلامی مدرسہ چلاتے رہے(تفصیلات کے لیے مقامات ۲۰۱۴ء ص ۳۸۔۳۹ دیکھیے)
(
۵) ۱۹۷۸ء میں مجلہ’’ الاعلام ‘‘نکالا اس میں مضامین شائع ہوتے رہے[مقامات ۲۰۱۴ء ص ۴۲]
(
۶) ۱۹۸۵ء میں حضرت والا نے حالت اضطراب میں میزان حصہ اول کے نام سے ۳۷۰ صفحات کی کتاب بھی شائع کی۔
مگر ان تمام کاموں کے باوجود فرماتے ہیں کہ میں نے ۱۹۷۳ء سے ۱۹۹۰ء تک کچھ نہیں لکھا جھوٹ،۔ دروغ گوئی کی انتہاء ہوتی ہے ایسے دروغ گو شخص عہد حاضر میں سب سے بڑے مفکر اسلام کے طور پر اپنا تعارف کررہے ہیں جھوٹوں پر خدا کی لعنت!

 

 

Your Comment