بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله منگل 07 / اپریل / 2020,

Instagram

غامدی صاحب کی انبیاء کرام پر بہتان ترازی (استغفراللہ) قسط 1

09 May 2017
غامدی صاحب کی انبیاء کرام پر بہتان ترازی (استغفراللہ) قسط 1

پروفیسر سید خالد جامعی

غلبۂ دین کی جدوجہد: غامدی صاحب کا Oxymoron فلسفہ
رسالت محمدی ؐ آفاقی نہیں قومی مقامی ،علاقائی، نسلی، لسانی عربی تھی :جاوید غامدی ، دیباچہ البیان، جلد اول، ۲۰۱۴ء، طبع دوم، ص ۹، ۱۱، ۱۲
غامدی صاحب نے یہی موقف میزان کے مقدمے میں بھی پیش کیا ہے میزان مقدمہ ۲۰۱۵ء ص ۵۳، ۵۴
رسالت مآبؐ کی قوم بنی اسمعٰیل نے ام القریٰ سے اپنی قومی زندگی کا آغاز کیا:غامدی میزان ۲۰۱۵ء، ص ۱۷۰
قرآن نے رسالت مآب ؐ کو صرف ادیان عرب اور سرزمین عرب پر غلبے کی بشارت دی تھی: غامدی، میزان ۲۰۱۵ء ص۱۱۷،۷۰ ،۱۷۴ ،ص۵۹۵
رسالت مآبؐ ہر پیغمبر کی طرح صرف اور صرف اپنی قوم کے لئے مبعوث کئے گئے تھے : غامدی، میزان ۲۰۱۵ء ص۰ ۱۷
سورہ توبہ کی آیات کی روشنی میں قتال کے اقدامات سے جنگ کا مقصد تو بالکل آخری درجے میں پورا ہوگیا جو یکون الدین کلہ اللّٰہ میں بیان ہوا ہے :غامدی ۲۰۱۵ء، ص۵۹۹
بقرہ اور انفال دونو ں میں بالترتیب یکون الدین للّٰہ اور یکون الدین کلہ للّٰہ کی تعبیر اختیار کی گئی ہے۔ اس سے پہلے جنگ کا حکم قتلو ھم کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ سیاق کلام سے واضح ہے کہ اس میں ضمیر منصوب کا مرجع مشرکین عرب ہیں لہٰذا یہ بات تو بالکل قطعی ہے کہ ان الفاظ کے معنی یہاں اس کے سوا کچھ نہیں ہو سکتے کہ دین سرزمین عرب میں پورا کا پورا اللہ کے لیے ہوجائے :غامدی،میزان ۲۰۱۵ء ص ۵۹۵
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے جو اقدامات کیے اور انھیں قتال کا جو حکم دیا گیا اس کاتعلق شریعت سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے قانون اتمام حجت سے ہے ۔اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حجت جب کسی قوم پر پوری ہوجاتی ہے تو منکرین حق پر اسی دنیا میں اللہ کا عذاب آجاتا ہے۔غامدی،میزان ۲۰۱۵، ص ۵۹۵
البیان کے دیباچے اور میزان کے پہلے باب میں غامدی صاحب نے نصوص قرآن اور نظم قرآن کے فلسفے سے یہ ثابت کیا ہے کہ قرآن کا موضوع صرف رسالت محمدی، جزیرۃ العرب ، اہلِ کتابِ عرب اور مشرکین تھے اور رسالت محمدی ؐ کا غلبہ صرف جغرافیۂ عرب اور صرف ادیان عرب تک محدود تھا۔ رسالت محمدی ؐ کی آفاقیت کے بارے میں میزان خاموش ہے

البیان کے دیباچے میں غامدی صاحب رسالت محمدی ؐ کے قومی، علاقائی عربی ہونے کے دلائل دیتے ہوئے لکھتے ہیں :
قرآن میں اس کی تفصیلات کے مطابق رسول اپنے مخاطبین( اپنی قوم) کے لئے خدا کی عدالت بن کرآتا ہے اور ان کا فیصلہ کرکے دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ رسولوں کی دعوت میں یہ فیصلہ(۱) انذار ،(۲) انذار عام،(۳) اتمام حجت اور (۴)ہجرت و براء ت کے مراحل سے گزر کر صادر ہوتا اور اس طرح صادر ہوتا ہے کہ(۵) آسمان کی عدالت زمین پر قائم ہوتی ، خدا کی دینونت کا ظہور ہوتا اور رسول کے مخاطبین( قوم رسول) کے لئے ایک قیامت صغریٰ برپا ہو جاتی ہے۔[ البیان جلد اول ، الفاتحہ –المائدہ، ص ۸] رسولوں سے متعلق خدا کی وہ سنت لازماً روبہ عمل ہوجاتی ہے جو قرآن میں اس طرح بیا ن ہوئی ہے۔ترجمہ : ’’ ہر قوم کے لئے ایک رسو ل ہے ۔ پھر جب ان کا رسول آجاتاہے تو ان کے درمیا ن انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جاتا ہے اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جاتا ‘‘۔ [سورہ یونس ۴۷]
دوسری صورت میں عذاب کا فیصلہ رسول اور اس کے ساتھیوں کی تلواروں کے ذریعے سے نافذ کیا جاتا ہے۔[جاوید غامدی البیان جلد اول ، الفاتحہ –المائدہ، لاہور المورد طبع دوم جنوری ۲۰۱۴ء، ص ۸]
نص قرآنی سے غامدی صاحب نے ثابت کیا کہ رسالت مآبؐ صرف اپنی قوم (عرب) کے لیے آئے تھے۔ وہ لکھتے ہیں
نبی ؐ کے معاملے میں یہی دوسری صورت پیدا ہوئی ۔ چنانچہ آپ کی طرف سے (۱)انذار،(۲) انذار عام، (۳)اتمام حجت، (۴)ہجرت و براء ت اور(۵) اپنے مخاطبین(قوم عرب) کے لئے جزاو سزا کی یہ سر گذشت ہی قرآ ن کا موضوع ہے ۔ اِس کی ہر سورہ اسی پس منظر میں نازل ہوئی ہے اور اس کے تمام ابواب اسی لحاظ سے مرتب کیے گئے ہیں۔[ البیان جلد اول ، الفاتحہ ایضاً–المائدہ، ص ۹]
قرآن کی تمام سورتیں آپس میں توام بنا کر اورسات ابواب کی صورت میں جمع کی گئی ہیں۔قرآن کے ان ساتوں ابواب میں سے ہر باب ایک یا ایک سے زیادہ مکی سورتوں سے شروع ہوتا ہے اور ایک یا ایک سے زیادہ مدنی سورتوں پر ختم ہوتا ہے ۔ ان میں سے ہر باب کا ایک موضوع ہے ۔
پہلے باب کا موضوع یہود و نصاریٰ پر اتمام حجت ، اُن کی جگہ ایک نئی امت کی تاسیس ، اُس کا تزکیہ و تطہیر اور اُ س کے ساتھ خدا کا آخری عہدو پیمان ہے۔
دوسرے باب میں مشرکینعرب پر اتمام حجت ، مسلمانوں کے تزکیہ و تطہیر اور خدا کی آخری دنیونت کا بیان ہے۔
تیسرے چوتھے پانچویں چھٹے باب کا موضوع ایک ہی ہے اور وہ انذاروبشارت اور تزکیہ و تطہیرہے ۔
ساتویں اور آخری باب کا موضوع قریش کے سرداروں کو انذار قیامت ان پر اتمام حجت اس کے نتیجے میں انھیں عذاب کی وعید اور نبیؐ کے لئے سرزمین عرب میں غلبہ حق کی بشارت ہے ۔اسے ہم مختصر طریقے پر محض انذاروبشارت سے بھی تعبیر کرسکتے ہیں۔[ البیان جلد اول ، الفاتحہ –المائدہ، محولہ بالا، ص۱۰، ۱۱]
نبیؐ کی بعثت کے نتیجے میں خدا کی جو عدالت سرزمین عرب میں قائم ہوئی اس کی روداد اس حسن ترتیب کے ساتھ اس کتاب میں ہمیشہ کے لئے محفوظ کردی گئی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھیے تو قرآن مذہب کا یہ بنیادی مقدمہ بالکل آخری درجے میں ثابت کردیتا ہے کہ خد ا کی عدالت پورے عالم کے لئے بھی ایک دن اسی طرح قائم ہوکررہے گی۔[ البیان جلد اول ، الفاتحہ –المائدہ، ص ۱۲]
غامدی صاحب نے البیان کے مقدمے میں صاف لفظوں میں صاف لفظوں میں واضح کردیا کہ قانون اتمام حجت صرف قوم رسول اور صرف جزیرۃ العرب کے ساتھ خاص تھا۔
اس قانون کے پانچ مراحل (۱) انذار (۲) انذار عام (۳) اتمام حجت (۴) ہجرأت برات(۵) اور جزا و سزا۔ کا تعلق صرف اور صرف رسول کی قوم اور جزیرۃ العرب سے تھا اللہ تعالی ٰ نے رسول اللہ ؐکے ذریعے قوم عرب پر عذاب الہٰی نازل کرکے ۔ خدا کی عدالت سرزمین عرب میں قائم کی۔ اور خدا کی یہ عدالت پورے عالم کے لیے اب آخرت میں ہی قائم ہو کر رہے گی۔ قرآن کے ساتویں باب میں اللہ نے عذاب کی وعید اور غلبہ کی بشارت صرف اور صرف قوم عرب اور سرزمین عرب سے مشروط کی تھی۔ یہ غلبہ اور بشارت صر ف جزیرۃ العرب تک تھا لہٰذا ثابت ہوا کہ رسالت محمدی نہ آفاقی تھی نہ عالمگیر وہ صرف اور صرف مقامی قومی علاقائی نسلی اور عربی تھی۔
غامدی صاحب نے اسی موقف کی ترجمانی مقامات ۲۰۱۴ء کے مضمون خدا کے فیصلے میں کی ہے وہ لکھتے ہیں فتح مکہ کے بعد جزیرہ نمائے عرب میں مشرکین کے تمام معابد اسی کے تحت ختم کیے گئے لا یجتمع دینان فی جزیرۃ العرب کی ہدایت بھی اسی کے تحت ہے۔چنانچہ سر زمین عرب میں اسی بنا پر نہ غیر اللہ کی عبادت کے لیے کوئی معبد تعمیر کیا جاسکتا ہے اور نہ کسی کافر و مشرک کو رہنے بسنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ یہ تمام احکام توحید کے اسی مرکز سے متعلق ہیں۔ ان کا دنیا کے کسی دوسرے علاقے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔[غامدی،مقامات،۲۰۱۴ء ص۱۹۶]
میزان میں بھی غامدی صاحب نے رسالت محمدی ؐ اور غلبہ دین کو صرف اور صرف مقامی ، قومی ، عربی ، ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ان کا قانون اتمام حجت بھی صرف اور صرف قوم عرب کے لئے ہے اس قانون کے پانچوں مراحل کے مخاطب رسول عربی کی قوم ہے میزان کا قانون دعوت ملاخطہ فرمائیے ۔ قانون دعوت میں غامدی صاحب نے صرف قوم عرب کو رسول کا مخاطب قرار دیا ہے [ میزان ۲۰۱۵ء ص ۵۳۳ تا ۵۳۶، ۵۳۸ تا ۵۴۰،۵۴۱، ۵۴۵] رسالت محمدی کی عربیت ، علاقائیت اور غیر آفاقیت کے دلائل غامدی صاحب نے میزان میں نہایت مفصل طریقے سے پیش کیے ہیں اہم مقامات ملاحظہ کیجیے۔
قرآن کا ساتواں باب صرف سرزمین عرب میں غلبہ سے متعلق ہے:غامدی
غامدی صاحب فراہی صاحب کے فلسفے کے تحت قرآن کو سات ابواب میں تقسیم کرتے ہیں ان تمام ابواب میں ان کی تحقیق کے مطابق خطاب صرف اور صرف رسالت مآبؐ کی قوم مشرکین مکہ اور اہل کتاب عرب سے ہے اور منکرین نبوت کو عذاب کی وعید کے ساتھ رسالت مآب کو صرف سر زمین عرب میں غلبہ حق کی بشارت دی گئی ہے ۔ میزان کے پہلے باب اصول و مبادی میں وہ لکھتے ہیں :
دوسرے باب میں مشرکین عرب پر اتمام حجت مسلمانوں کے تزکیہ و تطہیر اور خدا کی آخری دینونت کا بیان ہے
ساتویں اور آخری باب کا موضوع قریش کے سرداروں کو انذار قیامت ان پر اتمام حجت اس کے نتیجے میں انھیں عذاب کی وعید اور نبی ﷺ کے لیے سر زمین عرب میں غلبۂ حق کی بشارت ہے۔ اسے ہم مختصر طریقے پر محض انذار و بشارت سے بھی تعبیر کرسکتے ہیں۔
پہلا باب اس لحاظ سے بالکل الگ ہے کہ مشرکین عرب کے بجائے وہ یہود و نصاریٰ کے لیے خاص ہے۔[میزان ۲۰۱۵ء، ص ۵۴]
قرآن میں غلبہ کی بشارت صرف عرب کے لیے خاص ہے:غامدی
’’
رسالت‘‘ یہ ہے کہ نبوت کے منصب پر فائز کوئی شخص اپنی قوم کے لیے اس طرح خدا کی عدالت بن کر آئے کہ اس کی قوم اگر اسے جھٹلا دے تو اس کے بارے میں خدا کا فیصلہ اسی دنیا میں اس پر نافذ کرکے وہ حق کا غلبہ عملاً اس پر قائم کردے ہر قوم کے لیے ایک رسول ہے رسالت کا یہی قانون ہے جس کے مطابق خاص نبیؐ کے بارے میں قرآن کا ارشاد ہے کہ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو دین حق کے ساتھ بھیجا کہ اسے وہ سر زمین عرب کے تمام ادیان پر غالب کردے اگرچہ یہ بات عرب کے مشرکوں کو کتنی ہی ناگوار ہو [میزان ۲۰۱۵ء، ص ۶۹،۷۰]
قرآ ن نے صرف عرب پر غلبہ اور فتح مکہ کی پیش گوئی کی ہے :غامدی
اللہ تعالیٰ بعض ایسے امور غیب پر نبی کو مطلع کردیتے ہیں جن کا جان لینا کسی انسان کے لئے ممکن نہیں ہوتا ۔ اس کی مثال وحی الہیٰ کی پیشن گوئیا ں ہیں جو حیرت انگیز طور پر بالکل صحیح ثابت ہوئیں۔سرزمین عرب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلبہ، فتح مکہ اور لوگوں کے جوق در جوق اللہ کے دین میں داخل ہونے کی پیشن گوئی سے قرآن کا ہر طالب علم واقف ہے [ میزان ۲۰۱۵ء ص ۱۳۴]
مکہ فتح ہوا بیت اللہ کی تولیت مسلمانوں کو منتقل ہوگئی خدا کے اس گھر کو بتوں سے پاک کرکے نماز اور قربانی دونوں اللہ کے لیے خاص کردی گئیں پورا عرب مسلمان ہوگیا اور ہرشخص نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ قرآن کی تعبیر کے عین مطابق لوگ جوق در جوق اللہ کے دین میں داخل ہورہے ہیں ۔ چنانچہ دین کو تمکن حاصل ہوا خدا کی شریعت نافذ ہوگئی اور کسی دوسرے دین کا اقتدار سر زمین عرب میں باقی نہیں نہیں رہا۔ اس کے بعد بھی جو لوگ انکار پر قائم رہے ان کے متعلق ۹ ہجری میں حج اکبر کے موقع پر اعلان کردیا گیا کہ حرام مہینے گزر جانے کے بعد وہ عذاب کی زد میں ہوں گے اورمسلمان ان کے مشرکین کو جہاں پائیں گے قتل کردیں گے اور اہل کتاب کو محکوم بنا کر ان سے جزیہ لیں گے۔[غامدی،میزان۲۰۱۵ء،ص ۱۷۴]
نبیوں میں سے جو رسول ہوتے ہیں وہ اپنی قوم کا فیصلہ کرنے آتے ہیں :غامدی
نبیوں میں سے جو رسول کے منصب پر فائز ہوتے ہیں و ہ خدا کی عدالت بن کرآتے اور اپنی قوم کا فیصلہ کرکے دنیا سے رخصت ہوتے ہیں ۔ اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اللہ کے یہ پیغمبر اپنے پروردگار کے میثاق پر قائم رہتے ہیں تو اس کی جزا اور اس سے انحراف کرتے ہیں تو اس کی سزا انہیں دنیا ہی میں مل جاتی ہے[ میزان ۲۰۱۵ء ص ۱۳۴]
پیغمبر کی قوم کے لیے قیامت صغریٰ برپا ہوتی ہے :غامدی
تمام مراحل ختم ہوجانے کے بعد صرف جزا و سزا آخری مرحلہ ہوتا ہے۔جزا و سزا کے آخری مرحلے میں پیغمبر کی قوم کے لیے قیامت صغریٰ بر پا ہوجاتی ہے [میزان۲۰۱۵ء، ص ۵۴۱]
قوم کو انذار کی شرط یہ ہے کہ قرآن کے ذریعے کیا جائے:غامدی
قرآن بتاتا ہے کہ (رسول ) وہ اس انذار کو اپنی قومو ں پر شہادت کے مقام تک پہنچا دینے کے لیے بھی مامور تھے [میزان ۲۰۱۵ء،ص ۵۳۳]
غامدی صاحب نے قانو ن دعوت میں لکھا ہے کہ انذار کا ذریعہ قرآن مجید کو بنایا جائے یہ حکم قرآن نے سورہ ق آیت پینتالیس[۵۰:۴۵] اور فرقان کی آیت باون[۲۵:۵۲] میں دیا ہے قرآن میں آتا ہے اور یہ قرآن میری طرف وحی کیا گیا ہے کہ میں اس کے ذریعے سے تمہیں انذار کروں اور ان کو بھی جنھیں یہ پہنچے [میزان ۲۰۱۵ء، ص۵۵۳، ۵۵۴]غامدی صاحب کے اصول کے تحت کسی بھی قوم کو انذار، انذار عام۔ قرآن کے بغیر نہیں ہوسکتا۔
رسول اللہ ﷺ صرف اپنی قوم کے لئے اتمام حجت کے لئے آئے:غامدی
ام القریٰ سے بنی اسمٰعیل نے اپنی قومی زندگی کا آغاز کیا اور خدا کی زمین پر بیت الحرام کی تولیت انھیں عطا کی گئی [میزان ۲۰۱۵ء ص ۱۷۰]
اس شخصیت اور اس سیرت و کردار کے ساتھ آپ نے اپنی دعو ت پیش کی، مگر قوم نے اسے ماننے سے انکار کردیا۔آپ نے انہیں خبردار کیا کہ نبوت کے ساتھ آپ رسالت کے منصب پر بھی فائز ہیں اور خدا کی عدالت بن کرآئے ہیں ۔ لہٰذ ا جو قیامت صغریٰ قوم نوح، قوم لوط،قوم شعیب اور عاد و ثمود کے لئے برپا ہوئی تھی و ہ آپ کی طرف سے اتمام حجت کے بعد آپ کی قوم کے لئے بھی برپا ہو جائے گی۔[میزان ۲۰۱۵ء ص ۱۷۱]یہ ایک غیر معمولی اعلان تھا اس کے معنی یہ تھے کہ آپ کے منکرین پر عذاب آئے گا اور آپ کے ماننے والوں کو اس سر زمین (عرب) میں لازماً غلبہ حاصل ہوگا [میزان ص ۱۷۱] آپؐ کی قوم نے آپ کو صادق و امین کہا نبوت کے بعد بھی آپ کی قوم کے لوگوں نے آ پ کے متعلق ہر موقع پر یہی شہادت دی حالانکہ وہ آپ کی جان کے دشمن ہوچکے تھے [میزان ۲۰۱۵ء، ص ۱۷۰]
قرآن کی نص ہے کہ رسالت محمدی ؐ کا غلبہ سرزمین عرب تک تھا:غامدی
مدینہ پہنچنے کے بعد پورا عرب آپ کو اور آپ کی دعوت کو مٹا دینے کے درپے ہوا یہ ناقابل قیاس تھا کہ آپ ان لوگوں پر (اپنی قوم پر ) غالب آسکتے ہیں ۔ قرآن نے ہر موقع پر اسی اعتماد اور قطعیت کے ساتھ فرمایا ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، ان مخالفتوں کے علی الرغم اللہ آپ کو غالب کرکے رہے گا۔ [ میزان ۲۰۱۵ء ص ۱۷۲]
’’
وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے کہ اسے وہ (سرزمین عرب کے ) تمام ادیان پر غالب کردے، اگرچہ یہ مشرک اسے کتنا ہی ناپسند کریں‘‘ [ الصف : ۹ ]’’ یہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کررہے ہیں ، یہی ذلیل ہوں گے ۔ اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ میں غالب رہوں گا او ر میرے رسو ل بھی ‘‘۔[ مجادلہ : ۲۰۔۲۱][میزان ۲۰۱۵ء ص ۱۷۲]
رسول کا غلبہ صرف سر زمین عرب کے تمام ادیان پر تھا:غامدی
اللہ سر زمین عرب کے تمام ادیان پر اسلام کو غالب کردے گا چاہے یہ مشرکین کو کتنا ہی نا پسند ہو۔[میزان ۲۰۱۵ء ص ۱۷۲،۵۹۵] اللہ سر زمین عرب کے تمام ادیان پر دین حق کو غالب کردے گا اگرچہ یہ بات عرب کے مشرکین کو کتنی ناگوار ہو [میزان ۲۰۱۵ء ص۷۰] کسی دوسر ے دین کا اقتدار سر زمین عرب میں باقی نہ رہا۔[میزان ۲۰۱۵ء،ص ۱۷۴]
صالحؑ ، شعیبؑ اورسب رسول صرف اپنی قوم کے لئے مبعوث کئے گئے:غامدی
قرآن نے سیدنا صالح کے متعلق فرمایا:’’ اس نے کہا: میری قوم کے لوگو، تم نے اس بات پر غور کیا ہے کہ اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے ایک واضح دلیل پرہوں‘‘ [ ہود: ۶۳]
(شعیبؑ نے کہا)’’ اس نے کہا: میری قوم کے لوگو، ( مجھے بتاؤ) اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل پر ہو ں ‘‘[ہود:۸۸] [ میزان ۲۰۱۵ء ص ۱۳۷]
قرآن کی نص ہے کہ رسول صرف اورصرف اپنی قوم کے لیے آتا ہے:غامدی
قانو ن اتمام حجت آخری مرتبہ قوم رسول عربی کے لیے استعمال ہوا
نبی انسانیت کا مظہر اتم ہونے کے ساتھ و ہ اپنی قوم کے بھی کامل ترین فرد ہوتے ہیں ۔ اُ ن کے حالات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر نبی اپنی قوم کا عطر اور خلاصہ ، اس کی تہذیبی روایت کا امین اور اس کے محاسن اخلاق کا جامع ہوتا ہے [ میزان ۲۰۱۵ء ص ۱۳۷]
ثانیاً، رسولوں کے ذریعے سے اتمام حجت کے بعدان کے منکرین پر اسی دنیا میں عذاب آجا تا ہے اور ماننے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے ہیں: ’’ ہر قوم کے لئے ایک رسول ہے۔ پھر جب کسی قوم کے پاس اس کا رسول آجاتا ہے تو اس کا فیصلہ پور ے انصاف کے ساتھ چکادیا جاتا ہے اوراس کے لوگوں پر کوئی ظلم نہیں کیا جاتا‘‘ [ یونس : ۴۷] یہ خدا کی غیر متبدل سنت ہے ۔ قوم نوح، قوم لوط، قو م شعیب، عاد و ثمود اور اس طر ح کی دوسری قوموں کے جو واقعات قرآ ن میں بیان ہوئے ہیں ، وہ اسی دینونت کی سرگذشت ہیں۔ انسانی تاریخ میں یہ دینونت آخری مرتبہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے لیے برپا ہوئی اور اس کے بعد ہمیشہ کے لئے ختم کردی گئی ہے:[ میزان ۲۰۱۵ء، ۱۱۸]
قرآن کی نص سے غامدی صاحب ثابت کرتے ہیں کہ ہر رسول کو کسی خاص بستی کی طرف مبعوث کیا جاتا ہے۔
’’
او ر ہم نے جس بستی میں بھی کسی نبی کو رسول بنا کر بھیجا ہے ، اُ س کے رہنے والوں کو جان و مال کی مصیبتوں سے ضرور آزمایا ہے تاکہ وہ عاجزی اختیار کریں ‘‘ ۔۔۔ اگر ان بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر زمین و آسمان کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے مگر انہوں نے جھٹلادیا تو ان کے کرتوتوں کی پاداش میں ہم نے انہیں پکڑلیا۔[ میزان ۲۰۱۵ء ص ۱۱۸]
آپ نے اپنی دعوت پیش کی مگر قوم نے اسے ماننے سے انکار کردیا۔ آپ نے انہیں خبر دار کیا کہ نبوت کے ساتھ آپ رسالت کے منصب پر بھی فائز ہیں اور خدا کی عدالت بن کر آئے ہیں۔ لہٰذا جو قیامت صغریٰ قوم نوح قوم لوط قوم شعیب اور عاد و ثمود کے لیے برپا ہوئی تھی وہ آپ کی طرف سے اتمام حجت کے بعد آ پ کی قوم کے لیے بھی برپا ہوجائے گی۔ [میزان ۲۰۱۵ء،ص ۱۷۱]
نص صریح ہے کہ رسالت مآب ؐ امیون کی طرف بھیجے گئے تھے:غامدی
امیوں سے مراد بنی اسرائیل کی شاخ قوم بنی اسمٰعیل ہیغامدی صاحب کی تحقیق ہے کہ رسالت مآب صرف امیوں قوم رسول عربی کی طرف بھیجے گئے تھے’’ وہی ذات ہے جس نے ان امیوں میں ایک رسول انھی میں سے اٹھایا ہے جو ان پر اس کی آیتیں تلاوت کرتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے اور ( اس کے لیے ) انھیں قانون اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے ‘‘ [ الجمعہ : ۲][ میزان ۲۰۱۵ء ص ۷۸]
رسول صرف اپنی قوم کے لئے خدا کی عدالت بن کرآتا ہے :غامدی
نصو ص سے ثابت ہے کہ رسالت محمدی آفاقی نہیں صرف عربی تھی
’’
رسالت‘‘ یہ ہے کہ نبوت کے منصب پر فائز کوئی شخص اپنی قوم کے لئے اس طرح خدا کی عدالت بن کر آئے کہ اس کی قوم اگر اسے جھٹلا دے تو اس کے بار ے میں خدا کا فیصلہ اس دنیا میں اس پر نافذ کرکے وہ حق کا غلبہ عملاً اس پر قائم کر دے۔ [ میزان ۲۰۱۵ء ص ۶۹ تا ۷۰]
ہرسول صرف اور صرف اپنی قوم کے لئے آتا ہے :غامدی
قانونِ اتمام حجت خدا کا اخلاقی قانون ہے
پانچویں چیز دنیا میں خدا کی دینونت کا ظہور ہیں ۔ یہ ان ہستیوں کے وجود سے ہو اہے جنھیں نبیوں میں سے رسالت کے منصب پر فائز کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں غیر معمولی معجزات دیے ، روح القدس سے ا ن کی تائید کی ، پھر قیامت سے پہلے ایک قیامت صغریٰ ان کے ذریعے سے اس دنیا میں برپا کردی۔ اس سے مقصود یہ تھا کہ آخرت کا تصور بھی اسی معیار پر ثابت کردیا جائے جس معیار پر سائنسی حقائق معمل (Laboratory)کے تجربات سے ثابت کیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد ، ظاہر ہے کہ کسی کے پاس کوئی عذر اللہ کے حضور پیش کرنے کے لئے باقی نہیں رہ سکتا تھا۔اس کا طریقہ یہ اختیار کیا گیا کہ ان رسولوں نے حق کی دعوت پیش کی، پھر اعلا ن کیا کہ اپنی قوم کے لئے وہ خدا کی عدالت بن کرآئے ہیں۔ ایمان و عمل کی بنیاد پر جزا و سزا کے جس معاملے کی خبر دی گئی ہے ، وہ ان کی قوم کے ساتھ اس دنیا میں ہونے والاہے۔ طبعی قوانین جس طرح اٹل ہیں اور ہر حال میں نتیجہ خیز ہوجاتے ہیں ، خدا کا اخلاقی قانون بھی ان کی طرف سے اتمام حجت کے بعد اسی طریقے سے نتیجہ خیز ہوجائے گا۔ لہٰذا ان کی قوم کے جو لوگ ان کی دعوت قبو ل کریں گے وہ دنیا اور آخرت دونوں میں نجات پائیں گے اور ان کے مخالفین پر انھیں غلبہ حاصل ہوگا۔ اور جو نہیں کریں گے وہ ذلیل ہو ں گے اور ان پر خدا کا عذاب آجائے گا۔
یہ پیشین گوئی جس وقت اور جس قوم میں بھی کی گئی اس سے زیادہ نا ممکن الوقوع اور ناقابل یقین کوئی چیز نہیں تھی لیکن تاریخ کا حیرت انگیز واقعہ ہے کہ یہ ہر مرتبہ پوری ہوئی ’’ہر قوم کے لیے ایک رسول ہے ۔ پھر جب ان کا وہ رسول آجائے تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جاتا ہے اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جاتا۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی مرتبہ یہ معاملہ قوم نوح کے ساتھ ہوا اس کے بعد یہی معاملہ دنیا کی ہر قوم کے ساتھ ہوا قوم عاد، ثمود، لوط، شعیب یونس اور اس طرح کی بعض دوسری قوموں کے واقعات قرآن میں بیان ہوئے ہیں۔ [میزان ۲۰۱۵ء، ۱۶۵، ۱۶۶،۱۶۷]
قانون اتمام حجت کا انسانی اخلاقیات سے کوئی تعلق نہیں:غامدی
غامدی صاحب نے میزان میں یہ دعویٰ کیا کہ ’’اللہ نے یہ دنیا آزمائش کے لیے بنائی ہے اس میں انسانو ں کو حق دیا ہے کہ وہ اپنے آزادانہ فیصلے سے جو دین اور جو نقطۂ نظر اختیار کرنا چاہیں اختیار کریں کوئی شخص یا گروہ اگر دوسروں کو بالجبر ان کا دین چھوڑنے پر مجبور کرتا ہے تو یہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی پوری اسکیم کے خلاف اعلان جنگ ہے [میزان ۲۰۱۵ء ص ۵۹۳] غامدی صاحب کا قانون اتمام حجت بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ہی اسکیم کے خلاف انبیاء کو بھیج بھیج کر لوگوں کو جبراً اپنا پسندیدہ دین چھوڑ کر انبیاء کا دین اختیار کرنے پر مجبور کیا تمام انبیاء اور رسولوں کا ظہور اللہ نے اپنی اسکیم کے خلاف خود ہی کیا اس Paradox کو حل کرنے کے لیے غامدی صاحب نے میزان میں الہی اخلاقیات اور انسانی اخلاقیات کے دو مناہج قائم کیے تاکہ لوگ قانون اتمام حجت کے جبر کو انسانی قوانین کے تناظر میں نہ پرکھیں لہٰذا قانون جہاد میں قانون اتمام حجت کے بارے میں لکھتے ہیں۔
رسول اللہ کی طرف سے اتمام حجت کے بعد ان کی قوم پر عذاب آیا یہ خدا کا کام تھا جو انسان کے ہاتھوں سے انجام پایا اسے ایک سنت الہی کی حیثیت سے دیکھنا چاہیے اس کا انسانی اخلاقیات سے کوئی تعلق نہیں [میزان ۲۰۱۵ء ص ۵۷۸] دوسرے معنوں میں وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مشرکین مکہ اور اہل کتاب مکہ پر عذاب نازل کرنے کے بعد آئندہ کسی مشرک و کافر کے خلاف قتال کرنا انسانی اخلاقیات کے خلاف ہے چونکہ وہ عذاب تھا جو اللہ نے نازل کیا تھا اللہ جو چاہے کرسکتا ہے اس کے کاموں کا انسانی اخلاقیات سے موازنہ نہ کیا جائے اور اللہ کا وہ عذاب اب مسلمان قیامت تک کافروں مشرکوں پر کبھی نازل نہیں کرسکتے۔ واضح رہے کہ اسی میزان میں غامدی صاحب نے لکھا ہے کہ یہود پر مغلوبیت کا عذاب ہمیشہ کے لیے مسلط کردیا گیا ہے وہ عیسیٰ کے ماننے والوں کے زیر دست رہیں گے[میزان پہلا باب، اخلاقیات ، قانون جہاد) یعنی گمراہ یہود تو ہمیشہ گمراہ عیسائیوں کے زیر تسلط رہیں گے مگر مسلمانوں کے تسلط میں کوئی نہیں رہے گا۔
رسول صرف اپنی قوم کے لئے حق و باطل کی میزان بن کر آتا ہے : غامدی
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید بتایا کہ آپ کی بعثت جن لوگوں میں ہوئی، ان کے لئے اس کی ابتدا اس سوال سے ہوگی کہ وہ آپ کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ اس کی وجہ بھی بالکل واضح ہے ۔ اپنی بعثت کے بعد رسول ہی اپنی قوم کے لئے حق و باطل میں امتیاز کا واحد ذریعہ ہوتا ہے ۔ اس لیے اس پر ایمان کے بعد پھر کسی سے اور کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ [ میزان ۲۰۱۵ء ص ۱۸۵]
سورۂ بقرہ کی آیت کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ [۲:۲۱۳] میں یہی بات بیان ہوئی ہے۔ ان نبیوں میں سے اللہ تعالیٰ نے جنھیں رسالت کے منصب پر فائز کیا ان کے بارے میں البتہ قرآن بتاتا ہے کہ وہ اس انذار کو اپنی قوموں پر شہادت کے مقام تک پہنچا دینے کے لیے بھی مامور تھے3انھیں بتادیا جاتا ہے کہ وہ خدا کے ساتھ اپنے میثاق پر قائم رہیں گے تو اس کی جزا اور اس سے انحراف کریں گے تو اس کی سزا انھیں دنیا ہی میں مل جائے گی۔[غامدی،میزان،۲۰۱۵ء، ص۵۳۳ ]
قانون اتمام حجت کے پانچ مراحل صرف قوم رسول کے لیے ہیں :غامدی
غامدی صاحب کی تحقیق یہ ہے کہ رسول صرف اور صرف اپنی ہی قوم کو انذار کرتا ہے [میزان ۲۰۱۵ء ص ۵۳۳] یہ انذار وہ قرآن سے کرتا ہے [میزان ۲۰۱۵ء ص ۵۵۳]
۱۔انذار: یہ اس دعوت کا پہلا مرحلہ ہے3قرآن سے معلوم ہوتاہے کہ اللہ کے رسول اپنی قوم کو ہمیشہ د وعذابو ں سے خبردار کرتے رہے ہیں : ایک وہ جس سے ان کے منکرین قیامت میں دوچار ہوں گے اور دوسرا وہ جو ان کی دعوت کے مقابلے میں سرکشی اختیار کرنے والوں پر اسی دنیا میں ناز ل ہوگا۔ وہ اپنی قوم کو بتاتے ہیں کہ وہ زمین پر ایک قیامت صغریٰ برپا کردینے کے لیے مبعوث ہوئے ہیں۔ خدا کی حجت جب ان کی دعوت سے پوری ہو جائے گی تو ان کی قوم کو اپنی سرکشی کا نتیجہ لازماً اسی دنیا میں دیکھنا ہوگا۔ قرآن کے چھٹے باب میں سورۂ قمر اس انذار کی بہترین مثال ہے3اس انذار کو چونکہ اس دنیا میں لازماً ایک حتمی نتیجے تک پہنچنا ہوتا ہے، اس لیے اس میں اصلاً انھی لوگوں کو مخاطب کیا جاتا ہے جو کسی نہ کسی پہلو سے اپنی قوم میں اثر و رسوخ رکھتے ہوں۔[غامدی،میزان،۲۰۱۵ء، ص۵۳۴ ]
۲۔ انذار عام:یہ اس دعوت کا دوسرا مرحلہ ہے3لیکن دعوت کے اس مرحلے میں پیغمبر کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ کھلم کھلا اپنی قوم کو پکارنے کے لیے اٹھے اور جس حد تک اور جن ذرائع سے بھی ممکن ہو، اپنی دعوت ہانکے پکارے ان کے سامنے رکھ دے3دعوت کی ترتیب اس مرحلے میں بھی وہی رہتی ہے اور اصلاً قوم کے پیشوا اور ارباب حل و عقد ہی پیغمبر کے مخاطب ہوتے ہیں ۔[غامدی،میزان،۲۰۱۵ء، ص۵۳۵،۵۳۶ ]
۳۔اتمام حجت:یہ اس دعوت کا تیسرا مرحلہ ہے3چنانچہ اس موقع پر پیغمبر اپنے مخاطبین کا انجام بھی بڑی حد تک واضح کردیتا ہے اور دعوت میں بھی بالکل آخری تنبیہ کا لب و لہجہ اختیار کرلیتا ہے۔ قرآن مجید کی سورہ فیل اور سورہ قریش میں جو نبی ﷺ کی دعوت کے اسی مرحلۂ اتمام حجت کے اختتام پر نازل ہوئی ہیں۔ [غامدی،میزان،۲۰۱۵ء،ص۵۳۸]واضح رہے کہ ان سورتوں کے مخاطب بھی اہل عرب اور قریش ہیں۔
۴۔ہجرت و براء ت: ہجرات و براء ت رسول صرف اپنی قوم سے کرتا ہے۔ یہ اس دعوت کا چوتھا مرحلہ ہے3اللہ کے پیغمبر جب تبلیغ کا حق بالکل آخری درجے میں ادا کردیتے ہیں اور حجت تمام ہو جاتی ہے تو یہ مرحلہ آجاتا ہے ۔ اس میں قوم کے سرداروں کی فرد قرار داد جرم بھی پوری وضاحت کے ساتھ انھیں سنا دی جاتی ہے3اس لیے اپنی قوم کی تکفیر اور اس کے عقیدہ و مذہب سے بے زاری کا اعلان کرکے وہ اب اسے چھوڑنے کے لیے تیار ہوجائیں۔[غامدی،میزان،۲۰۱۵ء،ص۵۳۹]
اس کے بعد پیغمبر کو ہجرت کا حکم دے دیا جاتا ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ہجرت کا حکم اللہ تعالیٰ ہی دیتے ہیں، اس کا فیصلہ کوئی پیغمبر اپنے اجتہاد سے نہیں کرسکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی انسان کے لیے اپنی عقل و رائے سے یہ فیصلہ کرلینا کہ اس کی طرف سے حجت پوری ہوگئی ہے اور قوم کی طرف سے دعوت حق کے لیے اب کسی مثبت رد عمل کی توقع نہیں کی جاسکتی، کسی طرح ممکن نہیں ہے3رسول اپنی رائے سے یہ خیال کرکے کہ ا س کی طرف سے فرض دعوت کافی حد تک ادا ہو چکا اپنی قوم کو چھوڑ کر نہیں جاسکتا ۔ اس پر لازم ہے کہ وہ جس ذمہ داری پر مامور ہوا ہے۔ اس میں برابر لگا رہے یہاں تک کہ اس کا پروردگار ہی یہ فیصلہ کردے کہ حجت پوری ہوگئی قوم کی مہلت ختم ہوئی اور اب پیغمبر انھیں چھوڑ کر جاسکتا ہے[غامدی،میزان،۲۰۱۵ء،ص،۵۴۰،۵۴۱]
۵۔جزاء و سزا:یہ اس دعوت کا آخری مرحلہ ہے3اس میں آسمان کی عدالت زمین پر قائم ہوتی ہے،خدا کی دینونت کا ظہور ہوتاہے اور پیغمبر کی قوم کے لیے ایک قیامت صغریٰ بر پا ہوجاتی ہے3دوسری صورت میں قوم پر عذاب کا یہ فیصلہ رسول اور اس کے ساتھیوں کی تلواروں کے ذریعے سے نافذ کیا جاتا ہے ۔[غامدی،میزان،۲۰۱۵ء،ص۵۴۱]
پیغمبر کی عدالت اور عذاب صرف اپنی قوم کے لیے ہوتا ہے:غامدی
پیغمبر کے مخاطبین میں موافقین اور مخالفین کے یہ دونوں فریق جب پوری طرح ممیز ہو جاتے ہیں اور پیغمبر بھی اپنے ساتھیوں کی معیت میں جنگ کے لیے تیار ہو جاتا ہے تو خدا کی عدالت اپنی فیصلہ سنا دیتی ہے۔ نبی ﷺ کی دعوت میں یہ فیصلہ جس طرح صادر ہوا اس کی تفصیلات یہ ہیں:(۱) قریش کی قیادت میں سے تمام معاندین بدر کے موقع پر ہلاک کردیے گئے۔(۲)مشرکین عرب کے تمام متربصین اور مغفلین کو الٹی میٹم دے دیا گیا کہ ان کے لیے چار مہینے کی مہلت ہے۔(۳) ۹ہجری میں حج اکبر کے موقع پر اعلان کردیا گیا کہ حرام مہینے گزر جانے کے بعد مسلمان ان مشرکین کو جہاں پائیں گے قتل کردیں گے۔(۴) اہل کتاب کے تمام گروہوں کے بارے میں حکم دیا گیا کہ وہ اب جزیہ دے کر اور مسلمانوں کے زیر دست کی حیثیت سے جئیں گے۔ [غامدی،میزان،۲۰۱۵ء،ص۵۴۵]
غامدی صاحب کے قانون اتمام حجت کے پانچوں مراحل کا خطاب صرف اور صرف رسول کی قوم سے ہے لہٰذا یہ قانون صرف عربی علاقائی نسلی اور مقامی قانون ہے جو صرف عرب والوں کے لیے نازل کیا گیا۔

سورۂ توبہ کی آیت ۱۱۲ رسول کی دعوت کو قومی قرار دیتی ہے:غامدی
ہر داعی کا فرض ہے کہ صرف اپنی قوم میں رہ کر انذارکرے
وَ مَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْھُمْ طَآءِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّھُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَیْھِمْ لَعَلَّھُمْ یَحْذَرُوْنَ [التوبہ۹:۱۲۲]’’اور سب مسلمانوں کے لیے تو یہ ممکن نہ تھا کہ وہ اس کام کے لیے نکل کھڑے ہوتے لیکن ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے کچھ لوگ نکل کر آتے تاکہ دین میں بصیرت حاصل کرتے اور اپنی قوم کے لوگوں کو انذار کرتے، جب (علم حاصل کرلینے کے بعد ) ان کی طرف لوٹتے، اس لیے کہ وہ بچتے‘‘3دعوت کا یہ حکم علماء کے لیے ہے3وہ دین کا علم حاصل کریں اور اپنی قوم کے لیے نذیر بن کر اُسے آخرت کے عذاب سے بچانے کی کوشش کریں3چوتھی بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس دعوت کے ہر داعی کے لیے اصل مخاطب کی حیثیت اس کی اپنی قوم کو حاصل ہے۔ چنانچہ فرمایا وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَیْھِم(اور اپنی قوم کے لوگوں کوآگاہ کرتے جب ان کی طرف لوٹتے)۔ آیت کا یہی حصہ ہے جس سے اس دعوت کادائرہ بالکل متعین ہو جاتا ہے اور اس چیز کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ اس کے داعی اصل حق داروں کو چھوڑ کر یہ دولت جہاں تہاں دوسروں میں بانٹتے پھریں۔[غامدی،میزان،۲۰۱۵ء،ص۵۴۹،۵۵۰]وہ اپنی قوم کے حکمرانوں کو ان کے فرائض و ذمہ داریوں سے خبر دار کرتے رہیں انھیں حق کی طرف بلائیں یہاں تک کہ ظالم حکمرانوں کا ظلم بھی انھیں اس کام سے باز نہ رکھ سکے [میزان ۲۰۱۵ء، ص ۵۵۱] حیرت ہے کہ قرآن کے اس نص کی خلاف ورزی کرکے غامدی صاحب ملائشیا منتقل ہوگئے جبکہ پاکستانی حکومت ، ریاست ، تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے حامی تھے صرف عوام ان کے خلاف تھے غامدی صاحب نے اپنے ہی قانون کی خلاف ورزی کی یہ کہنے کے بعد کہ داعی کا دائرہ قومی مقامی ہے اور سورہ توبہ نے متعین کردیا ہے غامدی صاحب اس نص کی خلاف ورزی کرکے بیرون ملک چلے گئے حق و باطل کی تاریخ کے یہ پہلے داعی ہیں جنھیں حکمراں پسند کرتے ہیں عوام پسند نہیں کرتے حکمران ان پر کوئی ظلم نہیں کررہے تھے مگر یہ عوام کے ظلم کے خوف سے ہجرت کر گئے حیرت ہے کہ قرآن و سنت میں عوام کے ظلم کے بارے میں کوئی حکم نہیں ہے۔ غامدی صاحب کی یہ نقل مکانی ان کے اصول کے خلاف اور ضمیر کے ساتھ خیانت ہے میزان میں لکھتے ہیں آدمی اگر اپنے اجتہاد کے مطابق کسی چیز کو دین و شریعت کا تقاضہ سمجھتا ہے تو اس کی خلاف ورزی اس کے لیے جائز نہیں چنانچہ قرآن نے اسے ضمیر کے ساتھ خیانت سے تعبیر کیا ۔[میزان ۲۰۱۵ء، ص ۳۶۶]
یہ ہمارا فیصلہ نہیں غامدی صاحب کے اصول کا نتیجہ ہے اور غامدی صاحب کے لیے ان کا اصول حجت ہے کیوں کہ وہ صرف اپنے اصولوں کو مانتے ہیں۔ کیا ضمیر کے خائن سے دین لیا جاسکتا ہے؟
داعی اور رسول اپنی قوم کو خبردار کرتے رہیں: غامدی
اس سے واضح ہے کہ سورہ توبہ کی یہ آیت دین میں بصیرت رکھنے والوں کو اس بات کا مکلف ٹھیراتی ہے کہ جاھدوا اللہ حق جھادہ3وہ اپنی قوم اور اس کے ا رباب حل و عقد کو ان کے فرائض اور ذمہ داریوں کے بارے میں پوری درد مندی اور دل سوزی کے ساتھ خبر دار کرتے رہیں۔ ان کے لیے ہر سطح پر دین کی شرح و وضاحت کریں۔ انھیں ہر پہلو اور ہر سمت سے حق کی طرف بلائیں۔ اس سے اعراض کے نتائج سے خبر دار کریں اور جب تک زندہ رہیں ان نتائج سے انھیں خبر دار کرتے رہیں۔ یہاں تک کہ ظالم حکمرانوں کا ظلم بھی انھیں اس کام سے باز نہ رکھ سکے۔[غامدی،میزان،۲۰۱۵ء،ص۵۵۱]
قرآن کی آیات غلبہ کا مطلب صرف یہ ہے کہ سرزمین عرب میں دین صرف اللہ کا ہوجائے
قرآن کے نصوص کی روشنی میں رسالت محمدی کا غلبہ صرف سر زمین عرب تک محدود تھا
بقرہ اور انفا ل دونوں میں بالترتیب یکون الدین للّٰہ اور یکون الدین کلہ للّٰہ کی تعبیر اختیار کی گئی ہے۔ اس سے پہلے جنگ کا حکم قتلوھم کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ سیاق کلام سے واضح ہے کہ اس میں ضمیر منصوب کا مرجع مشرکین عرب ہیں لہٰذا یہ بات تو بالکل قطعی ہے کہ ان الفاظ کے معنی یہاں اس کے سوا کچھ نہیں ہو سکتے کہ دین سر زمین عرب میں پورا کا پورا اللہ کے لیے ہوجائے3 اس مقصد کے لیے نبیﷺ اور آپ کے صحابہ نے جو اقدامات کیے اور انھیں قتال کا جو حکم دیا گیا اس کا تعلق شریعت سے نہیں بلکہ ا للہ تعالیٰ کے قانون اتمام حجت سے ہے۔ اس کتاب میں جگہ جگہ اس قانون کی تفصیل کی گئی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حجت جب کسی قوم پر پوری ہو جاتی ہے تو منکرین حق پر اسی دنیا میں اللہ کا عذاب آجاتا ہے۔ قرآن بتاتا ہے کہ عذاب کا یہ فیصلہ رسولو ں کی طرف سے انذار انذار عام اتمام حجت اور اس کے بعد ہجرت و براء ت کے مراحل سے گزر کر صادر ہوتا اور اس طرح صادر ہوتا ہے کہ آسمان کی عدالت زمین پر قائم ہوتی خدا کی دینونت کا ظہور ہوتا اور رسول کے مخاطبین کے لیے ایک قیامت صغریٰ بر پا ہوجاتی ہے3دوسری صورت میں عذاب کا یہ فیصلہ رسول اور اس کے ساتھیوں کی تلواروں کے ذریعے سے نافذ کیا جاتا ہے3رسول اللہ ﷺ کے معاملے میں یہی دوسری صورت پیدا ہوئی۔ چنانچہ اتمام حجت کے بعد پہلے یہود مغلوب ہوئے۔ [غامدی،میزان ،۲۰۱۵ء، ص۵۹۵،۵۹۶](مشرکین عرب اور اہل کتاب عرب کے خلاف قتال کے اقدامات سے) جنگ کا وہ مقصد تو بالکل آخری درجے میں پورا ہوگیا جو یکون الدین کلہ للّٰہ میں بیان ہوا ہے۔ [میزان ۲۰۱۵ء، ص ۵۹۹])

 

Your Comment