بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله بدھ 26 / فروری / 2020,

Instagram

وسعت اللہ خان صاحب کبھی کچھ پڑھ لیا کریں

25 May 2017
وسعت اللہ خان صاحب کبھی کچھ پڑھ لیا کریں

سید خالد جامعی 

 

 بی بی سی کے مشہور صحافی وسعت اللہ خان نے بغیر سوچے سمجھے بغیر کچھ پڑھے ہوئے سیکولر ازم کی ایک ایسی تعریف بیان کی ہے جس پر اہل علم لبرل اور سیکولر مفکرین صرف ہنس سکتے ہیں اپنے کالم’’دبنگ نثار علی خان کا سیکولر ازم‘‘ میں لکھتے ہیں :

’’جبکہ سیکولر ازم کا مطلب ہے تمام عقائد کا یکساں انفرادی و اجتماعی احترام اور ان کے بارے میں ایک غیر جانبدارانہ مساوی ریاستی پالیسی۔ سیکولر نظریہ کثیر العقائد ریاستوں کا نظم و نسق چلانے کی ایک عملی تدبیر ہے جس کا مقصد ہے کہ کسی خاص مذہبی تشریح سے بچتے ہوئے سیاسی و اقتصادی معاملات بلا تعصب و جبر نمٹائے جائیں‘‘۔

جناب وسعت اللہ خان جھوٹ تو نہ بولیے کیا آپ کو یہ معلوم نہیں کہ سیکولر ازم کا مطلب ہے تعقل مذہبی Religious Rationality سے خالی اجتماعی ، سیاسی،معاشرتی، معاشی اور خاندانی زندگی۔اس تعریف پر مغرب کے سیکولر مفکرین کا اجماع ہے، اجماع کے سامنے آپ کے تفرد کی کوئی حیثیت نہیں۔

وسعت اللہ خان: وحید الدین خان:غامدی صاحب

غامدی صاحب عربی زبان سے ناواقف ہیں

لگتا ہے آپ وحید الدین خان اور جاوید غامدی کی تقریریں سن کر یہ علم بگھار رہے ہیں آج کل عالم اسلام میں انہی دوجعلی مفکرین کا شہرہ ہے وحید الدین خان کم از کم روایتی عالم ہیں مگر مغربی فلسفے سائنس ٹکنالوجی وغیرہ سے بالکل نا واقف ان امور میں اجہل ہیں مگرغامدی صاحب نہ اسلام پر عبور رکھتے ہیں نہ مغرب کے فلسفے سے واقف ہیں۔ بے چارے غامدی صاحب تو عربی بھی نہیں جانتے او ر انگریزی میں شاعری کرتے ہیں شیکسپئر، وڈز ورتھ، کیٹ کے مصرعے سرقہ کرکے اپنے نام سے چھاپتے ہیں۔غامدی صاحب کی کتاب مقامات طبع دوم ۲۰۰۶ء اردو انگرزی عربی تین زبانوں میں طبع ہوئی تھی جب ساحل نے عربی کی چھ سو غلطیاں اور انگریزی شاعری کے سرقے بتائے تو عالم اسلام کے اس عظیم اسکالر غامدی صاحب نے یہ کتاب بازار سے غائب کرادی اور نئی کتاب مقامات طبع اول ۲۰۰۸ء صرف اردو میں شائع کی جو شخص اس قدر دھوکہ باز ہو اس سے دین کیسے لیا جاسکتاہے۔ ماہنامہ ساحل اپریل مئی جون جولائی اگست ستمبر اکتوبر ۲۰۰۷ء میں ان کے کارنامے پڑھ لیجیے جس شخص کو عربی نہیں آتی جو مغربی فلسفے سے ناواقف ہے اسے پڑھ کر آپ سیکولر ازم کی تعریف ہمیں بتارہے ہیں۔

سیکولر ازم کی الٹی سلٹی ، غلط سلط، بے بنیاد، جھوٹی تعریف لکھنے کے بعد وہ ایچی سن کے فارغ التحصیل وفاقی وزیر پر حملہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ہمارے پیارے وفاقی وزیر نے بھی اپنے حلقے میں انتخابی لانڈری لگائی ہے۔ اپنے ووٹروں سے خطاب میں خود کو صادق اور امین ثابت کرتے ہوئے کہا : کچھ لوگ اور کچھ جماعتیں مجھ سے خار کھاتی ہیں کہ میں اسلام کی بات کیوں کرتا ہوں۔ یار اگر تمہیں سیکولر ہونے پر فخر ہے۔ لا دین ہونے پر فخر ہے تو مجھے اسلام پسند ہو نے پر فخر ہے۔

وسعت اللہ صاحب پھر فرماتے ہیں کہ اگر کوئی راہ چلتا یہ کہے کہ سیکولر ازم لا دینیت ہے تو میں دھیان نہ دوں مگر ایچی سن والا کہے تو ایچی سن کے اساتذہ پر غصہ آتا ہے۔

ہمیں وسعت اللہ خان پر نہیں کراچی یونیورسٹی میں ان کے مربی اور سرپرست پروفیسر ڈاکٹر محمد قدیر صدر شعبہ بین الاقوامی تعلقات عامہ پر غصہ آرہا ہے کہ انہوں نے اپنے لاڈلے شاگرد وسعت اللہ خان کو ایریا اسٹڈی سینٹر فار یوروپASCE میں تحقیق کار Research Assistant لگوادیا مگر ان کو سیکولر ازم کے بارے میں کچھ نہیں پڑھایا ہمیں پروفیسر شمیم اختر پر بھی غصہ آرہا ہے کہ انہوں نے بھی وسعت اللہ پر توجہ نہیں دی سب سے زیادہ غصہ ہمیں پروفیسر ڈاکٹر مونس احمر پر آرہا ہے جنھوں نے وسعت اللہ خان کے سارے کام اپنے ذمے لے کر ان کو ASCE میں لکھنے پڑھنے اور تحقیق کی ذمہ داریوں سے بالکل بری کردیا تھا جس کا نتیجہ اب یہ مضمون ہے کم از کم ڈاکٹر مونس احمر اپنے سابق رفیق یا رقیب کوسیکولر ازم پر اپنی کتاب تو تحفے میں بھیج دیتے ۔

سیکولر ا زم: طارق جان اور ڈاکٹر مونس احمر کی کتابیں

وسعت اللہ خان صاحب کو شاید علم نہ ہوسیکولر ازم پر طارق جان کی اردو کتاب ایمل مطبوعات اسلام آباد سے شائع ہوئی ہے ’’سیکولر ازم مباحثہ اور مغالطے‘‘ اس کتاب کا ایک اہم باب ’’سیکولر ازم لا دینیت ہے‘‘ پڑھ لیں جس میں سیکولر ازم کی اصطلاح کے موجد اوراس مذہب کے مفکرین کے حوالے بنیادی مصادر سے دیے گئے ہیں یہ کتاب انگریزی میں بھی موجود ہے۔

پروفیسر خورشید احمد کا ادارہ IPS طارق جان کی انگریزی کتاب کا ناشر ہے کتاب کا نام ہے Pakistan between secularism & Islam : Ideology issues and conflict (1998)

وہ اوکسفرڈ کراچی سے شائع شدہ ڈاکٹر مونس احمر کی کتاب Conflict management & vision for a secular Pakistan: A comparative study (2015) میں سیکولر ازم کے تمام اہم مفکرین کے نام ان کی عبارتوں کے اصل انگریزی حوالوں کے ساتھ بھی پڑھ سکتے ہیں اس کتاب کا اردو ترجمہ حال ہی میں’’ سیکولر پاکستان امن اور خوش حالی کا راستہ ‘‘کے نام سے شائع ہوا ہے۔

سیکولر ازم مذہب کو ناقابل اعتبار اور بے کار سمجھتا ہے

ڈاکٹر مونس احمراور طارق جان صاحب نے اپنی کتابو ں میں جتنے بھی حوالے دیے ہیں ان سب کا لب لباب یہ ہے کہ

سیکولر ازم کا تعلق دنیاوی معاملات [This world] سے ہے روحانی یا مقدس معاملات سے نہیں ہے اس کا مذہب یا مذہبی عقائد سے کوئی واسطہ نہیں ہے اور نہ ہی سیکولر ازم کسی مذہبی حکم کا پابند ہے۔

سیکولر ازم نام ہے اس ضابطے کا جس کا تعلق فرائض سے ہے جس کی غایت خالص انسانی ہے اور یہ بنیادی طور پر ان افراد کے لیے ہے جو الہیا ت کو نا مکمل یا ناکافی ناقابل اعتبار یا ناقابل یقین سمجھتے ہیں

جب سیکولر ازم کسی مذہبی حکم کو تسلیم ہی نہیں کرتا مذہب کو بے کار، ناقابل اعتبار، ناکافی سمجھتا ہے تویہ مذہب کی توہین اور تضحیک تمسخر اور انکار کے سوا کیا رویہ ہے؟لادینیت کے سوا اور کیا ہے جو نظریہ کسی مذہبی حکم کو مقدس تسلیم نہیں کرتا کسی مذہبی حکم کے تابع نہیں ہے مذہب سے آزاد ہے وہ خود ایک مذہب ہے جس کا نام ہے لادینیت۔

سیکولر ازم کے تمام بڑے مغربی مفکرین اور عالم اسلام میں سیکولر ازم کے تمام حامیوں کے دلائل ،حوالے ،ماخذات، عبارتیں ان دو کتابوں میں سمودیے گئے ہیں لہٰذا ہم یہاں سیکولر ازم کی تفصیلات اور ماخذا ت پرحسبِ معمول کتابوں کی کوئی تفصیلی فہرست نہیں دے رہے۔یہ فہرست آپ ان دوکتابوں سے خود حاصل کرسکتے ہیں یا لغت اصطلاحات سے یاسوشل سائنس کے دائرۃ المعارف سے یا فلسفیانہ اصطلاحات کی لغت سے یا فلسفے کے دائرۃ المعارف سے ۔

پاکستان اصولاً سیکولر ریاست ہے معاشرہ اور معاشرت سیکولر نہیں ہے

ان تمام کتب میں سیکولر ازم کی تعریف ، تشریح، انطباق، تاریخ، اصطلاحات سب کچھ مل جائے گا ان تمام ماخذات کے مطالعے کے بعد کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ سیکولر ازم ہر مذہب کو ہر مذہبی فکر کو ہر دینی نقطۂ نظر کو پنپنے کی مساوی آزادی دیتا ہے اور سیکولر معاشرے میں مذہبی علمیت مذہبی گروہ مذہب کے علماء کو قابل احترام و تکریم سمجھاجاتا ہے ہر سیکولر معاشرے، ملک ،ریاست کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ وہ سرمایہ اور سائنس کی تنظیم سے خلق ہوتی ہے سائنسی علمیت کو ہی الحق اور العلم سمجھتی ہے تجربیت عقلیت اور ریاضی سے حاصل مقداری علم ہی اصل اعلم ہے۔

اورجدید ریاست تو سیکولر ہی ہوتی ہے دنیا میں کوئی ایسی جدید ریاست موجود نہیں جو سیکولر نہ ہو اگر وہ سیکولر نہیں ہوگی تو لازماً جدید ریاست بھی نہیں ہوگی پاکستان خود ایک سیکولر ریاست ہے۔لیکن پاکستانی معاشرہ مکمل مذہبی ہے سیکولر نہیں ہے پاکستان کی فوج اس کے ادارے سب مذہبی علمیت اصطلاحات کو خاص اہمیت دیتے ہیں لہٰذا پاکستانی معاشرہ ابھی تک سیکولر نہیں ہوسکا ۔

جسٹس منیر کی رپورٹ عزیز احمد کی کتاب Islamic Modrenism in India & Pakistan ریاست کے مذہبی چہرے کو اس کی مجبوری بتاتا ہے۔یہی موقف ڈاکٹر مونس احمر کا ہے وہ لکھتے ہیں کہ حالات نے جناح کو اسلام کا نعرہ استعمال کرنے پر مجبور کیا یعنی جناح صاحب اپنی سیکولرسیاست کا میاب بنانے کے لیے اسلام کو استعمال کرنے پر مجبور تھے ظاہر ہے یہ نقطۂ نظر درست نہیں ہے سیکولر جناح صاحب کو ایک منافق رہنما ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

پاکستانی ریاست آج بھی عملاً مذہب سے وابستہ ہے

مگر حقیقت یہی ہے کہ پاکستانی سیکولر ریاست آج بھی مذہب پر اصرار کرتی ہے پاکستان کی فوج آج بھی جہاد کی اصطلاح استعمال کرتی ہے فوج نے آپریشن ضرب عضب مذہب کے نام پر ہی کیا اور اس وقت NAP کے تحت آپریشن رد الفساد مذہبی اصطلاحات کے ذریعے ہی جاری ہے ڈاکٹر مونس احمر اور تمام سیکولر مفکرین اسے منافقت کہتے ہیں۔ یہ منافقت ہے سیاست ہے ہمیں پتہ نہیں۔لیکن یہ حقیقت ہے کہ پاکستان ، پاکستانی فوج، پاکستانی ریاست اپنا دفاع، تحفظ اسلام کے بغیر کرنے کے قابل نہیں ہے اسی لیے وسعت اللہ خان حامر میر جیسے سیکولر لبرل صحافی اسے ملٹری ملا اتحاد کہتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ کوئی لبرل سیکولر ملک کے لیے مرنے پر تیار نہیں اس مسئلے کا حل تو بس اسلام یا مولوی پیش کرتا ہے لہٰذا مولوی ناگزیر برائی ہی سہی مگر یہی پاکستان کا دفاع ہے جس دن پاکستان کے تمام سیکولر لبرل دانشور ٹا ک شو سیمنار کانفرنس سے نکل کر وطن کے لیے مرنے پر راضی ہوں گے تومولوی مسعود اظہر کی گرفتاری کے بھارتی مطالبے کو ویٹو کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہوگی جدید ریاست ا یک سیکولر ریاست ہی ہوتی ہے حیرت ہے کہ ہمارے صحافی کو یہ معلوم ہی نہیں لہٰذا سیکولر ازم اور سیکولر ریاست کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے وسعت اللہ خان درج ذیل کتب کا مطالعہ کریں :

W.B. Hallaq کی کتاب

The Impossible State:Islam, Politics & Modernity's Moral Predicament

UGO MATTEI کی کتاب

The Ecology of Law: Toward a legal system in time with nature & community

UGOکی کتاب کی PDFنیٹ پر موجود ہے مفتی صاحب اسے وہاں سے حاصل کرسکتے ہیں تمام اسلامی مفکرین کو اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

Hans Kelson کی کتاب

Pure theory of Law & State

جسٹس منیر انکوائری کمیشن کی رپورٹ

Munir Repot

اس صدی کے سب سے بڑے فلسفی یرگن ہابر ماس Jurgen Haber Mas کی کتاب

Communication & the Evolution of society

  1. Tilly کی کتابیں

Reflection on the history of European state making

 

The Formation of National States

Graham Taylorکی کتاب

The New Political sociology : Power ideology and identity in an age of complexity

Carl. Schmitt کی کتابیں

(1) The Concept of the Political: Expanded Edition

(2) The Crisis of Parliamentary Democracy

(3) The End of Law

(4)Political Theology: four Chapters on the Concept of Sovereignty

(5) Dictatorship

(6)Constitutional Theory

پروفیسر عزیز احمد کی کتاب

Islamic Modernism in India & Pakistan 1857-1964

کا باب چودہ XIV اب پندرہ XV اور باب سولہ XVI ،

(1)The Dilemma of modernism & orthodoxy in Pakistan

(2)Trends in Islam in India (1947-64)

(3)Conclusion

وسعت اللہ صاحب راجیوبھاگوا کی کتاب Secularism & its critiques پڑھ لیں تو سیکولر ازم سے متعلق ان کے تمام خواب ریزہ ریزہ ہوجائیں گے انہوں نے کبھی سیکولر ازم کی تاریخ اور تنقید کا مطالعہ ہی نہیں کیا۔ وہ طلال اسد کی کتاب The Formation of secular state پڑھ لیں تو ان کو پتہ چلے گا کہ سیکولر ازم کیا ہے اور سیکولر ازم۔ سیکولر ریاست کس جبر درندگی سے قائم کرتا ہے سیکولر ازم نے دنیا کے چھ مسلم ممالک میں اپنے قیام کے لیے کیا درندگی دہشت گردی کی یہ توسب جانتے ہیں۔ مائیکل مین کی کتاب The Dark Side of Democracy سیکولر ازم کی درندگی کی مکمل تاریخ ہے وہ بتاتا ہے کہ جدید سیکولر ریاستیں کسی طرح نسلی لسانی عصبی قتل عام کرکے دہشت گردی پھیلاتی ہیں دنیا کی تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔

سیکولر ریاست میں العلم صرف سائنس ہے یعنی تجربیت اور عقلیت

سیکولر ازم کے عقیدوں کے خلاف ارتداد کا نتیجہ موت ہے

سیکولر معاشرے و ریاست میں تعقل مذہبی باقی نہیں رہتا ریاست صرف اور صر ف آزادی مساوات ترقی جمہوریت کے عقیدوں کو قوت سے نافذ کرتی ہے ان عقیدوں کے خلاف بغاوت انقلاب کی آزادی نہیں ہوتی سو فی صد اکثریت سے بھی عوام ان عقیدوں کو تبدیل نہیں کرسکتے ورنہ انھیں پوری قوت سے کچل دیا جاتا ہے کیوں کہ ارادہ عوام [Popular will]ارادہ عامہ [General will] کے تابع ہے عوام آزادی، مساوات ترقی جمہوریت کا انکار نہیں کرسکتے یہ ارتداد ہے اس کی سزا قتل ہے حیرت ہے کہ غامدی صاحب کو اسلام میں ارتداد کی سزا موت پر شرم آتی ہے سیکولر ازم ، لبرل ازم، جمہوریت اپنے عقیدوں کے تمام مرتدین کو کھلم کھلا قتل کردیتے ہیں شرم تک نہیں کرتے۔ ترکی میں اربکان کی حکومت کا خاتمہ اور یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس سے ان کی اپیل کا مسترد ہونا ،الجزائر میں اسلامک فرنٹ کا حشر اور مصر میں اخوان المسلمین کی برطرفی قتل عام اور پھانسیاں اس کا ثبوت ہیں ۔

سیکولر ریاست صرف سائنس کو العلم سمجھتی ہے تجربیت اور عقلیت کے پیمانوں پر جو علم پورا نہ اترے وہ جہالت ہے لہٰذا مذہبی علم جہالت سمجھا جاتا ہے۔ سائنسی علمیت اور سرمایہ دارانہ معیشت ہر جدید ریاست کا طرہ امتیاز ہے جہاں یہ دونوں اثر انداز ہوتے ہیں ان معاشروں تہذیبوں ریاستوں میں مذہبی علمیت حقیر و ذلیل اور تمسخر و تضحیک کا نشانہ بنادی جاتی ہے اس تمسخر اور تذلیل کی انتہا یہ ہے کہ سیکولرامریکہ کا سب سے بڑا فلسفی رچرڈ رارٹی جو سیکولر ہے وہ کہتا ہے کہ ہم نے پوپ سے مکالمہ نہیں کیا تو ہم اسلامی ماڈرنسٹوں سے مکالمہ کیوں کریں؟

سیکولر ازم کسی مذہبی گروہ سے مکالمہ بھی پسند نہیں کرتا: رچرڈ رارٹی

سیکولر ازم کا مطلب وسعت اللہ نہیں رارٹی بتائے گا

رارٹی مذہب اسلام ،مذاہب عالم حتیّٰ کہ مغرب کی تاریخ و تہذیب کی علامت کیتھولک ازم سے مکالمے کا روادار نہیں ہے اور ہمارے وسعت اللہ خان صاحب فرمارہے ہیں کہ سیکولر ازم کا مطلب لادینیت نہیں ہے بلکہ وسعت قلب ہے مکالمے کے بغیر وسعت کا کیا سوال یہ جہالت کی انتہا ہے۔

سیکولر ازم کا مطلب ہم وسعت اللہ خان سے نہیں رچرڈ رارٹی سے پوچھیں گے دنیا کا سب سے بڑا سیکولر ملک امریکہ ہے اس کا سب سے بڑا سیکولرفلسفی رارٹی کہہ رہا ہے کہ ہم کسی اسلامی جدیدیت پسندسے مکالمہ نہیں کریں گے وہ وحید خان، راشد شاذ، غامدی، قرضاوی، طارق رمضان، کو بھی مکالمے کے قابل نہیں سمجھتا۔ وسعت صاحب اس سیکولر نقطۂ نظر کو رواداری ثابت کررہے ہیں جو مکالمے کے لیے تیار نہیں ہوتا وہی اصل میں سیکولر ہوتا ہے یہی اصلی سیکولر ازم ہے۔

There was no dialogue between the philosophers and the Vatican in the eighteenth century, and there is not going to be one between the mullahs of the Islamic world and the democratic West. The Vatican in the eighteenth century had its own best interests in mind, and the mullahs have theirs. They no more want to be displaced from their positions of power than the Catholic hierarchy did (or does). With luck, the educated middle class of the Islamic countries will bring about an Islamic Enlightenment, but this enlightenment will not have anything much to do with a "dialogue with Islam."[A dialogue between American State philosopher Richard Rorty and Gianni Vatimo from page 72 to 75 Columbia University Press, New York

سیکولر ازم کی آزادی۔ آزادی کا جبر ہے

جناب وسعت اللہ خان سیکولر ازم کے عقیدۂ آزادی کی جس وسعت کو بیان کررہے ہیں وہ آزادی کا جبر ہے وہ امریکی ماہر نفسیات Barry Schwartz کا مضمون Self determination: The Tyranny of Freedom اور اس کی کتاب The Paradox of Choice : why more is less پڑھ لیں تو معلوم ہوگا کہ سیکولر معاشروں میں جس آز ادی کا ڈھنڈورا پیٹا جارہا ہے وہ آزادی کا جبر ہے حقیقت میں آز ادی نہیں ہے۔ وسعت اللہ خان صاحب ان فلسفیانہ مباحث سے واقف ہی نہیں۔

وسعت اللہ خان صاحب کی صحافیانہ مصروفیات میں کتابیں پڑھنے کا وقت کہاں ہوگا وہ اپنے کمپیوٹر پر اوکسفرڈ کی دو لغات پڑھ لیں ان کو سیکولر ازم کا مطلب خود معلوم ہوجائے گا۔

اوکسفرڈ کی Advanced Learner's Dictionaryہے اس میں صفحہ 1062پر لفظ سیکولر Secularکے دو معنی ہیں:

1.Not concerned with spiritual or religious affairs; of this world.

2.Not belonging to a community of the monks.

اس لغت کے اس صفحہ پر لفظ Secularismکے مندرجہ ذیل معنی بھی درج ہیں:

3.The belief that laws, education etc should be based on facts, science, etc rather than religion.

The Oxford English Refrence Distionary ____اس لغت میں صفحہ 1309پر لفظ سیکولر کے چارمعنی درج ہیں:

1.Concerned with this world not spirtual or sacred

2.Not concerned with religion or religious belief.

3.Not acclesiastical or monastic

4.Not bound by a religious rule

سیکولر ازم کا مطلب ہے مادر پدر آزادی

سیکولرازم کے یہی معنیٰ ہے کہ اجتماعی، خاندانی زندگی [Public & Family Life] سے تعقل مذہبی کو خارج کرکے اپنی ذاتی زندگی [Individual Life] تک کچھ رسوم و رواج کو مذہب کے طور پر اختیار کرنا اور صرف خود ہی عمل کرنا اپنے خاندان بیوی بچوں کو بھی اس دائرے سے باہر رکھنا کیوں کہ وہ سب سیکولر ازم میں Other دوسرے ہیں ان کی زندگی میں باپ شوہر بھائی ماں مداخلت نہیں کرسکتے۔ اگر مداخلت کریں گے تو جیل میں بند ہوجائیں گے امریکہ میں کوئی باپ بیٹے کو جبراً نماز پڑھا کر دیکھے اور بیٹی کو جبراً Boy friend کے ساتھ جانے سے روک کر دیکھے سیکولر ازم کا پتہ چل جائے گا آزادی ہی سیکولر ازم ہے اگر شوہر نے بیوی سے جبراً مباشرت کی تو قید جرمانہ سزا۔ اسے مغرب میں نکاحی زنا Marital Rape کہتے ہیں یہ ہے سیکولر ازم جو آپ کے گھر خواب گاہ نجی زندگی میں داخل ہوچکا ہے یہ آزادی کا جبر ہے۔

وسعت اللہ خان یونیورسٹی اور مدرسے کا فرق تک نہیں جانتے

وسعت اللہ خان صاحب جس طرح سیکولر ازم کی اصطلاح کی تعریف کے بارے میں جھوٹ بول رہے ہیں بالکل اسی طرح انہوں نے مشال کے قتل پر بھی عمار ناصر سے جھوٹ بولا تھا کہ یہ قتل توہین رسالت پر نہیں ہوا بلکہ یونیورسٹی انتظامیہ اور پروفیسروں نے اپنی بد عنوانیاں چھپانے کے لیے کیا ہے وسعت اللہ نے آج تک قتل کرنے والے کسی لڑکے اور تین ہزار کے ہجو م میں سے تین لوگوں کے انٹر ویو بھی نشر نہیں کیے نہ کبھی یونیورسٹی کی انتظامیہ کا انٹرویو کیا۔صحافی اتنے ہی سچے ہوتے ہیں۔

وسعت اللہ کے علم کی وسعت کا حال یہ ہے کہ وہ مشال واقعے پر ناظرین کو بتارہے تھے کہ مجھے شرمندگی ہے کہ ایسا واقعہ یونیورسٹی میں ہوا کسی مدرسے میں نہیں ہوا۔ ان کی ذہنی پسماندگی کا اندازہ کیجیے کہ یہ مدرسے میں ایسا واقعہ نہ ہونے پر حیرت کررہے ہیں مدرسہ میں کبھی رسول کا دشمن داخلہ نہیں لے سکتا وہ سیکولریونیورسٹی نہیں ہے العلم کی درس گاہ ہے جہاں داخلہ لینے کی پہلی شرط یہی ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول کو مانتے ہو۔ وہاں اہل ایمان آتے ہیں اہل تقلید آتے ہیں اہل تنقید نہیں آتے مدرسہ ۔ یونیورسٹی نہیں ہے جہاں سب کچھ بکنے سب کچھ کر گزرنے کی آزادی ہے اس مادر پدر آزادی کا انجام بھی سامنے ہے زبان میں ہڈی نہیں ہوتی مگر یہ ہڈی تڑوا سکتی ہے۔

دوسو لبرل اپنی زبان قابو میں رکھیں عوام کو مشتعل نہ کریں

علماء دیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات کو قابو میں نہیں کرسکتے

مذہبی معاشرے میں پہلے سوچو پھر بولو۔ رواداری یہ نہیں ہے کہ دو سول لبرل لوگوں کی گالیاں پاکستان کے اٹھارہ کروڑ مسلمان سن لیں مشتعل نہ ہوں رواداری یہ ہے کہ اپنی زبان قابو میں رکھو اسے بے قابو نہ ہونے دو۔

علماء دیڑھ ارب مسلمانوں کوکنٹرول نہیں کرسکتے لہٰذا لبرل لوگ احتیاط سے کام لیں اپنے آپ کو اور مسلمانوں کو آزمائش میں نہ ڈالیں یہی بہتر ہے ۔مذہبی معاشرے میں لوگوں کا احترام اور تقدس ہوتا ہے پاکستان ایک سیکولر ملک تو ہے مگر یہ ایک سیکولر غیر مقدس Profan معاشرہ نہیں ہے یہ خالص مذہبی معاشرہ ہے اور مذہبی معاشرے میں ہر شخص کو سوچ سمجھ کر بولنا چاہیے اور زبان سنبھال کر ہلانا چاہیے بولنے کا بہت شوق ہے تو روس امریکہ کی سرحدیں ایسوں کے لیے کھلی ہوئی ہیں۔

ان تمام حوالوں کے باوجود شاید وسعت اللہ صاحب کو سیکولر ازم کا حقیقی چہرہ نظر نہیں آیا ہوگا لہٰذا چند اور حوالے پیش خدمت ہیں امید ہے ان سے تسلی ہوجائے گی ۔

لبرل ڈربن کہتا ہے جو سیکولر ازم کی دلیل مانگے اسے گولی ماردو:

اس صدی کے سب سے بڑے سیاسی فلسفی John Rawls نے سیکولر ازم، لبرل ازم کو زندہ کرنے کے لیے جتنی بھی دلیلیں دی ہیں وہ سب کی سب ایمانی دلیلیں ہیں ان میں کوئی عقلی دلیل نہیں ہے رالس کے تمام دعوے صرف مفروضات ایمانیات، اعتقادات ہیں۔ سوال یہ ہے کہ سرمایہ داری کے نظریہ لبرل ازم اور سرمایہ داری کے بنیادی عقیدوں ،آزادی، مساوات، دستوری آئینی جمہوریت اور ترقی، پر ہم کیوں ایمان لائیں ۔

وسعت اللہ خان صاحب ایچی سن والوں کو سیکولر ازم اور لبرل ازم کے تمام عقیدوں پر ایمان لانے کی دعوت کیوں دے رہے ہیں؟ سوال یہ ہے کہ ان عقیدوں کی عقلیت [Rationality of Faith] ان عقائد کی عقلی توجیہہ کیا ہے تو اس سوال کا جواب دیتے ہوئے جان رالس کا شارح ڈربن اپنی کتاب"On Rawls & Political Liberalism" میں صاف صاف لکھتا ہے کہ سیکولر ازم یعنی آئینی دستوری لبرل جمہوری روایات اور ریاست عہد جدید کا الحق اور الخیر [Suprem Good]ہے جس کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہیں اگر کوئی جاہل شخص لبرل دستوری جمہوریت جیسے معیاری، مثالی نظام میں زندگی بسر کرنے کے فوائد اپنی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا تو میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ایسے جاہل کو کس طرح سمجھایا جائے۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ ایسے شخص کو گولی مار دی جائے ایسے احمق جاہل شخص کے ساتھ مکالمے کی ضرورت نہیں ان موضوعات پر کسی کودلیل دینے کی ضرورت نہیں کیوں کہ جمہوریت آزادی مساوات دستوری ریاست کو ہم بدیہی حقیقت ، ناقابل تردید سچائی ،امر لازم taken for granted سمجھتے ہیں ایسی آفاقی حقیقتیں جن میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں اس کے لئے دلائل کی ضرورت نہیں ڈربن لکھتا ہے:

What Rawls is saying is that there is in a constitutional liberal democracy a tradition of thought which it is our job to explore and see whether it can be made coherent and consistent... We are not arguing for such a society. We take for granted that today only a fool would not want to live in such a soceiety... If one cannot see the benefits of living in a liberal constitutional democracy, if one does not see the virtue of that .ideal, then I do not know how to convince him. To be perfectly blunt,sometimes I am asked,when I go around speaking for Rawls, What do you say to an Adolf Hitler? the answer is [nothing]. You shoot him. You do not try to reason with him. Reason hasno bearing on this question. So I do not want to discuss it (Burton Derben on Rawls & Political Liberalism in the cambridge companion to Rawls [ed.S.R.,Freeman] UK: Cambridge University Press USA 2003 Page 328-329)

لبرل ازم کے دشمنوں کو جراثیم کی طرح ختم کردیا جائے:John Rawls

ممکن ہے وسعت اللہ صاحب فرمائیں کہ یہ جان رالز کے شارح ڈربن کا بیان ہے رالز کا نقطۂ نظر نہیں ہے مگر یہ بات بھی درست نہیں ہے خود رالز اپنی کتاب Political Librealism میں یہی جارحانہ، متشددانہ، دہشت گردانہ نقطۂ نظر پیش کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ سیکولر ازم، لبرل ازم کے پیش کردہ آفاقی تصور عدل اور لبرل سرمایہ دارانہ معاشرے کی اقدار کے مخالفین و منکرین جواس اعلیٰ ترین نظام زندگی کو تلپٹ کرنا چاہتے ہیں ان کونہایت بے رحمی کے ساتھ پوری طاقت سے۔ اس طرح کچل دینا چاہیے جس طرح جنگوں کواور جراثیم کو ختم کردیا جاتا ہے ۔تاکہ یہ وحشی اورجنونی لبرل نظام عدل کو تہس نہس نہ کرسکیں ۔

رالس کے الفاظ پڑھیے :

That there are doctrines that rejects one or more democratic freedom is itself a permanent fact of life, or seems so. This gives us the practical task of containing them__like war and disease __ so that they do not overturn political justice [ John Rawls, Political Liberalism, New York : Columbia University Press, 2005, p.64]

سیکولر ازم کی دہشت گردی کی تاریخ The Dark Side of Democracy

مغربی تہذیب درندگی و بربریت کی تہذیب ہے Enzo Traverso:

میڈیا لبرل سیکولر نظام تعلیم کے بعد سرمایہ دارانہ جمہوری سیکولر ، لبرل علمیت ، انفرادیت ، معاشرت ، تہذیب کے غلبے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے یہ لبرل انفرادیت تعمیر [Construction of Libral Self] کرنے کا اہم ترین وسیلہ ہے ۔میڈیا کے ذریعے سیکولر ازم اور لبرل ازم کے تمام مخالفین کو اس نظام میں ضم کرلیا جاتا ہے جو اس نظام میں ضم نہیں ہوسکتے ان کو یا تو اچھوت بنادیا جاتا ہے یا ان کو ایک اقلیت کا درجہ دے دیا جاتا ہے اگر یہ اقلیت اس نظام کے لیے خطرہ بنے تو اس اقلیت کو نظام کے تحفظ کے لیے قتل بھی کردیا جاتا ہے[Black Pathor Movment] کو امریکی حکومت نے ایک رات میں قتل کرکے ہمیشہ کے لیے ختم کردیا تھا ستر کی دہائی میں امریکہ میں سوشلسٹوں کے ساتھ کیاکیا گیا سب سیکولرسٹ اچھی طرح جانتے ہیں ____ سیکولر ازم اور لبرل ازم اور اس کی جمہوریت زبردست بہیمیت، بربریت اور وحشت و دہشت گردی کے ذریعے دنیا پر مسلّط ہوئے آج وسعت اللہ خان صاحب کو سیکولر ازم اور لبرل ازم جتنا شریف ،نیک ، پارسانظر آتا ہے اتنا شریف نہیں ہے اس کی پوری تاریخ دہشت گردی ، بہیمیت ، درندگی ، ظلم و ستم کی تاریخ ہے اس کے چند حوالے اس مضمون میں موجود ہیں طلال اسد کی کتاب On Sucide bombing پڑھ لیجیے۔جان لاک نے سرخ ہندیوں کے قتل عام کا جو فلسفیانہ جواز پیش کیا تھا وہ بھی لبرل ازم کی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے ۔لاک نے کہا تھا کہ یہ انسان نہیں بن سکتے یہ کسی ملکیت کے قائل نہیں لہذا ان کا مجبوراً خاتمہ ضروری ہے جو شخص سرمایہ جمع کرنے اور سرمایہ سے سرمایہ میں اضافہ کرنے کے لئے تیار نہ ہو لبرل ازم کی نظر میں وہ انسان ہی نہیں ہے کیونکہ آزادی کا حصول سرمایہ کے بغیر ممکن نہیں اور آزادی کی ٹھوس شکل بس سرمایہ ہی تو ہے۔ جان لاک انسان اسے سمجھتا تھا جو سیکولر ازم کے تین عقیدوں (۱)Liberty، (۲) Property(۳)Life پر ایمان لائے ان عقیدوں کے مطابق زندگی بسر کرے مال کمائے جمع کرے اس میں مسلسل مستقل اضافہ کرے سرخ ہندی ان عقائد کے مخالف تھے لہٰذا دس کروڑ سرخ ہندیوں کو پچاس سال میں امریکی سیکولر ازم نے تڑپا تڑپا کر قتل کردیا اس کی داستان وسعت ا للہ صاحب مائیکل مین کی کتاب The Dark Side of Democracy میں پڑھ سکتے ہیں جو کیمبرج یونیورسٹی پریس سے شائع ہوئی ہے ۔

جان لاک [John Lock]جو سیکولر ازم لبرل ازم کا بہت بڑا فلسفی ہے اپنے خط The letter of tolerance میں لکھتاہے کہ ایک سیکولر لبرل ریاست میں کیتھولک مذہب رکھنے والوں کو برداشت نہیں کیا جاسکتا یہ سیکولر ازم کی رواداری ہے لاکھوں لوگوں کو قتل کرنے کے بعد کیتھولک ازم کو اس لیے برداشت کرلیا گیا کہ سب کو قتل کرنا عملاً نا ممکن تھا ان کی کمر توڑ کر ان کی قوت کم کردی گئی تھی اور کیتھولک ازم جدیدیت سیکولر ازم کوقبول کرنے پر آمادہ ہوگیا تھا ۱۹۶۴ء کی چرج کونسل نے منشور انسانی حقوق کو تسلیم کرلیا۔

ہولو کاسٹ کے حوالے سے Enzo Trave so مغرب اور لبرل ازم کی بہیمیت کی کامل نمائندگی کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ یہ بہیمیت اور بربریت کوئی اتفاقی حادثہ یا مغرب کا اپنی تاریخ سے انحراف نہیں تھا بلکہ یہ واقعہ سیکولرمغربی تہذیب کی مستند ترین تخلیق [Product] تھا۔ دوسرے معنوں میں درندگی بربریت سیکولر مغرب کی تہذیب کا خاص کارنامہ ہے۔

Holocaust was not abervation of History it was an authentic Product of Westren Civilization

اس سیکولربہیمیت کی ایک انتہا ئی شکل نیمیبیا کے Herero گروہ کی ملک بدری اور قتل عام تھا جسے سیاسی فلسفی FriedrichRatzel کے فلسفے نے ممکن بنایا وہ کہتا تھا

Migration being Crucial to the Survival of Human Races

اسی فلسفی نے ایک اصطلاح Lebensraum تخلیق کی Herero کو ملک بدری کا حکم دے کرانھیں دور دراز پھینکا گیاعورتوں کے کیمپوں میں بھوک افلاس کا نتیجہ یہ تھا کہ وہ مردہ لوگوں کے سروں کی کھالوں کو چھیل کراوراُبال کر کھارہی تھیں وسعت اللہ صاحب بتائیں کہ اس درندگی پر وہ کیا فرماتے ہیں؟

مؤرخ Dennis Luaman نے لکھا ہے

Boiled & Scraped the skin off the heads of Heroero who had been Killed. Those skulls were then shipped off to Germany for museum displays and eugenics research.

فراز فینوں [Frantz Fanon]نے اپنی کتابوں میں سیکولر استعماری دہشت گردی اور ا س کے مد مقابل مزاحمتی تحریکوں کی تاریخ پر بہت لکھا ہے اس کی اہم کتابیں درج ذیل ہیں

(1) Black Skin, White Masks

(2) A Dying colonialism

(3) The wretched of the Earth

وہ لکھتا ہے کہ سیکولر استعمار کی مزاحمت کرتے کرتے غلام قوموں میں باہمی تشدد اور جنگ و جدال کا جذبہ بھی غیر معمولی حد تک قوی ہو جاتا ہے وہ ثابت کرتا ہے کہ تمام یورپی استعماری قوتوں نے تشدد کے ذریعے ہی اپنا اقتدار قائم کیا کالو نیل ازم کی تاریخ اس کا ثبوت ہے۔

وسعت اللہ صاحب نے حنا آرنیڈٹ Hannah Arendetکی کتاب The Origions of Totalitarianismنہیں پڑھی جس میں وہ بتاتی ہے کہ سیکولریوروپی استعماریت کو روح اور خوراک مہیا کرنے والی نسل پرستی پلٹ کریورپ میں بڑے پیمانے پر قتل عام[Genocide]، دہشت گردی اور یہودیوں کی بدترین نسل کشی کا سبب بنی ہاریروHarero اور ناما[Nama]قبائل کے ایک لاکھ لوگوں کا قتل عام سیکولر نسل پرستی کی بربریت کا معمولی ثبوت ہے۔

البرٹ میمی کی کتاب The Colonizer & the Colonizedشمال افریقہ میں سیکولر فرانسیسی استعمار کی دہشت گردی کی ہولناک کہانی سناتی ہے۔ عسکری ، اقدامی دہشت گردی سے قطع نظر __مغرب نے علمی ثقافتی، سائنسی، لسانی ، ماحولیاتی اور معاشرتی دہشت گردی کے ذریعے پوری دنیا کو جغرافیائی اور جسمانی طور پر آزاد کرنے کے بعد__ اپنی ذہنی ، علمی اور روحانی غلامی میں لے لیا ہے غلام اپنے آقا کے عشق میں گرفتارہیں۔

استعماریت کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے معاشرت اور فطرت ، معاشرتی تعلقات کے تانوں بانوں اور انسانی معاشرت کو جدید نظم و ضبط اورتنظیم کے ذریعے ختم کردیا ولیم وائٹ کی کتاب The Organization Manاور فوکالٹ کی کتاب Discipline & Punishہمیں بہت سے اہم مباحث سے آگاہ کرتی ہے۔ مشین اور ٹیکنالوجی نے خدا کی جگہ لے لی ہے ہائیڈگر، ممفرڈ اور جے الول[Heidegger, Mumford & J. Illul ] نے ان مباحث پر بہت کچھ لکھا ہے یہ جدید خدامغربی، یوروپی، امریکی استعماریت کی عالمگیریت قائم کررہے ہیں اور فطرت کو مسخ کررہے ہیں یرگن ہابر ماس[Jurgen , Haberas] نے جدید ایجادات کے ذریعے قائم ہونے والی استعماریت کا ذکر The Philosophical Discource of Modernityمیں کیا ہے وہ بتاتاہے کہ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں ریلوے کے نظام نے یورپی انسان کے زمان و مکان کے ادراک کو اس کی جڑوں اور بنیادوں تک تبدیل کرکے رکھ دیا ۔

سیکولر تہذیب مغرب کے میڈیا ،انٹرینٹ ، فیس بک ،موبائل فون نے تو ہر انسان کو کالونائز کرلیا ہے تاریخ انسانی کی ایسی جابر تہذیب کے جبر کے مقابلے پر وسعت اللہ صاحب بین السطور میں اسلام کو ایک جابر تہذیب ثابت کررہے ہیں اور سیکولر ازم کے قصیدے پڑھ رہے ہیں یہ جہالت کی آخری انتہا ہے۔سیکولر ازم کی تین سو سالہ وحشیانہ قتل عام دہشت گردی اور درندگی کی تاریخ وسعت اللہ صاحب Dark Side of Democracy میں پڑھ لیں

شریعت پر مکمل عمل کے لیے اسلامی ریاست کا وجود لازمی ہے

اسی لیے مغرب عبادت کے لیے ریاست کے وجود کو پولیٹیکل اسلام کہتا ہے

ہماری اطلاع کے مطابق جناب وسعت اللہ خان الحمدللہ ایک مسلمان ہیں طالب علمی کے دور میں ان کا تعلق اسلامی جمعیت طلباء پاکستان سے رہا اس عہد میں وہ مجاہدین کی صف اول میں ہوتے تھے اور اسلامی نظام کے غلبے کی جدوجہد میں مجاہدانہ جذبے سے سرشار رہتے تھے۔ہمیں یقین ہے کہ ان کا وہ جذبہ وقت کے ساتھ بڑھا ہوگا کم نہ ہوا ہوگا BBC کے ساتھ پوری دنیا گھومنے کے بعد انہیں عملی طور پر بھی پتہ چل گیاہوگا کہ شریعت پر عمل کے لیے ریاست کیوں ضروری ہے اور اسلام نے دارالحرب میں قیام کو کیوں حرام قرار دیا ہے۔لہٰذا وہ ایمان رکھتے ہوں گے کہ ایک مسلمان اپنی پوری زندگی شریعت کے مطابق بسر کرنے کا پابند ہے۔اور شریعت پر کوئی مسلمان اس وقت تک کامل عمل نہیں کرسکتا جب تک اسلامی ریاست امارت حکومت عدالت موجود نہ ہو۔

اسلام اپنی اصل میں ریاست کا طالب ہے

عبدیت کاملہ ریاست کے بغیر ممکن نہیں

اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس کی تمام عبادات ریاست کے وجود کے بغیر مکمل ہی نہیں ہوسکتیں لہٰذا ایک شخص اگر خدا کی کامل بندگی چاہتا ہے تو اسے اسلامی ریاست کی اشد ضرورت ہے انہی معنوں میں شریعت پر عمل کے لیے ریاست کے قیام کی جدوجہد ایک درجے میں خالص شرعی جدوجہد بھی بن جاتی ہے ۔واجب کا مقدمہ بھی واجب ہوتا ہے فرض کا مقدمہ بھی فرض ہوتا ہے اسی طرح حرام کا مقدمہ بھی حرام ہوتا ہے نظر بازی اسی لیے حرام ہے کہ یہ زنا کا مقدمہ ہے۔

اسی لیے مغرب کا اسلام پر ا عتراض یہی ہے کہ اسلام خلقی طور پر سیاسی Political ہے اس کا نظام عبادات، سیاست، ریاست ،حکومت کے بغیر نہیں قائم ہوسکتا اسلامی علمیت میں عبدیت کا ملہ کا حصول ریاست کے بغیر محال ہے لہٰذا اسلام اصلاً سیاسی اسلام Political Islam ہے دعوت اسلامی اور تبلیغی جماعت جو دعوتی کام کرتے ہیں وہ بھی زکوٰۃ اور جہاد کا انکار نہیں کرسکتے لہٰذا یہ دونوں دعوتی تحریکیں بھی مغرب کے مفکرین کی نظر میں سیاسی اور انقلابی تحریکیں ہیں کیوں کہ یہ خاموشی کے ساتھ شریعت کے کامل اطلاق کی جدوجہد کرتی ہیں ان کی کسی تحریر تقریر سے نہ جہاد کا انکار ثابت ہوسکتا ہے نہ زکوٰۃ کی معطلی ثابت ہوتی ہے دوسرے معنوں میں یہ دونوں تحریکیں بھی ریاست سیاست حکومت کی مدعی ہیں یہ الگ بات ہے کہ عملاً یہ اس سیاسی جدوجہد سے الگ تھلگ رہتی ہیں اپنا الگ محدود دائرہ کار رکھتی ہیں لیکن مخفی طو رپر یہ اسلام کی کلیت کو تسلیم کرتی ہیں جو اصلاً سیاسی ہی ہے۔

جمعہ، فے، زکوٰۃ ، جہاد، نفاذ حدود و تعزیرات اسلامی ریاست کے بغیر ممکن ہی نہیں

شریعت کی اصطلاح میں انھیں موکول علی السلطان کہا جاتاہے

دنیا کا کوئی مذہب ایسا نہیں ہے جس کی عبادات ریاست کے بغیر مکمل نہ ہوتی ہو۔ اسلام میں زکوٰۃ اور جہاد دو ایسی عبادات ہیں جو ریاست کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتیں۔ زکوٰۃ کی وصولی فرد کی نہیں ریاست کی ذمہ داری ہے جہاد ریاست کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے لہٰذا جہاد اور زکوٰۃ ریاست کے طالب ہیں۔

اسلامی ریاست سے واقف اہل علم جانتے ہیں کہ (۱) جمعہ (۲) زکوٰۃ (۳) فے(۴) قتال (۵) اقامت حدود کے لیے سلطان، اقتدار، حکومت ،امارت ،ریاست شرط لازم فقہائے کرام ان احکام کو اصطلاح میں موکول الی السلطان قرار دیتے ہیں ۔امام ابوبکر حصاص نے احکام القرآن میں لکھا ہے

وقد علم من قرع سمعہ ھذا الخطاب من اھل العلم ان المخاطبین بذلک ھم الائمۃ دون عامۃ الناس فکان تقدیرہ : فلیقطع الائمۃ والحکام ایدیھما ولیجلد ھا الائمۃ والحکام (۳؍۲۸۳) ’’اہل علم میں سے جو شخص بھی اس خطاب کو سنتا ہے فوراً سمجھ لیتا ہے کہ اس کے مخاطب عام مسلمان نہیں بلکہ ان کے ائمہ و حکام ہیں۔ چنانچہ اس میں مثال کے طور پر تقدیر کلام ہی یہ مانی جاتی ہے کہ پس چاہیے کہ امراو حکام ان کے ہاتھ کاٹ دیں اور چاہیے کہ امراو حکام ان کی پیٹھ پر تازیانے برسا دیں۔(ص۲۵۳)

فقہ السنہ کے مصنف السید سابق لکھتے ہیں

والنوع الثالث من الفروض الکفائیۃ ما یشترط فیہ الحاکم مثل الجھاد و اقامۃ الحدود

اور کفایہ فرائض کی تیسری قسم وہ ہے جس میں حکمران کا ہونا شرط ہے مثا ل کے طور پر جہاد اور اقامت حدود(السید سابق فقہ السنہ ۳؍۳۰)

قاضی ابو بکر بن العربی سورہ حج کی آیت ۴۰ کی شرح میں لکھتے ہیں

قال علماؤنا رحمھم اللہ: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قبل بیعۃ العقبۃ لم یوذن لہ فی الحرب ولم تحل لہ الدماء (احکام القرآن ۳؍۱۲۹۷) ’’ہمارے علماء نے فرمایا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بیعت عقبہ سے پہلے نہ جنگ کرنے کی اجازت دی گئی اور نہ آپ کے لیے خون بہانا جائز ٹھہرایا گیا۔(ص۲۳۰)

ان حوالوں سے ثابت ہوگیا کہ موکول علی السلطان کے لیے اسلامی ریاست کا قیام لازمی ہے ورنہ اسلام پر عمل نہیں ہوسکتا لہٰذا وسعت اللہ خان صاحب کا یہ دعویٰ کہ

سیکولر ازم تمام عقائد کا یکساں انفرادی و اجتماعی احترام کرتا ہے اور ان کے بارے میں غیر جانبدار انہ مساوی ریاستی پالیسی اختیار کرتا ہے۔

ایک غلط دعویٰ ہے کیوں کہ اسلام کے عقائد کا احترام اور ان عقائد پر عمل اسی وقت ممکن ہے جب سیکولر ازم اسلام کو ریاست سیاست کی سطح پر نافذ ہونے دے اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلامی ریاست ایک خاص قسم کی ریاست ہے جو اپنے دین، شریعت کا ہر حال میں غلبہ چاہتی ہے مگر وسعت اللہ خان لکھتے ہیں کہ

سیکولر ریاست کا مقصد کسی خاص مذہبی تشریح سے بچنا ہے۔

اس کا دوسرا مطلب یہ ہوا کہ سیکولر ریاست میں اسلام نہ نافذ ہوسکتا ہے نہ مسلمانوں کو اسلامی شریعت پر مکمل عمل کی آزادی ہوسکتی ہے لہٰذا سیکولر ریاست اصلاً اسلام دشمن ہی نہیں مذہب دشمن ریاست ہے جو صرف اور صرف آزادی اور ترقی کے مغربی عقیدوں کو ہی نافذ کرتی ہے ان کے سوا کسی دوسرے عقیدے کو نافذ نہیں ہونے دیتی۔وسعت اللہ خان ان مباحث سے واقف ہی نہیں صحافی عموماً ایسے ہی ہوتے ہیں مگر ہر صحافی کو مفکر اسلام ہونے کا دعویٰ ہوتا ہے۔

ڈاکٹر عائشہ جلال ، حامد میر عربی فارسی نہیں جانتے مگر اسلام پر لکھ رہے ہیں

اسلام سے مکالمے کے لیے سیکولر لوگ ماخذات دین کا مطالعہ کریں

حامد میر صاحب جن کی زندگی سیکولر ازم لبرل ازم کی تشریح و تفسیر میں گزری آج کل مختلف غیر ملکی جامعات میں اسلام پر لیکچرز دے رہے ہیں حال ہی میں انہوں نے حضرت خدیجہ کی شادی کو محبت کی شادی قرار دے کر اسلام میں عورت کی آزاد مرضی کی شادی کا نیا اسلامی فلسفہ پیش کیا ہے جس شخص کو عربی زبا ن نہیں آتی جس شخص نے قرآن و حدث کا باقاعدہ علم حاصل نہیں کیا وہ اسلام پر خطبات دے رہا ہے یہ بد دیانتی کی انتہا ہے ایسے جعلی مفکرین عالم اسلام میں عام ہیں ۔

عائشہ جلال اہم تاریخ داں ہیں مگر اپنا موضوع چھوڑ کر انہوں نے پیسے کمانے کے لیے اسلام پر ہاتھ صاف کرنے کی کوشش کی ان کی کتاب Jihad in south East Asia

اس کا ثبوت ہے عائشہ جلال نہ اسلام سے واقف ہیں نہ عربی سے نہ فارسی سے اردو زبان پر بھی انہیں عبور حاصل نہیں ہے مگر جہاد جیسے حساس موضوع پر کتاب لکھنے کا ارادہ انہو ں نے کرلیا اور مغربی اداروں سے بھاری مشاہرے لے کر پہلے کچھ عربی فارسی اردو پڑھی ۔پھر اسلام پر انگریزی زبان میں کچھ مطالعہ جات کیے اس کے بعد ایک غلط سلط کتاب لکھ دی اس کتاب میں مولانا مودودی کے تصور جہاد پر انہو ں نے تنقید کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عائشہ جلال نے مولانا مودودی کی کتابیں ہی نہیں پڑھیں حامد میر حسین حقانی وسعت اللہ خان آئی اے رحمان جیسے صحافیوں سے اسلام کے بارے میں سن کر جو چاہا لکھ دیا عصر حاضر میں سب سے زیادہ دولت اسلام پر تحقیقات میں ملتی ہے۔جو لوگ بنیادی ماخذات دین عربی میں نہیں پڑھ سکتے وہ اسلام پر لکھ رہے ہیں اور شہرت پارہے ہیں۔

عائشہ جلال کی کتاب میں اسلام کے بنیادی ماخذات سے ایک حوالہ بھی موجود نہیں ہے دنیا کے تمام لبرل مفکرین مولانا مودودی کے تصور جہاد سے بخوبی واقف ہیں مگر عائشہ جلال نے یہ تحقیق پیش کی ہے کہ مولانا مودودی کا تصور جہاد امت کے اجماع سے مختلف جہاد ہے جس مصنفہ کی علمی استعداد اسلام کے بارے میں اس قدر کم زور ہے اسے اسلام پر نہیں لکھنا چاہیے ڈاکٹر مونس احمر صاحب کے پروگرام PPSER کا یہی مسئلہ ہے وہ اسلام اور سیکولر ازم میں مفاہمت کی تاریخی مذہبی بنیادیں تلاش کررہے ہیں لیکن انہوں نے اسلام کا مطالعہ ہی نہیں کیا ان کے تمام مطالعہ جات ثانو ی مصادرو ماخذات اور عموماً مغرب کے مفکرین یا اسلامی متجددین سے متعلق ہیں کاش کہ وہ اسلام کا نقطۂ نظر براہ راست عربی فارسی کتابوں سے معلوم کرتے۔یا کم از کم اردو کی ان کتابوں سے رجوع کرتے جو ان مصادر سے استفادہ کرتی ہیں وہ مکالمہ صرف لبرل سیکولر لوگوں سے ہی کرتے ہیں مذہبی لوگوں سے کبھی مکالمہ نہیں کرتے نہ انھیں بلاتے ہیں۔

ان کی کتاب Secular Pakistan کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ جن مسلمانوں مذہبی جماعتوں متشدد گروہوں عسکری تنظیموں سے مکالمہ چاہتے ہیں ان کے نظریات و اعتقادات سے واقف نہیں ہیں ان کے اخلاص میں کوئی شبہ نہیں مگر وہ اسلامی علمیت کے ذخائر سے بالکل ناواقف ہیں دوسرا مسئلہ ان کے ساتھ یہ ہے کہ وہ متشدد عسکری گروہوں کو راسخ العقیدہ مذہبی مکاتب فکر سے ہی وابستہ سمجھتے ہیں حالانکہ اسلامی مکاتب فکر کا اس حوالے سے مطالعہ کرتے ہوئے نہایت احتیاط کی ضرورت ہے ان کی کتاب میں مذہبی گروہوں کا سیکولر ازم کے خلاف نقطۂ نظر سامنے نہیں آسکا اسلام کا سنجیدہ مطالعہ منہج اہل سنت سمجھے بغیر ممکن نہیں ہمارے مفکرین صرف سرسید غامدی اور زیادہ سے زیادہ پروفیسر خورشید احمد کی کتابوں پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ مطالعہ نا مکمل مطالعہ ہے اس کا نتیجہ کبھی مثبت نہیں نکل سکتا۔

ڈاکٹر عائشہ جلال ڈاکٹر مونس احمر کا اصل مسئلہ:

برنارڈ لیوس نے اپنی کئی کتابوں میں اسلام پر کام کرنے والے مغربی اور اسلامی مفکرین کی غلطیوں کو تفصیل سے واضح کیا ہے انہی غلطیوں کا ارتکاب عائشہ جلال ، مونس احمر اور حامد میر وغیرہ کررہے ہیں وہ لکھتا ہے کہ اسلامی اصطلاحات کا ایک خاص مطلب ہے وہ ایک خاص علمیت تاریخ تہذیب تمدن ثقافت سے برآمد ہوئی ہیں لیکن مغرب میں اور مشرق میں کام کرنے والے جب اپنی تحقیقات میں ان اسلامی اصطلاحات کو استعمال کرتے ہیں تو ان کا تناظر خالص مغربی ہوتا ہے مثلاً جب وہ اسلامی تاریخ کے کسی بادشاہ، امیر ، سلطان____ خلیفہ کا ذکر کرتے ہیں تو وہ اسے صدر یا وزیر اعظم کی مغربی اصطلاحات کے ذریعے بیان کرتے ہیں جب کہ ان مغربی اصطلاحات کا اطلاق ان پر نہیں کیا جاسکتا ۔ صدر اور وزیر اعظم کے پاس تو وہ اختیارات ہی نہیں ہوتے جو بادشاہ یا سلطان کے پاس ہوتے ہیں وہ خدا کا خلیفہ ہوتا ہے اور زمین پر اپنی امت کے دین و دنیا دونوں کا محافظ ہوتا ہے۔ خلافت Republic نہیں ہوتی۔

صدر وزیر اعظم خدا کا خلیفہ نہیں عوام کا نمائندہ ہوتا ہے جمہوریت Republicہوتی ہے وہ خلافت نہیں ہوتی صدرزمین پر صرف ان کی دنیا کا محافظ ہوتا ہے دین تو اس کا سرے سے موضوع ہی نہیں ہوتا ۔ لہٰذا وہ لکھتا ہے کہ اسلامی اصطلاحات کی تاریخی تشریحی لغت کی اشدضرورت ہے۔اس کے بغیر اسلام پر مغرب میں جو کام ہورہا ہے وہ اسلام کا حقیقی چہرہ پیش نہیں کرسکتا [Lewis] لیوس نے اپنی کتاب The Political Language of Islam میں اس موضوع پر چنداشارات کیے ہیں چند دوسری کتابوں میں بھی اس نے ان مباحث کو بیان کیا ہے ایک اور کتاب میں لیوس نے اس موضوع پر تفصیل سے لکھا ہے ان کتابوں کے نام اس وقت ہمارے ذہن میں نہیں ہیں۔

میثاق مدینہ سیکولر ریاست کا میثاق نہیں تھا نہ یہ سیکولر ازم ہے

میثاق میں تمام اختیارات اللہ اور رسول کے پاس تھے

بہت سے مفکرین میثاق مدینہ سے ایک سیکولر ریاست کا تصور پیش کرتے ہیں جو بہت بڑا علمی دھوکہ ہے ان میں سے اکثر مفکرین عربی ماخذات تک رسائی نہیں رکھتے نہ اسلامی علمیت کی تاریخ اور اصطلاحات کی ماہیت سے واقف ہیں۔

عموماً میثاق کے اردو انگریزی ترجمے پڑھ کر یہ میثاق مدینہ کو ایک سیکولر ریاست ثابت کردیتے ہیں حالانکہ میثاق مدینہ کا پورا متنtext جو تاریخ کی کتب میں موجودہے ایک سیکولر دشمن ریاست کا متن Text ہے سیکولر ریاست کا تصور خیر صرف آزادی مساوات ترقی ہوتا ہے میثاق مدینہ ایسے کسی عقیدے کو تسلیم ہی نہیں کرتا۔

میثاق کے ایک لفظ امت سے سیکولر ازم کا افسانہ نکلا

میثاق کے بارے میں یہ غلط فہمی صرف ایک جملے سے پیدا ہوئی جو آغاز میں درج ہے۔

وان یھود بنی عوف امۃ مع المومنین لیھود دینھم واللمسلمین دینھم موالیھم انفسھم

یہود اس دستور کے مطابق مسلمانوں کے ساتھ ایک امت تسلیم کیے جاتے ہیں رہا دین کا معاملہ تو یہودی اپنے دین پر رہیں گے اور مسلمان اور ان کے موالی سب اپنے دین پر۔

اس جملے سے امت کے جملے سے یہودیوں کو امت مسلمہ کا حصہ سمجھ لیا گیاظاہر ہے یہ جہالت اکبر ہے۔ سیکولر اسلام دنیا کی پہلی سیکولر ریاست مدینہ ۔کے افسانے تخلیق کرلیے گئے حالانکہ اگر اس میثاق کا مکمل مطالعہ کیا جاتا تو خود واضح ہوجاتا کہ میثاق مدینہ کے بعد دنیا میں مسلمانوں کی کوئی ریاست امارت خلافت کبھی بھی سیکولر نہیں ہوسکتی

میثاق مدینہ:ہر فیصلہ اللہ اور اس کا رسول کرے گا

تمام اختیارات رسول اللہ کے پاس تھے

(۱) میثاق مدینہ میں تسلیم کی کیا کہ اختلاف کی صورت میں فیصلے کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کیا جائے گا اس کے سوا کسی سے رجوع کی اجازت ہی نہیں ہے۔ اسلامی امارت مدینہ ہر معاملے میں اللہ اور اس کے رسول کا حکم ماننے کی پابند ہے وہ یہ نہیں کہہ سکتی کہ یہ فرد کا ذاتی معاملہ ہے ۔وانکم مھما اختلفتم فیہ من شی فان مردہ الی اللہ عزو جل والی محمد صلی اللہ علیہ وسلم (السیرۃ النبویہ ابن ہشام ۲؍۱۱)اور جب کبھی تم میں کسی چیز کے متعلق کوئی اختلاف پیدا ہوگا تو فیصلے کے لیے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کیا جائے گا۔

(۲) میثاق میں قریش کو مشترکہ دشمن تسلیم کیا گیا حالانکہ قریش صرف مسلمانوں کے دشمن تھے ان کی یہود سے دشمنی نہ تھی مگر یہود نے مسلمانوں کی خاطر قریش کو اپنا دشمن تسلیم کرلیا لہٰذا یہ شق لکھی گئی کہ قریش کو مدینہ میں پناہ نہیں دی جائے گی۔ مدینہ پر حملے کا خطرہ قریش کی طرف سے تھا لہٰذا یہود کو پابند کیا گیا کہ وہ مدینہ پر حملہ آور گروہ کا مقابلہ کریں گے۔وانہ لا تجار قریش ولا من نصرھا

’قریش کو کوئی پناہ نہ دی جائے گی اور نہ اس کو جو انھیں مدد دے‘‘۔

وان بینھم النصر علی من دھم یثرب’یثرب پر اگر کوئی حملہ آور ہو تو اس دستور کے تحت زندگی بسر کرنے والوں پر لازم ہوگا کہ ایک دوسرے کی مدد کریں‘‘۔

(۳) یہ شرط شامل کی گئی کہ مسلمان دین کی خاطر اگر جنگ کررہے ہیں تو وہ اس سلسلے میں یہود کی صلح کی دعوت قبول نہیں کریں گے۔ دین کے سوا کسی د وسرے معاملے میں صلح کی درخواست قبول کی جائے گی یعنی دین کو صلح پر فوقیت دی گئی۔واذا دعوا الی صلح یصالحونہ ویلبسونہ فانھم یصالحونہ‘ ویلبسونہ وانھم اذا دعوا الی مثل ذلک فانہ لھم علی المومنین الا من حارب فی الدین’’یہود کو اگر صلح کرلینے کی دعوت دی جائے گی تو وہ اسے قبول کریں گے اور اس میں شریک رہیں گے ۔ اسی طرح وہ اگر صلح کے لیے بلائیں گے تو مسلمان بھی اسے قبول کریں گے الا یہ کہ معاملہ دین کے لیے کسی جنگ کا ہو‘‘۔

 

(۴) رسالت مآب کی اجازت کے بغیر کسی شخص کو فوجی اقدام کی اجازت نہیں دی گئی وانہ لا یخرج منھم احد الا بادن محمد صلی اللہ علیہ وسلم’محمد رسول اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی شحص کسی فوجی کے لیے ہر گز کوئی کارروائی نہ کرے گا‘‘

(۵) تمام اختلافات تنازعات اتفاق رائے باہمی اشتراک مشورے سے طے نہیں ہوں گے بلکہ اللہ اور رسالت مآب اختلافات کا فیصلہ کرنے کے لیے اصل ماخذات تسلیم کیے گئے دوسرے معنوں میں یہود نے رسالت مآب کی رسالت کو تسلیم نہ کرنے کے باوجود عملاً ان کو اللہ کے رسول کے طو رپر قبول کرلیا۔وانکم مھما اختلفتم فیہ من شی فان مردہ الی اللہ عزو جل والی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ’کسی چیز کے متعلق اگر کوئی اختلاف پیدا ہوگا تو فیصلہ کے لیے اللہ اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کیا جائے گا‘‘۔

امام ابو زہرہ نے اپنی کتاب’’خاتم النبیین‘‘ کی دوسری جلد میں ’’میثاق مدینہ‘‘ کاخلاصہ اس طرح پیش کیا ہے:وعلی ان تکون الریاسۃ الکبری للنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم (خاتم النبیین جلد دوم ص ۵۶۲)’اور حکومت و فرماں روائی رسول اللہ علیہ وسلم کی ہوگی‘‘۔

میثاق مدینہ کی روشنی میں دنیا کی کوئی اسلامی امارت کبھی سیکولر نہیں ہوسکتی اسلامی ریاست میں مسلمان اور کافر کبھی برابر نہیں ہوسکتے مسلمان اور کافر کے حقوق بھی ایک جیسے نہیں ہوسکتے کوئی کافر ریاست کا فوج کا عدالت کا سربراہ نہیں ہوسکتا___ اس پر امت کا اجماع ہے مفتی منیب الرحمان صاحب نے جو کچھ فرمایا ہے کہ پاکستان میں مسلمان اور کافر کو برابر تسلیم کرلیا جائے کافر صرف صدر اور وزیر اعظم نہیں ہوسکتا باقی ہر عہدے پر آسکتا ہے ان کا یہ نقطۂ نظر اجماع امت کے خلاف ہے اور اہل سنت و الجماعت کے اجماعی نقطۂ نظرسے مکمل انحراف ہے انھیں اس موقف سے رجوع کرناچا ہیے۔

 

 

 

Your Comment