بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله پیر 24 / جنوری / 2022,

Instagram

انبیائے کرام علیہم السلام، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مغرب جیسی عالی شان سائنسی، مادی ترقی کیوں نہ کر سکے؟

2020 Apr 17

انبیائے کرام علیہم السلام، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مغرب جیسی عالی شان سائنسی، مادی ترقی کیوں نہ کر سکے؟

سید خالد جامعی

انبیائے کرام علیہم السلام کی تہذیبوں میں ترقی، پروگریس، ڈیولپمنٹ کی شرح بہت سست کیوں ہوتی ہے؟ مثلاً ہابیل قابیل سے لے کر حضرت عیسٰی علیہ السلام اور پھر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم تک انبیائے کرام علیہم السلام کی پیدائش کسی میٹرنٹی ہوم یا بڑے ہسپتال میں نہیں ہوئی، کیا اتنے طویل زمانوں کے باوجود ترقی کا پہیہ ہمیشہ سست ہی رہا؟ انبیائے کرام علیہم السلام کا مقابلہ ہمیشہ بہترین مادی، سائنسی تہذیبوں مثلاً قوم عاد، قوم ثمود، قوم فرعون، قوم سباء وغیرہ سے ہوا لیکن انبیائے کرام علیہ السلام ان تہذیبوں جیسی مادی ترقی حاصل نہ کر سکے، نہ ان قوموں کے قریب قریب ترقی حاصل کر سکے، نہ انبیائے کرام علیہم السلام کے پاس ان قوموں جیسی سائنس و ٹیکنالوجی موجود تھی، انبیائے کرام علیہم السلام کی یاد گار صرف دو عمارتیں دنیا میں محفوظ ہیں خانہ کعبہ اور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا حجرہ مبارک جس میں تین قبریں ہیں، ان دو عمارتوں سے کسی شان و شوکت اور دنیا کا اظہار نہیں ہوتا، کیا انبیائے کرام  علیہم السلام کے منہاجِ علم میں دنیا کےلئے بس اتنی ہی جگہ تھی؟ اگر یہ درست ہے تو یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ اسلام ہر زمانے کا ساتھ دے سکتا ہے، وہ مغرب جیسی عظیم مادی ترقیات کے بھی شانہ بشانہ چل سکتا ہے اور مغرب نے جو کچھ ترقی حاصل کی وہ اسلام کے ذریعے سے ہی حاصل کی ہے، عہدِ جدید کا خالق اصلا اسلام ہی ہے اور جدید سائنسی ترقی کا اصل مرکز و منبع قرآن حکیم ہے اگر یہ درست ہے تو قرآن کے حاملین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مغرب جیسی عالی شان سائنسی ترقی کیوں نہ کر سکے جس کی بنیادیں اسلام میں تھیں لیکن ترقی مغرب نے حاصل کر لی؟ اگر قرآن کریم جدید سائنسی ترقی کا خالق ہے کہ قرآن نے ہی تجربیت، مشاہدہ، تدبر، تفکر و تعقل سے دنیا کو روشناس کرایا ہے تو سوال یہ ہے کہ قرآن کریم سے سب سے زیادہ واقف صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قرآن کے ان باطنی امور سے کیوں ناواقف رہے ان میں کوئی سائنس دان کیوں پیدا نہ ہوسکا؟ انہوں نے مغرب کی طرح سائنس و ٹیکنالوجی میں کوئی ایک چیز بھی ایسی متعارف نہیں کرائی جو رہتی دنیا تک خلق کےلئے مادی خیر و برکت کا باعث بنتی، انہوں نے سائنسی علوم پڑھانے کا اہتمام کیوں نہیں کیا؟ اور امت کو وہ سائنسی باطنی علوم کیوں منتقل نہ کئے جس کے عدم حصول کے باعث امت مغرب سے شکست پر شکست کھا رہی ہے؟ کیا اسلام کی شکست اور زوال کا ذمہ دار اسلام ہی ہے؟ انبیائے کرام علیہم السلام کی تہذیبیں دنیاوی امور میں اس قدر پیچھے کیوں تھی؟ مغرب کا انسان اگر پروگریس، ڈیولپمنٹ، انسانی ارتقاء کے حوالے سے یہ سوالات اُٹھائے تو ہمارے پاس ان سوالوں کا کیا جواب ہے؟ یہ اعتراض غلط ہے یا انبیائے کرام علیہم السلام کا مقصد صرف فکرِ آخرت ہے؟ دنیا کی فکر تو ہر شخص کرتا ہے دنیا میں کوئی وجود ایسا نہیں جس نے اس زمین پر آنکھ کھولی ہو اور دنیا سے لاتعلق ہوگیا ہو لہذا دنیا کی فکر انسان بغیر کسی ہدایت کے خود کرتا ہے، کسی کو کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ ترقی کرو! پیسہ کماؤ! اچھا کھاؤ! مگر ہر ایک کو یہ بتانے کی ضرورت ہوتی ہے کہ دنیا کو مقصد نہ بنا لو! اصل چیز آخرت ہے اس کی فکر کرو دنیا تو عارضی ہے گزر جائے گی قرآن کریم نے واضح طور پر کہا کہ اہل ایمان آخرت کو ہر حال میں دنیا پر ترجیح دیتے ہیں، انبیائے کرام علیہم السلام آخرت کی فکر کو دنیا کی فکر پر ترجیح دیتے ہیں اس لئے ان کی امتوں کےلئے دنیا مؤخر اور آخرت مقدم ہو جاتی ہے

Your Comment