بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله بدھ 02 / دسمبر / 2020,

Instagram

مجنوں کے سوا کس سے اٹھی منّتِ دیدار؟۔

2020 Apr 03

مجنوں کے سوا کس سے اٹھی منّتِ دیدار؟۔

شاہنواز فاروقی

انتخابی کامیابی، عوامی مقبولیت اور سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی تعداد کے اعتبار سے دیکھا جائے تو پاکستان کی بڑی جماعتیں چار ہیں: نواز لیگ، تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم۔ اس سلسلے میں جماعت اسلامی کا نام کہیں آتا ہی نہیں۔ چناں چہ جماعت اسلامی کو ملک کی ’’چھوٹی جماعت‘‘ باور کرایا جاتا ہے۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ پاکستان پر جب بھی کوئی آفت آتی ہے تو جماعت اسلامی مال دار جماعت بن کر اُبھرتی ہے۔ اتنی بڑی، اتنی مقبول اور اتنی مال دار کہ نواز لیگ، تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم جماعت اسلامی کے سامنے ویسی ہی لگتی ہیں جیسے ایک دیو کے سامنے بالشتیوں کو لگنا چاہیے۔

پاکستان میں 8 اکتوبر 2005ء کا زلزلہ ایک ہولناک تجربہ تھا۔ اس زلزلے سے ایک لاکھ افراد شہید اور اس سے زیادہ لوگ زخمی ہوگئے تھے۔ زلزلے نے 35 ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے کو متاثر کیا تھا۔ انتخابی کامیابی، عوامی مقبولیت اور سرمائے کے اعتبار سے جماعت اسلامی کی بساط ہی کیا تھی! مگر جماعت اسلامی اس زلزلے میں ایک جماعت نہیں ایک ریاست بن کر کھڑی ہوگئی۔ جماعت اسلامی نے زلزلے سے متاثرہ لوگوں کو نقد اور اشیا کی صورت میں 5 ارب روپے کی امداد مہیا کی۔ دنیا بھر میں ’’خدمات‘‘ کو بھی سرمائے کے ترازو میں تولا جاتا ہے۔ جماعت اسلامی کے کارکنوں نے زلزلے سے متاثرہ لوگوں کو جو ’’خدمات‘‘ فراہم کیں ان کو بھی سرمائے کے ترازو میں تولا جائے تو جماعت اسلامی نے زلزلے سے متاثرہ لوگوں کی امداد پر 20 سے 25 ارب روپے صرف کیے۔ ملک کی سب سے چھوٹی جماعت اور 20 سے 25 ارب روپے کی امداد؟ اس ’’امداد‘‘ کے بعض پہلو حیرت انگیز اور دل کو گرما دینے والے ہیں۔
زلزلہ 8 اکتوبر 2005ء کو آیا، اُس دن چوتھا روزہ تھا۔ 17 رمضان کو صحافیوں اور کالم نویسوں کا ایک قافلہ امیر جماعت اسلامی کراچی نعمت اللہ خان صاحب کی قیادت میں مظفر آباد پہنچا۔ فوج ملک کا سب سے منظم ادارہ ہے، مگر اس منظم ادارے کا یہ حال تھا کہ اس نے 17 رمضان کو مظفرآباد میں موجود کمبائنڈ ملٹری اسپتال کا ملبہ اٹھانا شروع کیا تھا۔ مظفرآباد میں جماعت اسلامی پوری طرح متحرک تھی۔ جماعت نے ایک بڑے سے کنٹینر میں اپنا ’’اسپتال‘‘ قائم کیا ہوا تھا۔ ہم نے وہاں موجود ذمے داران سے پوچھا کہ اب تک آپ کتنے زخمیوں اور متاثرہ افراد کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کرچکے ہیں؟ کہنے لگے کہ ہم 14 دن میں 20 ہزار افراد کو طبی امداد مہیا کرچکے ہیں۔ ہمیں اپنے کانوں پر یقین نہ آیا۔ مگر وہاں مریضوں کا رجسٹر موجود تھا۔ رجسٹر میں موجود اعداد و شمار بتا رہے تھے کہ دعویٰ پوری طرح سچا ہے۔ جماعت اسلامی صرف مظفر آباد میں ہزاروں لوگوں کو کھانا مہیا کررہی تھی۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے نوجوان خیمہ اسکولوں میں سیکڑوں طلبہ کو تعلیم مہیا کررہے تھے۔ جماعت اسلامی کے کارکن سیکڑوں زخمیوں کو اپنی پیٹھ پر لاد کر طبی مرکز تک لا رہے تھے۔ مظفرآباد پہاڑی علاقہ ہے مگر جماعت اسلامی کے کارکنوں کے حوصلے بلند تھے۔ جماعت اسلامی مظفرآباد ہی میں نہیں، بالاکوٹ، مانسہرہ اور باغ میں بھی بڑے بڑے امدادی مراکز چلا رہی تھی۔ ہرجگہ جماعت اسلامی کے کارکنان 17 ویں روزے تک ہزاروں لوگوں کو علاج کی سہولتیں فراہم کرچکے تھے۔ ہزاروں لوگوں کو کھانا کھلا چکے تھے۔ ہزاروں بچوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کررہے تھے۔ یہ جماعت اسلامی کی صرف 14 دن کی ’’کارکردگی‘‘ تھی۔ جماعت اسلامی نے زلزلے سے متاثرہ افراد کی صرف ’’ہنگامی مدد‘‘ نہیں کی، اس نے لوگوں کو گھر بنا کر دیے، کئی برس تک اسکول چلا کر دکھائے، ہزاروں لوگوں کو کسی نہ کسی قسم کا روزگار مہیا کیا۔ چناں چہ جماعت اسلامی زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں زلزلے کے آٹھ دس سال بعد تک موجود رہی۔ اسی لیے ہم نے عرض کیا کہ زلزلے کی آفت میں جماعت اسلامی نے ’’پارٹی‘‘ کا نہیں ’’ریاست‘‘ کا کردار ادا کیا۔

نواز لیگ، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم زلزلے کے وقت ملک کی تین بڑی جماعتیں تھیں۔ ہم زلزلے سے متاثر ہونے والے جس علاقے میں گئے کہیں نواز لیگ، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کا دیدار نہ ہوا۔ نہ وہ کہیں متاثرہ لوگوں کو طبی امداد مہیا کررہی تھیں، نہ اسکول چلا رہی تھیں، نہ کہیں گھر بنارہی تھیں، نہ کہیں کسی متاثرہ شخص کو روزگار مہیا کررہی تھیں۔ ایم کیو ایم مظفرآباد میں ایک امدادی مرکز چلارہی تھی۔ ہم نے شعوری طور پر اس مرکز کا دورہ کیا۔ معلوم ہوا کہ وہاں پچیس تیس متاثرہ لوگ موجود ہیں۔ ایم کیو ایم ان کی جو مدد کررہی تھی وہ یہ کہ انہیں صبح اور رات کو بریانی کی ایک ایک دیگ فراہم کردی جاتی تھی۔ البتہ ایم کیو ایم نے یہ اہتمام کیا ہوا تھا کہ مظفر آباد میں ایک سوزوکی کسی مقصد کے بغیر ایم کیو ایم کا پرچم لگاکر شہر میں اِدھر اُدھر دوڑ رہی تھی، جس سے یہ ’’تاثر‘‘ پیدا کرنا مقصود تھا کہ ایم کیو ایم متاثرین کی مدد کے لیے بہت ’’متحرک‘‘ ہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے اس سلسلے میں ایم کیو ایم کو جماعت اسلامی کے تعاقب کی ذمے داری سونپی ہوئی تھی۔ چناں چہ جس دن ملک کے ایک بڑے اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی کہ جماعت اسلامی اب تک زلزلے سے متاثرہ افراد کی مدد پر نقد اور اشیا کی صورت میں پانچ ارب روپے خرچ کرچکی ہے اُس کے اگلے ہی دن اسی اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی کہ ایم کیو ایم بھی زلزلے سے متاثرہ افراد کی مدد پر اب تک پانچ ارب روپے صرف کرچکی ہے۔ بلاشبہ یہ پاکستان کی تاریخ کی بڑی مکاریوں میں سے ایک مکاری تھی۔
سندھ میں سیلاب آیا تو جماعت اسلامی ایک بار پھر چھوٹی سی ’’ریاست‘‘ بن کر کھڑی ہوگئی۔ اس نے اپنے سندھی بھائیوں کو کئی مقامات پر سیلاب سے نکالا۔ انہیں طبی اور غذائی امداد مہیا کی۔ انہیں خیموں میں ٹھیرایا۔ یہاں تک کہ جماعت اسلامی نے کئی مقامات پر متاثرہ لوگوں کو ایک ایک کمرے کے مکانات بنا کر دیے۔ اس سلسلے میں ہونے والی ایک تقریب میں ہم بھی شریک تھے۔ ہم نے اپنے سندھی بھائیوں سے پوچھا کہ سیلاب آیا پیپلز پارٹی کے کسی وفاقی، صوبائی یا مقامی رہنما نے آپ کی مدد کی؟ کہنے لگے: سائیں ہماری مدد کو پیپلز پارٹی کا کوئی وزیر، مشیر یا رہنما نہیں آیا۔ ہم نے پوچھا: پھر آپ کی مدد کو کون آیا؟ کہنے لگے: سائیں جماعت اسلامی کے لوگ آئے، انہوں نے ہمیں سیلاب سے نکالا، خیمے لگا کر دیے، دوا دارو کی، ہمیں کھانا کھلایا۔ کسی ایک سندھی بھائی نے بھی یہ نہ کہا کہ ان کی مدد کو نواز لیگ آئی، ایم کیو ایم آئی۔ البتہ کچھ نے کہا کہ فوج نے بھی ہماری مدد کی۔ مگر فوج تو ریاست کا ادارہ ہے۔ جماعت اسلامی ریاست کا ادارہ نہ ہونے کے باوجود زلزلے میں بھی ہر جگہ موجود تھی اور سیلاب میں بھی ہر جگہ حاضر تھی۔

اب ملک میں کورونا وائرس پھیلا ہوا ہے تو ایک بار پھر جماعت اسلامی ہی قوم کی مدد کے لیے متحرک ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے یہ کہہ دیا ہے کہ ہمارے تمام اسپتال، ڈسپنسریاں اور کارکنان آپ کے لیے حاضر ہیں، آپ جس طرح چاہیں انہیں بروئے کار لائیں۔ جماعت اسلامی کے تحرک کا یہ عالم ہے کہ وہ صرف کراچی میں 70 سے زیادہ مقامات پر لوگوں کی مدد کررہی ہے۔ شریف خاندان نے اتنے بڑے پیمانے پر لوٹ مار کی ہے، اور اس کے پاس اتنا سرمایہ ہے کہ اسے کم از کم کورونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے پچیس تیس ارب روپے کی امداد کا اعلان کرنا چاہیے تھا، مگر شریف خاندان اور نواز لیگ متاثرہ لوگوں کی مدد کے لیے کہیں 100 روپے بھی خرچ کرتے نظر نہیں آرہے۔ بھٹو خاندان بالخصوص آصف علی زرداری نے گزشتہ 40 سال میں اتنا مال کمایا ہے کہ اسے کورونا مہم میں اپنی جیب سے کم از کم دس پندرہ ارب روپے تو خرچ کرنے کی طرف مائل ہونا ہی چاہیے۔ مگر بھٹو خاندان کھرب پتی ہونے کے باوجود کورونا پر ایک دھیلا صرف نہیں کررہا۔ تحریک انصاف بھی ایک جماعت کی حیثیت سے کہیں کچھ نہیں کررہی۔ وہ جو کچھ کررہی ہے حکومتی ذرائع سے، ریاستی وسائل سے۔ البتہ جماعت اسلامی کورونا کے خلاف مہم میں بھی اپنے پورے قدوقامت کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس کے پاس دس کروڑ روپے ہوں گے تو وہ دس کروڑ سے قوم کی مدد کرے گی۔ قوم اسے دس ارب مہیا کرے گی تو جماعت اسلامی دس ارب سے قوم کی مدد کرے گی۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو جماعت اسلامی ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے۔ سب سے قیمتی جماعت ہے۔ سب سے عوامی جماعت ہے۔ واحد قومی جماعت ہے۔ نواز لیگ، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم چالیس سال سے اقتدار میں ہیں مگر انہوں نے آج تک کسی آفت، کسی مصیبت میں قوم کی مدد نہیں کی۔ جماعت اسلامی کبھی اقتدار میں نہیں آئی مگر وہ ہر مشکل، ہر آفت، ہر مصیبت میں قوم کی خدمت کے حوالے سے آگے آگے ہوتی ہے۔ ملک و قوم کی لیلیٰ کی محبت مذاق نہیں۔ اس محبت کے لیے ’’مجنوں‘‘ ہی بروئے کار آسکتا ہے۔ عزیز حامد مدنی کا شعر ہے:۔

مجنوں کے سوا کس سے اٹھی منتِ دیدار
آخر رخِ لیلیٰ تھا تماشا تو نہیں تھا

Your Comment