بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله منگل 02 / جون / 2020,

Instagram

غامدی صاحب کی انبیا کرام ؑ پر بہتان ترازی (استغفراللہ) قسط 3

09 May 2017
غامدی صاحب کی انبیا کرام ؑ پر بہتان ترازی (استغفراللہ) قسط 3

پروفیسر سید خالد جامعی

البیان اور میزان3حضرت ابراہیمؑ پر غامدی صاحب کا بہتانِ عظیم
حضرت ابراہیمؑ کے بارے میں غامدی صاحب کی Oxymoron اورتوہین آمیزتحقیقات کا جائزہ

البیان اور میزان میں غامدی صاحب کے بیان کردہ افکار لفظ بہ لفظ اور حرف بہ حرف پڑھیے:
اللہ تعالیٰ انبیاء علیہم السلام کو تعبیر رویا کا ایک خاص ذوق اور خاص علم بھی عطا فرماتا ہے:غامدی، البیان، جلد دوم ، لاہور،المورد، طبع اول، اگست ۲۰۱۴ء،ص۵۲۱ محولہ بالا
حضرت ابراہیم کے پر پوتے یوسفؑ کو اللہ نے رویا (خواب) کی تعبیر کا علم سکھایا تھا لہٰذا وہ خواب کی تعبیر بتادیتے تھے :غامدی، البیان، جلد دوم ، لاہور،المورد، طبع اول، اگست ۲۰۱۴ء،ص۵۳۷
قرآن کی نص بھی یہی ہے کہ اللہ نے ابراہیمؑ کے پر پوتے یوسفؑ کو تعبیر خواب کا علم خود سکھایا تھا قَالَ لَا یَاْتِیْکُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِہٖٓ اِلَّا نَبَّاْتُکُمَا بِتَاْوِیْلِہٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَکُمَا ذٰلِکُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ اِنِّیْ تَرَکْتُ مِلَّۃَ قَوْمٍ لاَّ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَ ھُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ کٰفِرُوْنَ [سورۂ یوسف۱۲:۳۷]
حضرت ابراہیمؑ کے پوتے یعقوبؑ کو بھی اللہ نے تعبیر خواب کا علم دیا تھا:غامدی، البیان، جلد دوم ، لاہور،المورد، طبع اول، اگست ۲۰۱۴ء،ص۵۲۱،محولہ بالا
خواب کی تعبیر کا علم نبوت کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے :غامدی، البیان، جلد دوم ، لاہور،المورد، طبع اول، اگست ۲۰۱۴ء،ص۵۲۱ ،محولہ بالا
حضرت یوسفؑ نے اپنے والد حضرت یعقوب کو اپنا خواب سنایا کہ گیارہ ستارے اور سورج اور چاند مجھے سجدہ کررہے ہیں تو حضرت یعقوبؑ نے خواب سنتے ہی اندازہ کرلیا کہ اللہ یوسف ؑ کو نبوت عطا کرے گا یہ منصب نبوت پر سرفرازی کا اشارہ ہے :غامدی، البیان، جلد دوم ، لاہور،المورد، طبع اول، اگست ۲۰۱۴ء،ص۵۲۱ ،محولہ بالا
تمام انبیاء کو اللہ خواب کی تعبیر کا علم عطا فرماتے ہیں:غامدی، البیان، جلد دوم ، لاہور،المورد، طبع اول، اگست ۲۰۱۴ء،ص۵۲۱ ،محولہ بالا
غامدی صاحب کی تحقیق کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت ا براہیمؑ کے پر پوتے یوسفؑ اور پوتے یعقوبؑ کو تو تعبیر خواب کا علم سکھادیا مگر صرف حضرت ابراہیمؑ کو اللہ تعالیٰ نے تعبیر خواب کا علم نہیں سکھایا اس موقف کی تقریر وہ میزان میں اس طرح کرتے ہیں لہٰذا (حضرت ابراہیمؑ خواب میں اللہ کی اس ہدایت کہ اپنے بیٹے کو اپنے پروردگار کی خاطر قربان کردو کا مطلب نہیں سمجھے )اللہ کی ہدایت کہ اس بیٹے کو اپنے پروردگار کی خاطر قربان کردویہ ہدایت اگرچہ خواب میں ہو ئی تھی اورخواب کی باتیں تعبیر و تاویل کی محتاج ہوتی ہیں ۔چنانچہ اس خواب کی تعبیر بھی یہی تھی (یہ تعبیر غامدی صاحب نے بیان کی ہے حضرت ابراہیمؑ اس تعبیر کے فہم سے عاجز تھے) کہ وہ بیٹے کو معبد کی خدمت کے لیے اللہ تعالیٰ کی نذرکردیں اس سے ہر گز یہ مقصود نہ تھا (خواب میں اللہ کا مطالبہ کہ اپنے بیٹے کو میرے راستے میں قربان کردو) کہ حضرت ابراہیمؑ فی الواقع اُسے (اسمٰعیلؑ کوچھری سے دنبے کی طرح) ذبح کریں۔ [غامدی،میزان،۲۰۱۵،ص۴۰۱]ظاہر ہے حضرت ابراہیمؑ اس خواب کا مطلب اس کی معنویت اس کی حقیقت اس کا مقصد نہیں سمجھے لیکن اکیسویں صدی میں غامدی صاحب کو الالمپور میں اس کا مطلب فلسفے، منطق عقلیت اور فطرت سے سمجھ گئے غامدی صاحب کا فہم ،ذوق، اخذ و اکتساب کی صلاحیت ظاہر ہے حضرت ابراہیمؑ سے بہت بہتر برتر اور افضل ہے (نعوذ باللہ) غامدی صاحب کے یہ خیالات نہایت توہین آمیز ہیں۔ ان سے رجوع کی ضرو رت ہے۔
غامدی صاحب نے حضرت ابراہیمؑ کے خواب اور حضرت اسمٰعیل ؑ کے جواب کی تقریر اپنی کتاب میزان میں جس طرح کی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’حضرت ابراہیمؑ نے خواب کی غلط تعبیر کی خواب میں بیٹے کو قربان کرنے کا مطلب یہ ہوتاہے کہ بیٹے کو معبد کی خدمت کے لیے اللہ کی نذر کرد واس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اسے زمین پر لٹا کر ذبح کردو حضرت ابراہیمؑ خواب کا مطلب ہی نہیں سمجھے‘‘:غامدی،میزان،۲۰۱۵ء،ص۴۰۱
خواب کا مطلب اللہ کے دو عظیم پیغمبر بے چارے حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسمٰعیل ؑ تو نہیں سمجھ سکے مگر اکیسویں صدی کے جلیل القدر مفکر غامدی صاحب سمجھ گئے۔ خواب کی تاویل و تعبیر کا علم پیغمبر کو تو نہیں حاصل ہوتا مگر غامدی صاحب جیسے مفکر کو کوالا لمپور میں عقل، منطق، فلسفے سے خو د بخود حاصل ہو جاتا ہے
غامدی صاحب میزان میں لکھتے ہیں حضرت ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے اسمعیل ؑ کو قربانی کے لیے پیشانی کے بل لٹا دیا قریب تھا کہ چھری چل جاتی لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ندا آئی ابراہیمؑ تم نے خواب کو سچ کر دکھایا یہ ایک بڑی آزمائش تھی تم اس میں کامیاب ہوئے :غامدی، میزان،۲۰۱۵ء،ص۴۰۱، ۴۰۲
اللہ تعالیٰ کہہ رہے ہیں کہ تم نے خواب کو سچ ثابت کردیاتم نے خواب جیسا دیکھا من و عن اس پر عمل کیا اس میں بنی اسرائیل کی طرح مین میخ نہیں نکالی جس طرح انہوں نے گائے کی قربانی کے لیے سوالات کا انبار لگادیا کہ گائے کا رنگ کیا ہے وہ کیا کرتی ہے وغیرہ وغیرہ اور آخر کار قربانی پر مجبور ہوگئے لیکن حضرت غامدی صاحب فرمارہے ہیں کہ حضرت ابراہیمؑ خواب کا مطلب ہی نہیں سمجھے اور غلطی سے بیٹے پر چھری چلادی غامدی صاحب کے یہ افکار تحقیقات نظریات متناقض متضاد Oxymoron ہی نہیں توہین آمیز بھی ہیں۔
ایک جانب وہ فرماتے ہیں کہ خواب علم نبوت کا ذریعہ ہے اللہ انبیاء کو تعبیر رویا کا ذوق اور علم عطا کرتا ہے [غامدی، البیان ، جلد دوم، ص۵۲۱، محولہ بالا] اور دوسری جانب حضرت ابراہیمؑ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ تعبیر خواب کا علم نہیں رکھتے تھے لہٰذا خواب کا مطلب نہیں سمجھ سکے انہوں نے بلا وجہ اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کی کوشش کی تو کیا حضرت ابراہیمؑ نبی بھی تھے یا نہیں؟ غامدی صاحب خود فرمائیں کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے؟ایک نبی جو اللہ کا منتخب کردہ بندہ ہے اگر وہی اللہ کی بات ،پیغام ،اشارہ، کنایہ ،مقصد ،مدعا ،نقطہ نظر ، منشاء ،خواب،ادعاسمجھنے سے قاصر ہے تو نعوذ باللہ اس سے بہتر تو غامدی صاحب ہی ہیں جو نہ پیغمبر نہ صحابی نہ تابعی مگر وہ حضرت ابراہیمؑ کے خواب کی معنویت اور حقیقت سے واقف ہوگئے۔
غامدی صاحب اپنی تفسیر البیان میں خود لکھتے ہیں:
حضرت یوسف ؑ نے اپنے باپ (حضرت یعقوبؑ )سے کہا کہ ابا جان میں نے خواب دیکھا ہے کہ گیارہ ستارے ہیں اور سورج اور چاند ہیں میں نے ان کو دیکھا کہ وہ مجھ سجدہ کررہے ہیں (حضرت یعقوبؑ نے جواب دیا ) یہ خواب بتارہا ہے کہ تمہارا پروردگار تمہیں اسی طرح برگزیدہ کرے گا اور تمہیں باتوں کی حقیقت تک پہنچنا سکھائے گا۔
(یوسف ؑ نے) یہ خواب جس طرح سنایا ہے اس سے ان کی طبیعت کے اندر جو تواضع تھی وہ پوری طرح نمایا ں ہوگئی
اس کے معنی یہ ہیں کہ حضرت یعقوب ؑ نے خواب سنتے ہی اندازہ فرمالیا کہ یہ منصب نبوت پر سرفرازی کا اشارہ ہے۔(انہوں نے اپنے بیٹے کو بتایا کہ)یعنی اس رویا کی حقیقت بھی تم پر واضح ہوجائے گی اور اس نوعیت کی دوسری چیزوں کو سمجھنے کا علم بھی عطا ہوگا۔
’’۔۔۔رویا چونکہ علم نبوت کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے اور رویا میں حقائق مجاز کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں جن کو سمجھنا ایک خاص ذہنی مناسبت کا مقتضی ہے، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ حضرت انبیاء علیہم السلام کو تعبیر رویا کا ایک خاص ذوق اور ایک خاص علم بھی عطا فرماتا ہے‘‘:غامدی، البیان، جلد دوم، ص ۵۱۹، ۵۲۰، ۵۲۱،محولہ بالا

البیان جلد دوم میں سورۂ یوسف کی تفسیر کرتے ہوئے غامدی صاحب نے واضح کردیاکہ حضرت ابراہیمؑ کے پوتے حضرت یعقوب بھی تعبیر خواب کا علم رکھتے تھے اور ابراہیمؑ کے پر پوتے حضرت یوسف ؑ خواب کی تعبیر کا بے مثال علم رکھتے تھے مگر ان کے جد امجد جن کی ملت کی اتباع اور جن کی شریعت کی پیروی رسالت مآب پر بھی لازم ہے یعنی حضرت ابراہیم صرف ابو الانبیاء ،انبیاء کے سالار حضرت ابراہیم بس ۔وہ تعبیر خواب کا علم نہیں رکھتے تھے عقلی منطقی طور پر یہ بات ناقابل قبول ہے۔
یہ بات بھی آپ کے علم میں ہوگی کہ غامدی صاحب رسالت مآب کوایک کامل ، رسول تسلیم نہیں کرتے بلکہ آپؐ کو صرف اور صرف دین ابراہیمی کا مجدد ثابت کرتے ہیں جس کا کام صرف اور صرف ملت ابراہیمی کی تقلید اور دین ابراہیمی کی تجدید کے سوا کچھ نہیں تھا لہٰذا قرآن او ر سنت رسول اللہ اصلاً دین ابراہیمی کے احیاء و تجدید ہی کا نام ہے لہٰذا میزان میں لکھتے ہیں نبیؐ کی بعثت دین ابراہیمی کی تجدید کے لیے ہوئی [غامدی میزان ۲۰۱۵ء ص ۲۷۴] اسی کی تشریح و توضیح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسالت مآبؐ جو دین لائے تھے اس کا ایک ماخذ سنت دین ابراہیمی کی روایت ہے جسے نبیؐ نے اس کی تجدید و اصلاح کے ساتھ اپنے ماننے والو ں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا آپ کو ملت ابراہیمی کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے یہ روایت بھی اسی کا حصہ ہے۔[غامدی، میزان، ۲۰۱۵ء،ص ۱۴]
غامدی صاحب کی نظر میں قرآن کوئی بہت اہم کتاب نہیں ہے بلکہ قرآن کا کام صرف اور صرف بعض چیزوں میں ترمیم و اضافہ کرنا ہے اس اصول کی تقریر انہوں نے البیان میں اس طرح کی ہے قرآن مجید اور دوسری کتابوں میں اس کے سوا کوئی فرق نہیں ہے کہ بعد میں آنے والی کتاب قانون سے متعلق بعض چیزوں میں ترمیم و اضافہ کردیتی ہے [غامدی، البیان، جلد اول،ص ۶۵۷] قرآن کی اس تحقیر کے بعد وہ انجیل زبور کی تحقیر کرتے ہوئے انھیں الکتاب تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں اس اصول کی تقریر وہ البیان میں اس طرح کرتے ہیں یہاں (سورۂ المائدہ آیت ۴۸ میں) انجیل کا ذکر اس لیے نہیں ہو ا کہ قرآن سے پہلے اصل کتاب کی حیثیت تورات ہی کو حاصل تھی زبور انجیل دوسرے صحائف درحقیقت اسی کے فروع ہیں [البیان جلد اول ص ۶۴۲] چلیے انجیل کی تحقیر کرکے اسے صرف تورات کی فروع تک محدود کردیا جاتا تو ہم خاموش ہوجاتے مگر میزان میں وہ انجیل کے کتاب ہونے کا انکارفرماتے ہیں اس انکارکی تقریر انہوں نے میزان میں اس طرح کی ہے انجیل یہ کوئی مرتب کتاب نہیں بلکہ عیسیٰؑ کے منتشر خطبات تھے جو زبانی روایتوں اور تحریری یاد داشتوں کے ذریعے سے لوگوں تک پہنچے [میزان ۲۰۱۵ء،ص ۱۵۳] قرآن انجیل کو الکتاب کہہ رہا ہے یہ فرمارہے ہیں کہ الکتاب کا مطلب منتشر خطبات تھا جسے لوگوں نے ادھر ادھر سے سن سنا کر جمع کردیا انجیل کی یہ تحقیر اصلاً قرآن کی نص کی تحقیر ہے جدیدیت پسند مغرب کی تائید تحسین میں جری او ر اسلامی علوم روایات اور اقدار کی تحقیر میں قوی ہوتے ہیں۔
غامدی صاحب دیانت داری سے خود فیصلہ کرلیں کہ میزان میں انہوں نے حضرت ابراہیمؑ پر جو بہتان عظیم عائد کیا ہے وہ درست ہے یا البیان میں انہوں نے غلطی سے انبیاء کے خواب کے بارے میں جو حقیقت بیان کی ہے وہ درست ہے؟جب ہر نبی کو اللہ تعالیٰ خواب کی تعبیر کا ذوق اور علم بھی عطا کرتے ہیں تو غامدی صاحب کا یہ دعویٰ کہ وہ خواب کا مطلب نہیں سمجھے لیکن حضرت ابراہیمؑ کے خواب کا مطلب غامدی صاحب نے بغیر نبو ت حاصل کیے سمجھ لیا۔ یہ نقطۂ نظر صرف اور صرف توہین رسالت کا معاملہ نظر آتا ہے اور توہین رسالت کے بارے میں غامدی صاحب نے مقامات میں یہ تحقیق پیش کی ہے کہ یہ قابل معافی جرم ہے اگر مجرم جرم پر اصرار نہ کرے ۔توہین کے مرتکب کو تو بہ و اصلاح کی دعوت دی جائے گی اور بار بار توجہ دلائی جائے گی کہ وہ خدا اور رسول کا ماننے والا ہے تو اپنی عاقبت برباد نہ کرے اور ان کے سامنے سر تسلیم خم کردے اور اگر ماننے والا نہیں ہے تو مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرے اور اس فعل شنیع [Henious Crime] سے باز آجائے اس کے خلاف (توہین رسالت کا ) مقدمہ صرف اس صورت میں قائم کیا جائے گا جب وہ توبہ اور رجوع سے انکار کردے سرکشی کے ساتھ توہین پر اصرار کرے [مقامات، ۲۰۱۴ء، توہین رسالت کی سزا، ص ۲۸۲] ہمیں یقین ہے کہ غامدی صاحب اپنے اصول کے تحت کم از کم خود اللہ سے معافی کے خواستگار ہوں گے۔اور اپنی اس سنگین غلطی سے رجوع کرنے میں میں ایک لمحے کا تامل بھی نہیں کریں گے۔
ہمیں یہ بھی یقین ہے کہ وہ مستقبل میں اس قسم کے تفردات اور اجتہادات کے ذریعے امت کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش نہیں کریں گے اور آزادی اظہار رائے [Freedom of expression] کے جدید مغربی عقیدے کا اطلاق کم از کم انبیاء کے معاملات میں نہیں کریں گے کہ یہ امت اس مسئلے میں بہت حساس ہے۔ غامدی صاحب ایک محقق ہیں اور محقق اپنی اغلاط سے رجوع کرنے میں کبھی تأمل، تساہل، تغافل نہیں کرتا وہ خود میزان کے خاتمے میں یہ اصول بیان کر چکے ہیں کہ’’ آئندہ بھی اس کتاب کی جو غلطی مجھ پر واضح ہو جائے گی یا واضح کردی جائے گی انشاء اللہ اس کی اصلاح کروں گا میں اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ دین کے معاملے میں جانتے بوجھتے کوئی غلطی کروں یا غلطی پرجمارہوں [غامدی،میزان،۲۰۱۵ء،ص ۶۵۰، ۶۵۱]

Your Comment