بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله منگل 02 / جون / 2020,

Instagram

غامدی صاحب کی انبیاء کرام پر بہتان ترازی (استغفراللہ) قسط 2

09 May 2017
غامدی صاحب کی انبیاء کرام پر بہتان ترازی (استغفراللہ) قسط 2

پروفیسر سید خالد جامعی

رسالت محمدی سے متعلق غامدی صاحب کے نو اصول: ایک جائزہ
غامدی صاحب کے اصول حسب معمول Oxymoron ہیں
چالیس سال تک رسالت مآبؐ ہدایت کے راستے پر نہیں تھے مگر اس حالت کو ہم ضلالت بھی قرار نہیں دے سکتے:غامدی
رسول صالحین میں سے تھے اور نبوت سے پہلے اللہ کی حفاظت و نگرانی میں ہوتے ہیں جیسے یوسف ؑ و آدمؑ : میزان ۲۰۱۵ء،ص ۱۳۸،۱۳۹
رسول نبوت سے پہلے ہدایت پر نہیں ہوتے:غامدی ،برہان، طبع ہشتم، ۲۰۱۳ء،ص ۲۷۷،
اللہ جس طرح نبی کی حفاظت نبوت سے پہلے کرتا ہے اسی طرح عام لوگوں کو بھی اپنی حفاظت کے لیے یہ برہان بخشتا ہے۔ غامدی میزان ۲۰۱۵ء، ص ۱۳۹ دوسرے معنوں میں انبیاء کے ساتھ اللہ کا معاملہ کوئی خاص معاملہ نہیں یہ اصول عامہ ہے
قرآن کی نص کے مقابلے میں غامدی صاحب اپنے نفس کی نص پیش فرماتے ہیں :غامدی،برہان،جولائی،۲۰۱۳ء،ص ۲۷۲

(۱) رسالت مآب سے متعلق برہان کی اصل عبارت یہ ہے ’’نبوت سے پہلے حضورؐ کی یہ حالت نہ ضلالت کی تھی اور نہ اسے ہدایت قرار دے سکتے ہیں‘‘۔غامدی،برہان،طبع ہشتم ،جولائی۲۰۱۳ء، ص ۲۷۷:پہلا اصو ل
3
(
۲)میزان میں غامدی صاحب ہدایت یافتہ ہونے کے لیے شریعت کی اتباع کے بجائے دوسرے پیمانے مقرر کرتے ہوئے لکھتے ہیں تمدن کی تبدیلی کے ساتھ شریعت تو بے شک تبدیل بھی ہوئی ہے لیکن ایمان اور عمل صالح اصل دین ہیں ان میں کوئی ترمیم و تغیر کبھی نہیں ہوا قرآن اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ جو شخص ان دونوں (ایمان اور عمل صالح) کے ساتھ اللہ کے حضور میں آئے گا اس کے لیے جنت ہے ۔غامدی،میزان،۲۰۱۵ء،ص۹۷:دوسرا اصول
غامدی صاحب کی شہادت کے مطابق جو میزان کے باب ایمانیات اور اخلاقیات میں موجود ہے۔رسالت مآب نبوت سے پہلے اہل ایمان میں شامل تھے اور آپ کی زندگی عمل صالح کا نمونہ تھی لہٰذا آپ نبوت سے پہلے بھی ہدایت پر ہی تھے اس نقطۂ نظر کے تمام دلائل ہم آپ کو میزان سے مہیا کریں گے جو غامدی صاحب کی انجیل ہے ۔ غامدی صاحب کا پہلا اصول کہ رسالت مآبؐ ہدایت یافتہ نہیں تھے۔ ان کے دوسرے اصول کی نفی ہے۔
3
(
۳) میزان میں لکھتے ہیں تمام بھلائیوں کا سرچشمہ دو ہی چیزیں ہیں ایک خدا کی یاد دوسری غریبوں کی ہمدردی :غامدی ، میزان،۲۰۱۵ء،ص ۱۲۹:تیسرا اصول۔
رسالت مآب بھلائیوں کا سرچشمہ تھے خود غامدی صاحب نے میزان میں رسالت مآب میں ان تمام بھلائیوں کو نبوت سے پہلے بھی تسلیم کیاہے لہٰذا غامدی صاحب کا پہلا اصول کہ رسالت مآبؐ ہدایت یافتہ نہیں تھے ان کے تیسرے اصول کی نفی ہے۔
3
(
۴) میزان میں لکھتے ہیں دین کی حقیقت اگر ایک لفظ میں بیان کی جائے تو قرآن کی اصطلاح میں وہ اللہ کی عبادت ہے اللہ اپنے بندوں سے عبادت چاہتا ہے ۔عبادت اصل میں عاجزی و پستی ہے :غامدی ،میزان،۲۰۱۵ء،ص۶۶:چوتھا اصول۔
اس میں کیا شک ہے کہ رسالت مآب عاجزی کا بے مثال نمونہ تھے نبوت سے پہلے آپ کی زندگی اور نبوت اور اقتدار کے بعد آپ کی تمام دعائیں جو میزان کے باب قانون عبادات میں درج ہیں اس عبادت فروتنی عاجزی کا اعلیٰ ترین نمونہ ہیں لہٰذا غامدی صاحب کا پہلا اصول کہ رسالت مآب ہدایت یافتہ نہ تھے ان کے چوتھے اصول کی نفی ہے۔
3
(
۵) غامدی صاحب کی شہادت ہے کہ نماز روز ہ حج زکوٰۃ سب ملت ابراہیمی کے احکام ہیں جن سے قرآن کے مخاطب (مشرکین مکہ؍اہل کتاب)واقف بلکہ بڑی حد تک ان پر عامل تھے ابو ذر غفاری رسولؐ کی بعثت سے پہلے ہی نماز کے پابند تھے جمعہ کی اقامت، نماز جنازہ ،روزہ، زکوٰۃ ،حج و عمرہ سب کا اہتمام ملت ابراہیمی (مشرکین مکہ ؍اہل کتاب) کے لوگ کرتے تھے حج میں چند بدعتیں داخل تھیں مگر ان کے(مشرکین مکہ؍اہل کتاب) مناسک حج فی الجملہ وہی تھے جن کے مطابق یہ عبادت آج( اس وقت) ادا کی جاتی ہیں۔بلکہ یہ لوگ حج کی ان بدعتوں پر متنبہ تھے رسول ؐ نے بعثت سے پہلے جو حج کیا وہ قریش کی بدعتوں سے الگ رہ کر بالکل اسی طریقے پر کیا جس طریقے پر سیدنا ابراہیم ؑ کے زمانے سے حج ہمیشہ جاری رہا ہے: غامدی میزان ۲۰۱۵ء، ص ۴۶:پانچواں اصول۔
غامدی صاحب کے اس اصول سے یہ ثابت ہوا کہ رسالت مآب شریعت اسلامی پر نبوت سے پہلے بھی کامل عمل کرتے تھے نماز روزہ زکوٰۃ عمرہ حج سب آپ ادا کرتے تھے یہ تمام عبادات بدعات سے پاک تھیں ظاہر ہے یہ کام ایک ہدایت یافتہ فرد ہی کرسکتاہے ایسے ہدایت یافتہ فرد کے بارے میں غامدی صاحب کا پہلا اصول کہ رسالت مآبؐ ہدایت یافتہ نہیں تھے البتہ ضلالت یافتہ بھی نہیں تھے[نعوذ باللہ] نہایت ضلالت اور گمراہی کی تحقیق ہے ایسی تحقیق میں وہ کمال رکھتے ہیں غامدی صاحب کا پہلا اصول کہ رسالت مآب ہدایت یافتہ نہیں تھے ان کے پانچویں اصول کی نفی کرتاہے۔ دونوں اصول Oxymoron ہیں۔
3
(
۶ )غامدی صاحب لکھتے ہیں تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنے اخلاق میں دوسروں سے اچھے ہیں قیامت کے دن آدمی کی میزان میں سب سے زیادہ بھاری چیز اچھے اخلاق ہی ہوں گے بندہ مومن وہی درجہ حسن اخلاق سے حاصل کرلیتاہے جو کوئی شخص دن رات کے روزوں اور نمازوں سے حاصل کرتا ہے ، غامدی میزان ۲۰۱۵ء، ص۱۹۷،۱۹۸:چھٹا اصول
تاریخ ،سیرت ،اشعار،احادیث اور کفار ومشرکین مکہ کی شہادتوں سے ثابت ہے کہ رسالت مآبؐ کے اخلاق مثالی تھے قرآن کے نصوص نے بھی اس کی شہادت دی ہے۔ جو شخص اخلاق میں اس قدر معیاری مثالی عالی ہو اس کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ ہدایت یافتہ تو بالکل نہیں تھے محض دنائت ہے لہٰذا غامدی صاحب کا پہلا اصول کہ رسالت مآبؐ ہدایت یافتہ نہیں تھے ان کے چھٹے اصول کی نفی ہے۔
3
(
۷) غامدی صاحب لکھتے ہیں دین کا مقصد قرآن کی اصطلاح میں تزکیہ ہے انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی آلائشوں سے پاک ہو اورفکر و عمل کوصحیح سمت میں نشو و نما دی جائے جنت صرف ان کے لیے ہے جو اس دنیا میں اپنا تزکیہ کرلیں۔لہٰذا دین میں غایت اور مقصود کی حیثیت تزکیہ ہی کو حاصل ہے اور سارا دین اسی مقصو د کو پانے اور اسی غایت کی رہنمائی کے لیے نازل ہوا ہے۔ ۔غامدی ،۲۰۱۵ء، ص ۷۷،۷۸:ساتواں اصول۔
رسالت مآب کی نبوت سے پہلے کی زندگی جو چالیس سال کی حیات ہے تزکیہ کا مجسم نمونہ تھی آپ کے دشمن بھی اس کی شہادت دیتے تھے اس کا مطلب یہ ہوا کہ رسالت مآب نبوت اور بعثت سے پہلے ہی ہدایت یافتہ تھے لہٰذا غامدی صاحب کا پہلا اصول کہ رسالت مآب ہدایت یافتہ نہیں تھے ایک باطل اصول ہے رسالت مآب کا مل ہدایت یافتہ تھے جو شخص پوری دنیا کو ہدایت دینے کے لیے مبعوث کیا گیا ہو اس کی زندگی کے چالیس سال ہدایت سے محرومی میں بسر ہوئے ہوں وہ ضلالت میں کسی نہ کسی درجہ میں مبتلا ہوا ہو۔ یہ تصور ،نظریہ ،عقیدہ ، تحقیق، نقطۂ نظر، اسلوب ،فکر،بدعت، جہالت اور ضلالت ہے بلکہ امت کی اجماعی علمیت کے نقطۂ نظر سے توہین رسالت ہے پاکستانی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملے کو نہایت توجہ سے دیکھے۔غامدی صاحب کا پہلا اصول کہ رسالت مآب ہدایت یافتہ نہیں تھے ان کے ساتویں اصول کی کامل نفی ہے دونوں اصول Oxymoron ہیں۔
3
(
۸) ایمان جب اپنی حقیقت کے اعتبار سے دل میں اترتا ہے تو دو چیزوں کا تقاضہ کرتا ہے(۱) عمل صالح،(۲) تواصی بالحق اور تواصی بالصبر یہ ایمان کے تقاضے ہیں: غامدی ،میزان،۲۰۱۵ء، ص ۷۴: آٹھواں اصول
نبوت سے پہلے رسالت مآب کی ساری زندگی عمل صالح اور تواصی باالحق اور تواصی بالصبر ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے عبارت تھی۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ رسالت مآب غامدی صاحب کے اصول نمبر آٹھ کے تحت نبوت سے پہلے ہی صاحب ایمان تھے اور ایمان کے دو بنیادی تقاضوں عمل صالح اور تواصی بالحق اور تواصی بالصبر پر کامل عمل پیرا تھے تو ایسے ہدایت یافتہ صاحب ایمان ہستی کے بارے میں یہ شک پیدا کرنا کہ وہ ہدایت یافتہ تو نہیں مگر ضلالت پر بھی نہیں تھے خود ضلالت اور جہالت کا اظہار ہے غامدی صاحب کا پہلا اصول کہ رسالت مآب ہدایت یافتہ نہیں تھے ان کے آٹھویں اصول کی نفی ہے ۔
3
(
۹)غامدی صاحب لکھتے ہیں نبی کی حیثیت سے وہی لوگ منتخب کیے جاتے ہیں جو نفس اور شیطان کی ترغیبات سے اپنے آپ کو بچاتے گناہوں سے محفوظ رہتے اور ہر لحاظ سے اپنی قوم کے صالحین و اخیار ہوتے ہیں قرآن نے بہت سے پیغمبروں کے نام گِنا کر فرمایا ہے یہ سب صالحین میں سے تھے: غامدی ،میزان،۲۰۱۵ء، ص۱۳۸: اصول نمبر نو
قرآن نے شہادت دے دی کہکُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ[۶:۸۵] تمام انبیاء صالحین میں سے تھے تو صالحین خود ہدایت یافتہ ہوتے ہیں یہ قرآن کی شہادت ہے کسی ایرے غیرے کی شہادت نہیں ہے اس شہادت کے بعد غامدی صاحب کا یہ کہنا کہ رسالت مآب ہدایت یافتہ نہ تھے قرآن کی نص کا انکار ہے جو قرآن کی نص کا منکر ہے اس کا دین میں کیا مقام ہے یہ اہل علم جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں میرے محترم غامدی صاحب بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔رسالت مآب صالحین میں شامل تھے نبوت سے پہلے ہی وہ ہدایت یافتہ تھے ان کے بارے میں غامدی صاحب کا یہ اصول کہ رسالت مآبؐ نبوت سے پہلے ہدایت یافتہ نہیں تھے اسلام کی اہانت ہے غامدی صاحب کا پہلا اصول ان کے نویں اصول کی نفی کررہا ہے ۔میزان میں وہ خود اعتراف کرتے ہیں کہ نبوت سے پہلے انبیاء کی حفاظت خود اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس سلسلے میں انہوں نے حضرت یوسف اور حضرت آدمؑ کا ذکر کیا لکھتے ہیں:
قرآن نے بہت سے پیغمبروں کے نام گنا کر فرمایا ہے یہ سب صالحین میں سے تھے وَاذْکُرْ عِبٰدَنَآ اِبْرَاہِیْمَ وَاِِسْحَاقَ وَیَعْقُوْبَ اُوْلِی الْاَیْدِیْ وَالْاَبْصَارِ ۔۔۔ اِِنَّآ اَخْلَصْنٰہُمْ بِخَالِصَۃٍ ذِکْرٰی الدَّارِ ۔۔۔ وَاِِنَّہُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِ ۔۔۔ وَاذْکُرْ اِِسْمَاعِیلَ وَالْیَسَعَ وَذَا الْکِفْلِ وَکُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِ [۳۸:۴۵ تا ۴۸] پھر اس تقوی اور احتیاط کے صلے میں اللہ ان کی حفاظت بھی فرماتا ہے سیدنا یوسف ؑ کو جو معاملہ عزیز مصر کی بیوی سے پیش آیا، اس سے صاف واضح ہے کہ نبوت سے پہلے بھی اگر کوئی ایسی صورت حال پیدا ہوجائے جس میں(نبی کا) اپنے آپ کو محفوظ رکھنا آسان نہ ہو تو اللہ تعالیٰ خاص اپنی برہان سے ان کی رہنمائی فرماتا ہے۔ یہ برہان وہی نوریزدانی ہے جو خدا بخشتا تو ہر ایک کو ہے لیکن سنت الہی یہ ہے کہ جو لوگ اس کی قدر کرتے اور زندگی کے نشیب و فراز میں اس کی رہنمائی کو آگے بڑھ کر قبول کرتے ہیں ان کے اندر یہ اس قدر قوی ہوجاتا ہے کہ اس طرح نازک موقعوں پر ان کے باطن میں مہ و آفتاب کی طرح چمکتا اور ظلمتوں کے تمام پردے آنکھوں کے سامنے سے ہٹا کر انھیں راہ ہدایت پرپابرجاکردیتا ہے[میزان ۲۰۱۵ء،ص ۱۳۸، ۱۳۹]غامدی صاحب نے یہاں انبیاء کی عصمت کی الہی حفاظت کی تعمیم کرکے اسے تمام انسانوں کے لیے لازم کردیا ہے جو صریحاً گم راہی ہے انبیاء کی حفاظت کا معاملہ عام انسانو ں سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔
سیدنا آدم علیہ السلام کی جس لغزش کا ذکر قرآن میں ہوا ہے اس سے کسی شخص کو اس باب میں کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔ اس میں شبہ نہیں کہ قرآن نے اس کے لیے عصیان کا لفظ استعمال کیا ہے لیکن قرآن ہی میں اللہ تعالیٰ نے صراحت فرمادی ہے کہ اس کا سبب ان کا نسیان تھا۔ اس سے واضح ہے کہ یہ نا فرمانی جانب نفس میں نہیں ہوئی اور نہ اس کا ارتکاب انھوں نے بالارادہ کیا ہے۔
پھر اپنی اس لغزش پر وہ قائم بھی نہیں رہے۔ بلکہ سخت نادم ہوئے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ نے کمال عنایت سے ان کی توبہ قبول کرکے انھیں نبوت کا منصب عطا کردیا۔[میزان ۲۰۱۵ء،ص۱۳۹]
اس سے بھی معلوم ہوتاہے کہ غامدی صاحب کو اتنا ہوش بھی نہیں ہے کہ وہ قرآن کی نصو ص سے میزان میں خود ثابت کررہے ہیں کہ پیغمبر نبوت سے پہلے ہی ہدایت یافتہ ہوتے ہیں االلہ کی حفاظت میں ہوتے ہیں اور خود ہی برہان میں یہ بیان فرمارہے ہیں کہ پیغمبر نبوت سے پہلے ہدایت یافتہ نہیں ہوتا۔[برہان۲۰۱۳ء،ص۲۷۷]
حیرت ہے کہ غامدی صاحب کویہ بھی احساس نہیں ہے کہ برہان میں وہ پیغمبروں سے متعلق ا یک باطل اصول بیان کررہے ہیں اور میزان میں آٹھ ایسے سچے اصول بیان کررہے ہیں جو برہان کے اصول کی نفی ہیں۔غامدی صاحب کا برہان میں پیش کردہ پہلا اصول کہ رسالت مآب نبوت سے پہلے ہدایت یافتہ نہ تھے میزان میں بیان کردہ ان کے دیگر آٹھ اصولوں کے منافی ہے یعنی ان کے اصول ہی Oxymoron ہیں جس فرد کے اصول ہی صداقت کے پیمانے پر نہیں اترتے اس شخص سے کیا دین اخذ کیا جاسکتا ہے؟ *

 

Your Comment