بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله بدھ 02 / دسمبر / 2020,

Instagram

حقیقت {Reality} کیا ہے؟ یہ کون بتائے گا؟ منشائے کلام متکلم بتائے گا یا کوئی اور؟

2019 Aug 11

حقیقت {Reality} کیا ہے؟ یہ کون بتائے گا؟ منشائے کلام متکلم بتائے گا یا کوئی اور؟

پروفیسر سید خالد جامعی

ایتھنز کے میلے میں ایک مصور کا شاہکار نصب کیا گیا اور لوگوں کی رائے مانگی گئی مصور نے انگوروں کا ایک خوشہ بنایا جسے انسانی ہاتھ نے اپنی گرفت میں لے رکھا تھا انگور اصل {Real} سے اس قدر مماثل {Similar} تھے کہ پرندے ان انگوروں پر چونچ مارنے کے لیے بار بار آ رہے تھے، یونان میں اس شاہکار کے چرچے ہوگئے، ہر ایک مدح سرا تھا، دوسرے دن ایک شخص نے اس شاہکار کو باطل قرار دیا اس کا کہنا تھا کہ اس تصویر میں بہت بڑا عیب ہے، ہاتھ نقلی ہے، پرندوں نے نقلی ہاتھ کو پہچان لیا اگر یہ اصلی ہوتا تو پرندے کبھی انگور پر چونچ مارنے کی جرأت نہ کرتے جو مصور اصلی انگور بنا سکتا تھا وہ اصلی ہاتھ کیوں نہ بنا سکا؟ یہ اس کے فن کا نقص ہے، اس تنقید نے یونان کو ہلا کر رکھ دیا، کئی روز تک اس نقد کے چرچے رہے، دو ہفتے بعد ایک نقاد نے اس تنقید کا جائزہ پیش کیا اس کا خیال تھا کہ مصور نے تضادات کے ذریعے کمال فن کا مظاہرہ کیا ہے، نقلی ہاتھ اس مہارت سے بنایا کہ پرندے اس ہاتھ کی حقیقت سے واقف ہوگئے، حالانکہ انسانی آنکھ بھی بہ ظاہر اس ہاتھ کو اصل سمجھ رہی ہے اگر پرندوں کے لئے اصلی ہاتھ کے مماثل ہاتھ بنایا جاتا تو لوگ انگوروں پر چونچیں مارنے کے حسین منظر سے محروم رہتے اور یہ شاہکار لوگوں کی توجہ کا مرکز ہی نہ بنتا اور نقلی انگور اس کمال سے بنائے کہ پرندوں نے اس پر نقلی ہونے کے باوجود اصل کا گمان کیا حالانکہ یہی پرندے نقلی ہاتھ کو پہچان گئے تھے جبکہ انسانوں نے ہاتھ بھی اصل کے مماثل جانا مصور نے اس فن پارے کے ذریعے یہ بھی بتایا کہ پرندوں کی حسی صلاحیتیں انسانوں سے نصف بہتر ہوتی ہیں تضادات کے ذریعے مصوری کمال فن ہے، اس تنقید نے یونان میں زلزلہ پیدا کر دیا اگلے کئی ماہ اس نقد کا غلغلہ برپا رہا، چند ماہ بعد ایک اور ناقد نے اس نقد کے پرخچے اڑادیے اس نے بتایا کہ ہاتھ بھی اصل سے مشابہ ہے اور انگور بھی اصل سے مماثل ہیں اس شاہکار میں کوئی عیب اور نقص نہیں ہے لیکن پرندوں نے یونان میں کبھی اتنے خوبصورت رسیلے اعلیٰ ترین انگور نہیں دیکھے لہٰذا وہ انسانی ہاتھ کو اصل جانتے ہوئے بھی اپنی جان پر کھیل کر ان انگوروں کو حاصل کرنا چاہتے ہیں اس مدح نے تو یونان میں تہلکہ برپا کر دیا لوگ اس تشریح و توضیح و تاویل پر عش عش کر اٹھے، یہ مدح سرائی کئی سالوں تک ہوتی رہی، پھر ایک نئے محقق تشریف لائے انہوں نے تمام سابقہ تشریحات و توضیحات کو رد کر دیا اور کہا کہ بہ ظاہر ہاتھ بھی اصلی ہے اور انگور بھی اصلی ہیں لیکن پرندوں نے چند پروازوں کے بعد اندازہ کر لیا کہ مصور نے ہمیں انسانی ہاتھ کے ذریعے خوف زدہ کرنے کی کوشش کی اور جو پرندے ہمت کرکے جان پر کھیل کر ان جعلی انگوروں تک پہنچ گئے مصور نے ان پرندوں کو بھی دھوکہ دیا کیونکہ انگور نقلی ہیں، لہٰذا اب پرندے مسلسل غصے میں انگوروں کے خوشوں پر چونچیں مار رہے تھے یہ پرندوں کا انتقام ہے، اس تنقید نے تو یونان کے در و دیوار کو لرزا کر رکھ دیا، اس نقد پر ایک اور ناقد کا تبصرہ آیا کہ اگر پرندے اس قدر زبردست حسی صلاحیت رکھتے تھے کہ انہوں نے انسان کے دھوکے کو پہچان لیا تو پھر پرندوں کو چاہیے تھا کہ وہ انسانی ہاتھ پر انتقاماً چونچیں مارتے وہ انگوروں پر چونچیں کیوں مار رہے ہیں؟ اس کا رد کرتے ہوئے ایک اور ناقد نے کہا کہ انسانی ہاتھ بالکل مردہ لگتا ہے لہٰذا پرندے مردہ ہاتھ پر چونچ نہیں مارتے لیکن انگوروں میں زندگی کے آثار نظر آتے ہیں لہٰذا وہ انگوروں پر چونچیں مار رہے ہیں دھوکہ معلوم ہونے کے بعد بھی پرندے دھوکہ کھا رہے ہیں یہی اس فن پارے کا کمال ہے ــــــــ

لیکن اب سوال یہ ہے کہ منشائے تصویر کون بتائے گا مصور یا نقاد؟ منشائے کلام کون بتائے گا متکلم یا کوئی اور یا اس کا نامزد فرد؟ ایک ہی حقیقت کی ایک ہزار تشریحات ہو سکتی ہیں اور وہ صورت بھی پیش آ سکتی ہے جسے علم منطق میں تاؤیل القول بما لا یرضی عنه قائله یعنی قول کی ایسی تاویل کرنا جس سے متکلم خود راضی نہ ہو چنانچہ کون سی تشریح حقیقت ہے؟ اس کا تعین اور فیصلہ کیسے ہوگا؟ کلام اللہ اور کلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی تشریح و توضیح و توجیہ و تفسیر اللہ کے نامزد رسول اللہ صلی علیہ و سلم کے صحبت یافتہ اصحاب کرام اور دین کی روح سے آشنا صلحائے امت کریں گے یا کوئی بھی ایرا غیرا یہ کام کرے گا؟ ظاہر ہے فقہائے عابدین اس کی تشریح کریں گے اور تشریح بہر حال انسان کریں گے اور عقل کی مدد سے کریں گے تو خطاء کا امکان ہمیشہ رہے گا لہٰذا اس امکان کا ازالہ اسلامی علمیت، منہاج تہذیب و تاریخ میں اجماع سے کیا گیا ہے کیونکہ دین کی تعبیر و تشریح میں عقل انسانی استعمال ہوگی، افراد کی عقل انفرادی سطح پر غلطی کر سکتی ہے، لیکن امت کے فقہائے عابدین کی اکثریت اجتماعی غلطی نہیں کر سکتی اس لیے رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میری امت کا اجماع کسی غلط بات پر نہیں ہو سکتا، عقل جب بھی تنہا استعمال ہوگی تو غلطی کا امکان رہے گا لہٰذا اس غلطی کے امکان کو ختم کرنے کا طریقہ الہٰی حکمت بالغہ نے امت کے اجتماعی تعقل کو بروئے کار لاتے ہوئے اجماع امت کی صورت میں اختیار کیا، ظاہر ہے یہ اجماع عوام کا نہیں صرف اور صرف علمائے عابدین و ساجدین کا معتبر ہے، مسلک جمہور کی اصطلاح سے علامہ اقبال جیسے فلسفی کو یہ شبہ ہوا کہ اس سے مراد عوام ہیں جو عربی میں کالانعام کہلاتے ہیں اس طرح  ساجدین عابدین کے اجتماعی تعقل کے فیصلوں کو رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم کی حدیث مبارک سے تائید حاصل ہوگئی کہ امت کا اجماع کسی غلط بات پر ممکن نہیں، اس قول کی تصحیح اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمائی لہٰذا یہ قول اذنِ ربانی کی بھی وضاحت کر رہا ہے کہ اللہ تعالی کی تائید بھی اس موقف کو حاصل ہے اس لیے رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم نے ہر نئے معاملے، نئے مسئلے اور نئی الجھن کو سلجھاتے ہوئے کسی بڑی غلطی کے امکان سے بچنے کے لیے ہدایت فرمائی کہ فقہائے عابدین سے مشورہ کرو، روایت ہے کہ حضرت علی کرم اللی وجہہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ ہمیں کوئی ایسا معاملہ پیش آئے جس کے متعلق کوئی صریح حکم یا ممانعت قرآن و سنت میں موجود نہ ہو تو میرے لیے کیا حکم ہے؟ تو آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا اس سلسلے میں عبادت گزار فقہاء سے مشورہ کرو خود اس میں کوئی خاص رائے قائم نہ کرو شاوروا فیه الفقهاء العابدین ولا تمضوا فیهِ رأَیَ خاصَّةٍ《مجمع الزوائد ١٧٨١》اس امت میں جب بھی لوگوں نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم کے اس حکم سے انحراف کیا ٹھوکر کھائی،

♥ جدید اسلامی سائنس،

♥ اسلامی سرمایہ داری،

♥ اسلامی اکنامکس،

♥ اسلامی جمہوری سیاست،

♥ اسلامی سوشل سائنسز

♥ اور نکاح المیسار یعنی اسلامی متعہ کے ذریعے اسلامی معاشرت کی تباہی و بربادی کے حیلے عہد حاضر میں اس کی زندہ مثالیں ہیں، ان امور میں عجلت کے باعث ہم سے غلطیاں سر زد ہوئیں غلطیاں کرنے والوں نے خود اپنے موقف کو الحق نہیں کہا خطاء کا امکان تسلیم کیا لہٰذا ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ماضی کی اغلاط سے احتراز کریں اور ایک نئی دنیا تعمیر کریں جس کے اپنے ادارے ہوں جو اپنی علمیت پر انحصار کریں نہ کہ مغرب کی اسلام کاری کا فریضہ انجام دیں ـــــــــ

جس طرح اسلامی اصطلاحات کے معانی فقہائے کرام و علمائے امت بتائیں گے بالکل اسی طرح مغرب سے آنے والی اصطلاحات اور نظریات کا اصل مطلب مغرب کے فلسفی، ان کے دانشور اور ان اصطلاحات کے موجد و مصنف بتائیں گے، اس کے بجائے ان مغربی اصطلاحات کا ترجمہ کر کے ان کی اسلام کاری کر لینا ایک غیر علمی رویہ ہے مثلاً مغرب میں

♥ ماڈرن ازم

♥ فریڈم،

♥ بینکنگ،

♥ فائنانس،

♥ اکنامکس،

♥ مساوات،

♥ Democracy

♥ Tolerance

♥ معیار زندگی {Standard of living}

♥ scarcity

♥ capital

♥ poverty

♥ پروگریس،

♥ ڈیویلپمنٹ

♥ سٹیزن،

♥ فریڈم آف ایکسپیریشن

♥ ہیومن رائٹس

کا مطلب وہ قطعاً نہیں ہے جو انگریزی سے واقف ہمارے بعض مذہبی مفکرین اردو ترجمہ کرکے بیان کرتے ہیں، کسی بھی اصطلاح کا کامل ترجمہ ممکن نہیں لیکن اس کی تشریح، توضیح اور تفسیر ممکن ہے، جو ترجمے سے عموماً نہیں ہوتی، لہٰذا مغربی اصطلاحات کا اصل مفہوم سمجھنے کے لیے ہمیں مغرب کے بڑے فلسفیوں کا مطالعہ کرنا ہوگا ورنہ ہم بد ترین علمی خیانت کے مسلسل مرتکب ہوتے رہیں گے، ڈاکٹر یوسف قرضاوی، وحید الدین خان، طہٰ جابر العلوانی اور ذاکر نائیک صاحب کا اصل مسئلہ یہی ہے کہ یہ حضرات جدید مغربی فلسفے کے ذیلی علوم جدید سائنس اور سوشل سائنس اور کافرانہ علم کے نئے دریچے فلسفۂ سائنس سے قطعاً ناواقف ہیں لہٰذا مغربی اصطلاحات اور نظریات کے نا مکمل، محرف، غلط سلط غیر علمی، غیر مصدقہ ترجمے کرکے ان کو خواہ مخواہ اسلامی سمجھنے لگتے ہیں، وہ اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ ایک زبان اور تہذیب کی اصطلاحات کا ترجمہ کسی دوسری زبان میں ممکن نہیں صرف اصطلاح کی تشریح و توضیح ممکن ہے، خصوصاً وہ اصطلاحات جو خاص تاریخ، تہذیب، ثقافت اور ما بعد الطبیعات سے نکلی ہوں جیسے ''عدت'' کا ترجمہ ناممکن ہے اگر ترجمہ کیا جائے تو اس کا مطلب گننا ہوگا مگر کیا گننا؟ کب؟ کیسے؟ کب تک؟ کیوں؟ کس لیے؟ کس کے لیے؟ ترجمہ ان سوالات کا جواب دینے سے قاصر ہے لیکن ایک ان پڑھ مسلمان بھی اس اصطلاح کے تمام مفاہیم ایک لمحے میں جان سکتا ہے کہ اس اصطلاح کے لیے جو علم در کار ہے وہ اس کی عملی زندگی کا تجربہ ہے، یہ تجربہ وہ اپنی تاریخ و تہذیب میں زندہ تجربے کے طور پر برتتا ہے لہٰذا علم کے بغیر وہ عامل کامل ہوتا ہے کیونکہ اس اصطلاح کے مکمل تناظر سے وہ واقف ہے لیکن ایک دوسری تہذیب کا بڑے سے بڑا عالم بھی اس اصطلاح کا مطلب نہیں جان سکتا، اگر ان اصطلاحات کے تاریخی تناظر سے واقف نہ ہو، بعض اصطلاحات ہر تہذیب، دین میں یکساں ہوتی ہیں مثلاً عیسائیت، یہودیت اور اسلام میں اللہ، صلوٰة اور صوم مشترکہ اصطلاحات ہیں لیکن ان اصطلاحات کی حقیقت تینوں مذاہب میں بالکل مختلف ہے، لہٰذا اگر اصطلاحات یکساں ہوں ان کے الفاظ بھی ملتے جلتے ہوں تب بھی ان کا ما بعد الطبیعاتی تناظر بدل جانے سے ایک جیسی اصطلاحات کے معانی بھی بدل جاتے ہیں مثلاً عیسائیوں کے یہاں مسیح ابن اللہ ہیں اسلام میں مسیح صرف رسول اللہ ہیں، روزہ عیسائی اور یہودی بھی رکھتے ہیں لیکن دونوں کے یہاں روزے کا طریقہ بالکل مختلف ہے، عیسائی روزے میں ایسی چیزیں کھا سکتے ہیں جو آگ پر پکی ہوئی نہ ہوں، حضرت عزیر اور حضرت عیسیٰ  یہودی، عیسائی عقیدے کے مطابق خدا کے بیٹے تھے اسلام توحید اور صوم کے ایسے تصورات کو تسلیم نہیں کرتا لہٰذا اصطلاحات کی یکسانیت اور الفاظ کی مماثلت سے دھوکہ کھانے کی ضرورت نہیں ایک جیسی اصطلاح کے معانی، مفاہیم، مطالب، بھی ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہو سکتے ہیں، مثلاً مغرب کی فلسفیانہ اصطلاح فریڈم {آزادی} کا ترجمہ عربی میں حریت اور اردو میں آزادی درست ترجمہ نہیں یہ اس اصطلاح کے صرف ایک پہلو کو بیان کرتاہے آزادی مغرب کی قدر {Value} ایمان عقیدہ {Faith believe} ہے، یہ اصطلاح ان کے فلسفے، مذہب اور عقیدے کی اساس ہے دیگر تہذیبوں میں آزادی محض صلاحیت {Ability} ہے، اسی طرح مساوات اور ترقی جیسی اصطلاحات جو آزادی کی طرح مغرب کے تمام ازموں کی مشترکہ اقدار ہیں ان کے حقیقی مفاہیم اور تاریخی تناظر کو نظر انداز کر کے ہم انہیں ترجمہ کر کے سادہ طریقے سے بیان کرتے ہیں تو غیر علمی رویہ اختیار کرتے ہیں جو بہت سے شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے اس کے نتیجے میں مغربیت اسلامی معاشروں میں تیزی سے سرایت کرتی ہے اصطلاحات کی حقیقت سے آگہی کے بغیر جب ہم ان اصطلاحوں کی اسلام کاری کرتے ہیں تو در اصل کفر کی اسلامی توجیہ بیان کرتے ہیں جو علمی دیانت کے خلاف ہے، دیانت داری کا تقاضہ یہ ہے کہ اصطلاح کو اس کے حقیقی تناظر اور اس کی تاریخ و فلسفہ کی روشنی میں سمجھا جائے امت مسلمہ کو اس معاملے میں شدید حساسیت کا مظاہرہ کرنا چاہئے ــــ

ابھی تک جدید مسلم معیشت دانوں کے خیال میں سرمایہ داری میں ذاتی ملکیت ہوتی ہے حالانکہ سرمایہ داری اور اشتراکیت میں جو خود سرمایہ داری کی بد ترین شکل ہے، ذاتی ملکیت تو باقی ہی نہیں رہتی، سرمایہ داری خواہ لبرل ہو یا نیشنل اس میں ایک شخص قانونی املاک کی ذمہ داری سنبھال لیتا ہے، ذاتی ملکیت {Private property} کی جگہ کارپوریٹ ملکیت {Corporate Property} لے لیتی ہے، حصص یافتگان ہوتے ہیں دولت {Wealth} سرمایہ {Capital} میں تبدیل ہو جاتی ہے اور سرمایہ میں مسلسل و مستقل اضافہ ہوتا رہتا ہے، اسی لیے لوگ بینک، اسٹاک مارکیٹ، میوچل فنڈ سے پیسہ نہیں نکالتے، حالانکہ اگر لوگ بینک سے اپنا پیسہ نکال لیں تو بینک اسی وقت بند ہو جائے گا جدید مارکیٹ کے سرمایہ دارانہ نظام میں سرمایہ لوگوں کا غلام نہیں ہوتا بلکہ یہ تمام سرمایے کے غلام ہوتے ہیں جبکہ اشتراکیت میں سرمایہ ریاست کی ملکیت ہوتا ہے لہٰذا سرمایہ داری اور اس کی دوسری شکل سوشل ازم و کمیونزم کے ساتھ ساتھ لبرل ازم سوشل ویلفیئر ازم میں بھی نجی ملکیت باقی ہی نہیں رہتی، کارپوریٹ کلچر، شیئرز اور میوچل فنڈز کے کاروبار وغیرہ کے ذریعے تمام سرمایہ چند مینجرز کے قبضے میں ہوتا ہے ہر شخص ان کا اسیر اور غلام ہوتا ہے، بڑی بڑی کمپنیوں کے ادغام {merger} اس کا ثبوت ہیں، الغرض جدید مغربی اصطلاحات کو سمجھنے کے لیے فی الحال

《The Development Dictionary: A guide to knowledge as power》

Edited by WOLFGANG SACHS 1993 Zed Books Ltd. London & New Jersey

کا مطالعہ کیا جائے، اس کتاب میں جدید مغربی اصطلاحات کو تاریخی تناظر میں بیان کیا گیا ہے، اور

♥ Development

♥ Environment

♥ Equality

♥ Helpings

♥ Market

♥ Need

♥ One World

♥ Participation

♥ Planning

♥ Population

♥ Poverty

♥ Production

♥ Resources

♥ Science

♥ Socialism

♥ Standard of Living

♥ States

♥ Technology

کی دل فریب ملمع سے پر اصطلاحات کا حقیقی تناظر میں جائزہ لیا گیا ہے، اسی طرح جدید مغربی فلسفے کی تاریخ، مقصد، ہدف منزل اور حقیقت مغربی فلاسفہ کی اصل تحریروں کی روشنی میں سمجھنے کے لئے

Alex Callinicos

کی کتاب

《Social Theory: A historical introduction》 Polity Press Cambridge UK 2003

 کا مطالعہ ضروری ہے جس میں

♥ Hegal

♥ The Enlightenment

♥ Marx

♥ Liberals

♥ Life & Power

♥ The golden Age

♥ Weber

♥ Durkheim

♥ Revolution & Counter

♥ Revolution

♥ The illusion of Progress

جیسے عنوانات پر مدلل گفتگو کی گئی ہے ــــــــــ

سائنس و ٹیکنالوجی سے مرعوبیت کے بجائے اس کی حقیقت واضح طور پر سمجھنے کے لیے فلسفۂ سائنس کے مفکر اے ایف چامر کی کتاب

《What is this thing called science》

Open University Press 1988

کا مطالعہ ضروری ہے، اس کتاب میں استقرائی، استخراج، کی بنیاد پر اخذ نتائج کی حقیقت کھول کر رکھ دی گئی ہے اس کے مطالعے سے جدید سائنس و ٹیکنالوجی کے سلسلے میں مشرق کے مفکرین کی خواہ مخواہ مرعوبیت کے اسباب بھی معلوم ہوتے ہیں کہ یہ بے چارے نہ سائنس کو جانتے ہیں نہ ٹیکنالوجی کو نہ فلسفۂ سائنس کے مباحث سے واقف ہیں یہ سائنس و ٹیکنالوجی پر ایمان بالغیب کے بعد اس کی اسلام کاری کا عمل شروع کرتے ہیں فلسفہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی اصطلاحات کے سلسلے میں

《Stanford Encyclopedia of Philosophy》 

یا دیگر لغات فلسفہ سے بھی رجوع کیا جاسکتا ہے، اس کے علاوہ درج ذیل کتب اور رسائل کا مطالعہ مفید رہے گا ــــ

♥ جریدہ ٢٩

♥ جریدہ ٣٥

♥ جریدہ ٣٧ شعبہ تصنیف و تالیف و ترجمہ جامعہ کراچی۔

♥ سرمایہ دارانہ نظام :ایک تنقیدی جائزہ، مرتبہ محمد احمد۔

♥ جمہوریت یا اسلام ، مرتبہ محمد احمد ،

♥ ماہنامہ ساحل ، کراچی ، ٢٠٠٥ء ، ٢٠٠٦ء ،  ٢٠٠٧ء اور ٢٠٠٨ء کے تمام شمارے ۔

♥ Islam & modrenism

 مریم جمیلہ کی بہترین کتاب

♥ کشاف اصطلاحات فلسفہ، قاضی عبدالقادر۔

♥ Business ethics in Pakistan

 ڈاکٹر جاوید انصاری کی اس کتاب کے آخر میں فلسفیانہ اصطلاحات کی تشریح کی گئی ہے۔

♥ اصطلاحات فلسفہ کی لغت (انگریزی) آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کراچی ــــ

مغربی اصطلاحات اور اداروں کی حمایت سے پہلے ان تحریروں کا مطالعہ کر لیا جائے، عالم کی شان یہ ہے کہ ان یکون بصیراً بزمانه اپنے زمانے سے واقف ہوتا ہے رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم کی دعا ہے  اللّٰھم ارنی حقیقة الاشیاء کما هی کہ اے اللہ! ہمیں اشیاء کی حقیقت ویسی ہی دکھا جیسا کہ وہ ہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ وہ شخص دین کی کڑیاں بکھیر دے گا جو جاہلیت کی حقیقت سے ناواقف ہو، اس لیے جدید دنیا میں جدید مغربی فلسفے اور جدید سائنس اور سوشل سائنس اور جدید اداروں سے واقفیت کے بغیر ان کافرانہ علوم کی اسلام کاری کی تحریک زور و شور سے چل رہی ہے، اس تحریک کے چلانے والے مغرب کے علوم، فنون، فلسفے سے سرسری طور پر بھی آگاہ نہیں، مغرب کے فہم سے محروم یہ مفکرین تاریخ بلوچستان کے اہم کردار عیدو کی طرح عالم اسلام میں مغربیت، جدیدیت، کے نفوذ، نفاذ کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں

یہ عید و کون تھا؟ آئیے! اس کا مطالعہ کریں ــــ

جب ان سرحدی بلوچوں کی حریت پسندی خطر ناک حد تک تمام علاقے میں پھیل گئی تو فروری ١٩١٦ء میں انگریزوں نے جنرل ڈائر کو بھیجا تا کہ سرحدی بلوچوں کو کچل دے، یہ جنرل ڈائر وہی ظالم ہے جس نے بعد ازاں جلیانوالہ باغ میں ہندوؤں، مسلمانوں اور سکھوں کا قتل عام کرایا، ڈائر نے ''کچو'' کے مقام پر پہنچ کر بلوچ سرداروں سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا لیکن انہوں نے اس مطالبے کو حقارت سے ٹھکرا دیا، ڈائر ایک تجربہ کار اور مکار انگریز جنرل کی حیثیت سے بخوبی اندازہ لگا چکا تھا کہ اس کوہستان جس کی چپہ چپہ زمین سے دشمن واقف ہے، براہ راست مقابلے کی دعوت دینا انگریز سپاہ کی تباہی و بربادی کا سبب بن سکتا ہے، چنانچہ اس نے بلوچوں کی مجموعی طاقت سے ٹکرانے کی بجائے ان میں خوف و ہراس، بد نظمی اور انتشار پھیلانے کی تجویزیں سوچ لیں، ڈائر نے مشّاق اور ہوشیار جاسوسوں کے پروپیگنڈے سے بلوچوں کو انگریزوں کی پانچ ہزار مسلح فوج اور بہت بڑے توپ خانے اور جنرل ڈائر کی ''موٹر'' کی ہیبت ناک داستانیں سنا کر ڈرانا چاہا، یہاں کسی نے موٹر کار نہیں دیکھی تھی، اس لیے جاہل خانہ بدوش اور جنگلی بلوچ قبائل موٹر دیکھ کر اس قدر حواس باختہ اور حیران ہوتے کہ ان کی چیخیں نکل جاتیں اور بے تحاشا بھاگ اٹھتے، ان میں جو زیادہ سمجھدار تھے وہ موٹر کو خطر ناک جنگی مشین خیال کرتے تھے اور اس کے مقابلے میں آنے سے گھبراتے تھے، جنرل ڈائر نے اپنے دو انگریز افسروں اور عید و نامی بلوچ رہبر کے ساتھ کوہستان میں کاروانوں کے راستے پر موٹر دوڑائی، راستے میں جہاں کہیں خانہ بدوش نظر آتے موٹر ٹھہرائی جاتی عیدو ان کے پاس جاتا اور موٹر کی شکل و صورت، برق رفتاری اور ہولناکی کے ایسے  ایسے من گھڑت قصے بیان کرتا کہ بلوچوں پر سکتے کی سی کیفیت طاری ہو جاتی، موٹر کے ریڈی ایٹر کے ساتھ سوراخ دکھا کر عیدو بلوچوں سے کہتا کہ ہر سوراخ بندوق کی نالی ہے اور ایک بٹن دباتے ہی ان میں سے ہزاروں سنسناتی ہوئی گولیاں نکل کر مینہ کی طرح دشمن پر برسنے لگتی ہیں، عیدو انہیں موٹر کی بتیاں دکھا کر کہتا کہ یہ اس کی دوربین کی آنکھیں ہیں دشمن کہیں بھی اور کتنی ہی ہوشیاری سے چھپا ہوا ہو یہ آنکھیں اسے ڈھونڈ نکالتی ہیں اور پھر اس پر گولیاں برسا کر اسے ختم کر دیتی ہے، عید و نہایت ذہین اور طرار بلوچ تھا اسی قسم کی بیسیوں داستانیں گھڑ کر ان کے ہوش اُڑاتا، عیدو کا پروپیگنڈہ کوہستانوں اور وادیوں میں آگ کی طرح پھیلتا گیا، جنگجو اور بہادر بلوچ پتھروں پر اپنی رائفلیں رکھ کر حیران پریشان ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ جاتے، ایک مقام پر عزت نامی ایک بلوچ نے اپنے آدمیوں کے ساتھ جنرل ڈائر کا رستہ روکا، انہیں دیکھ کر ڈرائیور نے زور سے موٹر کا ہارن بجایا اور تیزی سے ان کی طرف موٹر دوڑائی نتیجہ یہ نکلا کہ عزّت اور اس کے آدمی حملے سے باز رہے《تاریخ بلوچستان بہ حوالہ اثیر عبدالقادر شاہوانی، جنگ، مڈ ویک میگزین ١٤اکتوبر٢٠٠٩ء》اگر بلوچ اس موٹر کی حقیقت سے آگاہ ہوتے تو اس پر پتھراؤ کردیتے، اس کے سامنے آگ کی خندق بچھا دیتے اس کے ٹائر پنکچر کر دیتے لیکن رعب، خوف و دبدبہ، قرآن میں بار بار اس سے پناہ اسی لیے مانگی گئی ہے، موٹر کار سے خوف زدہ سادہ دل بلوچ ہیبت کا شکار ہوگئے، وہ توڑے دار بندوق سے موٹر کے اگلے حصے کو نشانہ بناتے تو موٹر چلنے کے قابل نہ رہتی اس میں آگ لگ جاتی وہ موٹر پر چٹانیں گرا کر اسے تہس نہس کر دیتے مگر خوف، دہشت، ہیبت جب طاری ہو تو کچھ سجھائی نہیں دیتا، دلوں پر کسی شے کا رعب قائم ہوجائے تو اسے دور کرنا محال ہو جاتا ہے، ایمان کے نتیجے میں کفر، شرک اور اس کی قوتوں کا رعب دل سے نکل جاتا ہے اور صرف اللہ کا رعب دلوں پر طاری ہوتا ہے اسی لیے مومن خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا حتیٰ کہ موت سے بھی نہیں جس دل میں یہ خوف اور یہ رعب راسخ ہو اس کا رعب اللہ تعالیٰ دشمنوں پر بھی طاری کر دیتا ہے، قرآن کریم بتاتا ہے کہ اس نے اہل ایمان کا رعب کفار کے دلوں پر طاری کر دیا تھا، سورہ حشر میں یہ مضمون عجیب طریقے سے بیان ہوا ہے کہ اللہ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اس کی تفصیل یہ ہے، {هُوَ الَّذِيْٓ اَخْرَجَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ دِيَارِهِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِڼ مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ يَّخْرُجُوْا وَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مَّانِعَتُهُمْ حُصُوْنُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَاَتٰهُمُ اللّٰهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوْا وَقَذَفَ فِيْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ يُخْرِبُوْنَ بُيُوْتَهُمْ بِاَيْدِيْهِمْ وَاَيْدِي الْمُؤْمِنِيْنَ ۤ فَاعْتَبِرُوْا يٰٓاُولِي الْاَبْصَارِ } (٥٩:٢)

وہی ہے جس نے اہل کتاب میں سے کافروں کو ان کے گھروں سے پہلے حشر کے وقت نکالا تمہارا گمان (بھی) نہ تھا کہ وہ نکلیں گے اور وہ خود بھی سمجھ رہے تھے کہ ان کے (سنگین) قعلے انہیں اللہ (عذاب) سے بچا لیں گے، پس ان پر اللہ کا عذاب ایسی جگہ سے آپڑا کہ انہیں گمان بھی نہ تھا اور ان کے دلوں میں اللہ نے رعب ڈال دیا اور وہ اپنے گھروں کو اپنے ہی ہاتھوں اجاڑ رہے تھے اور مسلمان کے ہاتھوں (برباد کروا رہے تھے) پس اے آنکھوں والو! عبرت حاصل کرو۔ 

قرآن بتاتا ہے کہ اہل ایمان کفار کے خلاف جہاد کے راستے میں ثابت قدم رہیں تو اللہ ان کا رعب کفار کے دلوں میں ڈال دیتا ہے {اِذْ يُوْحِيْ رَبُّكَ اِلَى الْمَلٰۗئكَةِ اَنِّىْ مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا   ۭسَاُلْقِيْ فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ } (٨:١٢)

ہم منکرین حق کے دلوں میں مومنین کا رعب بٹھادیں گے

{سَـنُلْقِيْ فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَآ اَشْرَكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا  ۚ وَمَاْوٰھُمُ النَّارُ  ۭ وَبِئْسَ مَثْوَى الظّٰلِمِيْنَ} (٣:١٥١)

کفار کے رعب، لاؤ لشکر شان و شوکت، دبدبے کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر اطمینان اور بے خوفی کی کیفیت طاری کردیتا ہے {اِذْ يُغَشِّيْكُمُ النُّعَاسَ اَمَنَةً مِّنْهُ} (٨:١١)

اسی نفس مطمئنہ کے باعث مومن نہ دل شکستہ ہوتا ہے نہ غم کرتا ہے {وَلَا تَهِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ} (٣:١٣٩)

مومن مصیبتیں پڑنے پر دل شکستہ نہیں ہوتا {فَمَا وَهَنُوْا لِمَآ اَصَابَھُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَمَا ضَعُفُوْا وَمَا اسْتَكَانُوْا وَاللّٰهُ يُحِبُّ الصّٰبِرِيْنَ} (٣:١٤٦)

 کفار مکہ کو بھی خانہ کعبہ کی برکت سے رزق کثیر، امن اور خوف سے نجات عطا کیا گیا تھا {الَّذِيْٓ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْعٍ وَّاٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ} (١٠٦:٤)

عہد حاضر کے جدید مسلم مفکرین، مغرب سے مرعوب بعض راسخ العقیدہ علماء، مغرب کی معیشت، سیاست، ثقافت، تہذیب، اقدار، روایات، مابعد الطبیعات، ایمانیات، اعتقادات، مقاصد، اہداف، معاشرت، سائنس، ٹیکنالوجی، سوشل سائنسز کا تنقیدی جائزہ لیے بغیر اسے غیر اقداری {Value Neutral} تصور کرکے اس کی مدح و ثناء میں مصروف بعض مشائخ اور ذرائع ابلاغیات خصوصاً برقیاتی ذرائع ابلاغ {الیکٹرانک میڈیا} عیدو بلوچ کا کردار ادا کر رہے ہیں میڈیا کے اینکر پرسن، کالم نگار، صحافی عیدو بلوچ کی طرح عالم اسلام کے لوگوں کو مغرب کی سائنس، ٹکنالوجی اور ترقی سے اسی طرح ڈرا کر مرعوب و مغلوب کرنا چاہتے ہیں، اس لیے مغرب سے واقفیت از حد ضروری ہے، صحف ابراہیم میں عجیب قول ہے و علی العاقل ان یکون بصیراً بزمانه دانا شخص پر لازم ہے کہ وہ اپنے زمانے کو جاننے والا ہو اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ارشاد کہ وہ شخص دین کی کڑیاں بکھیر دے گا جو جاہلیت کی حقیقت سے واقف نہیں ہے، فتویٰ دینے سے متعلق جو شرائط امہات کتب میں بیان کی گئی ہیں ان میں اہم ترین شرط یہ ہے کہ مفتی اپنے زمانے سے واقف ہو ورنہ وہ جاہل ہے فھو جاھلا اپنے زمانے سے واقف ہونے اور جاہلیت کی حقیقت سے آگاہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حق کی شناخت، حق کی تلاش، حق کا حصول صرف اور صرف جاہلیت کے فہم پر منحصر ہے، لہٰذا جب تک مغرب کا فلسفہ اس کی سائنس گہرائی سے نہ پڑھی جائے اس کا ادراک، فہم اور مقابلہ ممکن نہیں بلکہ جاہلیت سے آگہی ان کےلیے ضروری ہے جو مغرب اس کے فلسفے اور اس کی سائنس کو پڑھے، جانچے، آزمائے اور جاننے بغیر قبول کرلیتے ہیں اور خذ ما صفاء و دع ما کدر کے فلسفے کے تحت مغرب سے آنے والی دل پسند اشیاء کے استعمال کی بھر پور وکالت شروع کر دیتے ہیں ایسے لوگ پہلے عصر حاضر پر اس کے تعقل غالب پر روح عصر پر مغرب کے اداروں ارادوں اور اس کی مصنوعات ایجادات ترقی پر ایمان لے آتے ہیں اس کے بعد اس ایمان و یقین کی اسلامی توضیحات، تصریحات تشریحات بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے مغرب کے فلسفے، مذہب اور ما بعد الطبیعات کا مطالعہ ضروری ہے، کسی شے میں کیا شے اچھی ہے کیا بری ہے، کتنے فی صد بہتر ہے، کتنے فی صد نا قابل قبول ہے، اس کا اندازہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک شے کی ماہیت، حقیقت، اصلیت، علمیت، مابعد الطبیعات، مقاصد سے واقفیت نہ ہو، اس لیے رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اے اللہ! مجھے چیزوں کی حقیقت ویسی ہی دکھا جیسا کہ وہ ہیں، اللّٰھم ارنا الحق حقاً وارزقنا اتباعه وارنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابه اے اللہ! ہمیں حق کو حق دکھا اور اس کی اتباع کرنے کی توفیق عطاء فرما اور باطل کو باطل دکھا اور اس سے اجتناب کرنے کی توفیق عطاء فرما، لہٰذا جو شخص مخالف تہذیب، مذہب علم کی ہر شے کو رد کرتا ہے اس کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب آپ اپنے مد مقابل تہذیب مذہب کی اشیاء افکار، علوم، نظریات، حاصلات، سائنس، ٹیکنالوجی نظریۂ افادیت کے تحت قبول اور استعمال کرنے لگتے ہیں کیونکہ اسلامی، علمیت میں افادہ پرستی، مادہ پرستی اور نتائجیت پرستی

{Utilitarianism Materialism Pragmatism}

کی بنیاد پر فیصلے نہیں کیے جاتے فیصلوں کی بنیاد شریعت ہوتی ہے کہ مالک حقیقی کی رضا کیا ہے؟ جدیدیت اور لبرل ازم کا اصول یہ ہے کہ کیا ممکن ہے! اور اکثریت کو کس شے سے فائدہ ہو سکتا ہے خواہ یہ فائدہ شریعت کو مطلوب نہ ہو لیکن نفس کا خدا چاہتا ہو، اسلامی علمیت میں افادہ پرستی نفس پرستی اور حرص و ہوا کے ایسے کسی نظریے کی کوئی گنجائش نہیں یہ خالص مغربی فسادات قلب ہیں، اسلامی علمیت میں ہر شے کو اصول پر جانچا پرکھا جائے گا کہ وہ مقاصد شریعہ کے حصول میں معاون ہے یا مزاحم ہے؟ ایک شے خلق کے لیے بے حد فائدہ مند ہے لیکن دل، روح، مقاصد شریعہ اور ایمان کے خاتمے کا اعلامیہ ہے تو اسے کسی صورت میں قبول نہیں کیا جائے گا چنانچہ واضح ہوا کہ خذ ما صفا و دع ما کدر یعنی جو اچھا ہے وہ لے لو اور جو برا ہے اسے ترک کردو کے فلسفہ پر عمل پیرا مکاتب فکر پر لازم ہوگا کہ اس جاہلیت جدیدہ کی علمیت، مابعد الطبیعات اور جدید اشیاء میں مستور خیر قلیل و کثیر اور شر کثیر و قلیل کا میزانیہ مغربی فلاسفہ و مفکرین کی تصریحات اور نصوص اسلامی کی روشنی میں قائم کریں، بصورتِ دیگر یہ مکاتب فکر تاریخ کے میزانیے میں ''مصیب''{صحیح رائے تک پہنچنے والا} قرار نہیں دیے جا سکتے، ٹرائے {Troy} کے گھوڑے کو استعمال کرنے والے کو اس کی باطنی، اندرونی حقیقت بھی معلوم ہونا چاہیے ورنہ یہ گھوڑا ایک تہذیب و تاریخ کو شکست دینے کے لیے کافی ہوتا ہے، رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم اور حضرت عمر کے ارشادات کا مقصد یہی ہے کہ امت مسلمہ اپنے عہد کے عیدو بلوچ سے خبردار رہے اور کسی تہذیب سائنس، ٹکنالوجی اور کسی قوم سے مرعوب نہ ہو، یہ اسی وقت ممکن ہے کہ ہم ہر عہد کے عیدو بلوچ سے واقف ہوں جو ہر شعبہ زندگی میں داخل ہو کر مغرب کی سائنس اسلحہ، مغرب کی ترقی، اس کے اداروں اسکے مقاصد، اس کی چکا چوند، اس کے طریقوں اس کی ترقی اس کی طاقت، برتری، بلندی، عظمت، عروج و اقبال کے قصیدے سنا کر اس جھوٹ، فریب، ملمع اور دجل سے عالم اسلام کو خوف زدہ کرنے میں مصروف ہیں لہٰذا مغربی سائنس اور فلسفہ پڑھنا ضروری ہے تاکہ کفر کی حقیقت سے آگہی ہو، اس آگہی کے بغیر عہد حاضر کے پیدا کردہ سوالات کا جواب دیتے ہوئے نہایت توجہ، احتیاط اور توقف کی ضرورت ہے تاکہ دین کی ایسی تعبیر و تشریح سامنے آس کے جو مقاصد شریعہ کو ممکن بنا سکے عجلت میں دی جانے والی رائے اسلامی روایت کو کمزور کرنے کا باعث بن سکتی ہے ہماری علمی تاریخ احتیاط، توازن اور توقف کی تاریخ ہے عجلت کی تاریخ نہیں عجلت علم کی دنیا کے لیے نا قابل قبول رویہ ہے اسی لیے حضرت عبداللہ بن عمر فتویٰ دینے میں احتیاط برتتے اور بلا تکلف لا ادری فرما دیتے، حضرت عبداللہ بن مسعود  رضی اللہ عنہ فرماتے کہ لا ادری میں نہیں جانتا کہنا نصف علم ہے، امام مالک سے چالیس مسئلے پوچھے گئے، آپ نے صرف آٹھ کا جواب دیا اور بقیہ بتیس مسائل کے بارے میں فرمایا لا ادری سائل نے کہا میں چھ سو میل سفر طے کر کے آیا ہوں اگر آپ نہیں جانتے تو پھر کون جانے گا، فرمایا ملائکہ کہتے ہیں لاعلم لنا الا ما علمتنا یہ رویہ، مزاج، اسلوب، دیانت عہد حاضر میں کیوں مفقود ہوگئی ہے؟ ہم ہر سوال کا جواب دینا کیوں ضروری سمجھتے ہیں جس کے بارے میں ہم آگہی نہیں رکھتے، کیا ہمارا یہ رویہ اسلامی علمیت، دیانت اور ایمان سے ہم آہنگ رویہ ہے؟

Your Comment