بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله پیر 01 / جون / 2020,

Instagram

مدرسہ ڈسکورسز کے تحت علم الکلام کے جدید مباحث پر سیمینار میں شرکت)

19 Aug 2019
مدرسہ ڈسکورسز کے تحت علم الکلام کے جدید مباحث پر سیمینار میں شرکت)

 (1)

ڈاکٹر زاہد صدیق مغل

"علم الکلام کے جدید مباحث" کے موضوع پر اسلامی نظریاتی کونسل میں مدرسہ ڈسکورسز کے زیر اہتمام ایک سیمینار منعقد کیا گیا جس میں متعدد اہل علم احباب نے اپنی آراء کا اظہار کیا۔ برادر عمار خان ناصر کی دعوت پر بندے نے بھی اس میں شرکت کی۔ مختلف احباب نے موضوع سے متعلق مختلف پہلووں پر گفتگو کی البتہ ان کی گفتگو سے اخذ ہونے والے چند اہم تاثرات یہاں گوش گزار کرنا چاہتا ہوں:

- کئی حضرات (مثلا جناب ثاقب اکبر، خورشید ندیم اور ماھان مرزا صاحب) نے اس رائے کا اظہار کیا کہ ماضی کا فہم اسلام نئے دور میں متروک سمجھا جانا چاہئے۔ ثاقب اکبر صاحب نے اس مقدمے کو چند جزوی فقہی مسائل کی مثالوں سے واضح کرنے کی کوشش کی (مثلا خاتون کی گواہی) اور اس بات پر زور دیا کہ نیا اجتہاد کرنا چاہئے۔ اس پر بس اتنا ہی عرض ہے کہ ضرور کیجئے جناب، کس نے روکا ہوا ہے؟ ثاقب اکبر صاحب نے ایسا اجتہاد نہ کرنے والوں کو "عقل دشمنی" سے بچنے کا مشورہ بھی دیا۔

خورشید ندیم صاحب نے اسی بات کے لئے ایک اصولی مقدمہ وضع کرنے کی کوشش کی کہ اسلام کا اصل مطالبہ ایک متقی بندہ مومن سے یہ ہے کہ وہ غیب پر ایمان لائے۔ یہ جسے علم کلام کہتے ہیں یہ مذھب کا داخلی مسئلہ نہیں ہے بلکہ خارج سے پیدا ہونے والے مطالبات و چیلنجز کی بنیاد پر مذھبی اذھان کو مطمئن رکھنے کے لئے کھڑا کیا جاتا ہے۔ اگر خارج کے حالات و مطالبات بدل جائیں تو لازم ہے کہ ماضی کی پوری مذھبی علمی روایت (بشمول علم تفسیر) کو بھی ترک کردیا جائے اور اس کا بوجھ مذھب کے کاندھوں پر لادنا نہیں چاہئے۔ اس پر مختصر تبصرہ بس یہ ہے کہ خورشید صاحب کا فہم کلام ناقص ہے کیونکہ کلامی ایکٹیویٹی کسی بھی فکر کا خارجی نہیں بلکہ داخلی مسئلہ ہوتا ہے۔ ان کی گفتگو کا حاصل یہ بنتا ہے کہ دین کسی چیز کا نام ہے ہی نہیں، یہ صرف خارج کا مرھون منت ہے۔

ماہان مرزا صاحب نے اسی مقدمے کو سائنسی نظریات کی روشنی میں "بصورت سوال" آگے بڑھایا کہ انسان کی ابتداء و حقیقت کے بارے میں ایک کہانی وہ ہے جو مذاھب بتاتے چلے آئے ہیں اور ایک کہانی جدید سائنسی علم بتا رہی ہے جسے "بگ ھسٹری" کا عنوان دیا گیا ہے۔ چنانچہ لازم ہے کہ اہل مذھب اس گرینڈ ھسٹری کے تناظر میں اپنی کہانی کا یا تو ازسر نوع جائزہ لیں اور یا پھر ان سوالات کا شافی جواب دیں۔ ماھان صاحب نے بگ ھسٹری کے تناظر میں اہل مذھب کے سامنے تو بڑے با معنی سوالات رکھے لیکن ان کی توجہ کبھی اس طرف نہیں جاتی کہ خود اس بگ ھسٹری کے تناظر میں جدید انسان کے غیر مذھبی اخلاقی تصورات کی حیثیت کیا رہتی ہے؟ کیا بگ ھسٹری سے جنم لینے والے سوالات اہل مذھب کے لئے زیادہ معنی خیز ہیں یا خود اس نظرئیے پر ایمان رکھنے والے حضرات کے لئے؟

- دوسری تھیم جس کا اظہار متعدد شرکاء (بشمول اکرم ورک اور خالد مسعود صاحب) نے کیا وہ یہ تھی کہ فقہ و دین میں فرق کرنے کی ضروت ہے (بعض لوگ اسے شریعت و دین کا فرق بھی کہتے ہیں)۔ فقہاء نے فقہ کے نام پر جو مسائل اخذ کئے وہ دین کو سمجھنے کی صرف ایک انسانی کاوش تھی نہ کہ بذات خود دین، دین صرف اس شے کا نام ہے جو خدا نے نازل کیا ہے۔ یہ دوسری بات دراصل پہلی ہی بات کا ایک منطقی تسلسل ہے بلکہ پہلی بات کا منطقی جواز ہے، یعنی نئی آراء قابل قبول بنانے کے لئے لازم ہے کہ پہلے والی آراء چھڑوائی جائیں اور چونکہ لوگ انہیں دین سمجھتے ہیں لہذا یہ کہا جائے کہ وہ دین نہیں ہیں اور اس کے لئے دین و فقہ کی دوئی کا مقدمہ کھڑا کیا جاتا ہے۔ جو حضرات دین و فقہ کی دوئی کے اس فلسفے کے قائل ہیں ان سے بس دو سوالات ہیں: ایک یہ بتایا جائے کہ ماوراء ہر قسم کی فقہ دین کیا ہے؟ اس کے جواب میں آپ ہمیں جو بتائیں گے کیا وہ انسانی کاوش و فقہ نہیں ہوگی؟ اگر نہیں تو کیوں اور اگر ہوگی تو پھر دین کیا اور کہاں ہے؟ پیچیدہ بحثوں میں پڑے بغیر اگر ان سادہ سوالات پر ہی غور کرلیا جائے تو اس فلسفے کی منطقی حیثیت واضح ہوجاتی ہے۔

Your Comment