بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله جمعه 28 / فروری / 2020,

Instagram

ملاّابن المغرب کی ڈائری: بے دال کا بودم

13 Dec 2017
ملاّابن المغرب کی ڈائری: بے دال کا بودم

گزشتہ دنوں علامہ خادم حسین رضوی کی پنجابی زبان میں نکلے ہوئے چند کلمات کو گالی قرار دے کر ان کے خلاف چلائی گئی مہم پر تبصرے اور تذکرے ہوئے۔میاں ابوالخیر تو ان کلمات کو گالی ماننے پر راضی ہی نہ ہوئے۔وہ ملاّ کو بتاتے رہے کہ’’ یہ تو پنجابی زبان کے چند تکیہ کلام ہیں۔ اسی سے زبان میں حسن پیدا ہوتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ’’ان کلمات کی ادائیگی کے بغیر اس زبان میں اظہار ہو نہیں سکتا، اور اگر ہو جائے تو سمجھا نہیں جا سکتا۔اور اگر سمجھ بھی لیا جائے تو اس پر عمل نہیں ہو سکتا ۔علامہ خادم حسین رضوی کو اس زبان سے کام لے کر اس پر عمل کرانے کا ملکہ حاصل ہے ۔اسی لئے وہ کامیاب ہوئے۔ ما شاء اللہ۔‘‘

جو لوگ علامہ خادم حسین رضوی کی طرف سے بزبان پنجابی پیش کئے گئے ان الفاظ کے اردو ترجموں کو گالی یا مغلظات سمجھتے ہیں، انھیں میاں ابوالخیر کے اس رائے پر تعجب ہے۔لیکن علامہ دانش کو تعجب ان ’’لبرلون‘‘ پر ہے جو گالی کے معاملے میں ہمیشہ مادر پدر آزاد واقع ہوئے ہیں۔وہ بھی اپنے بازیچہ اطفال سوشل میڈیا پر علامہ کے خلاف ’’گالی‘‘ کی بنیاد پر مہم چلا رہے ہیں۔ یہاں ملاّ یہ واضح کرنا چاہتاہے کہ لفظ’’ لبرلون‘‘ ٹورانٹو کے مسٹر جعفری کی اصطلاح ہے۔اور یہ انھیں کا کاپی رائیٹیڈ ہے۔اوریہاں ان کی اجازت سے ہی یہ لفظ استعمال کیا جارہا ہے۔ لبرلون، دراصل لبرل اشرار کا مترادف ہے۔ یعنی لبرل فرد واحد کی جمع۔مسٹر جعفری کی ہی ایجاد کردہ ایک دوسری اصطلاح ہے ’’سیکولرون‘‘، یعنی سیکولر فرد واحد کی جمع۔دراصل یہ دونوں الفاظ ’’مرتدین‘‘ اور ’’مرتدون ‘‘کے معنوی وزن پر بنائے گئے ہیں۔

علامہ دانش بھی اس قدر گالی کے قائل ہیں جتنا علامہ رضوی۔ کہتے ہیں کہ جب انسان کے جذبات انتہائی مجروح ہو جائیں تو ایسی گالی کا شرعی جواز بھی نکل آتا ہے۔ایک ’’ علمی گالی ‘‘ تو ملاّ نے خود ان کی زبان سے اکثر سنی ہے۔یہ گالی ہے ’’ بے دال کا بودم‘‘ جو کئی خاص افراد اور گروہ کے تذکرے کے ساتھ علامہ دانش کی زبان پر آجاتا ہے۔ مثال کے طور پر ملاّکے ایک ممدوح حضرت جاوید غامدی کے تذکرے کے ساتھ ہی ان کی زبان پر ’’بے دال کا بودم‘‘ ارادی یا غیر ارادی طور پر آجاتا ہے۔ حالانکہ اسم جاوید غامدی دو ’’دالوں‘‘ سے مرکب بنا ہے۔ ویسے تو دو دالوں کو ملا کر پکانے سے دال کی لذت دوبالا ہو جاتی ہے۔ لیکن علامہ دانش کہتے ہیں مذہب، ایمان اورعقائد میں دو دالوں کی پکوان سے زہر تیار ہوتا ہے جس سے روحانی موت واقع ہوجاتی ہے۔ علامہ دانش کے مطابق جاوید غامدی دینِ اسلام اور دینِ مغرب کا مرکب تیار کر رہے ہیں، جو زہر ہلاہل ہے۔ ان کے مطابق عقائد کا قتل جسمانی قتل سے زیادہ خطرناک ہے۔

علامہ دانش کی مجلس کے ملاّ کے ایک ساتھی بھائی تجسس ہیں، جنھوں نے ایک بار ان الفاظ (بے دال کے بودم) کے معنی دریافت کر لئے تھے۔بھائی تجسس کا تعلق بھارت کے صوبہ گجرات سے ہے جن کی مادری زبان گجراتی ہے۔ تاہم ان کا نام جو ایک مشکل اردو لفظ ہے اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے والد اردو زبان سے خوب واقف ہو ں گے۔بھائی تجسس کو تو اردو کے ذرا سے بھی مشکل الفاظ سمجھ میں نہیں آتے، فارسی الفاظ سے مزین گالی کے الفاظ کیا خاک سمجھ میں آتے۔چنانچہ ایک روز انھوں نے بلا تکلف اس کامطلب پوچھ ہی لیا۔

’’بوم کے معنی ہیں الوّ، بودم سے ’’د‘‘ نکال دو تو کیا بنے گا؟‘‘۔۔علامہ دانش نے ناگواری کے تاثرات کے ساتھ جواب دیا تھا۔ جسمانی زبان سے صاف معلوم ہوتا تھا کہ ان کا خیال ہے کہ مجلس کے شرکا ایسے بومی سوالات نہ کیا کریں۔

ملاّ اس کو’’ علمی گالی ‘‘ اس لئے سمجھتا ہے کہ مغرب میں بوم ( الّو) دانائی کی علامت ہے۔

بات کہاں سے کہاں نکل گئی ہے۔اصل معاملہ وہیں رہ گیا۔ اصل قصہ یہ ہے کہ ایک دنیا کو خصوصاً لبرلون اور سیکولرون کو اعتراض یہ تھا کہ ریاست، حکومت اور افواج پاکستان نے علامہ رضوی سے معاہدہ کر کے ان کی بات کیوں تسلیم کر لی؟ حکومت اور ریاست کی ’’رٹ‘‘ کہاں گئی ؟ان پر الزام یہ لگایا جا رہا ہے کہ انھوں نے ’’قانون ‘‘کو اپنے ہاتھ میں لے کر اسلام آباد کی شہری زندگی کو معطل کر دیا تھا اور ’’اسلام‘‘ اس کی اجازت نہیں دیتا۔اور سول حکومت کی استدعا پر فوج نے طاقت کے استعمال کے بجائے معاہدے کا راستہ کیوں اختیار کیا؟ 

 اس سے پہلے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کوواصل جہنم کرنے والے غازی ممتاز قادری شہیدؒ کے حوالے سے بھی یہی سوالات دوہرائے گئے تھے۔ یعنی ’’قانون‘‘ کو ہاتھ میں لینے کی اجازت کس نے دی ؟ 

حیرت کی بات ہے کہ یہاں میاں پاکستان (شناخت چھپانے کے لئے قصداً نام تبدیل کر دیئے گئے )ہوں یا علامہ دانش، یا صوفی صبغت اللہ اس معاملے میں سب کی رائے یکساں ہے اور یہ رائے لبرلون اور سیکولرون کی رائے سے ایک سو اسی ڈگری مختلف ہے۔

اِن سب کے سوالات مندرجہ ذیل ہیں؛

’’یہ نام نہاد عاقلین ،عشق کے تقاضوں سے اس قدر نابلد کیوں ہیں؟‘‘

’’سلمان تاثیر کا سزا یافتہ مجرم کو جیل سے نکال کر پریس کانفرنس کرنا، قانون ناموس رسالتﷺ کی توہین کرنا، کس قانون کے تحت جائز تھا؟
کیا قانون کی خلاف ورزی حکومت اور ریاستی اداروں کا بنیادی حق ہے؟

کیا حکومت اور سیاسی جماعت کی طرف سے قانون کی خلاف ورزی، دستور کی پامالی، اور ناموس رسالتﷺ اور ختم النبوتﷺ کے قوانین کی خلاف ورزی پر دھرنا دینا قانون کی خلاف ورزی ہے؟‘‘

کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان جس کے دستور میں قرآن اور سنت کو تمام قوانین پر بالادستی حاصل ہے، وہاں کیاکسی اسلام دشمن لبرل کی حقِ حکمرانی جائز ہے؟

برطانوی سامراج کے دور میں انگریزوں کی شہ پر جب ہندو مہا سبھائیوں اور ان کے قائدین نے توہین رسالت اور مسلمانوں کی دل آزاری کو ایک مشغلہ بنا لیا تھا، تو عشق محمدیﷺ سے سرشار نوجوانوں نے ایک ایک کو واصل جہنم بنایا تھا، اس وقت امت مسلمہ متحد ہو کر ان نوجوانوں کی پشت پر تھی، آج آزاد اسلامی ملک میں قانون ناموس رسالت اور ختم رسالت کے حوالے سے اس قدر غبار کیوں اڑایا جا رہا ہے؟

جب دہلی کے غازی عبدالرشید شہیدؒ نے دشمن رسولﷺ ، ’’ستیاتھ پرکاش ‘‘ کے مصنف شردھانند کو جہنم رسید کیا ( 23دسمبر 1926)،جب لاہور کے غازی علم الدین شہیدؒ نے ایک توہین آمیز ناول کے پبلشر اور کتاب فروش راج پال کو اپنے انجام تک پہنچایا (6 اپریل 1929 ) ، جب کراچی (سابقہ شہرایبٹ آباد)کے غازی عبدالقیوم شہید ؒ نے کمرہ عدالت میں گستاخ رسول نتھورام ، ایڈیٹر اور مصنف کو موت کے گھاٹ اتارا ( 20 ستمبر 1934)، جب قصور کے غازی محمد صدیق شہیدؒ نے شان رسالتﷺ میں گالم گلوچ کرنے والے پالا مل کو جہنم واصل کیا (17ستمبر1934)، جب چکوال کے غازی مرید حسین شہیدؒ نے شان رسالت میں بیہودگی کے مرتکب ڈاکٹر رام گوپال کو جہنم رسید کیا (8 اگست1936)، جب اعوان برادری اور علاقہ اٹک کے غازی میاں محمد شہیدؒ نے ہندو ڈوگرہ سپاہی کو اس کی شان رسالتﷺ میں ہرزہ سرائی پرفنا کیا ( 16مئی1937 )، جب قصور کے ایک اور غازی محمد عبداللہ شہیدؒ نے گستاخ رسول چنچل سنگھ ( جو پہلے مسلمان تھا ، ایک سکھ عورت کی محبت میں سکھ ہو گیاتھا، اور ہرزہ سرائی کو مشغلہ بنا لیا تھا) کو موت کے گھاٹ اتارا۔ برصغیر کی پوری مسلم قوم، ان کے علماء ، ان کے سیاست دانوں نے متحد ہو کر ان غازیان کی حمایت کی، بہترین وکلا کئے گئے، یہ اور بات ہے کہ ہر غازی نے شہادت کے اس موقع کو نہیں گنوایا اور شاتم رسولﷺ کے قتل کی ذمہ داری کو واضح الفاظ میں قبول کیا۔ غازی علم الدین شہیدؒ کی وکالت قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے کی اور علامہ اقبالؒ نے غازی علم الدین شہیدؒ کے بارے میں واضح طور پر کہا کہ یہ نوجوان مرتبہ میں ہم سب پر بازی لے گیا۔ 

اب سوال یہ ہے کہ آزاد اسلامی پاکستان میں شاتم رسول ﷺ کے اتنے ہمدردان کہاں سے آگئے؟؟ آزاد اسلامی پاکستان میں ملک کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے گورنر کو یہ کس نے اختیار دیا کہ وہ قانون توہین رسالت کے خلاف زبان درازی کرے،اور اسلامی پاکستان کی حکومت کو یہ اختیار کس نے دیا کہ شاتم رسولﷺ جس سزا کا مستحق تھا، اسے اس کے انجام تک پہنچانے والے غازی ممتاز قادری کو پھانسی کی سزا دے کر اسے شہید کیا جائے؟

نا اہل قرار دیئے گئے نوازشریف نے اپنے آپ کو پارٹی کا صدر کس اصول کے تحت بنایا؟


کس بنیاد پر درسی کتب سے قرآنی تعلیمات، اور اسلامی شخصیات کو نکال کر باہر کیا گیا؟

نظریہ پاکستان اور بنیاد پاکستان کے خلاف حکومت اور میڈیا کیوں پروپگنڈہ کر رہا ہے؟

حکومت پاکستان کا وزیر قانون کس کے حکم کے تحت پارلیمینٹ کی رکنیت کے حلف نامہ میں تبدیلی کرتا ہے، اور ختم نبوت کے معاملہ میں قادیانیوں کی اگوائی کرتا ہے؟

ایکسپوز ہونے پر وہ ازخود استعفیٰ کیوں نہیں دے رہا تھا یا حکومت تبدیلی کے ان ذمہ داران کا استعفیٰ کیوں طلب نہیں کر ہی تھی؟

جب حکومت نے دھرنا کو ختم کرانے کے لئے تمام اختیارات کے ساتھ فوج کو طلب کر لیا، اور جب فوج نے تشدد کے بجائے دھرنا ختم کرانے کا معاہدہ کرا دیا تو کیا برا کیا۔۔۔۔۔؟؟

اگر چند روز اور دھرنا جاری رہتا اور جب تمام دینی جماعتیں اس میں شامل ہو جاتیں اور یہ دھرنا اسلام آباد سے نکل کر پورے ملک میں، شہر شہر اور گاوُں گاوُں پھیل جاتا تو کون سی پولیس اور فوج اسے قابو میں کرتی؟ 

اگر دھرنا سے ہی معاملات حل ہوتے ہوں تو عمران خاں اور طاہرالقادری نے دھرنوں سے کیوں نہ کچھ حاصل کر لیا تھا؟

ختم نبوت اور ناموس رسالت ﷺ بہت حساس معاملہ ہے، ایک مسلمان میں اگر ایمان کی معمولی چنگاری بھی ہو تو اسے برداشت نہیں کر سکتا۔ حکومت اہل ایمان کے جذبات پر کچوکے کس کے حکم سے لگا رہی ہے؟

مقتدر طاقتیں اور ادارے ملک میں افراتفری کا ماحول پیدا کر کے کیا حاصل کرنا چاہتی ہیں؟ دستور کی معطلی؟ ناموس رسالتﷺ کے تحفظ کے قانون کاحذف؟ قادیانیوں کو مسلم قرار دینا؟ دشمن طاقتوں کے لئے تر نوالہ؟کیا اور کیوں۔؟ 

ان کے سوالات بے شمار ہیں کالم کی گنجائش کہتی ہے کہ بس۔۔۔اور سنجیدہ سوالات کو مزاح میں تبدیل نہیں  کیا سکتا۔



Danish

Masha allah buhat Khub likha.

Your Comment