بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الارض ولا في السماء وهو السميع العليم ما شاء الله بدھ 05 / مئی / 2021,

Instagram

امیر و شوریٰ اور جمہوریت

2021 Jan 27

امیر و شوریٰ اور جمہوریت

جاوید انور

امیر و شوریٰ کا تصور قرآنی ہے، اور جمہوریت کا تصور انسانی  ۔

 مخلوق غلطیاں کرتے ہیں، زمین و آسمان کا خالق، مالک ، حاکم، اور رب غلطیوں سے مبر ا ہے۔

جیسے جیسے ہم  قرآن سے  قریب ہوں گے اطاعت امیر اور امرهم شوری بینهم کے مطلب کو سمجھ پائیں گے اور راہ حق پر چلیں گے اور جیسے جیسے ہم شیطانی ہوا  و ہوس کے ساتھ ہوں گے جمہوریت یعنی جمہور کی خواہشات کے مطابق چلیں گے، ہم اپنی  جماعت کو تباہ کر دیں گے۔

ہماری   آج کی جماعتوں میں یا تو ملوکیت ہے یا جمہوریت۔ اور دونوں غیر مطلوب اور مردود ہیں۔  جو چیز مطلوب ہے وہ یہ کہ امیر کا انتخاب اہل الرائے کی اکثریت رائے سے ہو اور اس  انتخاب میں لیاقت کا   اصول صرف صالحیت و صلاحیت   ہو۔

 

  اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ

 

 بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگارہے (صالحیت)۔ (الحجرات آیت  13)

 

اِنَّ اللهَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰـنٰـتِ اِلٰٓی اَهْلِهَا

 

بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں انہی لوگوں کے سپرد کرو جو ان کے اہل ہیں  (صلاحیت )۔(النساء، آیت58)

یہاں  ہم جس اسلامی جماعت سے منسلک ہیں اس میں امیر کا انتخاب  ارکان کی جمہوریت کی رائے سے ہوتا ہے۔امیر صرف دو سال کے لئے منتخب ہوتا ہے۔ اور  دو  متواتر میعاد کے  بعد  وہ تیسرے میعاد کے لئے  منتخب نہیں ہو سکتا۔ایک میعادکے  وقفہ کے بعد وہ پھر امارت کے لئے منتخب ہو سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا  شریعت کے کس اصول کے تحت کیا جاتا ہے۔جواب ہے کہ ایسا کسی شرعی اصول کے تحت نہیں ہوتا   بلکہ اس چارٹر بائی لا، سی بی ایل(CBL)کے تحت ہوتا ہے  جسے ارکان  کی اکثریت نے بنا دیا ہے۔

 یہ جمہوریت ہے شریعت نہیں۔

اگر جمہوریت کی روایت کو بھی دیکھیں تو وہاں  صدر یا وزیر اعظم  چار یا پانچ سال کے لئے منتخب ہوتا ہے۔اور  وہ مقررہ مدت پوری کرتا ہے۔ زیادہ تر جمہوریتوں میں  اس کے دوبارہ  اور بار بار منتخب پر کوئی قدغن نہیں لگا یا جاتا۔ خود  دیگر جدید تحریکات اسلامی میں بھی کہیں بھی   متواتر امیر بننے پر کوئی قدغن نہیں ہے۔

اب اس دو سال  کی امارت کی کہانی بھی  یہ ہے کہ   چند سال قبل  ایک امیر ایک سال کی مدت بھی پوری نہ کر پائے تھے کہ انھوں نے  حکم عدولی  پر  چند ارکان کو جماعت  سے نکال دیا۔ لیکن اس فیصلہ کے خلاف ایک گروہ جو نکالے جانے والے ارکان کی محبت میں شدت رکھتا تھا، اطاعت امر سے نکل کر اس امیر کو ہی نکالنے پر  تل گیا، اس سے اتنا صبر بھی نہیں ہوا کہ ایک سال اور انتظار کر لے۔ اس نے جماعت کے اندر ہی ایک جماعت بنا لی۔ یعنی ایک وقت میں ایک جماعت کا دو دو امیر ۔ بلاآخر مصالحتی کمیٹی بنی جماعت کے باہر سے لوگ بلائے گئے اور انھوں نے اپنا فیصلہ سنا دیا ۔ دو امیر کا نظام تو ختم ہو گیا۔ لیکن ان کے فیصلہ پر  دونوں گروہ میں سے کوئی  خوش نہیں ہوا۔ مصالحتی کمیٹی نے چھ ماہ کے لئے ایک عبوری کمیٹی بنائی جو چھ ماہ کے  اندر نیا  انتخاب کرانے کا اختیار رکھتی تھی۔ اس کمیٹی نے اس درمیان سی بی ایل کو تبدیل کرنے کے لئے لوگوں سے  مشورے مانگے۔  بہت سے لوگ اس وقت کے امیر کی طاقت کے  بے جا استعمال پر نالاں تھے۔ چنانچہ انھوں نے  رائے یہ دی کہ سی بی ایل  نے امیر کو جو بے پناہ اختیار دئیے ہیں اسے ختم کر کے  وہ اختیار ات شوریٰ کو دے دیا جائے۔  نیا سی بی ایل نئے مشوروں یعنی عوام کی خواہشات کے مطابق، یعنی  جمہوری طریقہ سے بدل دی گئی۔ ہر تبدیل شدہ آرٹیکل  پر ارکان یعنی جمہور سے رائے مانگی گئی۔ جمہوریت کے ہاتھ  کی تعداد کے حساب سے اسے بدلا جاتا رہا۔ کیونکہ

جمہوریت وہ طرز حکومت ہے   جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

اب  امیر بیچارہ شوریٰ کا محض ایک   رکن ہے جس کا ایک ووٹ ہے۔ وہ اپنی مرضی سے کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا۔ اسے استنجا  کے لئے جانے  کے لئے بھی   اپنی  چھنگلی اٹھا کر شوریٰ سے اجازت لینی ہوتی ہے۔

پہلے  دو سالہ میعاد میں  شوریٰ تعاون کرتی رہی تو بات کسی طرح بنی رہی۔ لیکن دوسرے میعادمیں شوریٰ کی اکثریت  امیر کی مخالف ہو گئی۔ اب امیر چند ایسے ارکان کو تنظیم کے مفاد اور اس کے بعض ادارہ کو نقصان  پہنچانے پر  نکالنا چاہتے ہیں۔ لیکن شوریٰ اس کی اجازت نہیں دیتی ہے۔ امیر بے بس ہوکر اپنے میعاد سے چھ ماہ قبل ہی استعفیٰ دے کر نکل گیا۔

ارکان شوریٰ کی اکثریت یہ سمجھتی ہے وہ لوگ  جو کر رہے ہیں، خوب کر رہے ہیں اور امیر غلط کر رہا ہے۔ وہ نہ بھی نکلتا تو اسے نکالنے کی کوسش کی جاتی۔

شوریٰ کی اکثریت کے سامنے  شریعت  نہیں  بلکہ  ان کے  سامنے جو کچھ ہے وہ  جمہوریت ہے وہ بھی پاکستان کی جمہوریت جس میں  ایک وزیراعظم کو اپنا  مدت معیاد بھی پوری  نہیں کرنے دیا جاتا۔ اگر  غور سے دیکھا جائے تویہ لوگ  شریعت اور جمہوریت دونوں سے بہت دور ہیں۔

 ہماری جماعت  کی ’’ شوریٰ   ‘‘میں ارکان علاقائی  بنیاد پر اس علاقہ کے نمائندہ   ووٹ کی اکثریت سے منتخب ہو کر آتے ہیں، نہ کہ پوری جماعت میں سے  صالحیت اور صلاحیت کی بنیاد  پر۔ اس لئے وہ شریعت سے دور ہیں۔

شریعت میں جو بات چلتی ہے وہ  قال اللہ اور قال رسول اللہ  سے شروع ہوتی ہے۔ اسکے بعد شیخین (حضرت ابو بکرؓ، اور حضرت  عمرؓ ) کی رائے کو فوقیت دی جاتی ہے۔ اگر وہاں سے حکم نہ ملے تو اس کے بعد خلفائے راشدین کی بات  اور فیصلوں کی اہمیت ہے۔ حضرت امام حسین ؓ کا  یزید کی حکومت سے بغاوت، اعلان جنگ، اور ان کی شہادت،  اس زمانہ کے صحابہ کرام کی اکثریت کی رائے سے زیادہ اہم ہے۔

 قرآن اور اسلامی  تاریخ نے اکثریت کی رائے کی نفی کر دی ہے۔ 

وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ

’’اور اے نبیﷺ اگر تم ان لوگوں کی اکثریت کے کہنے پر چلو جو زمین میں بستے ہیں تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے ، وہ تو محض گمان پر چلتے اور قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔(الانعام 116)

قرآن میں اللہ کا حکم ہے کہ امیر کی اطاعت کرو۔ 

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْۚ

اے ایمان والو حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا اور ان کا جو تم میں امیر ہیں ۔ (النساء، آیت59)

قرآن   اور سنت میں کہیں بھی ’ شوریٰ کی اطاعت (حکم ماننے)  کا ذکر نہیں ہے۔

وَ الَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ۪ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَيْنَهُمْ  وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ

جو اپنے ربّ کا حکم مانتے ہیں،  نماز قائم کرتے ہیں، اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں،  ہم نے جو کچھ بھی رزق انہیں دیا ہے اُس میں سے خرچ کرتے ہیں، ( سورۃ الشوریٰ،  آیت 38 :)

 آپس کے مشوریٰ کا حکم  صرف امیر کے لئے  ہی نہیں بلکہ  ان تمام لوگوں کے لئے ہے جو اپنے رب کا حکم مانتے ہیں۔

خود  عربی اصطلاحات کے معنی سے ہی اس سے  منسلک حکم کا پتہ چل جاتا ہے۔ لفظ شوریٰ مشورہ اور مشاورت سے ہے اور امیر حکم اور آرڈر سے  ۔ لیکن ہم یہاں اپنی جماعت میں دیکھتے ہیں کہ شوریٰ  ہیئت  حاکمہ  بن گئی اور امیر شوریٰ۔

’’ امیر‘‘    کا ادارہ ہی منہدم کر دیا گیا ۔

خلفائے راشدین کی   شوریٰ  ایک منتخب  شوریٰ نہیں ہوتی تھی۔ وہ ووٹ کے ذریعہ سے نہیں چنی جاتی  تھی ۔نہ ان کی کوئی بیعت تھی، نہ ان کا حکم چلتا تھا۔  بیعت صرف خلیفہ کی  تھی جسے اہل الرائے  نامزد کرتے تھے ۔شوریٰ  خلیفہ کی  نامزد  کردہ ہوتی تھی۔ وہ  بہترین لوگوں کو مشورہ میں شامل کرتے تھے۔  امیر کی اطاعت  سب پرواجب تھی اگر وہ گناہ  کے کام نہ ہوں۔

’’ابو ذر غفاریؓ  کو حضرت   عثمانؓ نے مدینہ سے  ربذہ منتقل ہونے کا حکم دیا تھا۔ربذہ میں اہل عراق کی ایک جماعت ان کے پاس آئی اور ان سے کہا اس شخص (حضرت عثمانؓ) نے آپ کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ اگر آپ علم بغاوت بلند کر دیں تو جتنی  فوج آپ  حکم دیں ہم جمع کر  دیں گے۔حضرت ابوذرؓ نے ان  کی باتیں سن کر کہا کہ ’’اے اہل اسلام ایسی باتیں مت کرو اور شیطان کے اشاروں پر مت چلو۔ بے شک جو حاکم عادل کو نیچا دکھانا چاہے اس کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ خدا کی قسم  اگر عثمان مجھے تختہ دار پر بھی لٹکا دے یا مجھے سلطنت کے ایک دور دراز کونے سے دوسرے دور دراز کونے تک مسلسل سفر کا حکم دیدے تو بھی میں اس کی اطاعت کروں گا اور صبر کے ساتھ یہ سمجھتے ہوئے  کہ اس میں میرے لئے اجر و ثواب  اور بہتری ہے، سر تسلیم خم کر دوں گا۔‘‘ یوں آپ نے فتنہ پردازوں کا منہ بند کر دیا۔‘‘ (شہید المحراب عمرؓ بن الخطاب از سید عمر تلمسانی،  اردو ترجمہ از حافظ محمد ادریس، باب 4  صفحہ182)

 ریاست مدینہ میں امیر اپنے کو احتساب  کے لئے ہمیشہ سب کے سامنے پیش رکھتا تھا۔ اور اس طرح عدل و انصاف کو  امیر و معمور دونوں کے لئے  یقینی بنایا جاتا تھا۔

ہمارے یہاں بہت اچھے لوگوں کا ایک گروہ جمہوریت (ہجومیت) کے راستہ پر چل کر شریعت سے دور ہوتا چلا گیا۔اور اس نے   اپنی امارت  کو گرا دیا۔دو بارہ سی بی ایل کو ترمیم کرنے کے لئے مشورہ  جمہور (ہجوم) سے  ہی مانگا گیا ہے۔جمہور،  اسلام کے اصول حکمرانی اور نظم جماعت کے اصول سے ناواقف ہے۔ لیکن یہی ہجوم  ہاتھ اٹھا کر ایک بار پھر  سی بی ایل میں من پسند ترمیم کر دے گا، یا  اس کے اصلاح سے روک دے گا۔اب دیکھتے ہیں کہ موم کی ناک کدھر کو لگتی ہے۔

 

E.mail: jawed@seerahwest.com

 

 

 

 

Your Comment