بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله بدھ 26 / فروری / 2020,

Instagram

علماء ،مدارس اورامت کے خلاف غامدی صاحب کی قلمی دہشت گردی

09 May 2017
علماء ،مدارس اورامت کے خلاف غامدی صاحب کی قلمی دہشت گردی

سیّد خالد جامعی، ساحل، کراچی

جاوید غامدی علماء کے بد ترین دشمن:
محترم جناب جاوید غامدی صاحب کا اصل ہدف مساجد، مدارس اور علماء کا وجود ہے اس حقیقت میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ علماء ہی مسند رسول کے وارث ہیں رسالت مآب کے لائے ہوئے دین کی شمع انہی کے وجود سے روشن ہے یہ نہ ہوں تو دین باقی نہیں رہ سکتا علماء کرام کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے آج بھی دینی علمیت کو ماہ و سال کی ہزاروں گردشوں کے باوجود اس کی اصل حالت میں باقی رکھا ہے اسی لیے برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا تھا کہ ہندوستان و پاکستان کے مدارس اصل دہشت گرد ہیں دہشت گرد ی کی بنیادیں ان مدارس میں ہیں اس سے مراد یہ تھی کہ دنیا میں روایتی مدارس کا نظام صرف اور صرف پاک و ہند ا ور موریطانیہ میں محفوظ ہے اس کے سوا ہر جگہ یہ روایت موہوم معدوم ہوتی جارہی ہے۔ کئی ملکوں میں مدرسے یونیورسٹی بن کر اپنی روحانی نورانی روایت کھوچکے ہیں۔
بعض مدارس کے مہتمم اکثرمختلف غیر ملکی سفراء کو مدرسوں کا دورہ کراکے بتاتے ہیں کہ یہاں صرف تعلیم ہوتی ہے دہشت گردی کی تربیت نہیں دی جاتی آپ ہمارے مدرسے کے ہر حصے کا معائنہ کرلیں یہاں جہادی تربیت کا کوئی نظام نہیں ۔ یہ محترم سادہ لوح علماء ،سفارتی زبان سے واقف نہیں مدارس میں دہشت گردی سے ٹونی بلیئر اور مغرب کی مراد یہ ہے کہ یہاں وہ علم ، شریعت، قرآن سنت حدیث کا درس دیا جاتا ہے جو اس دنیا پر اللہ کے دین کے غلبے کی دعوت دیتا مسلمانو ں کے لہو کو پکارتا اور انہیں ان کے ماضی سے وابستہ کرکے عشقِ رسول سے آراستہ کرتا ہے عشق رسول کے یہ مراکز مغرب کی نظر میں دہشت گردی کے اڈے ہیں اور غامدی صاحب کا موقف بھی یہی ہے۔ غامدی صاحب اور مغرب کو علماء کے اسلام سے نفرت صرف اس لیے ہے کہ علماء ہر معاملے ،قضیے، مسئلے کا دو ٹوک حل پیش کردیتے ہیں یہ حلال یہ حرام یہ صحیح یہ غلط یہ باطل
یہ طریقہ جدید مغربی فلسفے کی روشنی میں غلط طریقہ ہے کیوں کہ الحق، طے شدہ کچھ نہیں ہوتا آپ تنقیدی تجزیے انتقادی تفکر و تدبرCritical thinking کرتے رہیں کرٹیکل تھیوری کے تحت ہر مسئلے کے ہر موضوع کے ہر پہلوپر بحث و مباحثہ جاری رہے گا۔اس بحث و مباحثے کے نتیجے میں کوئی شے واضح ہو کر سامنے آ ئے گی لہٰذا عمومی اتفاق رائے General Consences کی روشنی میں کوئی عارضی حکمت عملی بنائی جائے گی لیکن یہ حکمت عملی لازماً سرمایہ دار انہ مقاصد [Capital in General]کے خلاف نہ ہو ارادہ عامہ General Willکے خلاف نہ ہو اور Pragmatism اور Utalitarian Prinicple کے جدیدآفاقی فلسفو ں کے عین مطابق ہو۔
لہٰذا مغرب میں ہر شے ، نقطۂ نظر،فکرکا تنقیدی تجزیہ ہوتا رہتا ہے آزادی[Freedom] کے سوا ہر مسئلے ہر عقیدے ہر نظریے پر بحث جاری رہتی ہے اسقاط حمل ٹھیک ہے ٹھیک نہیں ہے یہ عورت زانیہ کاحق ہے نہیں ہے یہ انسان کا حق ہے مگر وہ بچہ جو رحم مادر میں ہے کیا وہ انسان نہیں وہ ابھی انسان نہیں بنا لہٰذا اس کا کوئی حق قائم نہیں ہوا
رحم مادر میں جو حمل ٹھہر گیا وہ انسان کا حمل ہے یا نہیں لہٰذا وہ صرف حمل نہیں وہ مخفی انسان [Potential Human] تو ہے اس کو انسان بننے سے روکنا خود انسانیت کے خلاف جرم ہے اگر ہم اسے جرم تسلیم کرلیں تو جو انسان اس بچے سے پہلے موجود ہے یعنی اس کی ماں۔ اس کی آزادی لازماً اس جرم سے متاثر ہوگی لہٰذا اسقاط حمل [abortion]یہ جرم نہیں عورت کا حق[Right] ہے کہ وہ آزادی کا استعمال کرکے زنا کرے مگر زنا کے نتیجے کو روک دے۔
انسان کے حقوق ہیں توکیا جانو روں کے بھی حقوق ہیں دونوں کے حقوق میں تصادم ہو تو کس کا حق فائق ہوگا انسان کا یا جانور کا یا دونوں برابر ہوں گے مغرب میں علم کا سفر اسی طرح طے ہوتا ہے اسی کو علم کہا جاتا ہے مباحثے کے انہی طریقوں کو ہمارے غامدی صاحب نے دین کے معاملات میں اسی طریقے سے داخل کردیا ہے کہ دین کا ہر اصول قابل بحث ہے ہر بات قابل تنقید ہے اور دلیل یہ ہے کہ علم کے سفر میں کوئی منزل نہیں ہوتی بس پڑاؤ ہوتا ہے۔مغرب احتمالی غیر قطعی ظنی غیر مطلق اور مطلق متغیر علم کو العلم کہتا ہے غامدی صاحب اپنے اجتہادات سے اسلام کو ایسا ہی علم بنانا چاہتے ہیں جو ہمیشہ تغیر و تبدیلی کے مرحلے میں رہے اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ علم کی کوئی منزل نہیں صرف پڑاؤ ہوتے ہیں آج یہاں ٹھہر گئے کل آگے چل دیے دین میں ایسا نہیں ہوتا۔
اسلام العلم ہے اور العلم قطعی الدلالۃ ہوتا ہے وہ دو ٹوک ہوتا ہے وہ حق و باطل صحیح و غلط خیر و شر معروف و منکرکی تعریف اور حدود طے کرتا ہے اور اس کے مطابق فیصلے کرتا ہے اسلام سائنس اور فلسفہ نہیں ہے جو العلم نہیں لہٰذا ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں ان مناہج علمی میں کوئی اصول حتمی و قطعی نہیں سائنس اور فلسفے کے مختلف مناہج کے اصول و مبادی بھی مختلف ہیں ان مناہج کے مبادیات کو تسلیم کرکے یہ دائرہ ہائے علم کام کرتے ہیں ۔ لہٰذا صرف اسلام ہی العلم ہے اسے اپنے کامل ہونے کا دعویٰ ہے کیوں کہ وہ لوح محفوظ میں محفوظ علم ہے علم احتمال کی نفی اور قطعیت کا نام ہے علم وہ صفت ہے جس سے حقائق میں ایسا امتیاز حاصل ہوجاتاہے کہ نقیض Oxymoron کا احتمال نہ رہے قطعی کا متضاد ظن ہے جس میں ہمیشہ احتمال رہتا ہے لہٰذا اسلام ہر معاملے میں دو ٹوک بات کرتا ہے مغرب اس طریقے کو مستر د کرتا ہے۔
رچرڈ رارٹی اور تمام پوسٹ ماڈرنسٹ مفکرین بھی یہی کہتے ہیں کہ العلم کیا ہے کچھ پتہ نہیں حقیقت کیا ہے حقیقت ازلی و ابدی کیا ہے اس کا کچھ پتہ نہیں الحق الخیر قدیم فلسفے کی باتیں ہیں وہ فلسفہ اٹھارہویں صدی میں رد ہوچکا ہے جمالیات اور تخلیقی تخیل Creative Imagination کے ذریعے زندگی کے مسائل حل کرتے چلے جاؤ تلاش حقیقت اور تلاش خیر کے فلسفے بے کار ہیں اس زندگی کو کیسے بسر کیا جائے بس یہ بات اہم ہے۔ہائیڈیگر نے یہی بات اس طرح کہی تھی کہ مجھے دنیا کے اس سمندر میں کسی نے پھینک دیا ہے Some one thrown me in this world لہٰذا یہ سوال کہ میں کہاں سے آیا ہوں اور کہاں جاؤں گا بے معنی سوالات ہیں کیوں کہ یہ دونوں سوالات میری حالت شعور سے پہلے کے سوال ہیں ان پر غور کرنے کی ضرورت ہی نہیں یہ زندگی میرے شعور کی علامت ہے لہٰذا اس زندگی کو کیسے بسر کیا جائے اور فاتحانہ موت کیسے حاصل کی جائے بس یہ سوالات اہم ہیں۔
جدیدیت اور مغربیت کے تمام فلسفیوں میں کیوں کہ اصل زندگی مادی ہے یہ دنیا ابدی Eternal ہے لہٰذا لوگوں کی تکالیف کم ہوں اور مادی خوشیوں میں اضافہ ہو ترقی خوشی راحت کا صرف وہ تصور جو مادے اور اعداد و شمار اور ریاضی کی زبان میں بیان ہوسکے وہی مستند ہے ۔دوسرے معنوں میں مغرب نے آخرت سے دنیا روحانیت سے مادیت کے اس سفر کو معیار سے مقدار کے عہد میں تبدیل کردیا یعنی یہ عہد مقدار کا عہد ہے جسے ہم Age of Quantitification کہتے ہیں ہر چیز اسی پیمانے پر پرکھی جاتی ہے جلسے میں کتنے لوگ آئے، فیس بک پر کتنے لوگوں نے پسند کیا، کتنے لوگ آپ کے اکاونٹ سے ملحق ہیں کتاب کتنی شائع ہوئی تقریر کتنے لاکھ لوگوں نے سنی مقدار کے اس عہد میں مغرب کے کسی ذریعہ ابلاغ کو تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی کا اجتماع نظر نہیں آتا جو تمام جدید ابلاغی اطلاعی تشہیری اصولوں کو رد کرتا ہے لیکن حج کے بعد تعداد کے لحاظ سے سب سے بڑا اجتماع ہوتا ہے ایک ایسا اجتماع جس کا نہ اشتہار آتا ہے نہ اخبارات میں پریس ریلیز شائع ہوتا ہے چونکہ اس تعداد کا سبب روحانی ہے لہٰذا یہ بھی مقدار کے پیمانوں پر رد کردیا جاتا ہے۔
مغرب میں کانٹ کے فلسفے کے بعد علم صرف تجربیت اور عقلیت کے آمیزے کا نام ہے یہی العلم ہے جو علم ان دو معیارات پر پورا نہیں اترتا وہ علم نہیں جہالت ہے لہٰذا مغرب نے مذہب کو اسی بنیاد پر رد کیا کہ انسان کو جو ذرائع علم میسر ہیں ان کی بنیاد پر ما بعد الطبیعیات کا علم ممکن نہیں یعنی خدا رسول فرشتے ممکن ہے کہ موجود ہوں مگر علم تجربے ریاضی اور عقلیت پرستی سے ہم ان کو پا نہیں سکتے لہٰذا صرف ان کا وجود ہمارے لیے بے معنی ہے معانی صرف اس علم کے ہیں اور صرف وہ علم با معنی ہے جو تجربیت عقلیت کے معیار پر اترے ریاضی کی زبان میں اسے بیان کیا جا سکے۔ جس کی تردید کی جاسکے جس علم کو ہر شخص اسی طریقے سے دنیا میں ہر جگہ حاصل کرسکے جس طرح کسی دوسرے نے اسے حاصل کیا ہے۔ لہٰذا العلم صرف اور صرف سائنسی علم ہے ۔انہی معنوں میں فوکو یاما کہتا ہے کہ تاریخ کا سفر ختم ہوگیا ہے مغرب نے ایک ایسی آفاقی عالمی دائمی تہذیب ، سائنس، نظام تعلیم، نظام معیشت و سیاست ایسے اصول ادارے اخلاقیات تخلیق کردی ہے جس سے بہتر تخلیق ممکن نہیں یہی End of History ہے اسی لیے فوکالٹ لکھتا ہے کہ اٹھارہویں صدی سے پہلے مکالمہ ہوتا تھا اب مکالمہ ختم ہوگیا ہے ۔
مکالمہ ختم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ مغرب اپنے عقیدے نظریے کو پوری قوت و طاقت سے مسلط کرنا چاہتا ہے کیونکہ وہ اپنی علمیت پر اعتماد کھوچکا ہے۔اب ادارتی یک طرفہ مکالمہ Institutional Monologue ہورہا ہے اب مکالمہ صرف Reason اور Unreason کے درمیا ن ہے اسی لیے رچرڈ رارٹی نے کہا تھا کہ ہم نے پوپ سے مکالمہ نہیں کیا تو ہم اسلامی جدیدیت پسندوں سے کیوں مکالمہ کریں۔ وجہ ظاہر ہے کہ مکالمہ کی شرط کوئی مشترکہ متفقہ اصول ہوتا ہے دونو ں تہذیبوں کے اصول ہی مختلف ہیں وہ مادی مقداری تعددی جسمانی ہے یہ تہذیب روحانی اخلاقی اصلاحی نورانی تہذیب ہے دونوں کی ما بعد الطبیعیات الگ ہیں ۔
یہ حقیقت ہے کہ مغرب عقلیت پر ایمان رکھتا ہے مگر عقلیت کے اٹھائے ہوئے سوالوں کا جواب دینے سے قاصر ہے ماڈرن ازم کے عقیدوں پر پوسٹ ماڈرن ازم کی عقلی تنقید نے ثابت کردیا کہ آزادی مساوات ترقی انسانی حقوق سرمایہ دارانہ نظام وغیرہ آفاقی عالمی اقدار نظام نہیں ہیں یہ مغربی اقوام کا تاریخی تہذیبی مقامی علاقائی جغرافیائی تجربہ ہے پوسٹ ماڈرن ازم کہتا ہے چونکہ یہ ہمارا تجربہ ہے لہٰذا ہمیں جمالیاتی طور پر اچھا لگتا ہے مگر یہ آفاقی عالمی اقدار و روایات نہیں ہے جسے دنیا پر مسلط کیا جائے۔
غامدی صاحب انہی اصولوں کی روشنی میں اپنے جدید اسلام کی تشکیل کررہے ہیں وہ ماڈرن ازم اور پوسٹ ماڈرن ازم سے متاثر ہیں لہٰذاان کا اصل نشانہ بھی یہی مدارس اور علماء کرام ہیں لہٰذا علماء کے خلاف جو کچھ زہر وہ اگل رہے ہیں اور پاکستانی ریاست کو مسلسل مدارس اور علماء کے خلاف اکسا رہے ہیں اس سے آگہی علماء کے لیے بہت ضروری ہے ذیل میں ہم ان کی کتاب مقامات سے علماء دشمنی پر مبنی ان کی قلمی دہشت گردی کے حوالہ جات پیش کررہے ہیں ہماری یہ سوچی سمجھی رائے ہے کہ جو دین کا دشمن ہے وہی اصلاً علماء مساجد اور مدارس کا دشمن ہے اسلام سے محبت رکھنے والا بلاشبہ علماء، دینی مدارس اور مساجد سے بھی محبت رکھتا ہے یہ محبت ایمان کی علامت ہے۔
مقامات میں علماء کے خلاف غامدی صاحب کی قلمی دہشت گردی
علماء کے پیش کردہ غلط دین کے خلاف جہاد کبیر لازمی ہے :غامدی مقامات۲۰۱۴ء، ص ۱۶۹
مولوی مدرسے مسجد کے اسلام کا مقابلہ سیکولر ا زم نہیں مذہبی فکر کا جوابی بیانیہ کرے گا:غامدی، مقامات ص ۱۹۸
علماء کا اسلام پہلوں (صحابہ متقدمین) سے اختلاف کی جرات نہیں رکھتا: غامدی مقامات،۲۰۱۴ء ص ۳۳۰
دین پر عمل اور فہم و ذکاء کے اعتبار سے آج کے لوگ اگلوں سے بالکل پیچھے نہیں :غامدی، مقامات ،۲۰۱۴ء ،ص ۳۳۱
مدارس میں روشنی نہیں یہ تیرہ و تار ہیں مقامات،۲۰۱۴ء ، ص ۳۳۳
دین کا عالم صرف وہ بنے جو کم از کم انٹر پاس کر چکا ہو:غامدی، مقامات، ص ۱۹۹
علماء سے جمعہ کا خطبہ اور مسجد کا منبر چھین لیا جائے:غامدی ، مقامات، ص ۲۰۰
علماء کو انتہا پسندی کی طاقت مسجد کے ذریعے حاصل ہے :غامدی ، مقامات، ص ۲۰۰
مدارس کا نصاب گل سڑ چکا ہے یہ کسی ترقی کو قبول نہیں کرتے: غامدی مقامات،۲۰۱۴ء،ص۳۳۳ ، ۳۳۴
علماء کے دین کے خلاف مدرسہ فراہی کا پیش کردہ دین اسلام کی تشکیل جدید ہے:غامدی، مقامات ،۲۰۱۴ء،ص ۱۶۹
سنی علماء بادشاہت کو خلاف شریعت نہیں سمجھتے: غامدی مقامات ،۲۰۱۴ء،ص ۱۸۰
علماء بارہ صدیوں پرانے اسلام کے تحت تمام اداروں پر قاضی القضاہ کی بالادستی چاہتے ہیں: غامدی مقامات ص ۱۸۸
اسلامی سیاست کا اصل طریقہ جمہوریت ہے: غامدی مقامات ،ص ۱۸۸۔۱۸۹
مدارس دہشت گردی نفاذ شریعت جہاد و قتال کی تعلیم دے رہے ہیں: غامدی، مقامات ،ص۱۹۷
مدارس میں کفر شرک ارتداد کے استیصال کے اسباق پڑھائے جارہے ہیں :غامدی، مقامات ۱۹۷، ظاہر ہے مدارس میں کفر و شرک و ارتداد کے استقبال کے اسباق تو نہیں پڑھائے جاسکتے غامدی صاحب ۔۔
مدارس میں پیش کردہ قرآن و حدیث کی تعبیرات بالکل غلط ہیں:غامدی، مقامات، ص۱۹۸
اصل دین وہ ہے جو مدرسہ فراہی کے اہل علم اصلاحی وغیرہ نے پیش کیا: غامدی
علماء کے دین کے خلاف نئے دین کی دعوت جہاد کبیر ہے:غامدی

مدرسۂ فراہی کے اکابر اہل علم نے خدا کی توفیق سے دین حق کو دور حاضر میں فقہ و کلام اور فلسفہ و تصوف کی ہر آمیزش سے الگ کرکے بے کم و کاست اور خالص قرآن و سنت کی بنیاد پر پیش کردیا ہے۔اس دین کی نشر و اشاعت اس کے مطابق لوگوں کی تعلیم و تربیت اور اس کی روشنی میں مسلمانوں کے مذہبی فکر کی تشکیل جدید ایک جہاد کبیر ہے۔ ہم انھیں دعوت دیتے ہیں کہ اپنی تائید اپنے وقت اور اپنے وسائل سے وہ اس جہاد میں ہماری مدد کریں:غامدی،مقامات،۲۰۱۴ء،ص۱۶

 

Your Comment