بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله جمعرات 22 / اکتوبر / 2020,

Instagram

 سید منور حسن کی رحلت:  قوم گونگی ہو گئی

2020 Jul 06

 سید منور حسن کی رحلت:  قوم گونگی ہو گئی

سید جاوید انور

 

 اشاعت اول:  ادارتی صفحہ جسارت، کراچی ، تاریخ 7  جولائی 2020  

اللہ تعلیٰ نے قرآن میں  اپنی سب سے بڑی صفت رحمت کے سب سے بڑے اسم ’’رحمٰن‘‘ کا ذکر کرکے انسانوں پر  کی جانے والی اپنی سب سے بڑے تین رحمتوں کا ذکر کیا ہے  ۱۔ علم القرآن (قرآن کا علم دیا) ۲۔ خلق الانسان (انسان کی تخلیق کی) اور ۳۔ علمه البیان (بیان کا علم  سکھایا)۔ یعنی بولنے کا علم، بیان کی صلاحیت انسان کے ساتھ کی جانے والی تین بڑی نعمتوں میں سے ایک ہے۔ بیان کی قدرت والے مقرر، نطق  کی استطاعت رکھنے والے واعظ ، جماعت،  قوم و ملک   کا حسن ، اس کی زینت، اور اس کا وقار ہوتے ہیں  ۔قرآن  کےعلم کے بعد اچھی تقریر  اور ابلاغ کی صلاحیت رکھنے والے افراد  اپنی جماعت  اور ملت کے قد و کاٹھ میں اضافہ کرتے ہیں۔

حضرت موسیٰؑ کو جب اللہ تعلی نے  فرعون  کے دربار میں جا کر بیان دینے اور اسے اللہ سے ڈرانے  کو کہا تو انھوں نے استدعا کی کہ میرے بھائی ہارونؑ کو بھی  میرے  ساتھ  کر دیجیے ۔ حضرت موسیٰؑ کی یہ خواہش بھی   ان کے بھائی کی  قوت بیانی کے باعث تھی۔ علامہ اقبالؒ نے جب از سر نو امت کی تشکیل کی خواہش کی تو  اس میں جن تین  خوبیوں کا مرکب بنایااس میں، شکوہ   یعنی شان و شوکت  اور دبدبہ  ترکوں کا ، ذہانت  ہندوستان کی اور نطق یعنی فصاحت و بلاغت عربوں کا لیا۔ وہ مستقبل بینی کرتے ہیں:

عطامومن کوپھردرگاہِ حق سےہونےوالاہے

شکوہِ ترکمانی،ذہنِ ہندی،نُطقِ اعرابی

بیسویں صدی کے اوائل میں برصغیر میں  ملت اسلامیہ کے بہت پائے کے مقررین  ابھرے جن کی اکثریت  کا طُوطی نصف صدی تک بولتا رہا۔ مولانا محمد علی جوہر، مولانا ابوالکلام  آزاد، عطا اللہ شاہ بخاری،  مولانا ظفر علی خاں، نواب بہادر یار جنگ  وغیرہ ایک  طویل فہرست کے چند بڑے نام ہیں۔  نواب بہادر یار جنگ کا ایک مشہور  فقرہ ہے کہ ’’اچھے مقرروں کے بغیر ایک قوم گونگی ہوتی ہے۔‘‘ ہم جس دور سے گزرے اور گزر رہے ہیں واقعی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہماری قوم گونگی ہو چکی ہے۔  جو لوگ بڑے مقرر بننا چاہتے ہیں وہ مطالعہ نہیں کرتے۔ اور مطالعہ کے بغیر مکالمہ  بغیر پانی کا پیالہ  ہوتاہے۔  جو کچھ علم کے  کٹورے میں  جمع کیا  گیاہو  وہی چھلکتا ہے۔

سید منور حسن کو سن کر بہت خوشگوار حیرت ہوتی تھی کہ یہ وہ کون ہے جو بیسویں صدی کے آخر میں اسی آواز، اسی آہنگ اور اسی لب و لہجہ میں بات کر تا ہے، جن کا تذکرہ ہم نے کتابوں میں پڑھا تھا۔  فصاحت اور بلاغت کی تاریخ کے اوراق سے  نکل کر اچانک یہ کون آگیا  ہے جو اکیسویں صدی میں بھی اسی طرح بول رہا ہے؟  اس کی بات میں بھی سلیقہ ہے اور بات کہنے کا بھی سلیقہ ہے۔ان کی تقریر، ان کی باتیں کیا تھیں؛ قرآن کی آیات،  حدیث کے مندرجات،  عشق رسول ﷺ،اقبالؒ کی شاعری،  فکر مودودیؒ،  حالات حاضرہ،  سماجی اور سیاسی مسائل،  حریت پسندی، جذبہ جہاد، اور شوق شہادت۔ بہت خوبصورتی سے اپنی تقریر کا تانہ بانہ بنتے تھے اور الفاظ کا  دریا بہاتے چلے جاتے تھے ۔میں فن تقریر  سے زیادہ واقف نہیں ہوں ۔جو لوگ اس فن کو جانتے ہیں،  مجھے امید ہے کہ وہ  ان کی تقریروں کوفن  کے بہت  اعلیٰ معیار پر پائیں گے۔میرے لئے تو  ان کی تقریر گویا ایک مجاہد کا نغمہ تھا۔وہ نثر میں غزل کہتے تھے۔

 اسلام کے دائرہ کے اندر بھی  ہمیشہ سے  دو قسم کےافراد ہوتے ہیں۔ ایک اہل عقل دوسرے اہل جنوں۔ یہ دو قسم کے لوگ دو مختلف مزاج کے ہوتے ہیں۔ پہچان یہی ہے کہ ان دو نوں میں  کبھی بنے گی نہیں ۔ پہلے گروہ  کے پسندیدہ الفاظ ’’ مصلحت‘‘’’دور اندیشی‘‘   ،’’ابھی وقت نہیں آیا‘‘ وغیرہ ہوں گے۔ دوسرا عشق کی بازی کے لئے ہر وقت تیار ہوتا ہے۔وہ عجیب قسم کے اضطراب کی کیفیت میں مبتلا ہوتا ہے۔ بقول شاعر: ایک درد ہے جو شام سے اٹھے ہے سحر تک            ایک سوز ہے جو صبح سے تا شام رہے ہے۔ اور ’’عشق کی ایک جَست نے طئے کردیا قصہ تمام ‘‘ ۔وہ کھاتے ہوئے کھجور کو چھوڑ کرمیدان کارزار میں کود جاتا ہے اور جام شہادت نوش کر لیتا ہے۔

سید منور حسن اس دوسرے زمرہ کی شخصیت ہیں اور اسی قسم کی شخصیات ہماری بھی ہمیشہ سے پسندیدہ شخصیات  رہی ہیں۔ سید منور حسن کے  ہاتھ میں جب بھی مائیک آیا انھوں نے کلمہ حق  ہی بلند کیا، خواہ مشرکوں کو، منافقوں کو اور مصلحت پرستوں کو کتنا بھی ناگوار گزرے۔ ایک ایسے وقت میں  جب   امریکا  کی نام نہاد دہشت گردی مخالف جنگ کےنام پر اسلام پسندوں کا ناطقہ بند کیا جا رہا تھا اور ریاست اور وردی کی دہشت طاری تھی اس وقت انھوں نے  سوال کیا  کہ’’اگر کوئی امریکی فوجی شہید نہیں کہلایا جا سکتا تو پھر اس کا ساتھ دینے والا پاکستانی کیسے شہید ہو سکتا ہے؟"  یہ سوال پاکستان کی مقتدرہ سے ہضم نہیں ہوا اور سید کی کردار کشی کی مہم چلائی گئی۔ انھیں غداروطن  تک کہا گیا۔ انھیں اپنے الفاظ واپس لینے کو کہا گیا لیکن  سید منور حسن نے اپنے الفاظ واپس نہیں لئے۔ اگر دیکھا جائے تو سید کا یہ سوال پاکستان  کی تاریخ کا سب سے بڑا سوال، اور سب سے بڑا سچ تھا۔ بہر حال یہ اتنا بڑا سچ تھا کہ شاید جماعت اسلامی بھی اسے ہضم نہیں کر سکی۔ شاید اس وقت تک اہل عقل کا غلبہ بڑھ چکا تھا۔ایک عاشق قاضی حسین احمد پہلے ہی ’’ اب جنت میں ملیں گے‘‘ کہہ کر رخصت ہو چکے تھے۔ سید منور حسن نے جوعوامی تحریک چلائی تھی اس کا نعرہ ’’گو امریکا گو‘‘ تھا۔پاکستان کا مسئلہ نمبر ایک ہمیشہ سے غلامی ہی رہا تھا اور آج بھی غلامی ہی ہے امریکا کی غلامی ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی غلامی۔اور اب غلامی کی نئی زنجیروں کی تلاش ہے، شاید میڈ ان چائنا  زنجیرمل بھی چکی ہے۔۔ مجھے ہمیشہ حیرت ہی ہوتی تھی کہ جماعت اسلامی سود اور غلامی کے اشو کے بجائے، کرپشن کےخلاف کیوں  تحریک چلاتی ہے۔ جڑ کو چھوڑ کر شاخوں پر کیوں بات کرتی  ہے۔سید منور حسن کی ’’گو امریکا گو‘‘ کی تحریک کچھ زیادہ معنی خیز معلوم ہوتی تھی۔

میں اپنی یاد داشت پر زور دیتا ہوں تو شاید میری ان سے پانچ  مختصر ملاقاتیں رہیں ہیں۔ایک اسلامی  ریسرچ اکیڈمی میں، ایک ادارہ نور حق میں،ایک بار  پی ای سی ایچ میں ان کے الیکشن مہم کے دوران اسٹیج پر،  ایک منصورہ میں اور ایک ان کے دورہ امریکا کے دوران۔ پہلی ملاقات  میں پانچ منٹ کے بعد ہی ظہر کا  وقت ہو گیا ۔ کہنے لگے چلیں نماز کا وقت ہوگیا۔وقت اتنا تھا کہ اچھی طرح وضو کرکے، چار رکعت سنت پڑھ کر جماعت پڑھی جا سکتی تھی۔ نماز سے  فارغ ہو کر ہم رخصت ہوگئے۔ان کی انتخابی مہم کے دوران پی ای سی ایچ کے علاقہ میں میرا اپنا آفس تھا، مجھے لوگوں سے بات کر کے اندازہ ہو گیا تھا کہ  سید منور حسن نہیں جیتیں گے۔ حالانکہ اس  بار ایم کیو ایم الیکشن نہیں لڑ رہی تھی ، لیکن  میمن برادری کا ایک فرد برادری کے نام پر الیکشن جیت رہا تھا۔ یہ 1977 کا  کراچی نہیں تھا جس الیکشن  کے بارے میں سن رکھا تھا کہ یہاں ’’ صبح منور، شام منور ‘‘  کے نعرے لگتے تھے اور وہ پورے پاکستان میں سب سے زیادہ ووٹ لے کر جیتنے والے امیدوار تھے۔ یہ نوے کی دہائی تھی ۔ کراچی کا کلچر ایم کیو ایم نے بدل دیا تھا۔وہ  علاقہ پرستی ، لسانی ، قبائلی، اور برادری کی درجنوں عصبیتوں میں گرفتا ر ہو گیا تھا۔ کراچی کا اسلامی کرداد دھندلا رہا تھا۔  جاہلی عصبیت کا  اندھیرا چھا چکاتھا۔ اور منور کی کرنیں اس اندھیرے میں گم ہو رہی تھیں۔

1993 کے الیکشن میں جب جماعت اسلامی نے مسلم لیگ نواز کو کاندھا فراہم کرنے سے انکار کر دیا تو نواز شریف نے جماعت اسلامی کو توڑنے کی کوسش شروع کردی۔ متعدد ’’اسلام پسند ‘‘ صحافیوں کو  اس کام پر معمور کیا گیا۔ اور ایک منظم کوشش ہوئی ۔ اس زمانے میں میرا قلم (کالم:تیسرا نقطہ) جماعت کی قائم کرد ہ پا کستان  اسلامک فرنٹ  کی حمایت میں اور جماعت کو تنظیمی طور پر بچانے  میں لگا رہا۔ برادر شاہنواز فاروقی نے بھی یہی محاذ سنبھالا ہوا تھا۔ ہم اپنے اس قلمی  جہاد کے باعث  محترم  قاضی حسین احمدؒ اور سید منور حسنؒ کے دلوں میں بستے تھے۔جب1998  میں امریکا آگیا توجسارت کی  باضابطہ کالم نویسی  کا سلسلہ بند ہوا ۔لیکن گاہے بگاہے لکھتا رہتا  تھا اور اب بھی لکھ رہا ہوں۔ دوران امارت جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن کا کم از کم ایک  خط ای میل کے ساتھ نتھی کیا ہوا ملا تھا۔ جس میں خیریت  کے بعدتواتر سے کالم  لکھنے اور مستقل  رابطہ میں رہنے کی تلقین کی گئی تھی۔

سید منور حسن کے دورہ امریکا کے دوران یہ سوال کیا گیا کہ جماعت اسلامی کی الیکشن میں ناکامی اور اقتدار سے  محرومی کی اصل وجہ کیا ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ جماعت کے لئے حکومت بنانا کوئی مسئلہ  ہی نہیں ہے۔’’مقتدرہ‘‘حکومت  بنانے کے ایک فارمولہ پر راضی نامہ مانگتی ہے، اس پر ہاں کر دیا جائے تو جماعت اسلامی کو حکومت مل سکتی ہے۔لیکن ہم اس کے لئے تیار نہیں  ہیں۔ ہم یہ سن کر بہت حیران ہوئے تھے۔اب  سوال یہ ہے کہ جب  سیاسی حکومت  وردی  حکمراں کی مرضی  کے بغیر نہیں بن سکتی ہے۔تو جماعت اسلامی انتخاب میں حصہ  ہی کیوں لیتی ہے۔اس کا جواب بہت سادہ سا  ہےاورصحیح  بھی ہے کہ انتخاب کے دوران ہر گھر تک جماعت اسلامی کی دعوت پہنچ جاتی ہے۔آخر عوام تک پہنچنے کےاس بہترین موقع کو کیوں ضائع کیا جائے۔ان کا کہنا ہے کہ اللہ نے ہمیں بات پہنچا دینے کا ہی  مکلف بنایا ہے نہ کہ حکومت بنا لینے کا۔جو جماعتیں انتخاب سے باہر ہیں وہ سیاسی سطح پر ناقابل ذکر ہیں۔

سید منور حسن کی رحلت سے صرف  جماعت اسلامی ہی نہیں  بلکہ پاکستان ایک عظیم شخصیت سے محروم ہوگیا ہے۔تحریکی مزاج رکھنے  والا ایک مدبر، ایک بڑا سیاستداں رخصت ہوا۔اور جماعت اسلامی پاکستان گونگی ہو گئی ، اب وہ نطق کہاں سے لایا جائے گا؟

 میں ہر اس شخص کا  حیرانی سے منہ تکتا ہوں جب وہ یہ سوال کرتا ہے کہ اگر نواز شریف نہیں تو پھر کون؟ اور اب اگر عمران خان نہیں تو دوسرا کون؟ حیرت ہے ان کو اتنی عظیم الشان،   دین دار، دیانت دار،  امانت دار، اور سچا اور کھرا لیڈر نظر  ہی نہیں  آتا ۔قاضی حسین احمد گزر گئے، سید منور حسن گزر گئے، ایک درویش صفت سراج الحق  امارت کے منسب پر ہے ۔ ایک پوری منظم اور بڑی جماعت   صادق و امین کی  ان کے  ساتھ موجود ہے۔ اور اب بھی سوال کر رہے ہیں کہ دوسرا کون ؟ میرا سوال  ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ جماعت کے علاوہ دوسرا  ہےکون؟

سید منور حسن کو  شہادت کی تمنا تھی۔حدیث ہے کہ  وبا ئی مرض میں مرنے والا شہید ہے۔ کورونا وائرس کے وبائی مرض میں وہ شہید ہوگئے اور اپنے  محبوب کے پاس پہنچ گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

ا

Your Comment