بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله جمعرات 22 / اکتوبر / 2020,

Instagram

مغربی علمیت سے مرعوبیت کے خطرناک اثرات

2020 Apr 17

مغربی علمیت سے مرعوبیت کے  خطرناک اثرات

مغربی علمیت سے مرعوبیت کے  خطرناک اثرات

زاہد صدیق مغل

ایک دور تھا جب مغربی علمیت سے مرعوبیت کے زیر اثر ہمارے یہاں مسلم ماڈرن ازم نے جنم لیا، اس فکر نے دعوی کیا کہ آج تک کوئی اسلام کو درست سمجھا ہی نہیں، اصل اسلام وہ ہے جو مغرب برت رہا ہے، انہوں نے《اسلام کی مغرب کاری》کا بیڑا اٹھایا، اس فکر سے بہت سے ذہن متاثر ہوۓ (سر سید، چراغ علی، پرویز وغیرہم) لیکن علماء اس کے آگے ڈٹ گئے اور اسے شکست فاش سے دوچار کیا، آج جاوید احمد غامدی جیسے مفکرین ایک بار پھر اس مردے میں روح پھونکنے میں مصروف ہیں، لیکن مغربی علمیت پر یہ فتح دیر پا ثابت نہ ہوئی اور اب یہ مسلم ترمیمیت پسندی (revisionism) کی صورت میں نمو دار ہوئی، اس فکر نے دعوی کیا کہ اسلام اور مغرب میں اصولی مماثلت ہے لہذا مغرب سے ڈائیلاگ (کچھ لو اور دو کی بنیاد پر معاملہ) ہو سکتا ہے، اس فکر نے کہا کہ مغربی اقدار و ادارے ہماری ہی تاریخ کا تسلسل ہیں (اور یہ ثابت کرنے کے لئے انہوں نے اسلامی تاریخ کا ایک ایسا revised ورژن تیار کر رکھا ہے جو مغرب کو اپنے اندر سمونے کی کوشش کرتا ہے (اس فکر کی مثالیں اسلامی بینکاری و جمہوریت ہیں) اس فکر نے《مغرب کی اسلام کاری》کی، مسلم روژنزم ان معنی میں زیادہ خطرناک ثابت ہوئی کہ اس میں علمائے کرام بھی اچھی خاصی تعداد میں شامل ہوگئے، یہ دونوں دھارے مغرب سے مرعوبیت اور نامکمل واقفیت کی بناء پر پیدا ہوئے، لیکن آج الحمد للہ امت مسلمہ میں ایسے افراد کا اچھا خاصا جتھا پیدا ہوگیا ہے جو مغرب کی آنگ انگ سے واقف ہے، جو اس کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر اس سے بات کرتے جھجھک محسوس نہیں کرتا، جو پورے شرح صدر کے ساتھ کہتا ہے کہ《مغرب جاہلیت خالصہ ہے》اس کے ساتھ ہمارا ڈائیلاگ نہیں بلکہ《دعوت》(monologue) کا تعلق ہے، قرون اولی کی طرف مراجعت کی دعوت دیتے اسے عار محسوس نہیں ہوتی۔

ماڈرنسٹ مفکرین سے کون متاثر ہوتا ہے ؟

ماڈرنسٹ مسلم مفکرین سے لوگ بالعموم تین وجوہات کی بنا پر متاثر ہوتے ہیں:

مولوی بیزاریت

ایسے لوگ راسخ العقیدہ اسلام کو چند سٹیریو ٹائپ قسم کے نظریات کی بنیاد پر دیکھتے ہیں، اسلام کی راسخ العقیدہ تعبیر و تشریح سے یہ نامکمل واقف یا بالکل ناواقف ہوتے ہیں، انہیں جدید مسلم مفکرین کی بات صرف اس لئے اچھی لگتی ہے کہ یہ مولوی نہیں ہوتے (انہیں ان متجددین کی بات بھی پوری طرح معلوم نہیں ہوتی جن کی یہ تقلید کرتے ہیں) اس طبقے کا بنیادی مطمح نظر یہ سوال ہوتا ہے ''یہ بات کہیں مولوی نے تو نہیں کہی؟'' (یعنی مولوی نے کہی تو غلط ہے) انہیں آپ《مولوی بیزار》کہہ لیجئے! (اس بیزاری کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں، مثلا ماڈرن و منفرد بننے کا بھوت سوار ہونا، مغرب سے بے انتہا متاثر ہونا، مغربی علوم کا دل و جان میں سرائیت کر جانا وغیرہ)

وصال مغرب بمع مذھب:

ایسے لوگ مغرب سے انتہائی متاثر ہوتے ہیں اور شدید خواہش رکھتے ہیں کہ کسی طرح اسلام انہیں وہ سب فراہم کر دے جو مغرب کے پاس ہے، چونکہ راسخ العقیدہ اسلام ان کی اس طلب کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے لہذا یہ اسے ترک کرکے متجددین کا رخ کرتے ہیں جو ایسی تمام بندشوں کا توڑ کرنا خوب جانتے ہیں، یہ لوگ مغربی فکر و فلسفے سے نامکمل واقفیت (یا بالکل نا واقفیت) کا شکار ہوتے ہیں، البتہ چند مغربی علوم کے سند یافتہ ہوتے ہیں، یہ طبقہ نفسیاتی و فکری طور پر اسلام سے قطع تعلق بھی نہیں کرنا چاہتا مگر خواہشات نفس کا بھی خوگر ہوتا ہے، انہیں متجددین کی بات اس لئے بھاتی ہے کہ ایسے مفکرین ان کے یہ دونوں ہی مسئلے حل کر دیتے ہیں، ایسے لوگ کلامی مذہبی گروہوں کے آپسی متشددانہ رویے سے بھی شاکی ہوتے ہیں، متجددین کے پیروکاروں کی غالب اکثریت کا تعلق اسی قسم سے ہے (ان کا بنیادی سوال یہ ہوتا ہے ''جدید تہذیب کے تمام مظاہر تو ہمیں چاہئیں، بتائیے اسلام کا کیا کریں؟'')

اسلام اور مغرب کے درمیان جاری کشمکش کا حل نکالنے کی خواہش و کوشش:

یہ لوگ بالعموم سنجیدہ اور پڑھے لکھے ہوتے ہیں (بلکہ کئی ایک دینی تعلیم یافتہ بھی ہوتے ہیں) یہ اسلام اور مغرب کے درمیان ایک《فکری پل》تعمیر کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں، مگر چونکہ بالعموم یہ مغربی فکر سے گہری واقفیت نہیں رکھتے لہذا اس شوق کو پورا کرتے کرتے اسلام کو مغرب میں یا مغرب کو اسلام میں تلاش کرنے لگتے ہیں اور یوں یا تو خود آزاد محقق نما متجدد بن جاتے ہیں اور یا پھر اپنے سے ذہین کسی متجدد کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں، ان کا بنیادی سوال یہ ہوتا ہے ''موجودہ حالات میں اسلام کی ایسی تفہیم کیا ہوگی جو حاضر و موجود تناظر میں قابل قبول و عمل ہو؟'' نتائج کے اعتبار سے یہ تیسرے قسم کے لوگ سب سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں ـــــــ

Your Comment