بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله اتوار 29 / مئی / 2022,

Instagram

جدید ریاست میں مذہب اور اہل مذہب کا آلاتی استعمال

2020 Apr 14

جدید ریاست میں مذہب اور اہل مذہب کا آلاتی استعمال

سید خالد جامعی  

اصل مسئلہ یہ ہے کہ لبرل ازم کیپٹل ازم اور سیکولر ازم ہر مذہب کو ایک آلے، وسیلے، ذریعے Tool کے طور پر استعمال کرتے ہیں، بات بس اتنی ہے، مذہب کا استعمال جدید ریاست اور جمہوریت و لبرل ازم  میں صرف آلاتی Instrumental  ہے، اگر مذہب سے سیکولر ازم کیپیٹل ازم  کی خدمت کر سکتا ہے، اسے مضبوط کر سکتا ہے تو مذہب کے اتنے حصے کو اختیار کرنے کی بلکہ استعمال کرنے کی [utilize] کرنے کی آزادی ہے، مغرب میں اس طریق کار کےلئے دو اصطلاحیں استعمال ہوتی ہیں، مفاد پرستی اور نتائجیت پرستی [Utilitarianism and pragmatism] یعنی مذہب ہمیں کہاں فائدہ پہنچا سکتا ہے؟ کہاں اچھا نتیجہ دے سکتا ہے؟ کہاں ہمارے غلام، خادم، نوکر کے طور پر ہماری خدمت کر سکتا ہے؟ جس طرح مغرب کی جیلوں میں قید__ قیدی بار بار جرائم کا ارتکاب کرتے تھے لیکن مذہبی بننے کے بعد سدھر جاتے تھے تو انہوں نے مختلف مذاہب کے علماء کو جیلوں میں تبلیغ دین کی آزادی دے دی، مولانا طارق جمیل، تبلیغی جماعت ،دعوت اسلامی کو مغربی ممالک میں جیلوں میں جانے اور دین پھیلانے کے اجازت نامے دیے جاتے ہیں، اس کا مقصد اسلام کی دعوت، توسیع، اشاعت نہیں بلکہ اسلام کا آلاتی استعمال ہے کہ لوگ مذہبی ہو جاتے ہیں تو جرم نہیں کرتے، جدید قانون انسان کو باہر سے تبدیل کرتا ہے، مذہب انسان کو اندر سے تبدیل کرتا ہے وہ اس کے داخل، باطن کو تہہ و بالا کر کے ایک عبد خالص تیار کرتا ہے، جو گناہ سے نفرت کرتا ہے لہذا مذہب اگر ایک شہری کو برطانوی ریاست کےلئے اچھا شہری بنا دے تو برطانوی ریاست کے اخراجات بھی کم ہوں گے، جرم بھی کم ہوں گے، امن بھی بہتر ہوگا یعنی مذہب مقصود نہیں ،End in itself نہیں بلکہ کسی دوسرے مادی مقصد کا ذریعہ Mean ہے، سوال یہ ہے کہ مذہب کا کام لوگوں کو نجات دلانا، ان کی آخرت کو ممکن بنانا اور قیامت کے دن جنت کا حق دار بنانا ہے یا برطانیہ میں مجرموں کی تعداد کم کرنا ہے، ان مقاصد سے مذہب کی حقیقت بدل جاتی ہے، مغرب مذہب کا صرف آلاتی استعمال کرتا ہے، یہ بات اسلامی تحریکوں کو اپنے ذہن میں رکھنی چاہیے یعنی ایک مسلمان اور اس کا مذہب، مغرب کو مطلوب مقاصد، اہداف نتائج کےلئے ایک آلے Tool کے طور پر بہترین طریقے سے استعمال ہورہا ہے تو مذہب کو بھی استعمال کر لیا جائے مذہب کو قبول کرنا، مذہبی  علمیت کو الحق تسلیم کرنا اور مذہب کو صرف استعمال کرنا ان سب باتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے بھارتی سپریم کورٹ نے گذشتہ سال دیوالی کے تہوار پر آتش بازی پر پابندی لگا دی تھی اب پابندی مشروط طور پر اٹھا لی ہے لیکن آتش بازی کا وقت طریق کار طے کر دیا ہے، اس کی اجازت کی خبر AFP نے دی ہے اور اجازت کی شرائط اور سابقہ پابندی کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے، AFP کی خبر کی سرخی ہے

Indian courts eases firecracker ban as pollution soars [Dawn,24 Oct.2018,pg 13]

 

سپریم کورٹ نے آتش بازی کا وقت صرف دو گھنٹے مقرر کیا ہے پہلے مکمل پابندی تھی ـــــ

مسلمانوں نے مغل حکومت میں کبھی ہندو تہواروں پر پابندی نہیں لگائی، اب پابندی کی دلیل آلودگی ہے، دیوالی کا تہوار سال میں صرف ایک مرتبہ صدیوں سے ہوتا ہے تب آلودگی نہیں پھیلتی تھی، اچانک دیوالی آلودگی کا سبب بنا دی گئی، آلودگی کا سبب جدید صنعتی ترقی، جدید طرز زندگی، سپریم کورٹ کے ججوں کے AC چیمبرز، AC گاڑیاں، گھروں میں AC اور کاریں، صنعتی ترقی اور توانائی Energy ہے جو تیل، کوئلے، ڈیزل سے پیدا ہوتی ہے مگر سپریم کورٹ اس پر کوئی پابندی نہیں لگا رہی کیونکہ سپریم کورٹ سرمایہ دارانہ ریاست کی تخلیق ہے، لہذا وہ سرمایہ دارانہ اداروں کار پوریشن، ترقی، جدید سائنس، جدید ایجادات پر پابندی نہیں لگا سکتی، گاڑیاں روزانہ چلتی ہیں، یہ بند کر دیں، فیکٹری روزانہ چلتی ہے اسے بھی بند کر دیں! اصل مقصد، اصل مسئلہ آلودگی نہیں سرمایہ ہے، اگر جمہوریت سے سرمایہ میں اضافہ ہوتا ہے تو جمہوریت جائز اگر آمریت سے سرمایہ بڑھتا ہے تو امریت قانونی ہوجاتی ہے،  روایتی تہذیبوں میں کبھی مذہبی آزادی کا شوشہ نہیں تھا سب اپنے مذہب پر عمل کرتے تھے، ریاست مذہبی آزادی کے تحفظ کے دعوے نہیں کرتی تھی

Your Comment