بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله پیر 08 / اگست / 2022,

Instagram

علماء ،مدارس اورامت کے خلاف غامدی صاحب کی قلمی دہشت گردی(قسط 2)

2017 May 09

علماء ،مدارس اورامت کے خلاف غامدی صاحب کی قلمی دہشت گردی(قسط 2)

پروفیسر سید خالد جامعی

قرآن کے خلاف خدا کے پیغمبر کی بات بھی نہ مانی جائے:غامدی
کیا خدا کا پیغمبر مجسم قرآن۔ قرآن کے خلاف حکم دے سکتا ہے؟
یہ (قرآن) محض کتاب نہیں ہے۔ یہ خدا کی میزان ہے جو اس لیے نازل کی گئی ہے کہ دین کے معاملے میں تمام حق و باطل کا فیصلہ اسی پر تول کر کیا جائے۔ مسلمان اپنے تمام اختلافات اس کے سامنے پیش کریں اور جو فیصلہ اس کی بارگاہ سے صادر ہو جائے بے چون و چرا اسے قبول کرلیں۔ یہ ان کے علم و عمل کا مرکز ہو۔ ایمان و عقیدہ اور دین و شریعت کے تمام معاملات میں یہی مرجع بنے،ہر تحقیق ، ہر رائے اور ہر نقطۂ نظر کو ہمیشہ اس کے تابع رکھا جائے۔ یہاں تک کہ خدا کے پیغمبر وں کی کوئی بات بھی اس پر حکم نہ سمجھی جائے۔ بلکہ ہر چیز پر اسی کو حکم مانا جائے:غامدی، مقامات،۲۰۱۴ء،ص۱۷۱3غامدی صاحب کا یہ اصول بھی بالکل غلط ہے پیغمبر کتاب اللہ سے ہٹ کر بھی حکم دیتے ہیں مثلاً کتاب اللہ نے خون کو حرام قرار دیا پیغمبر نے خون جگر اور تلی حلال کردیے :غامدی میزان ۲۰۱۵ء ص ۴۰ اللہ نے مکہ کو حرام ٹھہرایا پیغمبر نے مدینہ کو بھی حرام قرار دے دیا :غامدی میزان ۲۰۱۵ء،ص ۳۹۹ ۔ اللہ نے چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا قرار دی پیغمبر نے چوری کی سزا کی تحدید تخصیص کردی اسے عام کے بجائے خاص کردیا غامدی میزان ۲۰۱۵ء،ص ۴۱ اللہ نے سورہ توبہ میں تمام مشرکین کو قتال کا حکم دیا پیغمبر نے عورتوں بچوں کے قتال سے مطلقاً منع کردیا:غامدی مقامات ۲۰۱۴ ء ص۳۱۰ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ پیغمبر کے حکم کی تعمیل قرآن کی ہی تعمیل ہے یہ غامدی صاحب کی کج فہمی ہے کہ وہ پیغمبر کے حکم کو قرآن میں موجود نہیں قرآن کے خلاف سمجھتے ہیں غامدی صاحب کی تحقیق ہے کہ قرآن نے صرف نو چیزیں حرام کیں، سور ، خون ، مردار، غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ فواحش، حق تلفی،ناحق زیادتی،شرک، بدعت :مقامات ۲۰۱۴ء ص ۲۱۱ مگر رسول اللہ نے مدینہ کو حرام قرار دیا اور سورۂ توبہ کے حکم سے انحراف کرکے صرف مرد مشرکین کے قتال کی اجاز ت دی عورتوں بچوں کے قتال کو حرام کردیا رسول نے قرآن کے احکامات بدل دیے (نعوذ باللہ)پس ثابت ہواکہ صرف کتاب اللہ کا حکم ہی واجب الاتباع ہے اس کی اتباع قرآن کی اور اللہ کی اتباع ہے۔یہ غامدی صاحب کے اسلام کا نتیجہ ہے اور جو کچھ انہوں نے فرمایا یہ سب افکار ہی اصلاً متناقض Oxymoron ہیں۔
سنی علماء بادشاہت کو جائز سمجھتے ہیں:غامدی
سنی شیعہ دونوں مکاتب فکر غلط ہیں: غامدی
سنی علماء کی بڑی اکثریت بادشاہت کو خلاف شریعت نہیں سمجھتی اور شریعت کی جو تعبیر سعودی حکومت نے اختیار کر رکھی ہے اس سے فی الجملہ متفق بھی ہے۔ اس لیے ان کے خیال میں یہ ایک اسلامی حکومت ہے اور اسی حیثیت سے وہ اس کے ساتھ وفاداری کا اظہار کرتے ہیں۔دور حاضر میں اسلام کا جو انقلابی فکر پیدا ہوا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ صرف صالحین کی منظم اقلیت ہے جو لوگوں پر حکومت کا حق رکھتی ہے۔ خدا سے پھر ہوئے لوگ اگر حکومت کررہے ہیں تو در حقیقت غاصب ہیں۔ صالحین کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان سے اپنا یہ حق واپس لینے کی جدوجہد کریں۔ شیعہ تعبیر میں یہی چیز معصومین کی حکومت اور ولایت فقیہ جیسے تصورات کی صورت میں پہلے سے موجود تھی[غامدی، مقامات، ۲۰۱۴ء، ص ۱۸۰]
ریاست پر علماء صرف قاضی القضاہ عالم کی بالادستی چاہتے ہیں: غامدی
علماء کی نظر میں الیکشن پارلیمنٹ یہ سب دور جدید کے خرافات ہیں۔ اسلام اپنے نفاذ کے لیے ان میں سے کسی چیز کا پابند نہیں ہے۔ اس کی جو تعبیر فقہ حنفی میں ہو چکی ہے ہمارے لیے وہی حتمی ہے۔ فقہا کے اجتہادات بھی مدون ہیں۔ انفرادی اور اجتماعی زندگی سے متعلق فقہا نے اپنے فیصلے مرتب کردیے ہیں۔ یہ سب قرآن سنت اجماع اور قیاس کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں اور فقہ و فتاویٰ کی کتابوں میں موجود ہیں۔ انھیں نافذ ہونا چاہیے۔ اس کے لیے کسی پارلیمان سے منظوری حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کا جو طریقہ یہ حضرات تجویز کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ریاست کے تمام اداروں پر عدلیہ کی بالادستی قائم ہو اور عدلیہ علماء کے حوالے کردی جائے اس لیے کہ اسلامی شریعت کے ماہرین وہی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ گذشتہ بارہ صدیوں کی تاریخ ان کی پشت پر ہے۔ سلطنت عباسیہ کے قاضی القضاۃ [Chief Justice] کی حیثیت سے امام ابو یوسف کے تقر ر کے بعد ہر جگہ یہ طریقہ اختیار کیا گیا ۔ اسے مغربی استعمار نے ختم کیا تھا۔ مسلمان اب آزاد ہیں لہٰذا نظم ریاست کو شریعت کے مطابق چلانے کا یہ طریقہ بھی بحال ہونا چاہیے۔غامدی مقامات ۲۰۱۴ ص ۱۸۸
اسلام کا نظام حکومت صرف جمہوریت ہے: غامدی
غامدی صاحب لکھتے ہیں:
اسلام کو جو کچھ میں نے سمجھا ہے اس کی بنا پر پورے اطمینان کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ قرآن اس نقطۂ نظر کو قبول نہیں کرتا۔ ریاست کو چلانے کا جو طریقہ اس نے بتایا ہے وہ جمہوریت ہے۔ قرآن کا رشاد ہے امر ھم شوری بینھم :غامدی مقامات ۲۰۱۴ء ص ۱۸۸
ہماری تاریخ میں اس مقصد سے بادشاہت کا طریقہ بھی اختیار کیا گیا ہے اور آمریت کا بھی اور ہمارے بعض گروہ اس بات کے بھی قائل رہے ہیں کہ حکومت کے سربراہ کو خدا کا مامور ہونا چاہیے لیکن نظم ریاست کو چلانے کے لیے قرآن کا مقرر کردہ قاعدہ یہی جمہوریت ہے ۔ غامدی، مقامات، ۲۰۱۴ء،ص ۱۸۹۔ بے چارے غامدی صاحب کو جمہوریت کی تعریف ہی نہیں معلوم وہ شورائیت ، مشورہ اور خلفائے راشدین کے انتخاب کے طریقے کو جمہوریت سمجھتے ہیں مغربی فلسفے میں یہ جمہوریت نہیں آمریت، فسطائیت اور مطلق العنانیت ہے وہ ایم اے پولیٹیکل سائنس کی کوئی بھی کتاب پڑھ لیں تو ان کو جمہوریت کی تعریف معلوم ہوجائے گی۔
وہ ہمارے شاگرد رشید جناب ظفر اقبال کی کتاب اسلام اور سائنس نئے تناظر میں کا باب اسلام اور جمہوریت پڑھ لیں جہاں قرآنی آیات کی روشنی میں اور مغربی مصادر سے ثابت کیا گیا ہے کہ مشاورت اور جمہوریت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
وہ اپنے علمی جانشین عمار ناصر صاحب کا مضمون خروج پڑھ لیں جو یوم اقبال پر گجرات یونیورسٹی میں پڑھا گیا عمار صاحب نے اسلام میں جمہوریت کا انکار کیا ہے یہ عجیب قرآن ہے کہ غامدی صاحب اس سے جمہوریت ثابت کررہے ہیں عمار صاحب اسی قرآن سے جمہوریت کا عدم ثابت کررہے ہیں اور قرآن قطعی الدلالۃ بھی ہے۔
جمہوریت میں آخری فیصلہ عوام کا نہیں عدلیہ کا ہوتا ہے
علماء عدلیہ کی بالادستی چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے جدید ریاست میں بھی جدیدیت آزادی مساوات ترقی کے عقیدوں پر مبنی دین کی تشریح و توضیح پارلیمنٹ نہیں عدلیہ کرتی ہے عدلیہ کو اختیار ہے کہ وہ مذہب حقوق انسانی کے خلاف حکمرانوں اور پارلیمنٹ کے ہر فیصلے کو مسترد کردے غامدی صاحب ان مباحث سے واقف ہی نہیں ہیں۔امریکہ میں انسانی حقوق کی تشریح صدر ٹرمپ نہیں امریکی سپریم کورٹ کرے گی اس کا فیصلہ آخری فیصلہ ہوگا امریکی جمہوری صدر ہر پانچ سال بعد بدل سکتا ہے امریکی سپریم کورٹ کا چیف جسٹس انتقال تک اپنے عہدے پر فائز رہتا ہے اس عہد ے کے خالق امریکی صدر، کانگریس کی عمر صرف پانچ سال مخلوق کی عمر تا حیات وجہ یہ ہے کہ اصل خالق صدر یا مقننہ نہیں کچھ اور ہے اس کے فیصلوں کے آگے مقننہ کو بھی سرجھکانا ہے ورنہ اسے اٹھا کر پھینک دیا جائے گا مقننہ سو فی صد اکثریت کے ساتھ بھی جمہوریت، مساوات، آزادی، ترقی، سرمایہ داری کے خلاف کوئی قانون نہیں بنا سکتی یہ بدیہیات ہیں عقائد ہیں ان میں کسی کلام اعتراض تنقید کی گنجائش نہیں اسی لیے مغرب میں سب سے کم مباحث آپ کو آزادی کے عقیدے پر ملیں گے وہ Take for granted ہے Self evedent evidence ہے ان عقائد کے بارے میں کسی بحث تنقید کی گنجائش نہیں ان پر ایمان لانا ہوگا مغرب کی جدیدیت جدید ریاست جدید علوم و فنون کا آغاز ان بنیادی مسلمات کو تسلیم کرکے ہوتا ہے ۔ فیڈرلسٹ پیپرز میں عدلیہ انتظامیہ مقننہ کے درمیان مخاصمانہ کشمکش کو ہی آزادی اور جمہوریت کے عقیدے کی ضمانت قرار دیا گیا ہے۔ علماء اللہ عدلیہ کی عالم دین کی حکومت و اقتدار پر بالادستی چاہتے ہیں تو کیا غلط کرتے ہیں ۔
اسلام کی بنیاد جنگ اور مغرب کی بنیاد دامن ہے : عمار ناصر
واضح رہے کہ عمار ناصر صاحب کا نقطۂ نظر غامدی صاحب سے بالکل مختلف ہے اپنے مقالے ریاست و حکومت : اقبال اور عصری مسائل میں انہوں نے صاف صاف لکھاہے کہ اسلام میں جمہوریت نہیں تھی لہٰذا خروج بغاوت وغیرہ ہوتے رہے اسلامی خلافت نے دنیا کو مشترک آفاقی اخلاقی قانونی ضابطے نہیں دیے۔ اسلامی خلافت کی خارجہ پالیسی کی بنیاد امن نہیں جنگ تھی اسی لیے دنیا کو دارالحرب دارالاسلام کی اصطلاحوں میں بیان کرکے تمام غیر مسلم ممالک سے اصل اور مستقل تعلق جنگ کا قائم رکھا گیا کہ سب مغلوب ہوجائیں اس مقصد کے حصول تک وقتی عارضی صلح رہتی تھی مغرب نے دنیا کو پہلی مرتبہ امن کا اصول دیا کہ تمام ریاستوں کے لیے جنگ ممنوع ہے تعلقات کی بنیاد صرف امن ہے یہ الگ بات ہے کہ مغرب اس اصول پر عمل نہیں کرتا اصول درست ہے مگر اسلام کا اصول غلط تھا۔(یہ مضمون نیٹ پر دستیاب ہے اور اقبال اکادمی نے گجرات یونیورسٹی کے مقالات اقبال کتابی شکل میں شائع کیے ہیں اس میں بھی موجود ہے)
دو عالمگیر جنگیں مسلط کرنے والوں کے بارے میں یہ دعویٰ کرنا کہ وہ امن کے علمبردار ہیں جہالت کی انتہا ہے اس جہالت کا تفصیلی جواب ہم اپنے مضمون’’شہید ممتاز قادری توہین رسالت اور جاوید غامدی کا نقطۂ نظر ‘‘میں تفصیل سے دے چکے ہیں اسے ملاحظہ کیجیے(دیکھیے برہان اپریل ۲۰۱۶ء )۔ اس موقف پر ایک مختصر مضمون بھی جلد آپ کی خدمت میں پیش کیا جائے گا۔
عمار ناصر مغرب کے فلسفیوں سے زیادہ اسلام کے مخالف ہیں:
عمار ناصر صاحب کے یہ افکار و نظریات ثابت کرتے ہیں کہ حضرت والا اسلام سے واقف ہوں یا نہ ہوں لیکن کم از کم مغرب، مغرب کی آفاقی اقدار سے سرے سے واقف ہی نہیں ہے حضرت والا نے مغربی فلاسفہ ہائیڈیگر ، فوکالٹ، سانڈل، دلیوز، لبرل ازم کے سیاسی فلسفی جان رالس اور مارکوزے وغیرہ کو سرے سے نہیں پڑھا ورنہ اس طرح کے خطابتی دعوے نہ کرتے دنیا کی سات ہزار سالہ تاریخ کی تمام جنگوں میں جتنے لوگ قتل ہوئے اس کی کل تعداد97% مقتولین مغرب کی مہذب متمدن معلم وحشی درندہ قوموں کے ہاتھوں گزشتہ پانچ سو سال کی جنگوں میں قتل ہوئے ہیں لہٰذا ایسی قوموں کو امن کا علمبردار ثابت کرنا جہالت کی انتہا ہے لبرل ازم کا سب سے بڑا فلسفی جان رالس اور اس کا شارح ڈربن کیا لکھتے ہیں حضرت والا نے وہ بھی نہیں پڑھا وہ ہمارے شاگرد ظفر اقبال صاحب کی کتاب اسلام اور جدیدیت کی کشمکش کا مطالعہ کرلیں تو ان کو تمام حوالے وہاں مل جائیں گے اسلام کو دہشت گرد مذہب کہنا دنائت کے سوا کچھ نہیں ۔
مشہور یہودی مستشرق برنارڈ لوئیس جو عالم اسلام کا سب سے بڑا مخالف ہے اور جس نے گیارہ ستمبر کے بعد جارج بش کو اپنے دلائل کے ذریعے افغانستان کے حملے پر قائل کیا تھا اس کا تاریخی خطبہ Islam in Urope عمار صاحب پڑھ لیں تو اس یہودی کے خیالات مسلم امت اور خلافت عثمانیہ کے بارے میں عمار صاحب سے ہزار درجہ بہتر ہیں وہ لکھتا ہے کہ3مسلمانوں کی خلافت میں یہودی ،عیسائی و دیگر اقلیتیں بالکل محفوظ تھیں ان کی عدالتیں تک الگ تھیں ان کو اپنی شریعت پر عمل کی مکمل آزادی تھی3 دوسری جگہ اس نے لکھا ہے کہ جب تک اقلیتیں ذمی اور معاہد کے طور پر تھیں خلافت میں محفوظ تھیں لہٰذا جب جمہوریت آئی اور مساوات کے ذریعے ذمی ختم ہوگئے تو جدید ترکی میں جدید ریاست اور جدید آئین کے بعد اقلیتوں کے لیے خطرات پیدا ہوئے یعنی اصل شر جمہوریت ہے اسلام یا خلافت نہیں3
جان رالس جیسے لبرل نے اپنی آخری کتاب The Law of the People میں مسلمانوں اور خلافت عثمانیہ کی تعریف کی ہے اور انہیں مہذب متمدن بہترین امت قرار دیا ہے اور مغرب کو مشورہ دیا ہے کہ ان کے شاندار ماضی کی بنیاد پر ان سے مختلف معاملہ کیا جائے3 مائیکل مین نے اپنی کتاب The Dark Side of Democracy میں مذاہب عالم کا تقابل کرتے ہوئے انسانی ہلاکتوں کے بارے میں اسلام کے رویے کی تعریف کی ہے اور تمام مذاہب میں اسے سب سے بہتر قرار دیا ہے3فرید زکریا نے جو صدر بش کے مشیر تھے اپنی کتاب Future of Freedom میں مسلمانوں کی خلافت سیاست کے حوالے سے تعریفی کلمات لکھے ہیں3 حیرت ہے کہ جناب عمار ناصر صاحب اسلام کے بارے میں اتنے تعریفی کلمات بھی نہیں لکھ سکے جتنے تحسینی کلمات ایک یہودی برنارڈ لیوس، ایک عیسائی جان رالس، ایک امریکی عیسائی مائیکل مین اور صدر بش کے مشیر مذہب لبرل ازم کے ماننے والے فرید زکریا نے لکھے ہیں! یعنی عمار صاحب ان ا غیار سے بڑھ کر اسلام ، اسلامی تاریخ اور خلافت اسلامیہ کے دشمن ہیں، جب دوست ہی ایسے ہوں تو اس امت کو دشمنوں کی کیا ضرورت ہے؟
پاکستانی ریاست مذہب کو استعمال کرتی رہی: غامدی
مذہبی انتہا پسندی کو ریاستی سرپرستی حاصل تھی
غامدی صاحب لکھتے ہیں:یہ بات اب محتاج دلیل نہیں رہی کہ ریاست پاکستان کے لیے اس وقت سب سے بڑا مسئلہ مذہبی انتہا پسندی ہے۔ہماری ریاست کو بھی غالباً ایک دن یہی کرنا پڑے گا۔ پھر توبہ و استغفار بھی کرنی ہوگی کہ آیندہ ہم مذہب کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے کبھی استعمال نہیں کریں گے۔ اس کی نوبت اگر آجائے تو انتہا پسندی کو اس کی جڑ بنیاد سے اکھاڑنے کے لیے یہ چند باتیں مزید پیش نظر رہنی چاہئیں:غامدی، مقامات ۲۰۱۴ء،ص ۱۹۷۔ چلیے علماء تو اس الزام سے بری ہوئے ریاست پاکستان اور فوج غامدی صاحب کے خیال میں ا نتہا پسندی طالبائزیشن کی ذمہ دار ہے۔
انتہاء پسندی کا مرکز مدارس اور ان کا نصاب تعلیم ہے: غامدی
مدارس میں پڑھایا جانے والا دین بالکل غلط ہے:غامدی
ایک یہ کہ انتہا پسندی کا یہ عفریت براہ راست آسمان سے نازل نہیں ہوا۔یہ اس مذہبی فکر کا مولود فساد ہے جو نفاذ شریعت اور جہاد و قتال کے زیر عنوان اور کفر، شرک اور ا رتداد کے استیصال کے لیے ہمارے مدرسوں میں پڑھا اور پڑھایا جارہا ہے۔ انتہا پسند افراد اور تنظیمیں اسی سے الہام حاصل کرتی ہیں اور کچھ ترمیمات کے بعد اپنے پیش نظر مقاصد کے لیے اس کو عمل کے سانچے میں ڈھال لیتی ہیں۔ یہ مذہبی فکر قرآن و حدیث کی جن تعبیرات پر مبنی ہے، ان کی غلطی دور حاضر میں اسلام کے جلیل القدر مفکرین واضح کرچکے ہیں:غامدی مقامات ۲۰۱۴ء ص ۱۹۷۔
علماء کے اسلام کا مقابلہ سیکولر ازم نہیں ہمارا اسلام کرے گا: غامدی
صرف فراہی امین اصلاحی اور ہمارا فکر درست ہے:غامدی
علم و استدلال کے مقابلے میں ہنگامہ و احتجاج اور زور و قوت کے اظہار کا طریقہ ختم ہو جائے تو ان مفکرین (اصلاحی، فراہی،غامدی)کے رشحات فکر ذہنو ں کو تبدیل کرسکتے ہیں۔ رائج مذہبی فکر کے مقابلے میں یہ گویا ایک جوابی بیانیہ [Counter narrative] ہوگا۔ لیکن پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ اس میں دین و شریعت کی حفاظت کا یہی طریقہ رائج ہے۔ تہذیب اور شایستگی کے ساتھ اختلاف رائے کی روایت بد قسمتی سے یہاں قائم نہیں ہوسکی۔
علم کی دنیا میں ہنگامہ و احتجاج اور جبر و استبداد کے لیے کوئی گنجایش نہیں ہے۔ پھر یہ اہل دانش اور ارباب حل و عقد خود بھی اس بیانیہ کو سمجھنے کی کوشش کریں جس کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ مسلمانوں کے معاشرے میں سیکو لر ازم کی تبلیغ نہیں، بلکہ مذہبی فکر کا ایک جوابی بیانیہ ہی صورت حال کی اصلاح کرسکتا ہے: غامدی، مقامات، ۲۰۱۴ء،ص ۱۹۸۔۱۹۷
علماء اگلوں صحابہ اور اکابرین امت کے مقلد ہیں: غامدی
بڑی سے بڑی غلطی پر بھی یہ(علماء) محض اس وجہ سے مصر ہوجاتے ہیں کہ پہلوں (صحابہ و ا کابرین امت) میں سے کسی کو اس سے اختلاف نہیں رہا۔ یہ چیز ان کے ہاں کوئی معمولی اہمیت نہیں رکھتی، یہ اسے ایمان و عقیدہ کے طور پر اختیار کیے ہوئے ہیں۔اپنے اس نقطۂ نظر کے جو دلائل یہ حضرات بالعموم پیش فرماتے ہیں، وہ عقل و نقل دونوں کی رو سے بالکل بے بنیاد ہیں:غامدی،مقامات، ۲۰۱۴ء ص ۳۳۰
اگلوں (صحابہ) کا مقام اس دور والوں کو بھی حاصل ہوسکتا ہے: غامدی
اس کے بعد دو باتیں کہی جاسکتی ہیں: ایک یہ کہ دین پر عمل کے لحاظ سے جو مقام اگلوں کو حاصل تھا، وہ اس زمانے کے لوگوں کو حاصل نہیں ہوسکتا۔ دوسری یہ کہ فہم و ذکا کے اعتبار سے جو درجہ ان کا تھا، اس تک اب کسی کے لیے پہنچنا ممکن نہیں رہا۔ان میں سے آخری بات محض ادعا ہوگی جس کے لیے کوئی ثبوت نہ قرآن و حدث میں موجود ہے نہ علم و تجربہ سے اس کی تصدیق ہوتی ہے: غامدی، مقامات،۲۰۱۴ء،ص ۳۳۱۔ظاہر ہے غامدی صاحب خود کو صحابہ کے مرتبے کا فرد سمجھتے ہیں اسی لیے صحابہ پر اعتراض کی جرات فرماتے ہیں ۔ امت عدالت صحابہ کی قائل ہے لہٰذا وہ صحابہ کے بارے میں کوئی نازیبا لفظ نہیں نکال سکتی وہ ان سے محبت کرتی اور ان ستاروں سے رہنمائی حاصل کرتی ہے۔
دینی مدارس قرآن کو حاکم تسلیم نہیں کرتے:غامدی
ان مدارس کے نظام میں خرابی یہ ہے کہ یہ اگرچہ دینی مدارس ہیں لیکن دین میں جو حیثیت قرآن مجید کو حاصل ہے۔ وہ ان میں اسے کبھی حاصل نہیں ہو سکی۔ دین میں وہ اس زمین پر اللہ کی اتاری ہوئی میزان اور حق و باطل کے لیے فرقان ہے۔اس کی حیثیت کا ناگزیر تقاضا تھا کہ ان مدارس کے نصاب میں محور و مرکز کا مقام اسے ہی حاصل ہوتا۔انھیں بتایا جاتا کہ بو حنیفہ و شافعی، بخاری ومسلم،اشعری و ماتریدی اور جنید و شبلی، سب پر اس کی حکومت قائم ہے اور اس کے خلاف ان میں سے کسی کی کوئی چیز بھی قبول نہیں کی جاسکتی۔
دین میں قرآن مجید کی حیثیت یہی ہے اور یہی حیثیت اسے ان مدار س کے نظام میں حاصل ہونی چاہیے تھی۔
قرآن مجید کے معاملے میں اس رویے کا نتیجہ یہ ہے کہ فکر و عمل کے لیے کوئی چیز اب حکم نہیں رہی اور علم اختلافات کی بھول بھلیاں میں سرگرداں ہے۔ وہ منابع جہاں سے ہمیں روشنی مل سکتی تھی خود تیرہ و تار ہیں۔: غامدی، مقامات، ۲۰۱۴ء ،ص۳۳۲3یہ سب جھوٹے الزامات ہیں۔
دینی مدارس کا نظام دین کے لیے بے کار ہے:غامدی
ان مدارس کے نظام میں تیسری بڑی خرابی یہ ہے کہ ان کا نصاب نہایت فرسودہ اور ہماری علمی اور دینی ضرورتوں کے لیے بالکل بے حاصل ہے۔
اس دور کی پیداوار ہے جب علم کے اصل ماخذوں سے ہم بے تعلق ہو چکے تھے۔ حدیث اگرچہ شامل نصاب ہے لیکن اس کے لیے دورہ کا جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے اس سے تدبر حدیث کا کوئی ذوق پڑھنے اور پڑھانے والوں میں کبھی پیدا نہیں ہوسکتا۔ جاہلی ادب کی اہمیت اس نصاب میں کبھی مانی نہیں گئی۔دو صدیاں اس نصاب پر گزر گئیں لیکن دینوی علوم میں بھی یہ کسی ترقی کو قبول کرنے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوا:غامدی،مقامات،ص۳۳۳۔۳۳۴۔ علماء پر ان کا یہ اعتراض بے وجہ ہے غامدی صاحب نے اپنا ادارہ مدرسہ المورد قائم کیا تو اس کا نصاب مدارس کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا حتی کہ اس ادارے میں سائنس ٹکنالوجی سوشل سائنس علوم جدیدہ فلسفہ منطق علم کلام وغیرہ بھی شامل نصاب نہیں تھا اس ادارے سے فارغ التحصیل دو علماء ڈاکٹر حبیب الرحمان اور عامر گزدر صاحب سے راقم براہ راست واقفیت رکھتا ہے یہ دونوں اہل علم عہد حاضر مغرب جدیدیت پس جدیدیت اور علوم جدیدہ کے بارے میں مدارس کے علماء سے زیادہ معلومات نہیں رکھتے تھے۔
علما کو الٹے سیدھے مشورے دینے والے غامدی صاحب کا ادارہ عصری علوم و فنون سے بالکل لا تعلق تھا یہاں سے جو لو گ فارغ ہو کر نکلے وہ بس اوسط درجے کے مبتدی تھے جو یونیورسٹیوں سے صرف اسلامک اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی کرسکتے تھے مگر یہ تمام مبتدی غامدی صاحب کے ایک مرید دنیا اخبار کے مالک کی قائم کردہ یونیورسٹی میں ملازم ہوگئے یہ سب پی ایچ ڈی نہیں تھے لیکن ان کی نگرانی میں طلباء کو پی ایچ ڈی کرنے کی اجازت دے دی گئی اس یونیورسٹی کے ڈین ڈاکٹر محمد امین مدیر برہان نے اس پر شدید اعتراض کیا کہ پی ایچ ڈی کی سند کے بغیر یہ اساتذہ پی ایچ ڈی کے طلباء کو کیسے پڑھا سکتے ہیں مگر چونکہ یو نیورسٹی غامدی صاحب کے مرید کی تھی لہٰذا کوئی اعترا ض نہیں سنا گیا HEC کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہوا پی ایچ ڈی کرنے کے بعد اب یہی حضرات اس یونیورسٹی میں اساتذہ کے مرتبے پر فائز ہوچکے ہیں۔
انٹر سے پہلے کوئی دینی مدرسے میں داخل نہ ہو:غامدی
دوسری یہ کہ ہم کسی شخص کو یہ اجازت تو نہیں دیتے کہ بارہ سال کی عمومی تعلیم کے بغیر ہی وہ بچوں کو ڈاکٹر انجینئر یا کسی دوسرے شعبے کا ماہر بنانے کے ادارے قائم کرے۔ مگر دین کا عالم بننے کے لیے اس طرح کی کوئی پابندی نہیں ہے۔
پھر جن کو عالم بناتے ہیں بارہ سال کی عمومی تعلیم سے محرومی کے باعث ان کی شخصیت کو بھی ایک ایسے سانچے میں ڈھال دیتے ہیں جس سے وہ اپنے ہی معاشرے میں اجنبی بن کر رہ جاتے ہیں۔ اس غلطی کے نتائج اب پوری قوم بھگت رہی ہے۔ چنانچہ ناگزیر ہے کہ دینی تعلیم کے اداروں کو بھی اختصاصی تعلیم کے دوسرے اداروں کی طرح پابند کیا جائے کہ بارہ سال کی عمومی تعلیم کے بغیر وہ کسی طالب علم کو ا پنے اداروں میں داخل نہیں کریں گے۔
ہم پورے اطمینان کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ تنہا یہی اقدام اس صورت حال کو تبدیل کردے گا جو اس وقت دینی تعلیم کے ادارو ں نے پیدا کر رکھی ہے:غامدی، مقامات،ص۱۹۹۔۲۰۰ غامدی صاحب کو شکوہ ہے کہ علماء ایک کمسن بچے کو مدرسے میں داخل کرکے اس کا سانچہ بدل دیتے ہیں مگر ان کو سیکولر تعلیم کے مدرسوں میں بچے کے کافرانہ سانچے میں ڈھلنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے لہٰذا ان کی تجویز کا مطلب صرف یہ ہے کہ بارہ سال تک سیکولر تعلیم حاصل کر کے بچے کا سانچہ ہی بگڑ چکا ہوگا بچہ سیکولر بن چکا ہوگا لہٰذا یہ بچہ کبھی مذہبی تعلیم کے کسی ادارے میں داخل ہونا کبھی پسند نہیں کرے گا لہٰذا مدارس خود ہی اجاڑ سنسان ویران ہوجائیں گے وہاں خاک اڑے گی اور غامدی صاحب کے دین کی مخالف قوت افرادی قوت سے ہمیشہ کے لیے محروم ہوجائے گی۔
علماء سے جمعہ کا منبر چھین لیا جائے: غامدی
حکمران خطبہ دیں یا ان کا کوئی نمائندہ: غامدی
تیسری یہ کہ انتہا پسندی سے نجات کے لیے اس ریاست کا خاتمہ ضرو ری ہے جو علماء کو جمعہ کے منبر اور مساجد کے اہتمام سے ہمارے ملک میں حاصل ہوچکی ہے۔ اہل علم اس حقیقت سے واقف ہیں کہ نماز جمعہ کے بارے میں جو سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کی، وہ یہ تھی کہ اس کی امامت اور اس کا خطاب سربراہ حکومت اور اس کے عمال کریں گے۔ ان کے سوا کوئی دوسرا شخص اگر ان کی کسی معذوری کی صورت میں جمعہ کے منبر پر کھڑا ہو گا تو ان کی اجازت سے اور ان کے قائم مقام کی حیثیت سے کھڑا ہوگا:غامدی مقامات ۲۰۱۴ء،ص ۲۰۰
جمعہ کی نماز ہر مسجد میں نہیں خاص مقامات پر ہوگی: غامدی
حکمران خطبہ دیں گے یا ان کا نمائندہ: غامدی
یہ صورت حال تبدیل ہونی چاہیے اور ہمارے حکمرانوں کو پورے عزم و جزم کے ساتھ فیصلہ کرنا چاہیے کہ جمعہ کی نماز کا اہتمام اب حکومت کرے گی اور یہ صرف انھی مقامات پر ادا کی جائے گی جو ریاست کی طرف سے اس کے لیے مقرر کردیے جائیں گے۔ اس کا منبر حکمرانوں کے لیے خاص ہوگا۔ وہ خود اس نماز کا خطبہ دیں گے اور اس کی امامت کریں گے یا ان کی طرف سے ان کا کوئی نمائندہ یہ ذمہ داری ادا کرے گا۔ ریاست کے حدود میں کوئی شخص اپنے طور پر اس نماز کا اہتمام نہیں کرسکے گا:غامدی، میزان،۲۰۱۴ء،ص ۲۰۱
مسجدیں صرف حکومت بنائے گی:غامدی
سرکاری مساجد ہی برکت والی ہیں:غامدی
اسی طرح فیصلہ کرنا چاہیے کہ عام نمازوں کی مسجد یں بھی حکومت کی اجازت سے بنائیں جائیں گی۔مسجد مسلمانوں کا ایک اجتماعی ادار ہ ہے۔ اسے افراد اور تنظیموں کے کنٹرول میں نہیں دیا جاسکتا۔ چنانچہ ضروری ہے کہ مسلمانوں کی حکومت جہاں بھی قائم ہو، وہ مسجدوں پر اپنا اقتدار پوری قوت کے ساتھ قائم رکھے اور کسی شخص کو اجازت نہ دے کہ وہ انھیں کسی تنظیم تحریک یا کسی خاص نقطۂ نظر کی اشاعت کے لیے استعمال کرے۔یہ اقدام ناگزیر ہے۔ اس کی برکات اگر کوئی شخص دیکھنا چاہے تو ان ملکوں میں جا کر دیکھ سکتا ہے جہاں مسجدوں کا ا نتظام اسی طرح کیا گیا ہے:غامدی، مقامات، ۲۰۱۴ء،ص ۲۰۱،۲۰۲۔وہ حکومت جو سڑک نہیں بنا سکتی، پانی، نوکری، روٹی، بس، تعلیم، علاج مہیا نہیں کرسکتی مہنگائی کو نہیں روک سکتی جس حکومت میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کے اکثر رہنما بد عنوان ہیں وہ حکومت مسجد کے انتظامات اخراجات اٹھا سکے گی اوقاف کی مساجد کا حال دیکھ لیں اور علماء کے زیر انتظام مساجد کی عالیشان حالت کا موازنہ کرلیں۔
خونی انقلاب کے بغیر علماء کو شکست نہیں دی جا سکتی
غامدی صاحب کا اصل پیغام یہ ہے کہ علماء کومدرسے، مسجد اور جمعہ کے خطبے سے بے دخل کرکے پاکستانی ریاست غامدی صاحب کے شاگردوں کو مسجد کی امامت و خطابت دے دے مگر پانچ لاکھ مساجد کو سنبھالنے کے لیے ان کے پاس اتنے شاگرد بھی نہیں ہیں۔ جدیدیت پسندوں کا یہی المیہ ہے کہ وہ پروٹسٹنٹ ازم کی طرح اپنے سیکولر لبرل اسلام کا مذہبی فرقہ بنانا چاہتے ہیں مگر اس کے لیے قربانی دینے پر تیار نہیں کیتھولک ازم سے سوسال تک مارٹن لوتھر کے پروٹسٹنٹ فرقے نے جنگ لڑی ہے کیتھولک فرقے کا خون بہایا ہے کلیسا پر قبضے کیے ہیں لیکن سرسید سے لے کر غامدی اور راشد شاذ تک تمام جدیدیت پسند اپنے مذہب پر جان دینے سے ڈرتے ہیں۔
مغرب کے مخلص اسلامی مجتحد دین : مغرب کی کامیابی
علماء اپنے دین پر جان دینے سے نہیں ڈرتے وہ اپنے دین کے لیے جان دیتے بھی ہیں اور جان لیتے بھی ہیں یہ دین کا تقاضہ اور مطالبہ ہے شوق شہادت کے بغیر کچھ نہیں ہوتامغرب کی کامیابی یہ ہے کہ گزشتہ سو سال سے عالم اسلام میں سرسید احمد دین امرتسری ،چراغ علی، خدا بخش، سید امیر علی، اے اے فیضی، غلام احمدپرویز ، ڈاکٹر فضل الرحمان، وحید الدین خان، راشد شاذ، عبدالکریم سروش، حسن ترابی، جاوید غامدی جیسے متجددین نے مغرب کے فکر و فلسفے، ما بعد الطبیعیات ، اقدار، مقاصد، روایات، علوم و فنون کو نہایت صدق دل سے قبول کرلیا ہے اور یہ اسلامی جدیدیت اسلامی مغربیت کے ذریعے اسلامی علمیت کے حصار میں مسلسل دراڑیں ڈال رہی ہے۔
وحدت ادیان: روایت کا گمراہ ترین مکتب فکر
اسلامی جدیت پسندوں کا ایک اہم مکتب فکر مکتبہ روایت Traditional School of thought ہے اس کے مفکرین تاریخ، ادب، فلسفہ ، تصوف، اسلام اور مغرب پر عمدہ نظر رکھتے ہیں اور بہت عمدہ لکھتے ہیں مگر یہ ایک گمراہ ترین مکتب فکر ہے جو اسلامی علمیت کی جدید فلسفیانہ تعبیرات کے ذریعے اسلامی علمیت کو کم زور کرکے اصلاً اسلام کی مغرب کاری کا فریضہ ہی انجام دے رہا ہے۔مگر اس کا انداز اسلوب بہت عالمانہ ہے غامدی صاحب وحید الدین خان یا یوسف قرضاوی صاحب کی طرح عامیانہ نہیں ہے۔
مغرب میں آج تک اسلام سے متعلق جتنی کتابیں شائع ہوئی ہیں ان میں سے کسی کتاب میں کبھی رینے گینوں کے روایت کے مکتبہ فکر کو مغرب کے خلاف خطرے کے طور پر پیش نہیں کیا گیا؟ یہ بنیادی نوعیت کا سوال ہے جس کا جواب نہ حسن عسکری صاحب مہیا کرسکے نہ سلیم احمد نہ جمال پانی پتی نہ سراج منیر نہ سہیل عمر پاکستان میں اس مکتب فکر کو متعارف کرانے والوں میں یہ تمام حضرات سب سے نمایاں حیثیت رکھتے ہیں ان کا رسالہ روایت اس گمراہی کا موثر و معتبر ترجمان تھا ۔ سلیم احمدحسن عسکری و جمال پانی پتی تو اسلام کے مجاہدین تھے ان کی اغلاط، تسامحات اور فکری کم زوریوں کے باجوجود ان کے اخلاص اور علم میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں مگر ان اصحاب علم نے روایت کے مکتبہ فکر سے استفادہ کرنے کے باوجود اس بنیادی نقص کم زوری اور روایت کے مکتبہ فکر کے لیے مغرب میں قبولیت کے سوال و اسباب پر کبھی روشنی نہیں ڈالی۔
رینے گینوں کا روایت کا پورا مکتبہ فکروحدت ادیان کے کفر میں مبتلا ہے اس کفر کی تفصیلات کے لیے ڈاکٹر حسین نصر کی نئی کتاب ’’اسلام ان ماڈرن ورلڈ‘‘ کا آخری باب پڑھ لیا جائے جس میں روایت کے مکتبہ فکر کی خدمات کا جائزہ لیاگیا ہے اس مکتبہ کے مفکرین اور خصو صاً ولیم چیٹک اور ڈاکٹر حسین نصر۔ ان دونوں کی کتابیں The vision of Islam اور Islam in the modren world امریکہ کی جامعات میں پڑھائی جاتی ہیں ان کتابوں میں اقدامی جہاد کا انکار کیا گیا ہے دفاعی جہاد کی صرف نصر نے اجازت دی ہے اور یہ جھوٹ لکھا ہے کہ تمام مکاتب فکر اقدامی جہاد کے قائل نہیں ۔ چیٹک کی کتاب یونیورسٹیوں میں اسلام پڑھنے والوں کے لیے لازمی کتاب ہے چیٹک نے یہ تحقیق پیش کی ہے کہ اسلامی تاریخ میں اصلی جہاد تو ہوئے ہی نہیں اگر ہوئے تو بہت کم یعنی اسلامی تاریخ کے جہاد اصلاً حب مال حب جاہ اور توسیع سلطنت کی مادی جنگیں تھیں انہیں جہاد نہیں کہا جاسکتا اس طرح مغرب کے اس خوف کو دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو جہاد کے تصور سے مغرب کو آج تک لاحق ہے برطانیہ نے اس جہاد ی قوت کا مقابلہ ہندوستان سوڈان اور دنیا بھر میں خود کیا ہے۔ روایت کا مکتبہ فکرجو وحدت ادیان کے کفر کا قائل ہے پاکستان و ہندوستان میں اس مکتب فکر کے مقدم سہیل عمر سابق ناظم اقبال اکیڈیمی لاہور ہیں ان کا ادارہ سہیل اکیڈیمی لاہور وحدت ادیان کی تشہیر اور جہاد اسلامی کے خلاف روایت کے مکتبہ فکر کی کتابیں مسلسل شائع کررہا ہے اقبال اکیڈیمی کے رسالے Iqbal reviewمیں یہ شائع ہوچکا ہے کہ الحق کچھ نہیں سب مذاہب الحق ہے جو مذہب خود کو تنہا الحق کہتا ہے وہ شیطان ہے جس نے روز ازل یہ کہا تھا کہ میں حق پر ہوں سہیل عمر نے غامدی صاحب کی ہزاروں کتابیں اپنے دستخط اور مہر کے ساتھ مفت تقسیم کیں۔روایت کے گمراہ مکتب فکر کے سہیل عمر صاحب غامدی صاحب کے زبردست مداح ہیں ظاہر ہے دوست ہی ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں۔
غامدی صاحب سر سید چراغ علی افغانی سے بڑے متحد د ہیں
غامدی صاحب نے قتال کی تمام آیات منسوخ کر دیں
عصر حاضر کے تمام جدیدیت پسندوں میں جن کی مختصر فہرست ہم نے پیش کی ہے غامدی صاحب سب سے آگے ہیں ۔سرسید احمد خان نے جہاد کا کامل انکار نہیں کیا وہ صرف ہندوستان کے انگریز حکام کے خلاف جہاد کے منکر تھے مگر ہندوستان میں مقیم غیر ہندیوں کو انگریزوں کے خلاف جہاد کی اجازت دیتے تھے تفصیلات کے لیے ان کی تفسیر، ضیاء الدین لاہوری کی کتابیں اور حیات جاوید دیکھیے۔ غامدی صاحب اسلامی تاریخ کے پہلے متجدد ہیں جنھوں نے جمال افغانی، عبدہ، سرسید، چراغ علی سے بہت زیادہ آگے بڑھ کریہ تحقیق پیش کی کہ غلبہ دین کے لیے جہاد ختم ہوچکا ہے اور قرآن کی سورہ بقرہ سورہ توبہ سورہ الانفال میں جہاد و قتال کی تمام آیات اور سورہ صف میں غلبہ دین اورسورہ نور میں آیت استخلاف فی الارض والی آیات ہمیشہ ہمیشہ کے لیے منسوخ ہوچکی ہیں یہ آیات شریعت قرآن کے ساتھ نازل ہوئیں تھیں مگر اب یہ شریعت کا حصہ نہیں ہیں قرآن کی آیات جہاد کو منسوخ قرار دینے کی جرات مرزا غلام احمد قادیانی اور سرسید احمد خان کو بھی نہیں ہوئی انہوں نے اس کی کوئی نئی تشریح، تفسیر ، تاویل پیش کرنے کی کوشش کی مگر وہ تاویل ان آیات کے مفاہیم سے براہ راست متصادم نظر آتی ہے غامدی صاحب نے اس کا حل یہ نکالا کہ ان تمام آیات کو ہی منسوخ کردیا جائے اور آیات قرآن کو منسوخ کرنے کا پیمانہ ان کے پاس صرف اور صرف فرد کی تحقیق ہے:غامدی میزان ۲۰۱۵ء،ص۴۹ جبکہ برہان میں ان کا دعویٰ ہے کہ قرآن کو صرف اور صرف قرآن ہی منسوخ کرسکتاہے:غامدی،برہان ۲۰۱۳ء ص ۵۱،۵۲۔ غامدی صاحب کے نسخ قرآن سے متعلق اصول ہی Oxymoron ہیں۔
جہاد اور غلبہ دین کی آیات سے غامدی صاحب کی نفرت کااصل سبب مغرب کی جہاد سے نفرت ہے اسلامی ریاست کے بغیر جہاد، جمعہ، بیت المال، زکوٰۃ ، حدود و تعزیرات موکول علی السلطان کا نفاذ نہیں ہوسکتا لہٰذا اسلام پر مکمل عمل کرنے کے لیے شریعت اسلامی کے ہر جزو کی تعمیل کے لیے اسلامی خلافت امارت کا وجود ضروری ہے اسی کو مغرب پولیٹیکل السلام کہتا ہے جوجہاد کے بغیر ممکن نہیں لہٰذاجاوید غامدی جیسے متجددین اپنے افکار کے ذریعے اسی شوق شہادت کے خلاف بغاوت پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں سرسید ،مرزا قادیانی سے غامدی تک سب کی مشترکہ، متفقہ جدوجہد کا اصل نقطۂ ماسکہ جہاد اور جذبہ جہادکا خاتمہ ہے ۔غامدی صاحب نے جہاد کی مخالفت کرتے ہوئے یہی لکھا ہے کہ مسلمانوں کا ضمیر و خمیر افسوس ہے کہ علم کے بجائے عشق سے اٹھا ہے علم فکر و نظر کے دریچے کھولتا ہے عشق اندھی تقلید سکھاتا ہے انھیں یہ معلوم ہی نہیں کہ اللہ کی شریعت اور اس کے رسول کی سنت کی تقلید ہی ایمان کا تقاضہ ہے یہ عشق رسول کے بغیر فسق ہے جیسے روح کے بغیر جسم ، جیسے نمک کے بغیر کھانا، جیسے پانی کے بغیر دریا، جیسے شبنم کے بغیر صبح، جیسے پھول کے بغیر تتلی۔ شریعت اور سنت کی اندھی تقلید میں۔ کسی تنقید تصحیح ترمیم ،سوال، اعتراض، شک و شبہ کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ایمان زوال شک اور حصول یقین کا نام ہے شک ظن قطعیت کی نفی ہے اور ایمان ہر شک سے بالا ہوتا ہے یہاں اصل ایمان ذات رسالت مآبؐ سے نسبت اور تعلق ہی ایمان کی روح ہے یہ نہ ہو تو اس ایمان کی کوئی حیثیت نہیں۔ جدیدیت اجتہاد کے نام پرصرف ماخذات دین میں اجتہاد کرتی اور الحاد وفساد کا دروازہ کھولتی ہے۔ ایمان کی اصل شہادت خون کی سرخی سے لکھی جاتی ہے اسی لیے مولوی کے اسلام سے غامدی صاحب ہی نہیں امریکہ بھی ڈرتا ہے یہی اصل اسلام ہے غامدی صاحب کو اگر عالم اسلام کا مارٹن لوتھر بننا ہے تو لوتھر کے فرقے کی طرح دہشت گردی سیکھنا ہوگی اسلامی جدیدیت پسند ملیشیا بھاگ جاتے ہیں عزیز احمد کو یہی دکھ ہے اسلامک ماڈرن ازم ان انڈیا اینڈ پاکستان میں اسے یہی شکوہ ہے کہ عیسائیت کی طرح تحریک اصلاح عالم اسلام میں جڑیں نہیں پھیلاسکی۔اس کی وجہ ہمارے خیال میں صرف یہ ہے کہ تمام جدیدیت پسند مسلم مفکرین لوتھر کی طرح خونی انقلاب کے قائل نہیں۔
غامدی صاحب نے اجماع کا انکار کیوں کیا؟
غامدی صاحب کو تما م علماء کے اصل حقیقی اسلام سے وہی شکوہ ہے جو گولڈزہیر جیسے مستشرق کو تھا کہ’’ اس اسلام کی نگاہیں ماضی میں گڑی ہوئی ہیں اور تاریخی ترقی کے نتائج کے جواز سے یکسر منکر ہے اور ساتویں صدی کے متحجر اسلام کی پذیرائی کے سوا کچھ نہیں ہے‘‘عزیز احمد نے اپنی کتاب برصغیر میں اسلامی جدیدیت میں لکھا ہے کہ سرسید احمد تمام جدیدیت پسندوں (عبدہ، رشید رضا وغیرہ میں) میں واحد شخص ہیں جو اجماع کے قانون کا منبع ہونے کے منکر ہیں وہ اجماع کا وقوف صرف کلاسیکی مفہوم میں رکھتے تھے۔عبدہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے جمہوریت کے ذریعے قانون سازی کے ذریعے اجماع کا تصور پیش کرکے جدید جمہوریت کی داغ بیل ڈالی بر صغیر میں مقبول عام اجماع کے نظریے کو جمہوریت کی بنیاد قرار دینے میں اقبال نے کاوش کی جلد ہی یہ رواج پوری دنیا ئے اسلام میں رواج پاگیا( عزیز احمد ص ۳۸۲ ، ۳۸۳ اردو ترجمہ جمیل جالبی) ۔ علامہ اقبال نے اپنے جدید تصورات سے رجوع کرلیا تھا تفصیل کے لیے امالی غلام محمد ملاحظہ کیجیے۔
عالم اسلام میں غامدی صاحب سے پہلے وحید الدین خان نے بھی اجماع کا انکار کیا لہٰذا غامدی صاحب تیسرے فرد ہیں جو اجماع کے منکر ہیں۔اب قرضاوی صاحب اور مصر میں ان کی جماعت حزب وسط بھی اجماع کے منکر ہیں کیونکہ اجماع ہی وہ محور ہے جو امت کو ا پنی تاریخ، علمیت اور مصادر سے جوڑتا ہے اور اسلامی علمیت میں جدت پسندی کا راستہ بند کردیتا ہے۔
اجماع جمہوریت اور جدید ریاست کا خاتمہ کر دیتا ہے
جدیدیت پسند کیوں حدیثو ں اور اجماع کے خلاف مجتمع ہوتے ہیں ایک اہم سوال ہے اس کا جواب جریدہ ۳۵ کے مضمون اسلام اور مغرب میں تفصیل سے دے دیا گیا ہے۔ اجماع کا انکار کرنا کیوں ضروری ہے عزیز احمد اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اسلامی ریاست میں اقتدار اعلیٰ اپنے بنیادی قانونی مفہوم میں صرف اللہ کے پاس ہے اس پابندی سے ریاست اور اس کے باشندوں کی حاکمیت ضرور سلب ہوجاتی ہے ریاست کی قانون سازی کے اختیار پر کامل پابندی لگا دینا ریاست کے جمہور کے فرماں روائی کے اختیارپر پابندی لگانے کے مترادف ہے اور اگر اس پابندی کا سرچشمہ جمہور کی منشاء کے بجائے کہیں اور ہے تو جمہور کی حاکمیت ختم ہوجاتی ہے(عزیز احمد ص ۳۸۳ محولہ بالا)۔لہٰذا عزیز احمد یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں اور بالکل درست نتیجہ کہ اگر علماء اجماع کی حاکمیت اور ماخذ ہونے پر اصرار کریں تو ان حالات میں ریاست نہ جمہوری ہوسکتی ہے نہ دینی جمہوریہ خواہ اجماع کے معنی میں کتنی ہی وسعت پیدا نہ کردی جائے(عزیز احمد بر صغیر میں اسلامی جدیدیت ص ۳۸۳ ترجمہ جمیل جالبی )۔
توہین رسالت کے قانون پر تنقید توہین کیوں ہے؟
غامدی صاحب نے معامات میں اسی لیے پارلیمان کی بالادستی تسلیم کی ہے تاکہ اجماع کے خاتمے کے بعد پارلیمنٹ اجماع کا ادارہ بن کر اسلام کا خاتمہ کردے غامدی صاحب اور عزیز احمد اور راشدشاذ، وحید الدین خان، حسن ترابی، راشد غنوشی کو یہ بھی نہیں معلوم کہ اجماع مقامی قومی علاقائی نہیں ہوتا جبکہ پارلیمنٹ ایک قومی ادارا ہ ہے جو لوگ اسلام کے بارے میں اتنی جہالت کے حامل ہیں وہ امت کے اجماع کو رد کرنے کی جرات کررہے ہیں غامدی صاحب نے مقامات کے مضامین اسلامی حکومت، اسلام اور ریاست اورنفاذ شریعت میں ہر جگہ پارلیمان کی بالادستی کا مطالبہ کرکے اصلاً شریعت کی تشریح و تعبیر توثیق تائید تصدیق اور تصویب پر اس کے جاہل غبی بد دیانت اراکین کی حاکمیت قائم کرنے کا اجتہاد کیا ہے مغرب یہی چاہتا ہے کہ پارلیمنٹ کے ذریعے اسلام قانون سازی کے مرحلے میں آجائے بہ ظاہر ریاست اسلامی ہوتی جائے اور تمام اسلامی قوانین مغربی Codification کے طریقے سے سیکولر ائز ہوتے چلے جائیں اور ان پر تنقید کا دروازہ کھل جائے کوئی بھی اسلامی قانون جدید قانون کے طریقے سے پارلیمنٹ کے ذریعے آرڈیننس یا ایکٹ بنے گا تووہ اسی لمحے اپنا تقدس کھودے گا اب وہ غیر مقدس Profane ہوگیا کیوں کہ ہر ایکٹ اور آرڈیننس پارلیمنٹ سے بحث و مباحثے کے بعد ہی منظو ر ہوتا ہے اور اکثریتی رائے سے نافذ ہوتا ہے دوسرے یہ کہ یہ کبھی قطعی نہیں ہوتا پارلیمنٹ جب چاہے اس میں ترمیم و اضافہ کرسکتی ہے ممتاز قادری کے وکلاء جب سپریم کورٹ میں دلائل دے رہے تھے کہ سلمان تاثیر نے توہین رسالت کے قانون پر تنقید کی اور یہ تنقید بھی توہین ہے تو سپریم کورٹ کے جج حیران و پریشان تھے اور بار بار یہ سوال کررہے تھے کہ جدید ریاستی ڈھانچے میں ہر قانون پارلیمنٹ ہی بناتی ہے اور اس پر بحث و ترمیم، تنقید تصحیح، اعتراض تو ایک لازمی چیز ہے اور پارلیمنٹ کا بنایا ہوا کوئی قانون حتمی مطلق نہیں ہوسکتا وہ تبدیل ہوسکتا ہے اس میں کمی بیشی ہمیشہ کی جاسکتی ہے اس پر کبھی بھی کوئی سوال اٹھایا جاسکتا ہے بحث و مباحثہ ہوسکتا ہے آپ تنقید کی آزادی کو توہین رسالت کیسے کہہ سکتے ہیں چونکہ ممتاز قادری صاحب کے وکلاء جو عدالت کے سابق جج تھے مغرب اور اسلام میں قانون سازی کے مصادرمنابع اور ان کے فرق سے واقف ہی نہیں تھے انھیں شریعت اور قاضی عدالت کا طریقہ کار اور جدید لیگل کوڈ سسٹم میں فرق کا علم نہیں تھا لہٰذا وہ عدالت کو مطمئن نہیں کرسکے کہ قانون توہین رسالت پر تنقید آخر توہین رسالت کا جرم کیسے بن جاتی ہے؟ اسی طرح حدود سے متعلق سزائیں اگر پارلیمنٹ کے ذریعے قانون بنیں گی تو ان پر کوئی بھی رکن تنقید کرسکتا ہے اس میں ترمیم واصلاح کا مطالبہ کرسکتا ہے خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم اور دنیا کی کوئی عدالت اس قانون پر جو پارلیمنٹ کے ذریعے نافذ العمل ہو کبھی بھی تنقید، تصحیح، ترمیم ، اعتراض ، مخالفت کا دروازہ بند نہیں کرسکتی پارلیمنٹ سے بننے والے ہر قانون کو اکثریتی رائے سے ختم کیا جاسکتا ہے بدلا جاسکتا ہے ترمیم کی جاسکتی ہے علماء جب اسلامی شریعت کی شقو ں کو پارلیمنٹ یا آرڈیننس کے ذریعے سیکولر قانون کے ذریعے نافذ کرتے ہیں تو شریعت کا مقدس قانون خود بخود اپنا تقدس کھو کر تنقید کے دائرے میں آجاتا ہے غامدی صاحب کی جانب سے پارلیمنٹ کی بالادستی کا مطالبہ اسلامائزیشن آف گورنمنٹ کے ذریعے سیکولرائزیشن آف اسلام کی حکمت عملی کا شاخسانہ ہے۔
علماء، مدارس، مساجد، خطبات جمعہ، اسلامی علوم کی تعلیم کے خلاف غامدی صاحب کی قلمی دہشت گردی کے نمونے علماء کی آنکھ
کھولنے کے لیے کافی ہوں گے ہمیں امید ہے کہ علماء غامدی صاحب کے فتنے کا علمی اور عملی بنیادوں پر مقابلہ کریں گے ورنہ ہر جگہ جناب عمار ناصر اورجناب حسن الیاس جیسے محققین آپ کی صفوں میں داخل ہوجائیں گے۔

Your Comment