بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله جمعرات 22 / اکتوبر / 2020,

Instagram

کورونا کے نتائج

2020 Jun 14

کورونا کے نتائج

اشاعت اول: جسارت, ادارتی صفحہ تاریخ13 مئی 2020

سید جاوید انور

کورونا وائرس  نے ایک نمایاں کام یہ کیا ہے کہ اس نے ہرانسان، ہر قوم، ہر آبادی ، ہر ملک  کو بے نقاب کر دیا ہے۔یعنی اس کے اندر جو کچھ چھپا تھا، اسے ظاہر کر دیا۔ نہ صرف ظاہر  کیا  بلکہ اسے بڑھا دیا۔اگر کسی کے اندر خوبی تھی تو وہ زیادہ بہتر شکل میں ظاہر ہوئی اور اگر خامی تھی تو اس کا  بھی بدترین مظاہرہ ہوا ۔ 

 دنیا  کے بعض بڑے سرمایہ داروں  اور میگا کارپوریشنوں  کے لئے  یہ منافع پرستی  کا بہترین موسم ہے۔ امپیریل طاقتیں دنیا کا نیا نقشہ بنا رہی ہیں۔ عالمی معاشی ادارے  قلاش ممالک  کو نئے قرضے دینے کی نئی شرائظ بنا رہی ہیں۔ چیمبروں میں بیٹھ کر فیصلے کیے جارہے ہیں کہ کتنے علاقوں، اور کن  وسائل و ذرائع  پر قبضہ کیا جائے گا۔  ادھر لاکھوں کروڑوں انسان کرونا سے نہیں ، بھوک سے تڑپ رہے ہیں۔ ان کے پاس روزمرہ خرچ کے لئے کچھ بھی نہیں بچا ہے، ان کی مدد کے لئے بھی کوئی نہیں آرہا ہے۔ دوسری طرف پاکستان اور ترکی میں عوامی سطح پر انسانوں کے لئے جذبہ خیرسگالی کا بھی بہترین مظاہرہ ہوا  ہے۔  

یہ بھی معلوم ہوا کہ پوری دنیا کے انسان بشمول مسلمان  سائنس کو  عملاًاپنا خدا  بنا چکے ہیں جو ایک خود ایک بے جان بت ہے اور سائنسداں اور ڈاکڑز ان کے پروہت  بن چکے ہیں۔ وہاں جہل کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

ایک اندازہ کے مطابق اب تک کورونا وائرس پرماہرین کے کئی ہزار سے زیادہ مضامین شائع ہو چکے ہیں۔ اس میں سے چند بھی پڑھ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ  اس میں سے کوئی بھی  اس بیماری ، اس سے بچنے کی تدابیر ، اور اس کے  علاج کے بارہ میں  کوئی یقینی علم  نہیں رکھتاہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگائنایزیشن(WHO) کی چیف سائنسدان  ڈاکٹر سومیا  سوامی ناتھن  نے این ڈی ٹی وی، انڈیا کے پرائم ٹائم میں رویش کمار کو انٹرویودیا۔ رویش کمارنے کرونا وائرس سے بچاو ُکے لئے سماجی دوری،  دو افراد کے  درمیان فاصلے کا فٹ پیمانہ، تالہ بندی ، وغیرہ ہر تدابیر سے متعلق سائنسی  ثبوت  مانگے۔ وہ  ہر سوال کے جواب میں یہی کہتی رہیں کہ  "انھیں (WHO کو) نہیں معلوم ہے"،’’ یہ بات ابھی زیر مطالعہ ہے‘‘۔’’ یہ معاملہ ابھی زیر تحقیق ہے۔‘‘ وغیرہ  ۔ وہ بھارتیوں کو کہتی ہیں  کہ ’’انھیں مقامی  طب  ویدک وغیرہ  میں بھی تحقیق کرنی چاہئے۔‘‘ رویش کمارنے سوال کیا کہ یہاں گائے کے پیشاب سے بھی علاج بتایا جا رہا  ہے، کیا اس پر بھی تحقیق ہونی چاہئے۔  ڈبلیو ایچ او کی چیف سائنسداں نے  گائے کے پیشاب  پر بھی تحقیق سے انکار نہیں کیا۔لاک ڈاوُن سےمتعلق  سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ان کے ادارہ عالمی صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کبھی لاک ڈاوُن کا مشورہ نہیں دیا۔ اب معلوم کیا جانا چاہئے کہ جب  ڈبلیو ایچ او نے یہ مشورہ نہیں دیا تو کس کے اشارہ یا حکم پر پوری دنیاکو تالہ بند کردیاگیا ہے۔ 

سائنس اور سائنسدانوں اوراس کی سرپرست ریاستوں سے چاہے جتنےسوالات کرتے جائیں ان کے پاس کسی سوال کا  کوئی جواب نہیں ہے۔رویش کمار کے پروگرام میں ہی بھارت کے پبلک ہیلتھ کے ایک ماہر  ڈاکٹر میتھو ورگیز نے کہا کہ  ’’لاک ڈان پبلک ہیلتھ نہیں ہے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ جو لوگ باہر سے  آئے تھے اور جو یقینی  بیمار تھے انھیں قرنطین کرنا چاہئے تھا نہ کہ ان چند کی وجہ سے پوری آبادی کا لاک ڈاون‘‘۔ 

آج مسلمانوں میں قرآن و سنت  کی بات کرنے والے  اجنبی بن چکے ہیں۔علما ء کے یہاں بھی اس کی ہدایات پس پشت چلی گئی ہیں۔ سائنس  کے اندازے، وسوسے اور واہمے، اور سائنسدانوں کے متضاد بیانات، زیر تحقیق  نامعلوم حقیقت،علما ء کے فیصلوں اور فتووں کی بنیاد بن رہے ہیں۔العلم اور العالم  کی باتیں پرانی، اجنبی اور متروک  ہو چکی ہیں۔  شمالی امریکا میں نیویارک اور اس کے مضافات میں سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔ لیکن مسلمانوں  کی تجہیز وتکفین و تدفین کے لئےہزاروں موجود اماموں میں سے چند  ہی راضی ہو سکے۔سب پر خوف طاری ہے۔ مرحومین کے قریب ترین  رشہ دار بھی لاشوں کو دفنانے سے دور ہٹ گئے ہیں۔ دو تین افراد کی موجودگی میں تدفین ہو رہی ہے۔ آج  نارتھ امریکا کے اماموں کی اکثریت اور نام نہاد علما ء ، پی ایچ ڈی اسکالز اور دھواں دھارکانفرنسوں کے اسپیکرز کے اسلام اور ایمان کی حقیقت نمایاں ہو گیی ہے۔ کینیڈین کانسل آف امام   (اکثریت اس امام کانسل  میں شامل نہیں ہیں) نے مساجد میں جمعہ کی نماز بند کرنے کا اعلان اس جمعہ  سے کر دیا تھا جب حکومت کی طرف سے ابھی  کوئی اعلان بھی نہیں آیا تھا۔ سارے دفاتر اور تجارتی ادارہ کھلے تھے حتٰی کہ سارے اسکول بھی کھلے تھے ۔ اس جمعہ کی  شام میں حکومت کی طرف سے سماجی اجتماع کی حد  دو سو پچاس رکھی گیی تھا۔ ایک بڑی مسجد نے اسی دن سے  پنج وقتہ نماز بھی بند کر دی تھی (تعداد کی وجہ سے نہیں بلکہ خوف کے باعث)۔ بعد میں حکومت کی طرف سے تعداد پچاس اور آخر میں پانچ کر دی گئی۔ اور اس طرح تمام مساجد بند ہوگئیں،اور اب ویران ہو گئیں۔  کہیں کہیں فرض نمازیں  انتظامیہ کے دو چار رکن ، جنوں کے ساتھ ادا کر رہے ہیں۔ رمضان گزر رہا ہے۔سال میں ایک نمازعید  پڑھنے والے بھی اس بارمحروم رہیں گے۔ اسلامی  تاریخ میں پہلی باریہ ہوا کہ مصیبت کے وقت مسلمان مسجد کی طرف دوڑنے کے  بجائے مسجد سے دور بھاگ رہے ہیں۔

دنیا کے مختلف ممالک کے مسلمانوں کی اس کیفیت کا ایک سبب یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ وبا کے باکل ابتدایی دنوں ہی میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے حرمین کوعام نمازوں، جمعہ کی نماز، حتی کہ طواف تک کے لیے بند کردیا گیا تھا۔

جب کینڈا کے ایک وفاقی وزیر، کینیڈین کانسل آف امام  کے سامنے کورونا وائرس سے متعلق  پابندیوں کے متعلق یہ  اطلاع دے رہے تھے تو انھوں نے یہ مشورہ دیا تھاکہ اگر آپ لوگ کہیں تو ہم عبادتگاہوں کو مستثنیٰ کرنے کی تجویز دےدیں۔ لیکن اماموں نے مسجدیں بند کرنے کی رضامندی دی۔ اس طرح انھی کی تجویز پر مساجد بند ہو گئیں۔ واضح رہے کہ امریکا میں  پچیس کے قریب ریپلکن ریاستوں نے عبادتگاہوں کولازمی سروس میں شامل  کیا ہے، اور وہاں کی عبادتگاہیں کھلی ہیں۔  اب جب کہ کینیڈا کی مختلف صوبائی حکومتیں آہستہ آہستہ جن اداروں کو کھول رہی ہیں اس لسٹ کے حساب سے ایسانہیں لگتا کہ  عبادتگاہیں عنقریب کھلنے والی ہیں۔

دنیا بھر میں جہاں جہاں لاک ڈاون ہے اور جہاں مساجد اور مدارس بند ہیں ان کے چندہ کے ذرائع بھی بند ہو گئے ہیں۔اماموں اور مدرسین کی تنخواہیں بند ہیں۔ بھارت میں تو اس کے تباہ کن نتائج  نکلنے والے ہیں۔ بڑے مدارس کے اخراجات کروڑوں میں ہیں۔ ایک خوفناک سوال یہ ہے کہ یہ مدارس کیا  اب ہمیشہ کے لئے بند ہو جائیں گے۔

شمالی امریکا  کی صورت حال بھی کچھ بہتر نہیں ہے۔ ٹیک اسمارٹ اور سوشل میڈیا کے ماہر ادارے ورچوئل(virtual) جمعہ خطبہ سے چندہ کی مہم چلا رہے ہیں۔ روایتی مساجد اورر مدارس کے  لئے مشکلات ہیں۔  مزید برآں یہاں کئی مساجد بینکوں سے قرض لے کر بنائی گئی ہیں۔ جس کے لئے  ہر  ماہ  اچھی خاصی رقم  مارگیج میں دینی ہوتی ہے (سود نہیں لکھ رہا کہ اس لفظ سے منتظمین ناراض ہوتے ہیں)۔ان مساجد کا قرض دیگر پہلے سے قائم مساجد کی ضمانت (collateral) پر لیا گیا ہے۔ ان کی آمدنی کا ذریعہ جمعہ کی جمع رقم ہے جو اب بند ہو چکی ہے۔ تو ان مساجد کا مستقبل کیا ہوگا؟

عام طور پر کہا جارہا ہے کہ کرونا کے بعد کی دنیا بہت مختلف ہوگی۔ آنے والا وقت ہی بتایے گا کہ وہ دنیا بہتر ہوگی یا بدتر۔ وہ جو چند ’’مسلمان‘‘ بغیر خراش کے بچ جائیں گے، ان کی ذمہ داری اب بہت بڑی ہے۔

 

Your Comment