بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله منگل 02 / جون / 2020,

Instagram

یہ سفر اور یہ راستہ کیسا ہے

09 May 2017
یہ سفر اور یہ راستہ کیسا ہے

سید جاوید انور

’’راستہ ‘‘ کے عنوان سے یہ  نیا کالم  اتنا نیا نہیں ہے۔  صرف عنوان نیا ہے ، کالم نگار نہیں ۔ اسے   آپ کالم نگار کی نئی ٹوپی  سمجھ لیں، یہ نیا کالم ہیڈ ہے ۔طالب علمی کے زمانے (80s)سے اردو کالم نگاری کا سلسلہ چل رہا ہے جو بعد  میں انگریزی میں تبدیل ہو گیا۔سب سے طویل مدت ‘‘تیسرا نقطہ’’ کو ملا جو برصغیر اور بعد میں  امریکا اور کینیڈا کے مختلف اخبار میں چھپتا رہا۔  ‘‘تیسرا نقطہ’’ کے  معنی ہمارے نزدیک   دو  انتہا  ئی نقطہ نگاہ  کے مقابل تیسرا  ا وردرمیانہ  نقطہ نظر ہے، یعنی اعتدال کی راہ۔ اسلام  دین اعتدال ہے، یہ نہ بایاں بازو ہے  نہ دایاں بازو، یہ ایک مکمل  اور متناسب جسم ہے، یہ ایک مکمل نظام حیات ہے۔ یہ نہ سرخ ہے اور نہ سیاہ،    یہ تو سراسر   سپید ہے؛ ایک اجلا  طریقہ زندگی اور  خوبصورت  لائف اسٹائل ۔

اسلام ایک دین ہے جوصبح کی بیداری سے  رات  کی  شب خوابی تک کے ہر معاملہ میں رہنمائی اور طریقہ بتا تا ہے، وضو اور غسل سے لے کر  تمدن اور معاشرت کا راستہ   بتاتا ہے۔ لباس  اور  طعام سے لے کر انسانی اور بین الاقوامی تعلقات تک کے اصول بتا تا ہے۔ اس راستہ کا  بنیادی مآخذ قرآن  اور سنت (اسوہ محمد رسول اللہ ﷺ) ہے۔ اس راستہ پر اللہ کی تمام مخلوقات سوائے انسان اور جن کے بے چوں چراں چل رہی ہیں ۔ جن و انس کو اختیار کی آزادی بھی اللہ  کی بڑی مصلحت ہے۔ اللہ کی محبت ہزاروں ماوُں کی محبت سے بڑی  ہے۔ انسانوں سے اتنی محبت کرنے والےاللہ کی بے پایاں محبت نے ہدایت  اور اس  عہد کی یاد دہانی  کا  انتظام کیاجو پیدائش سے قبل   اس نے اپنے تمام بندوں سے لے لیا تھا۔ انبیا  ٔ اور رسل   کو بھیجنے کا مقصد یہی تجدید عہد وفا تھا۔پیغمبری کے اس سلسلے کی آخری کڑی محمد رسول اللہ ﷺ ہیں۔

زندگی کے اس پر پیچ اور مشکل سفر میں مجھے وہ’’ راستہ ‘‘مل گیا، جسے قرآن نے کہیں صراط المستقیم ، کہیں  سبیل اللہ، کہیں السبیل،  کہیں صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ ،  کہیں صِرَاطًا سَوِيًّا ، کہیں سَوَاءِ الصِّرَاطِ، کہیں سَبِيلَ الرَّشَادِ ، اور کہیں  سَوَاءَ السَّبِيلِ کہا ہے۔ یہ السبیل، ’’ال‘‘(عربی) اور          ’’دی ‘‘ (the)راستہ ہے، یہ اعتدال کا راستہ ہے، انصاف کا راستہ ہے، خدا کے آگے سپردگی کے بعد امن و چین کا راستہ ہے۔  اسی  راہ پر  چلنے پر انسان کی کامیابی ہے۔

ایک انسان کا سفر کتنا طویل ہے،  یا پوری انسانیت کا  اس دنیا میں سفر کتنا ہے کسی کو نہیں معلوم، بعثت نبی آخری   الزماں ﷺ   کے بعد یہ خبر تو ہمیں مل گئی کہ ‘‘میں ایسے وقت میں مبعوث ہوا ہوں کہ میرے اور قیامت کے درمیان صرف ان دو کے برابر فاصلہ ہے ۔ ..آپ ( محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی بیچ کی انگلی اور انگوٹھے کے قریب والی انگلی کے اشارے سے فرمارہے تھے‘‘(صحیح بخاری4936 )

 آج ہم اور آپ  اسی فاصلہ کے درمیان جی رہے ہیں  یعنی قیامت  بہت قریب  آلگی ہے،  لیکن کتنی قریب بتایا نہیں جا سکتا ،لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ  وہ بہت قریب  آچکی ہے۔  اخبار حدیث کے حساب سے’’شام‘‘ اور ’’ہند‘‘ کا اسٹیج تیار ہے اور ایسا  معلوم ہوتا  ہے کہ ـ’’دمشق‘‘ میں حضرت جناب عیسیٰ ؑ  کی  اس دنیا میں دوبارہ آمد کے لئے ماحول تیار ہو چکا ہے۔

سفر خواہ طویل ہو یا مختصر،  اور اسکی  تفصیلات خواہ کیسی بھی ہوں، ہمیں راستہ معلوم ہے۔ خدا کی آخری کتاب اور سنت رسولﷺ نے اسے  بالکل صاف اور واضح کر دیا ہے۔لیکن اس راستہ کو  شیطان کے شاگروں نے مختلف ’’نظریات‘‘   کے تانے بانوں سے اور  ڈھول باجوں  (میڈیا، اور پراپگنڈا کے تمام ذرائع و وسائل) سے اوجھل کر رکھاہے اور  عام انسان کے لئے اس راستہ پر چلنا آسان نہیں رہ گیا ہے۔ایک طرف حق و باطل کی جنگ ہے، دوسری جانب حق و باطل  کو خلط ملط کیا جا رہا ہے۔ باطل کی مغربی دیوی اپنے کئی ہاتھوں اور کئی سونڈوں سے حق سے ٹکرانے کے لئے کھڑی ہے۔لبرلزم، سیکولرزم،   کیپٹلزم، نیشنلزم، سوشلزم، جمہورازم ،ریجنلزم، سودازم اور گے ازم  وغیرہ یہ سب  نظام باطل کی سونڈیں اور ہاتھ ہیں۔   آج کے مسلمانوں کے درمیان موجود   فرقہ واریت اور لسانیت کو بھی خوب دہکا دیا گیاہے۔ مسلمانوں کی بہت سی تنطیمیں خصوصاً شمالی امریکا  اور یوروپ میں مسلمانوں کو ’’امر بالمعروف و نہی  عنی المنکر‘‘  کے فریضہ سے روک رہی ہیں۔ اس حوالہ سے کم از کم  ’’دل میں برا‘‘ سمجھنے کی بھی جو  ایمان کی کمزور ترین اور آخری علامت ہے اسے بھی ختم کیا جا رہا ہے۔ اس میں علما اور خواص ، الا ماشأ اللہ سبھی  ملوث ہیں۔ سود اور فعل لواطت پرستی جیسے سنگین گناہ جس  کے لئے اللہ نے انسان کو  کوئی تعزیراتی سزا تجویز نہیں کی ، بلکہ اس  جرم کی سنگینی کے باعث  اللہ نے اس کی سزا اپنے ہاتھ میں لےلی، ان جرائم (گناہ) کے خلاف بھی کوئی  بات کہنے سے روکا جا رہا ہے۔ کینیڈا کے ایک اسلامی اسکالر نےٹی وی پر کہا کہ قرآن میں اس فعل کی کوئی سزا نہیں ہے ( چنانچہ  یہ کوئی بڑا گناہ نہیں ہے)۔اسکول کے تعلیمی نظام سے لے کر  اختلاف جنس پر مبنی  سماجی نظام بھی توڑ دیا گیا ہے،  پبلک اسکول میں ہم  جنس پرستی کی لازمی جنسی تعلیم جس کی بنیاد کے جی (KG)سے رکھی جاتی ہے ،سے لے کر مرد اور عورت کے لئے(یونی سیکس) ایک  ہی پبلک ٹوائیلیٹ،  فادر (father)اور مدر (mother)کے الفا ظ  تمام سرکاری   فارموں سے مٹا دینا،(اس کی جگہ Parent 1 اورParent 2 کر دینا)  غلیظ برائیوں کا ایک سیلاب ہےاور ابھی تک علما اور دانشور میں سے کوئی ایک توانا آواز بھی سامنے نہیں آئی ہے ،جب کہ قوم لوطؑ، اور اس کے  عذاب  کا قصہ قرآن میں  وہ  بارہاپڑھ چکے ہیں ۔ انھوں نے علمأ بنی اسرائیل کی طرح جان بوجھ کر حق کو چھپا یا ہے، سود کے  حوالے سے عوام کیا خواص اور علمأ  میں سے ایسے نکل    آئیں ہیں جو  گھر  توکیا مسجد بھی بینک مارگیج سے تعمیر کو جائز قرار دے رہے ہیں۔ اب مسجدیں سودی بینک مارگیج پر تعمیر  ہونے لگی ہیں۔ یعنی  یہ حضرات باضابطہ اللہ کی راہ میں، اللہ کے گھر کے لیے ، اللہ سے جنگ کر رہے ہیں ( سود اللہ  اور اسکے رسولﷺ کے خلاف اعلان جنگ ہے)۔

 ان میں سے کئی ایسے ہیں جو مدرسہ اور یونیورسٹی سے ’’فقہ‘‘ کے اعلیٰ اسناد رکھنے کا’’ دعویٰ ‘‘بھی کرتے ہیں۔’’ اقلیتی فقہ‘‘  کے یہ نام نہاد خود ساختہ ’’فقیہ‘‘ اسلام اور مسلمانوں کو دیار مغرب میں کتنا ذلیل کرائیں گے،  اس کا  ابھی ہمیں اندازہ  بھی نہیں ہے۔

بہر کیف  مختصراً۔یہ کالم   سیاست، معاشرت ، تمدن، اور مذہب میں رائج  ہرباطل  نظریات، افکار، گمراہی، کے  خلاف    قلمی جہاد ہے۔ دعا ٔ کریں کہ استقامت کے ساتھ  آخری سانس تک یہ سلسلہ جاری رہے۔

 

  Jawed@seerahwest.com

 www.as-seerah.com

 

 

Athar Suhail

AoA May Allah swt grant you steadfastness in your mission and keep you on straight path, amen

Muslim Amin

May Allah give you health and means along with ikhlaas to guide and stand firm on Right Path

Your Comment