بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله پیر 08 / اگست / 2022,

Instagram

دنیا کے ہر گھر میں صبح بچوں پر ہونے والے تشدد کا جواز کیا ہے؟

2020 Apr 03

دنیا کے ہر گھر میں صبح بچوں پر ہونے والے تشدد کا جواز کیا ہے؟

سید خالد جامعی

عہد جدید میں الحق صرف وہ ہے جسے بالجبر نافذ کیا جائے، اس لئے تعلیم الحق ہے، ترقی اور آزادی ـــــ معیار زندگی بلند کر نے کےلئے عصر حاضر کے بچوں کو رحم مادر میں دوسری زبانیں سکھائی جاتی ہیں تاکہ اس کے ذہںن میں اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی دوسری زبانوں کے سانچے، قواعد کے اصول، اسٹرکچرز (Structure of Language) نقش ہو جائیں، عورت کو حمل ٹھہرتے ہی اسی وقت اسکول میں بچے کا رجسٹریشن ہوجاتا ہے اور دو سال سے پہلے ہی اسے اسکول بھیج دیا جاتا ہے کیونکہ اسی تعلیم سے سرمایہ یعنی آزادی ملتی ہے قرآن حکیم نے حکم دیا کہ مائیں بچوں کو دو سال تک دودھ پلائیں مگر دو سال سے پہلے ہی بچے کو بستر سے کھینچ کر نکالا جاتا ہے وہ صبح صبح دھکے مکے، ٹھڈے، تھپڑ، گھونسے اور جوتے کھا کر مجبوراً قید خانے چلا جاتا ہے اللہ تعالی کی عبادت بچے پر سات سال کی عمر میں فرض ہوتی ہے مگر سرمایہ کی عبادت جو آزادی کا ذریعہ ہے اور یہ آزادی یعنی سرمایہ تعلیم سے ملتا ہے اس سرمایے کی عبادت رحم مادر میں حمل ٹھہرنے کے بعد بچے پر مسلط کر دی جاتی ہے جابر کون ہے مذہب یا مغرب، مغربی فلسفہ، ماڈرن ازم آزادی، سرمایہ اور تعلیم کا عقیدہ؟ حیرت ہے کہ تاریخ انسانی کے اس بد ترین ظلم کے خلاف کوئی این جی او احتجاج نہیں کرتی، نہ چراغ جلاتی، نہ دیے روشن کرتی، نہ کبوتر اڑاتی، نہ پریس کلب کے سامنے احتجاج کرتی، معصوم بچوں کے ساتھ یہ بربریت، بہیمیت، ظلم اور جبر کسی کو نظر نہیں آتا کیونکہ اس پابندی، اس جبر اور اس ظلم سے ہی تو اسے آزادی حاصل ہوگی، یہ تعلیم کا جبر Tyrrany of Freedom ہے، یہ آزادی اور سرمایے کا جبر ہے مگر اسی جبر سے حقیقی آزادی Real Freedom یعنی نوکری یعنی سرمایہ یعنی دولت، مرتبہ، مقام Status (جو عصر حاضر کے ہر انسان کا مسئلہ ہے) ملتی ہے لیکن اگر بچہ اپنے باپ کے ساتھ کھیت میں کام کرے تو اسے Child Labour کہا جاتا ہے، یہ ظلم ہے یہ ظلم کرنے والوں پر پابندی لگتی ہے، ان کی مصنوعات کوئی نہیں خریدتا اس جابر نظام کو لوگ آزادی کا محافظ تصور کرتے ہیں آزادی کےلئے تعلیم کی خاطر دنیا کے ہر گھر میں روزانہ صبح بچوں پر ماں، باپ کے ہاتھوں ہونے والے اس تشدد سے کم از کم ایک چیز، دو اور دو چار کی طرح بالکل واضح ہو گئی ہے کہ الحق اور الخیر صرف وہ ہوتا ہے جسے جبر، قوت، طاقت کے ساتھ نافذ کرایا جائے، جس الخیر اور الحق کے ساتھ کوئی جبر نہیں ہوتا وہ الخیر نہیں ہوتا، لوگ جس الحق، الخیر کو قبول کرتے ہیں اس کےلئے ہونے والے جبر کو رضا کارانہ طور پر قبول کرتے ہیں اور اس جبر کو جبر نہیں بلکہ خیر ہی سمجھتے ہیں لیکن غامدی صاحب اتنی سی بات سمجھنے سے بھی قاصر ہیں

Your Comment