بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله پیر 10 / اگست / 2020,

Instagram

لاکھوں بچے اسکول جانے کے باوجود کچھ پڑھ نہیں پاتے؟ رپورٹ

2019 Aug 10

لاکھوں بچے اسکول جانے کے باوجود کچھ پڑھ نہیں پاتے؟ رپورٹ

 

سارہ بی حیدر  پير 15 جولائ 2019

کمیونٹی اسکول کی 120طالبات میں صرف ایک طالبہ اٹک اٹک کر ایک جملہ پڑھ پائی، نادیہ نوی والا۔ فوٹو: فائل

کمیونٹی اسکول کی 120طالبات میں صرف ایک طالبہ اٹک اٹک کر ایک جملہ پڑھ پائی، نادیہ نوی والا۔ فوٹو: فائل

 

 

کراچی: ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں لاکھوں بچے کئی برس اسکول جانے کے باوجود کچھ سیکھ پاتے ہیں اور نہ ہی پڑھ پاتے ہیں۔

 

یہ کوئی خفیہ بات نہیں ہے کہ ملک بھر میں نظام تعلیم ہمیشہ سے زبوں حالی کا شکار ہے جبکہ تعلیمی نظام کی بہتری کیلیے غیرملکی ڈونرز معقول امداد بھی دے رہے ہیں، ملک بھر میں 2کروڑ 30 لاکھ بچے اسکول کی تعلیم سے محروم ہیں جو دنیابھر میں دوسری بڑی تعداد ہے۔

 

تعلیمی نظام کی ابتری کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ لاکھوں بچے جو روز اسکول جاتے رہے اور فراغت کے بعد کچھ نہیں سیکھ پائے۔ ولسن سینٹر کے ایشیا پروگرام کی رپورٹ جس کا موضوع ’پاکستانی بچے کیوں پڑھ نہیں پاتے‘ ہے جسے نادیہ نوی والا نے مرتب کیاہے۔

رپورٹ میں نظام تعلیم کی کمزوریوں اور اسکول میں زیرتعلیم بچوں میں لکھنے اور پڑھنے کی صلاحیت کے عدم پروان پر بات کی گئی ہے۔ ولسن سینٹر کی گلوبل فیلو نادیہ نوی والانے کئی اسکولوں کے100کلاس رومزکادورہ کیا، وزرائے تعلیم سے گفتگو کی، حکام، ماہرین تعلیم ، امدادی اداروں ، اساتذہ اور طلبا کے انٹرویو کیے۔

 

رپورٹ کے مطابق اسکول میں کئی برس زیرتعلیم رہنے کے باوجود تھرڈ کلاس پاس ہونے والے طلبا میں سے نصف اردو یا مقامی زبان میں ایک جملہ پڑھ نہیں سکتے جس کی بنیادی وجہ تعلیم کیلیے غیرملکی زبان کا استعمال ہے۔ بچے سبق سمجھ نہیں پاتے اور اسکول چھوڑ دیتے ہیں۔

 

رپورٹ کی رونمائی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نادیہ نوی والا نے کہاکہ پشاور کے مضافات میں واقع ایک کمیونٹی اسکول میں 120طالبات ہیں جن میں سے صرف ایک طالبہ اٹک اٹک کر ایک جملہ پڑھ پائی جبکہ وہ بچی ایک پرائیویٹ اسکول میں زیرتعلیم تھی۔

 

انہوں نے کہا کہ ان بچیوں کی مادری زبان پشتو ہے لیکن انھیں اسکول میں اردو اور انگلش پڑھائی جاتی ہے، ان بچیوں کے پاس اردو، انگلش، عربی اور پشتوسمیت 4کتابیں ہیں جنھیں پڑھ کرانھیں پاس ہوناہے۔ ان زبانوں کے پڑھانے کا طریقہ کار بھی مختلف جس کی وجہ سے وہ ایک زبان بھی درست طورپر نہیں سمجھ پاتے۔

 

نادیہ نوی والا نے کہاکہ اساتذہ کا پڑھانے کا طریقہ کار بھی انتہائی تکلیف دہ ہے وہ بچوں کو الفاظ ملاکر پڑھنے کا طریقہ سمجھانے کے بجائے صرف رٹا لگوادیتے ہیں جس کی وجہ سے اسکول بچوں میں پڑھنے یاسیکھنے کی صلاحیت میں بہتری لانے میں ناکام ہیں

Your Comment