بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله بدھ 05 / مئی / 2021,

Instagram

اسلام میں جمہوریت نہیں تو اور کیا ہے؟

2021 Jan 24

اسلام میں جمہوریت نہیں تو اور کیا ہے؟

اسلام میں جمہوریت نہیں تو اور کیا ہے؟

جاوید انور

میرے  ۲۰۱۴ میں لکھے گئے ایک کالم   ’’جمہوریت، تازہ خدا اور اس کے پجاری ‘‘ پڑھ کر ایک صاحب نے سوال یہ کیا ہے کہ  اسلام میں جمہوریت نہیں تو اور کیا ہے؟

دراصل  یہ سوال ایک فرد کا نہیں ایک گروہ   کا ہے، بہت سے لوگوں کا ہے۔  اس سوال کا جواب  ایک تفصیلی مضمون بلکہ ایک کتاب کا  متقاضی ہے۔سوال زیادہ تر  وہاں سے آرہا ہے جو ’’تحریکی‘‘ پس منظر رکھتے ہیں، اور  پرانے تحریکی  کارکن ہیں۔جماعت کے اندرجمہوریت کی تبلیغ اس قدر ہوئی ہے  کہ اب لوگوں کے ذہن میں جمہوریت سے بڑی قدر کوئی  باقی نہیں  رہ گئی ہے،  حتیٰ کی علماءکی اکثریت بھی اسی مغالطہ میں مبتلا  ہے۔   مولانا فضل الرحمان نے پی ڈی ایم کی تحریک کے پہلے جلسہ کوئٹہ میں خطاب کرتے ہوئے اس تاریخی حقیقت کا انکشاف کیا کہ’’ ہم نے جمہوریت کے لئے بہت قربانیاں دی ہیں‘‘۔ کاش کہ مولانا فضل الرحمان   اوران کی جماعت نے شریعت کے لئے ایسی قربانیاں دی ہوتیں تو اسلام پاکستان سے اتنا دور نہ ہوتا۔

میں اس کالم میں  بہت اختصار سے  پوچھے جانے والے  سوال   کاجواب دے رہا ہوں۔

اسلام میں جمہوریت نہیں خلافت ہے۔ اور جمہوریت  اور خلافت ایک بات ، ایک چیز نہیں ہے۔  یہ دو الگ تصورات ہیں۔ دونوں کی الگ تاریخ، تہذیب اور مابعد الطبیعات ہیں۔ دونوں اصطلاحات کے ساتھ دو الگ ایمانیات اور عقائد  جڑے ہوئے  ہیں۔ ’’اسلامی جمہوریت‘‘ ایسا ہی بے جوڑ  مرکب ہے جیسے ’’اسلامی کمیونزم‘‘، اسلامی سوشلزم‘‘،  ’’اسلامی  کیپٹلزم‘‘،  اسلامی لبرلزم‘‘،  ’’اسلامی موڈرنزم‘‘،  ’’اسلامی کفر‘‘ اور ’’اسلامی منافقت‘‘۔

جمہوریت میں عوام کی حاکمیت ہے، خلافت میں اللہ کی حاکمیت ۔

جمہوریت  عوام کی نیابت ہے، خلافت  رسول اللہﷺ کی نیابت ۔

جمہوریت انسان کے بنائے  گئے دستور پر چلنے کی پابند ہے، خلافت شریعت پر چلنے  کی پابند ۔

جمہوریت میں انسانوں کی مرضی اور خواہش ہے ، خلافت میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مرضی   اور خواہش ۔

جمہوریت میں بالغ رائے دہندگی ہے، خلافت میں  اہل الرائے کی نامزدگی ۔

جمہوریت میں منتخب ہونے والا فرد اپنے لئے عہدہ کی خواہش رکھتا ہے۔ خلافت میں  نامزد ہونے والا فرد، خود عہدہ کا خواہشمند نہیں ہوتا ۔

جمہوریت میں  بہت سے ’’امیدوار‘‘ میں سے ایک فرد کو منتخب کرنے کے لئے عوام  پہلے ووٹ دیتے ہیں، خلافت میں اہل الرائے کے نامزد خلیفہ بننے کے بعد عوام بیعت  کرتے ہیں۔

جمہوریت میں مادر پدر آزاد آزادی ہے، خلافت میں ہر   آزادی شریعت کی پابند ہے۔

جمہوریت میں ووٹ حاصل کرنے کے لئے اور حکومت میں آنے کے لئے عوام کو خوش رکھنا ہوتا ہے۔ خلافت میں دین کو غالب کرنے اور قائم رکھنے کے لئے اللہ کو خوش رکھنا ہوتا ہے۔

جمہوریت  کا حکمراں  صرف عوام کو جوابدہ ہوتا ہے، خلافت کا پاسباں خدا اور خلق دونوں کو جواب دہ ہوتا ہے۔

جمہوریت کا تعلق وطنیت (مقامیت)   کے ساتھ  ہے، خلافت  کا تعلق  امت (عالم گیریت ) کے ساتھ ہے۔

جمہوریت  ہر نظریاتی انقلاب کا راستہ روکتی ہے  خلافت کے لئے انقلاب ناگزیر ہے۔

جمہوریت کا اصل کام مادی ترقی ہے خلافت کا اصل مقصد روحانی ترقی ہے۔

جمہوریت پہلے  ترقی یافتہ قوم بناناچاہتی ہے، خلافت  پہلے ہدایت یافتہ  انسان بنانا چاہتی ہے۔

جمہوریت میں ترقی ایک عقیدہ ہے جس سے عوام  ‘‘دنیا  کی جنت’’  حاصل کریں ،خلافت میں ترقی عوام  کو سہولت بہم پہنچانا ہے، جس  سے اللہ کی اطاعت و عبادت میں آسانیاں ہوں اور ’’آخرت کی جنت‘‘ کا حصول سہل ہو۔

جمہوریت میں اکثریت کی ایک منظم اقلیت  غالب آجاتی ہے۔ خلافت  میں اہل تقویٰ کا غلبہ ہوتا ہے۔

جمہوریت میں تعداد اور خلافت میں معیار درکار ہے۔

جمہوریت میں منتخب ہونے کے لئے  سرمایہ اور طاقت چاہئے، خلافت کے لئے صالحیت اور صلاحیت چاہئے۔

اسلام کا نام لینے والا  جمہوریت میں اقتدار میں تو آسکتا ہے،  جیسے  ترکی میں اردوغان، اور پاکستان میں عمران آگئے، لیکن اپنی معاشرت، معیشت، تعلیم اور عدالت میں  اسلام نہیں لا سکتا جیسا کہ یہ دونوں حضرات ترکی اور پاکستان میں نہیں  لا سکے اور نہ لا سکتے ہیں۔

جمہوریت میں  اکثریت کی   ایک منظم اقلیت   غالب آجاتی ہے  اور اقلیتوں کی نسل کشی کرتی ہے۔ جیسا کہ  دنیا کی سب سے’’ پرانی   جمہوریت‘‘امریکا   کی سفید نسل پرست، دیگر تمام اقلیتوں کو  ختم  کردینا چاہتی ہے۔

  جیسا کہ  دنیا کی سب سے’’ بڑی   جمہوریت‘‘  بھارت میں برہمن دماغ اور آر   ایس ایس  کی طاقت غالب آکر اقلیتوں کی  نسل کشی کر رہی ہے۔

 اور جیسا کہ  مشرق وسطیٰ کی’’ اکلوتی جمہوریت‘‘ اسرائیل ‘‘، فلسطینیوں کی نسل کشی اوران کی بڑی بھاری تعداد کو  ملک بدر اور زمین بدر کر چکی ہے۔

پاکستان میں بھی ایک منظم  گروہ ہے   جسے’’ فرشتے ‘‘ یا ’’خلائی مخلوق‘‘  کہتے ہیں  جو   پاکستان کی جمہوریت کو چلاتا ہے، اور اس کا کام بھی وہی نسل کشی ہے۔   ۔مرحوم مشرقی پاکستان کے  ’’بنگالی‘‘  اور ’’بہاری‘‘ تو اب لوگوں کو یاد بھی نہیں ہیں ۔ بلوچ اور پٹھانوں کی  ہونے والی نسل کشی تازہ ہے جو   ’’جمہوریت ‘‘ اور ’’وطن پرستی‘‘ کی چادر اڑھا کر کی جارہی ہے۔

جس طرح بھارت میں  برہمنوادی جمہوریت کے حمایتی دلت و شودر میں بھی بہت مل جاتے ہیں، اسی طرح پاکستان میں بھی ان  برہمنوں  ( ’’فرشتوں‘‘  ) کے  حمایتی   پاکستانی  مسلم دلتوں   اور شودروں میں بھی بہت  مل جائیں گے۔ یہی  تو جمہوریت کا کمال  ہے۔ اس کا چھرا، لغت کے اتنے خوبصورت  الفاظ اور اصطلاحات سے ڈھکا ہو ا ہوتا ہے، کہ اس کے ذریعہ  کئے جانے والے قتل کو قتل کہنے کو جی نہیں چاہتا۔

بھارت کی جمہوریت پر کاری ضرب لگاتے ہوئے وہیں کے معروف شاعر مرحوم کلیم عاجز نے کہا تھا کہ:

دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ

تم قتل کرو ہو  کہ  کرامات کرو  ہو

واضح رہے کہ یہ شعر  بھارت کی یوم جمہوریہ ۲۶ جنوری کی شب میں منعقد ہونے والے  لال قلعہ کے مشاعرہ میں وزیر اعظم اندرا گاندھی کی موجودگی میں انہیں متوجہ کرنے کے بعد سنایا  گیا تھا ۔

جمہوریت اور خلافت  کا میدان عمل مختلف ہے۔ خلافت کے قیام کے لئے، جمہوریت کے میدان میں جانا ہی تباہ کن ہے۔ جمہوریت کے کھیل کے میدان میں جو کھیل کھیلا جا رہا ہے اور اس کھیل کے جو اصول و   ضوابط ہیں وہ  شریعت سے متصادم ہیں۔ جو بھی اس میدان میں جائے گا، وہ  دین کا وقار بھی کھوئے گا اور اپنا وقار بھی۔

 خلافت کا نظام موجودہ دور میں کیسے قائم ہوگا، اس کا راستہ نکالنا ہوگا۔ اگر تحریکی حلقے اس پر کام کرتے تو ا سکا حل، اس کا راستہ بہت پہلے  نکل آتا۔ لیکن وہ جمہوریت کے بھول بھلیوں میں پھنس کر، اپنا اور دین کا،   دونوں کا وقار ختم کر رہے ہیں، اور اپنے مستقبل  کو دھندلا رہے ہیں۔

’’جمہوریت‘‘ کے ہر ناقد پر   ’’اسراری‘‘، ’’تحریری‘‘ ’،داعشی‘‘،’’ آمریت‘‘ اور ’’بادشاہت‘‘ کے پٹھو کا لیبل لگا کر اسے خلافت کا چورن اور خلافت کا منجن بیچنے والا کہا جارہاہے۔ اور  یہی ان  جمہوریت پسند  علماء اور دانشور کی  دماغی پستی ، عقلی  کم  مائیگی ، اور فکری دیوالیہ پن  کی علامت ہے جس پر ماتم کے علاوہ کچھ نہیں کیا جا سکتا۔

ہم جمہوریت کے  بدلے ملوکیت اور آمریت (سویلین یا فوجی)  کی حمایت نہیں کر سکتے  نہ اس کو  جمہوریت پر فوقیت دے سکتے ہیں۔ لیکن جب ہماری پاس جمہوریت سے کہیں بالا اور برتر نظام جو نظام ربانی ہے ، جو نظام مصطفوی ہے، موجود ہے دوسروں  کے سیاسی  اسٹور سے  کچھ ادھار کیوں لاتے ہیں؟ ہم اس خلافتی نظام کو برپا کرنے کے لئے  اس دور میں، اس زمانہ میں نقشہ کیوں نہیں بنا سکتے ۔ ہم اس راستہ پر کیوں نہیں چلتے، جو صالحین اور متقین کا راستہ ہے۔

 

 

  ===================

Your Comment