بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله بدھ 02 / دسمبر / 2020,

Instagram

اسلام، محمد بن قاسم اور اقتدارِ اعلیٰ

2020 May 29

اسلام، محمد بن قاسم اور اقتدارِ اعلیٰ

شاہنواز فاروقی

معروف کالم نگار اور اینکر پرسن حامد میر نے اپنے حالیہ کالم ’’نسیم حجازی سے معذرت‘‘ میں لکھا ہے کہ یہ بات ٹھیک نہیں کہ سندھ میں اسلام محمد بن قاسم لائے۔ حامد میر نے مولانا محمد اسحق بھٹی کی کتاب ’’برصغیر میں اسلام کے اولین نقوش‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ محمد بن قاسم سے پہلے 25 صحابہ کرام سندھ تشریف لاچکے تھے۔ ان میں سے 12 سیدنا عمر فاروقؓ کے دور میں، 5 سیدنا عثمانؓ کے دور میں، 3 سیدنا علیؓ کے دور میں اور 4 بعد کے ادوار میں۔ حامد میر نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ نسیم حجازی نے محمد بن قاسم سے متعلق اپنے ناول میں محمد بن قاسم کی عمر 17 سال لکھی ہے حالاں کہ محمد بن قاسم کی عمر 27 سال تھی۔ (روزنامہ جنگ 18 مئی 2020)

بلاشبہ تاریخی ریکارڈ کو درست رکھنا بہت ضروری ہے مگر تاریخ میں تاریخی حقائق سے بھی زیادہ اہم تاریخی حقائق کی تعبیر ہے اس لیے کہ تاریخی حقائق کی تعبیر سے تاریخ بدل کر رہ جاتی ہے۔ حامد میر کی یہ بات درست ہے کہ محمد بن قاسم سے بہت پہلے اسلام صحابہ کرام کے ذریعے سندھ پہنچ چکا تھا مگر حامد میر نے اس معاملے کے اہم ترین پہلو پر توجہ نہیں دی۔ اسلام کے سندھ آنے اور سندھ میں اسلام کے مقتدر ہونے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اسلام سندھ میں بلاشبہ صحابہ کے ذریعے آیا مگر ان کے عہد میں اسلام سندھ میں اقتدار اعلیٰ کا حامل نہ ہو سکا۔ البتہ محمد بن قاسم کی آمد کے بعد اسلام سندھ میں سیاسی اقتدار اعلیٰ کا حامل بن کر ابھرا۔ اس کے نتیجے میں سندھ کے لوگوں کی عظیم اکثریت نے اسلام قبول کیا۔ اس سے پہلے پچاس سو لوگ انفرادی حیثیت میں مسلمان ہوئے ہوں تو ہوئے ہوں لیکن وسیع پیمانے پر اہل سندھ کے مشرف بہ اسلام ہونے کا آغاز محمد بن قاسم کی فتح کے ساتھ ہوا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو نسیم حجازی کی یہ بات درست ہے کہ اسلام سندھ میں محمد بن قاسم کے ذریعے پھیلا۔

تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ عوام کے لیے حکمران اور ان کا سیاسی اقتدار بہت اہم ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عوام اپنے حکمرانوں کے مذہب پر ہوتے ہیں۔ اردو کی کہاوت ہے ہاتھی کے پائوں میں سب کا پائوں۔ یعنی عام انسان طاقت ور لوگوں کے راستے پر چلنا پسند کرتے ہیں۔ یہ بات رسول اکرمؐ کے عہد مبارک تک کے بارے میں درست ہے۔ رسول اکرمؐ پر ایمان لانے والوں کی کئی اقسام ہیں۔ کچھ لوگ ایسے تھے جو رسول اکرمؐ سے براہ راست متعلق تھے۔ چناں چہ جیسے ہی رسول اکرمؐ نے اعلان کیا کہ وہ نبی ہیں یہ لوگ رسول اکرمؐ پر ایمان لے آئے۔ سیدنا ابوبکرؓ، سیدہ خدیجہؓ اور سیدنا علیؓ اس کی نمایاں مثال ہیں۔ کچھ لوگ جو رسول اکرمؐ سے براہِ راست متعلق نہیں تھے وہ قرآن کی وجہ سے ایمان لائے۔ سیدنا عمرؓ اس کی سب سے بڑی مثال ہیں۔ انہوں نے قرآن کی چند آیات سنیں اور جان لیا کہ یہ انسانی کلام نہیں ہے بلکہ یہ کلام ربانی ہے۔ کچھ لوگ ایسے تھے کہ انہوں نے ایمان لانے کے لیے معجزے کا مطالبہ کیا۔ ان کے تجسس کی تسکین کے لیے رسول اکرمؐ نے چاند کے دو ٹکڑے کردیے۔ اس کے بعد معجزے کا مطالبہ کرنے والے دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ایک گروہ ان لوگوں کا تھا جنہوں نے معجزے کا مطالبہ کیا۔ معجزہ دیکھا اور ایمان لائے۔ دوسر گروہ وہ تھا جس نے معجزے کا مطالبہ کیا۔ معجزہ دیکھا اور کہا کہ یہ تو جادو ہے۔ انسانوں کی ایک قسم وہ تھی جو فتح مکہ کے بعد ایمان لائی۔ رسول اکرمؐ 13 سال تک مکے میں لوگوں کو مشرف بہ اسلام کرنے کے لیے سخت محنت کرتے رہے مگر 13 برسوں میں چند سو لوگ مسلمان ہوئے مگر جب مکہ فتح ہوگیا اور مکہ کا اقتدار اعلیٰ رسول اکرمؐ کے ہاتھ میں آگیا تو صرف دس برسوں میں پورا جزیرہ نمائے عرب مسلمان ہوگیا۔ رسول اکرمؐ میں کوئی فرق نہ تھا۔ مکے میں 13 سال تک اسلام کے لیے ایک ایک لمحہ بسر کرنے والے بھی محمدؐ تھے اور مدینے میں ریاست مدینہ قائم کرنے والے بھی محمدؐ تھے۔ فرق مگر یہ تھا کہ پہلے آپؐ کے پاس اقتدار نہیں تھا اور اب آپؐ کے پاس اقتدار تھا۔ فتح مکہ کے بعد ہندہ نے اپنے شوہر ابوسفیان کو رسول اکرمؐ سے ملاقات کے لیے متحرک پایا تو پوچھا یہ کیا ہورہا ہے۔ ابوسفیان نے کہا کہ مکہ پر اب محمدؐ کی حکومت ہے اور اب چار دانگ عالم میں انہی کا پرچم لہرائے گا۔ اسلام اور خود رسول اکرمؐ کی بدترین دشمن ہندہ یہ سن کر خاموش رہی۔ ہندہ نے رسول اکرمؐ اور ان کی لائی ہوئی ہدایت کے آگے نہیں رسول اکرمؐ کے اقتدار اعلیٰ کے آگے سر جھکایا۔

یہ ایک بہت معروف بات ہے کہ برصغیر میں اسلام صوفیا اور علما نے پھیلایا۔ یہ بات سو فی صدر درست ہے مگر حقیقت کا ایک پہلو یہ ہے کہ اگر برصغیر میں مسلمانوں کے پاس سیاسی اقتدار اعلیٰ نہ ہوتا تو ہندو کبھی صوفیا اور علما کو اسلام پھیلانے نہ دیتے اس کی سب سے بڑی مثال ذاکر نائک ہیں۔ وہ ہندوستان میں علمی تقریروں اور کھلے بین المذاہب مکالموں کے ذریعے لوگوں کو مشرف بہ اسلام کررہے تھے۔ ان کا طریقہ کار سراسر عالمانہ تھا۔ اس میں کسی دبائو سازش یا لالچ کو کوئی دخل نہ تھا مگر ہندو زیادہ دیر تک ڈاکٹر ذاکر نائک کو برداشت نہ کرسکے اور انہوں نے ان پر جھوٹے الزامات لگا کر انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائک کی کوئی سیاسی طاقت ہی نہیں تھی۔ پندرہ سال پہلے ڈاکٹر ذاکر نائک کے والد سے تہران میں ہماری ملاقات ہوئی تو ہم نے ان سے عرض کیا کہ آپ کا فرزند خطرے میں ہے۔ اس کا خیال رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر کوئی ذاتی کام تو کر نہیں رہا وہ جس کا کام کررہا ہے وہی اس کی حفاظت کرے گا۔ ان کی بات درست تھی مگر ہمارا خیال بھی غلط نہ تھا۔ ہندوستان نے بالآخر ڈاکٹر ذاکر نائک کو اگل دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ڈاکٹر ذاکر کی حفاظت کی ورنہ وہ ہندوستان میں قتل بھی ہوسکتے تھے۔

عوام کس طرح حکمرانوں کے ساتھ بدلتے ہیں اس کی ایک اچھی مثال خود پاکستان کی تاریخ ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح فرقہ واریت اور لسانیت سے بلند تھے۔ چناں چہ ان کے زیر اثر عوام بھی فرقہ وارانہ اور لسانی تعصبات سے بلند ہوگئے۔ قائد اعظم کی شخصیت اتحاد کا مظہر تھی چناں چہ ان کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں کی بھیڑ ایک قوم بن کر کھڑی ہوگئی۔ جنرل ایوب سیکولر تھے اور ان کے زمانے میں ہر طرف سیکولر ازم کا غلغلہ تھا۔ بھٹو صاحب سوشلسٹ اور ترقی پسند تھے چناں چہ ان کے عہد میں نام نہاد ترقی پسندی خوب چمکی۔ جنرل ضیا اسلام پسند تھے چناں چہ انہوں نے دس سال میں عوام کی بڑی تعداد کو اسلام پسند بنادیا۔ پاکستان کے سیکولر، لبرل اور سوشلسٹ جنرل ضیا کو گالیاں دیتے ہیں کہ انہوں نے اچھی خاصی ترقی پسند قوم کو رجعت پسند بنادیا۔ ایک حد تک ہی سہی ان کے اس دعوے میں صداقت ہے۔ کیوں کہ اصل بات یہ ہے کہ پاکستانی قوم کا خمیر اسلام ہی سے اٹھا ہے۔ جنرل ضیا نے اس خمیر کو اور نمایاں کردیا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو سندھ کو مشرف بہ اسلام کرنے کا عظیم الشان کارنامہ محمد بن قاسم، ان کی فتح اور ان کے اقتدار اعلیٰ ہی کا رہین منت ہے۔ اسلام صحابہ کے عہد میں سندھ ضرور آیا مگر وہ ان کے عہد میں چراغ سے آفتاب نہ بن سکا۔ اس لیے کہ صحابہ کے عہد میں سیاسی اقتدار اعلیٰ مسلمانوں کے پاس نہیں تھا۔ عوام کی عظیم اکثریت کے لیے سیاسی اقتدار اعلیٰ بہت اہم ہوتا ہے۔

حامد میر نے لکھا ہے کہ سندھ کی فتح کے وقت محمد بن قاسم کی عمر 17 سال نہیں 28 سال تھی۔ تاریخ میں ایک سے زیادہ روایات ہوتی ہیں تاہم حامد میر کی پیش کردہ روایت کو درست مان لیا جائے تو بھی عرض ہے کہ 28 سال بھی فتح سندھ کے لیے ’’کم عمری‘‘ ہی ہے۔ اتنی عمر میں تو آج کل کے نوجوانوں کی اکثریت کو ٹھیک سے بات کرنی بھی نہیں آتی۔ ویسے حامد میر کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ تاریخ میں عبقریوں یا Geniuses کی کبھی کوئی کمی نہیں رہی۔ غالب اردو کے تین عظیم ترین شاعروں میں سے ایک ہے۔ اس کے بارے میں تازہ ترین تحقیق یہ ہے کہ غالب کی شاعرانہ عظمت جن غزلوں پر کھڑی ہے غالب ان میں سے 60 فی صد 22 سے 24 سال کی عمر تک کہہ چکا تھا۔ جان کیٹس انگریزی کے چار بڑے رومانوی شاعروں میں سے ایک ہے۔ اس نے اکیس بائیس سال کی عمر میں شاعری شروع کی اور 27 سال کی عمر میں اس کا انتقال ہوگیا۔ بائرن اور شیلے انگریزی کے بڑے شاعر ہیں اور اگر ہمیں ٹھیک طرح سے یاد ہے تو ان کا انتقال 40 سال سے پہلے ہوگیا تھا۔ محمد بن قاسم کے عسکری Genius ہونے میں کوئی کلام ہی نہیں۔ چناں چہ کیا خبر ان کی عمر واقعتاً 17 سال ہو۔ مسلمانوں کی عسکری تاریخ ویسے بھی حیرت انگیز ہے۔ بابر نے آٹھ ہزار کے لشکر سے ایک لاکھ کے لشکر کو شکست دی۔ طارق بن زیاد نے 17 یا 18 ہزار کے لشکر سے ایک لاکھ کے لشکر پر فتح حاصل کی۔ خود محمد بن قاسم صرف 17 ہزار سپاہی لے کر آئے تھے اور راجا داہر کا لشکر ایک لاکھ نفوس پر مشتمل تھا۔ کیا مٹھی بھر مسلمانوں نے افغانستان میں وقت کی دو سپر پاورز کو منہ کے بل نہیں گرایا؟ مسلمانوں نے جب بھی مسلمان بن کر دکھایا ہے عظمت ان پر ٹوٹ کے برسی ہے اور محمد بن قاسم کے ایک اچھے مسلمان ہونے میں کوئی کلام ہی نہیں

Your Comment