بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله پیر 01 / جون / 2020,

Instagram

انڈیا  نے کشمیر کو ساری دنیا سے کاٹ دیا، کشمیر کے مظالم کی  خبر سے دنیا ناواقف، سیدعلی گیلانی کی اپیل

26 Aug 2019
انڈیا  نے کشمیر کو ساری دنیا سے کاٹ دیا، کشمیر کے مظالم کی  خبر سے دنیا ناواقف، سیدعلی گیلانی کی اپیل

 

انڈیا نے کشمیر پر  ننگی  جارحیت کر کے کئی ہفتوں سے  اس کا رابطہ دنیا سے کاٹ دیا ہے۔باہر سے میڈیا کو  داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروس بھی مستقل معطل ہے۔ کرفیو اور سخت پابندیاں جاری ہیں ۔ کسی کو کچھ نہیں معلوم  انڈین فوج اور آر ایس ایس کے غنڈے وہاں کیا کر رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سرینگر میں کشمیر کا ریاستی پرچم مرکزی سرکاری عمارت سے ہٹا دیا گیا ہے۔ وہاں اب صرف انڈیا کا پرچم لہرا رہا ہے۔ حکام کے مطابق یہ پرچم دیگر سرکاری عمارتوں سے بھی ہٹایا جا رہا ہے کشمیر کی مقامی انتظامیہ نے اتوار کو جموں و کشمیر کا پرچم سیکرٹریٹ کے عمارت سے ہٹایا تھا۔

تمام سرکاری عمارتوں پر اب صرف انڈیا کا پرچم لہرا رہا ہے۔

پرچم ہٹانے کا یہ فیصلہ انڈیا کی حکمراں جماعت بی جے پی کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے تین ہفتوں بعد کیا گیا ہے۔ اگست کے اوائل سے کشمیر میں مواصلاتی نظام بدستور بند ہے اور کرفیو اور سخت پابندیاں جاری ہیں۔

پابندیوں اور بندشوں کی اس صورتحال میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں موجود صحافیوں کو بھی اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا کرنے میں انتہائی مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا زمینی ، اور مواصلاتی رابطہ منقطع ہے۔وہاں موجودصحافی خود اپنے رشتہ داروں  سے کٹے ہوئے ہیں۔

سرینگر میں 23 اگست کو ہونے والا مظاہرہ جس میں   بتایا جاتا ہے کہ بڑی تعدادخواتین بھی شامل تھیں، ان کی تفصیلات بھی میڈیا میں  نہ آسکی۔ صحافیوں کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی علاقے کا دورہ نہیں کرتے اور وہاں موجود افراد سے بات نہیں کرتے تب تک اس علاقے کی صورتحال کو جاننا بہت مشکل ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں وادی کشمیر میں کام کرنے میں ناصرف خبروں کے حصول میں دشواریوں کا سامنا ہے بلکہ ان حالات میں اپنے گھر والوں سے رابطہ کرنا اور اپنی خیریت کی اطلاع دینا بھی مشکل ہے۔

'

 بی بی سی کے مطابق کشمیر سے اخبارات نکالنے والے صحافی بھی انھیں مشکلات کا شکار ہیں۔ سرینگر کے مقامی اخبار چٹان کے مدیر اور سرکردہ صحافی طاہر محی الدین نے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'ان پابندیوں کی وجہ سے اخبار شائع کرنے میں بھی دشواریوں کا سامنا ہے کیونکہ نیوز ایجنسی کے دفتر سے لے کر میڈیا سینٹر جانے تک، کاپی بنانے سے رات تک چھپائی کروانا مشکل ہو گیا ہے۔'

 سید علی گیلانی کا پانچ نکاتی ایجنڈا اور عوام سے اپیل

پاکستان کے مقامی میڈیا کے مطابق سرینگر میں اپنے گھر میں نظر بند حریت رہنما سید علی گیلانی نے کشمیریوں کے نام ایک خط لکھا ہے جس میں انھوں نے موجودہ صورتحال کے بارے میں پانچ نکاتی ایجنڈا بھی دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اپنے خط میں انھوں نے کہا ہے کہ ' کشمیر میں مواصلاتی نظام بند اور ہزاروں نوجوان گرفتار ہیں، کشمیری عوام بہادری سے انڈین مظالم کے خلاف کھڑے ہیں، انڈین فوج مارنے کے لیے تیار اور کشمیری احتجاج کے لیے تیار ہیں۔'

'کشمیر کی تالا بندی کی گئی ہے، انڈیا کشمیر کی صورتحال کی اطلاعات بیرون دنیا میں پہنچنے سے روک رہا 

ہے، اب وقت آگیا ہے کہ انڈیا نواز قیادت بھی کشمیریوں کا ساتھ دے۔'

حریت رہنما نے کہا کہ 'انڈیا کشمیر نہیں بلکہ کشمیر کی سرزمین چاہتا ہے، کشمیری عوام اپنے علاقوں میں پرامن احتجاج اور مظاہرے کریں۔'

میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کے پانچ نکاتی ایجنڈے میں اپیل کی گئی ہے کہ کشمیریوں کی جانب سے پُرامن مظاہرے کیے جائیں، کشمیر سے تعینات کیے گئے سرکاری افسران اور پولیس اہلکار انڈین حکومت کے خالف احتجاج کریں، دنیا بھر میں موجود کشمیری کشمیر کے سفیر بنیں، پاکستانی رہنما مدد کے لیے آگے بڑھیں اور جموں اور لداخ کے شہری اپنی شناخت کا تحفظ کریں۔

انھوں نے اپنے خط میں پاکستان اور مسلم امہ سے کشمیریوں کی مدد کے لیے آگے آنے کی اپیل بھی کی ہے جبکہ کشمیر سے باہر لوگوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشمیر کے سفیر بنیں اور پرامن احتجاج کریں۔

انھوں نے اپنے خط میں جموں اور لداخ کی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'انڈیا کی جانب سے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے بعد ان کی شناخت کو خطرہ ہے۔ وہ بھی اس کے خلاف انڈیا کی حکومت کے سامنے آواز اٹھائیں۔'

Your Comment