بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله بدھ 26 / فروری / 2020,

Instagram

جدید سائنس سے استفادہ

14 Aug 2019
جدید سائنس سے استفادہ

سید خالد جامعی

جدید سائنس کے ناقدوں پر سائنس کے حامیوں کا ایک چبھتا ہوا اعتراض یہ ہوتا ہے کہ جدید سائنس سے استفادہ بھی اور اس کے خلاف نقد بھی اور اسی سائنس کے ایجاد کردہ آلات سے، یہ اعتراض بھی اپنی نہاد میں احمقانہ اور ریت میں سر چھپانے کی کوشش ہے، انبیائے کرام علیہم السلام جس معاشرے میں مبعوث ہوتے ہیں تو اسی معاشرے کے اندر رہتے ہوئے دین کا کام کرتے ہیں، وہ صحرائے سینا میں جا کر نہیں کھڑے ہوتے کہ ہم جس نظام، تہذیب اور تمدن پر تنقید کر رہے ہیں اس سے فائدہ کیوں اٹھائیں ورنہ اس پر اعتراض کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی، وہ اسی تہذیب، تمدن اور دنیا کے اندر رہ کر اس تہذیب و تمدن کو سوالیہ نشان بنا دیتے ہیں اور جس تہذیب وتمدن میں پیدا ہوئے تھے اسی کو اپنی روشنی سے تہس نہس کر دیتے ہیں، وہ اسی زمان و مکان کے اندر ہوتے ہیں لیکن پیام توحید کے باعث اس زمان و مکان سے نہ صرف ما وارء ہو جاتے ہیں بلکہ اپنی امت کو بھی فکری طور پر زمان و مکان سے بلند کرکے توحید کے آفاقی پیغام کا حامل بنا دیتے ہیں، فرعون کے دربار میں جس چکی سے آٹا آتا تھا حضرت موسی علیہ السلام بھی اسی چکی کا آٹا کھاتے تھے انہوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ کوہ طور کے ارد گرد گندم اگا کر اس کی بالیاں اپنے ہاتھ سے پیس کر خود آٹا گوندھ کر اپنی الگ روٹی استعمال کریں گے، ان جاہلوں نے کبھی قرآن نہیں پڑھا ورنہ یہ اعتراض نہ کرتے، حضرت موسی علیہ السلام کی تو پرورش فرعون کے محل میں ہوئی ہے اور حضرت یوسف علیہ السلام کی پرورش عزیز مصر کے محل میں، ایک کو جلا وطنی کی زندگی بسر کرنا پڑی دوسرے پیغمبر نے قید کی زندگی گزاری، اب اعتراض اٹھا دیجئے کہ انہوں نے اس تہذیب و تمدن کے محلات میں موجود سائنس و ٹیکنالوجی سے استفادہ کیوں کیا پھر اس کے خلاف کیوں کھڑے ہوگئے، کسی خاص تاریخ، زمان و مکان، تہذیب وتمدن میں کسی کی پیدائش پیدا ہونے والے کے اختیار میں نہیں یہ اذن ربی ہے، لیکن اس تہذیب وتمدن کے کفر، طغیان اور ارتداد سے انکار ہر ایک کے اختیار میں ہے اور اس خدا دشمن تہذیب، سائنس اور تمدن کو مٹا دینا ایمان کا تقاضہ ہے، ہم اس تہذیب کے مظاہر سے حدود شریعت کے اند استفادہ کرنے کے باوجود اس کو تہس نہس کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے، جدیدیت کے مداحین اصلا خدا اور قرآن پر اس قدر یقین نہیں رکھتے جس قدر جدید سائنس اور اس کی آسائشوں اور تعیشات پر رکھتے ہیں لہذا وہ سائنس پر کوئی سوال سننے سے پہلے ہی فضول سوالات شروع کر دیتے ہیں سائنس ان کی ایمانیات کا جزو ہے ــــــ

Your Comment