بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله جمعه 28 / فروری / 2020,

Instagram

ملاّ ابن المغرب کی ڈائری: سود لینا ناجائز اور دینا جائز۔ جاوید غامدی

25 Nov 2017
ملاّ ابن المغرب کی ڈائری: سود لینا ناجائز اور دینا جائز۔ جاوید غامدی

شیخ لٹو ہوں، حاجی انار ہوں، یا بامراد خاں آج کل سب کی زبان پر بس ایک ہی نام ہے۔ عظیم اسلامی اسکالر جاوید غامدی صاحب۔

’’سنا آپ نے جاوید غامدی صاحب کو؟ امریکا کے فلاں شہر میں تقریر کی ہے، میرے پاس’’یو ٹیوب ویڈیو‘‘ ہے کہیے تو وھاٹس اپ کر دوں۔‘‘ حاجی انار نے ظہر کی نماز میں مسجد میں ہی کہا تھا۔
’’میں کہاں ہزاروں وہاٹس اپ میں ان کی تقریر تلاش کروں گا،آپ کے پاس ہی بیٹھ کر با ادب سن لوں گا‘‘۔ ملاّنے جواب دیا۔
’’ضرور ضرور۔ وقت نکالئے اس کے لئے مس کرنے والی چیز نہیں ہے۔‘‘ حاجی انار نے ھدایتاً کہا۔
’’ضرور۔ ضرور‘‘
حقیقت یہ ہے کہ مّلا ابن المغرب جاوید غامدی صاحب کا ہمیشہ سے مداح رہا ہے، اور ملاّ کی عقل اور نفس،ان کی ہر بات کی تصدیق کرتی ہے۔
ملاّ کو معلوم تھا کہ محترم جاوید غامدی کی یہ بات کہ ’’فرض نمازاور عشا میں فرض کے ساتھ صرف ایک رکعت وتر پڑھ کر مسجد سے فوراً نکل لو اور سنت اور نوافل کے چکر میں نہ پڑو‘‘ والی بات حاجی انار کے لئے زیادہ اہم نہیں ہو سکتی تھی۔ کیونکہ وہ ہر نماز کے بعد سنت و نوافل اتنی تعداد میں پڑھتے ہیں جس کا شمار ہی نہیں۔ مشکل سے ہی مسجد سے نکلتے ہیں۔ اس حوالے سے تو ملاّ ان کا مذاق ہی اڑاتا تھا۔لگتا تھا کہ مغرب میں جا کر تہجد کے بعد ہی لوٹیں گے۔حالانکہ حاجی انار تجارت پیشہ ہیں۔مجھے نہیں معلوم کہ ان کی اصل تجارت کیا ہے۔لیکن یہ ضرور ہے کہ وہ اپنے تجارتی معاملات کو منٹوں میں حل کر لیتے ہوں گے۔کیونکہ ان کے پاس کافی فارغ اوقات تھے۔
اصل بات یہ تھی کہ جاوید غامدی صاحب نے پورے اعتماد، اور اپنی دینی اور علمی بصیرت کے ساتھ ہر تقریر میں یہ اعلان کیا تھا کہ ’’سود لینا ناجائز ہے لیکن سود دینا جائز ہے‘‘ یعنی کہ ظلم کرنا ناجائز ہے لیکن مظلوم بننے میں حرج نہیں۔ اور یہی بات حاجی انار کے دل میں جا کر بس گئی تھی۔کیونکہ وہ ایک عدد بڑا رہائشی مکان خریدنے کے لئے بہت پہلے سے مچل رہے تھے۔ وہ مکان کیش پر نہیں خرید سکتے تھے لیکن ایک بڑی رقم کی پیشگی ادائیگی کر سکتے تھے۔جاوید غامدی کے ’’فتویٰ‘‘ نے گویا ان کے نفس کے قمقموں کو جگا دیا تھا۔
ملاّ ایک زمانے سے ان حضرات سے کہہ رہا ہے کہ سود پر مکان مارگیج کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ دارالحرب والے پرانے فتویٰ سے لے کر سود دینا جائز، ایک گھر کی ضرورت کا جواز اور امریکا اور کینیڈا کی جدیداقلیتی فقہ، اور اضطراری حالات وغیرہ کے مباحثوں کا حوالہ دے چکا ہے۔ اور ان لوگوں سے بار ہا کہہ چکا ہے کہ ان میں سے کسی حیلہ کا فائدہ اٹھا کر مکان خرید کر کے عیش کرو۔
ملاّ نے یہ بھی کہا کہ اگر آخرت میں کچھ مشکلات آئیں گی تو بڑے بڑے شیوخ اور فقہ کے پی ایچ ڈیز آپ لوگوں کی پشت پر ہوں گے۔ مثلاً شیخ الاسلام علامہ ڈاکٹر طاہر القادری ۔ وہ تو باضابطہ پی آئی اے کا ٹکٹ خرید کر رسول اللہﷺ کو بھیج کر (نعوذ باللہ) پاکستان میں اپنے گھر مہمان بلاتے ہیں۔ کیا وہ اپنے فتویٰ کا لاج رکھواتے ہوئے آپ لوگوں کی سفارش نہیں کر پائیں گے؟ویسے حضورﷺ کے لئے ایسے الفاظ استعمال کرنے پر مفتی تفقہ دین نے کہا ہے کہ یہ باتیں گستاخی رسولﷺ کے زمرہ میں آتی ہیں۔ اگر حضرت عمر فاروقؓ آج ہوتے تو اس گستاخ کی گردن اپنی تلوار سے اتار دیتے۔‘‘،مفتی نے یہ بات اتنی سختی اور وثوق سے کہی تھی کہ ملاّ خوف کے عالم میں وہاں سے جلدی سے بھاگ نکلا تھا۔
بات ہو رہی تھی سو د دینے اور اس پرمکان خریدنے کے جواز پر۔ بہت سے لوگوں نے اس کا فائدہ اٹھایا ہے۔ اور بہت سے اس میں صاحب مکان اور صاحب جائداد ہو چکے ہیں۔ لبرل اشرار کی تو بات ہی کچھ اور ہے۔ ان کی تو یہ ترجیح اول ہے۔ دیر سے ہی سہی دیندار شیخ لٹو بھی گھر خرید جا چکے ہیں۔ بامرادخاں کمپیوٹر پروفیشنل ہیں، ابھی کیش جمع کر رہے ہیں۔وہ انتظار میں ہیں۔رفیق محفل کو تو عرصہ ہوا نئے نقل مکانی کو۔ ان کو کچہری جمانے کے لئے بڑا مکان چاہئے تھا۔لیکن جہاں وہ گئے ہیں وہاں دور دور تک جنگل ہے، ویرانہ ہے، خاموشی ہے ، قبرستان بھی قریب ہے ۔ ایک بار میں نے از راہ تفنن دریافت کر لیا کہ ’’وہاں توجانوروں کے ساتھ ہی کچہری لگتی ہو گی یا مرُدوں کے ساتھ۔‘‘
سمجھ نہ پائے کہ کیا جواب دیں۔ لیکن چہرہ پر یاس کی شدید کیفیت دیکھی جا سکتی تھی۔
ایک بار علامہ دانش کی مجلس میں جاوید غامدی صاحب زیر بحث تھے۔اور مسئلہ یہی تھا سود دینے کے جواز اور ’’فضیلت‘‘ کا۔ جاوید غامدی صاحب کہتے ہیں کہ قرآن میں صرف سود کھانے کی حرمت ہے، کھلانے کی نہیں، لینا نا جائز لیکن دینا جائز۔‘‘۔
علامہ دانش نے کہا کہ ’’ہم نے اسلامی شریعت میں کہیں یہ نہیں پایا کہ کسی چیز کا لینا تو حرام ہو اور دینا جائز ہو‘‘ 
’’اس دلیل پر تو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ جنس مخالف کا بوسہ لینا نا جائز ہے لیکن دینا جائز ہے۔ چوری کر نا نا جائز ہے لیکن چوری کا مال رکھنا جائز ہے۔جھوٹ بولنا نا جائز ہے لیکن اس پر نہ ٹوکنا جائز ہے۔غیبت کرنا ناجائز ہے لیکن سننے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ جاوید غامدی کی دلیل تو شریعت مطہرہ کا حلیہ بگا ڑ کر کے رکھ دے گی‘‘
علامہ دانش گویا تھے۔ 
علامہ دانش کی سودی نظام کے مسئلہ پر نظریہ بہت واضح اور دو ٹوک ہے وہ کہتے ہیں کہ ’’اسلام اور مغربی تہذیب کی فکری بنیادیں ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔ لہٰذامغرب کا سرمایہ دارانہ نظام اپنے اہداف اور طریق کارمیں اسلام کے معاشی نظام سے متصادم ہے۔ اورچونکہ دو باہم متضاد عناصرمیں تطبیق ممکن نہیں اور نہ ہی اُنہیں ایک دوسرے میں مدغم کیا جا سکتا ہے لہٰذامغرب کے سرمایہ دارانہ معاشی نظام کے کسی جزو میں اسلام کے معاشی نظام کے کسی ایک جزو کا پیوند نہیں لگ سکتا اور نہ اسے یہ پیوندلگا کر 'اسلامی' بنایا جا سکتا ہے‘‘۔
یعنی موجودہ سودی اداروں کے ساتھ شریعت والی پیوند کاری کے بھی علامہ دانش سخت مخالف ہیں جس کے لئے آج کے کئی مفتیان کرام نے جواز نکالا ہوا ہے۔
مفتی تفقہ دین شہر کے ایک بڑے عالم دین اور مفتی ہیں۔ ان کی بھی کئی باتیں بظاہر بہت سخت لگتی ہیں۔لیکن وہ فقہ اور شریعت کے معاملہ میں اتھارٹی کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان کے ذریعہ قرآنی ارشادات سن کر کہ ’’سود والوں کے خلاف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا اعلان جنگ اور یہ کہ سود کھانے والا ایسا ہے کہ جیسے شیطان نے اسے چھو کر باوُلا کر دیا ہو‘‘۔سچی بات بتاوُں کہ دل دہل جاتا ہے۔
مفتی تفقہ دین کے چہرہ پر انتہائی سنجیدگی رہتی ہے۔ چہرہ دیکھ کر آپ یہ نہیں کہ سکتے وہاں کبھی مسکراہٹ کا گزر ہوا ہو گا۔خشک سالی ان کے چہرہ پر ہویدا ہے۔ لیکن ملاّ نے جب بھی ان کو تنہائی میں پکڑا ہے، گفتگو کو اس انداز میں چھیڑا ہے کہ وہ کم از کم اپنی مسکراہٹ روک نہ پائے۔ اس لئے خیال اور مزاج میں اتنے بڑے فرق کے با وجود ایک دیرینہ تعلق قائم ہو گیا۔ لیکن یہ ملاقات ون او ون ہی رہتی ہے۔ وہ جاوید غامدی کے خیالات کے خلاف سخت موقف رکھتے ہیں جب کہ ملاّ ہمدردانہ رویہ رکھتا ہے۔ 
ایک بار ملاّ نے مفتی تفقہ دین سے کہا کہ جب قرآن میں واضح طور پر سود لینے کی حرمت ہے دینے کی نہیں، تو جاوید غامدی صاحب کی رائے کو ایک متبادل موقف کے طور پر آپ کیوں قبول نہیں کرتے۔انھوں نے میرے سامنے ایک حدیث رکھ دی۔ یہ حدیث صحیح مسلم اور دیگر کتب میں موجود ہے۔
’’حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، سود دینے والے، اور سودی تحریر یا حساب رکھنے والے اور سودی شہادت دینے والوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا کہ سب لوگ (گناہ میں) برابر ہیں۔‘‘
’’ اس حدیث کے بعد بھی اگرکوئی سود دینے کو جائز سمجھتا ہے اس کا مطلب ہے کہ وہ منکر حدیث ہے۔کیونکہ اسلام کے قانون کا ماخذ قرآن اور حدیث دونوں ہے‘‘ مفتی صاحب نے فرمایا۔
’’لیکن جاوید غامدی اور ان کے حمائتی یہ کہتے ہیں کہ وہ منکر حدیث نہیں‘‘ ملاّ نے بتلایا۔
’’منکر حدیث نہیں تو منحرف حدیث ہوں گے۔ واضح حدیث کی روشنی میں اس کے بر خلاف رائے رکھنے کو آپ کیا کہیں گے۔‘‘ مفتی صاحب نے سوال کیا تھا۔
’’لیکن کہا جاتا ہے کہ سود سے متعلق حدیث ایک سے زیادہ نہیں ہے‘‘ ملاّ نے استفسار کیا۔
’’سود سے متعلق موضوع پر قرآن کی 8 آیات اور 47 احادیث ہیں، جو مفتی محمد شفیع ؒ اور کئی دیگر مصنفین نے سود کے مسئلہ پراپنی کتاب میں جمع کر دیں ہیں۔ یہ بھی واضح رہے کہ سود کی حرمت کا اعلان رسو ل ا للہ صل اللہ علیہ وسلم کے آخری ایام میں ہوا تھا۔‘‘ 
مفتی صاحب چند ساعت کے لئے خاموش رہے پھر بولے کہ یہ کہنا بھی غلط ہے کہ قرآن میں صرف سود لینے سے منع کیا گیا ہے اور وہاں سود دینے کی اجازت ہے۔ قرآن شریف کی وہی آیت جس میں سود خوروں کے خلاف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا اعلان جنگ ہے اسی آیت کے آخری الفاظ ہیں کہ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ (نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے) ] سورۃ البقرہ آیت279)۔ جس سے صاف طور پر دونوں حالت سے روک دیاگیا ہے۔اور سورۃ المائدہ کی آیت 2 جس میں واضح طور پر آیا ہے ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان ( گناہ اور زیادتی کے کام میں کسی سے تعاون نہ کرو)۔ اتنے واضح احکام کے باوجود سود دینے کو جائز سمجھنے والا، قرآن اور حدیث دونوں سے نابلد ہے۔‘‘
نیو یارک کے ایک مفتی صاحب اور صدر مدرسہ اپنے ہفت روزہ جمعہ کی شب کے ایک اصلاحی بیان میں فرما رہے تھے کہ ہر گناہ کے ساتھ ایک دنیاوی عذاب اور مشکلات ہوتی ہیں۔ مثلاً سود کے ساتھ پاگل پن جڑا ہوا ہے، سود میں مبتلا فرد خود،یا اس کی اولاد اور اس کی نسل میں یہ سلسلہ (پاگل پن کا)چل سکتا ہے۔ایک صاحب نے نیو یارک میں اسی طرح مکان خریدا، یہ بات ذرا پرانی ہے۔ ان کے بھائی نے انہیں بار بار روکا کہ ایسا مت کرو، کیونکہ ہمارے خاندان میں اتنا بڑا گناہ ہضم نہیں ہوتا ہے، تم لوگ مصیبت میں گرفتار ہو جاوُ گے۔ مکان خریدنے والا چند ماہ میں پاگل ہو گیا۔ مفتی صاحب کویہ اطلاع دینے والا شخص کوئی اور نہیں ان کا بھائی ہی تھا۔
ایسے دل دہلا دینے والے واقعات کے تذکروں کے باوجود، ملاّ ابن المغرب کاخیال ہے کہ یہ فکاہیہ کالم ہے۔ ’’سنجیدہ فکاہ‘‘۔
تعجب کی بات ہے۔

(کالم نگار جاوید انور کا اس کے علاوہ کوئی قصور نہیں کہ وہ ملاّ ابن المغرب کی ڈائری بلا کم و کاست پیش کر رہا ہے)

www.as-seerah.com/urdu

Facebook.com/AsseerahUrdu

kamran sikandar

zabardast

Your Comment