بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله بدھ 02 / دسمبر / 2020,

Instagram

جمعہ کی نماز سے روکنا سورہ جمعہ کی روشنی میں کیا جائز ہے؟

2020 Apr 17

جمعہ کی نماز سے روکنا سورہ جمعہ کی روشنی میں کیا جائز ہے؟

 سید خالد جامعی

سورہ جمعہ کی آیات نص قرآنی ہے کیا نصوص میں اجتہاد کی اجازت ہے؟

يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اِذَا نُـوْدِىَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّـٰهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ۚ ذٰلِكُمْ خَيْـرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُـمْ تَعْلَمُوْنَ▪️فَاِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانْتَشِرُوْا فِى الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّـٰهِ وَاذْكُرُوا اللّـٰهَ كَثِيْـرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ▪️وَاِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَـهْوًا ِۨ انْفَضُّوٓا اِلَيْـهَا وَتَـرَكُوْكَ قَآئِمًا ۚ قُلْ مَا عِنْدَ اللّـٰهِ خَيْـرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَمِنَ التِّجَارَةِ ۚ وَاللّـٰهُ خَيْـرُ الرَّازِقِيْنَ (الجمعہ:۹ - ۱۰ - ۱۱)

وہ علماء جو کہہ رہے ہیں کہ ریاست کے حکم کی پابندی کرو کیا انہیں معلوم ہے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں؟ ریاستی منہاج میں فتویٰ دینے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے ریاست کے سائنسی منہاج کو قبول کر لیا سائنس، توہمات، تجربات کا نام ہے، اس میں کچھ حتمی نہیں ہوتا، ہر تحقیق بدلتی رہتی ہے، کورونا پر اب تک کی تحقیقات ایک دوسرے سے متصادم ہیں لہذا ریاستی منہاج میں فتویٰ دینے کا مطلب یہ ہے کہ علماء سائنسی منہاج علمی میں فتویٰ دے رہے ہیں، جو ضلالت اور جہالت ہے، کیونکہ فتویٰ صرف اسلامی علمیت کے منہاج میں دیا جا سکتا ہے سائنسی منہاج میں نہیں علماء سائنس کے توہمات کے بارے میں کچھ بولتے ہوئے خوف زدہ ہیں کیونکہ وہ سائنس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے وقت آگیا ہے کہ وہ سائنس کی حقیقت اصلیت اچھی طرح سمجھ لیں اور اس سے بالکل متاثر نہ ہوں مساجد بند کرنے کا اجتہاد کرنے والے علماء نے کورونا پر شائع شدہ 26 ہزار مقالات نہیں پڑھے بس سائنس و ریاست پر ایمان لا کر فتوے دے رہے ہیں اور فتوی کی کوئی دلیل نہیں دے رہے ہیں، سچ چھپا رہے ہیں زندگی، موت، بیماری اور شفاء صرف اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، علماء عوام کو عقیدے کے بنیادی مباحث سمجھائیں تاکہ ان کا ایمان تازہ، زندہ اور بیدار ہو، درست عقیدہ ہی کورونا اور خوف سے نجات دے کر نئی روحانی اور ایمانی زندگی عطاء کر سکتا ہے کورونا خدا کا عذاب نہیں سائنس کا مسلط کردہ عذاب ہے اس کا کوئی علاج نہیں، اس کا علاج صرف احتیاط، اچھی خوراک، ذہنی صحت مندی آخرت پر یقین اور التوحید پر ایمان ہے مگر لوگ بلا وجہ سائنس سے مرعوب ہو رہے ہیں بوڑھے لوگوں کو مسجد میں باجماعت نماز پڑھنے سے روکنے والے متجدد مفکرین کےلئے، کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ کے پیچھے نماز نہیں دیکھی؟ دو آدمیوں کے سہارے رسالت مآب صلی علیہ وسلم سہارا لے کر آرہے تھے اور ذات رسالت مآب صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے پاؤں مبارک زمین پر گھسٹ رہے تھے (بخاری) حدیث ہے جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے جمعہ کا دن دونوں عیدوں سے بھی زیادہ مرتبے والا ہے (ابن ماجہ) حدیث میں آتا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور تکلیف بڑھ گئی تو تمام ازواج مطہرات سے اجازت لی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تیمار داری میرے گھر میں کی جائے، ان سب نے آپ کو اجازت دے دی، نماز کا وقت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کا سہارا لے کر مسجد جانے کےلئے اس طرح نکلے کہ کمزوری کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں زمین پر گھسٹنے رہے تھے (بخاری) فخرج النبی بین رجلین تخط رجلاۃ فی الارض رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم مرض الموت میں پاؤں گھسٹتے ہوئے باجماعت نماز کےلئے مسجد میں تشریف لا رہے ہیں، دو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا سہارا لیا ہوا ہے، متجدد مولوی، طارق جمیل اور سعودی ریاستی علماء کہہ رہے ہیں کہ بوڑھے لوگ مسجد نہ  آئیں ان کو کورونا ہو جائے گا اور کورونا سے وہ مر جائیں گے، یہ بیماری بوڑھوں کو زیادہ لگتی ہے لہذا بوڑھے تو بالکل مسجد کا رخ نہ کریں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم مرض الموت میں مسجد کا رخ کر رہے ہیں اور سرکاری، ریاستی مولوی امّت کے بوڑھوں کو کورونا، بیماری، موت کا خوف دلا کر مسجد آنے سے روک رہے ہیں، اس امت کے متجدد علماء کس مقام پر کھڑے ہیں؟ بوڑھے آدمی کو بڑھاپے میں عبادت سے روکنا، موت سے ڈرانا کتنی عظیم سفاکی ہے؟ جس کا آخری وقت آچکا ہے وہ موت سے کیا ڈرے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اے مسلمانو! جمعہ کے دن کو اللہ نے تمہارے لئے عید کا دن بنا دیا ہے ان ھذا یوم جعلہ اللہ لکم عیدا‘‘ ۔ طبرانی

Your Comment